• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ابوالنعمان اور ان کا اختلاط (شیخ البانی کا رد)

رضا میاں

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
1,557
ری ایکشن اسکور
3,583
پوائنٹ
384
شیخ البانی کے مطابق ابوالنعمان محمد بن فضل السدوسی اختلاط کا شکار ہو گئے تھے، اور وہ ان کی ہر اس روایت کو ضعیف قرار دیتے ہیں جس میں یہ صراحت نہیں ملتی کہ انہوں نے اس روایت کو اختلاط سے پہلے یا بعد میں روایت کیا ہے۔

لیکن بعض لوگوں نے ان کا رد کرتے ہوئے کہا کہ یہ دعویٰ غلط ہے اور یہ شیخ البانی کی علمی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ اور وہ امام ذہبی کا یہ قول پیش کرتے ہیں کہ:

امام دارقتنی نے کہا کہ: اگرچہ وہ آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہو گیا تھا، لیکن اپنے اختلاط کہ بعد اس نے کوئی روایت بیان نہیں کی۔ لہذا وہ ایک سچا راوی ہی ٹھہرتا ہے۔
اور جو ابن حبان سے مروی ہے کہ ابوالنعمان کے اختلاط کے بعد اس کی روایات میں بہت سی غلط فہمیاں آ گئی تھیں، تو امام ذہبی نے اس کا بھی رد لکھا ہے، انہوں نے ابن حبان کی اس بات کو یہ کہتے ہوئے رد کر دیا ہے کہ ابن حبان نے اپنے قول کی دلیل میں ابوالنعمان کی ایک بھی روایت کوئی ایسی نہیں پیش کی جس میں یہ بات ثابت ہو سکے کہ اس نے اختلاط کے بعد بہت سی غلطیاں کی ہیں۔ (دیکھیے: میزان الاعتدال 4:8)

امام عراقی نے بھی یہ کہا ہے کہ امام ذہبی نے بڑی یقین دھائی کے ساتھ ابن حبان کا رد کیا ہے۔ ذہبی نے اسے 'الکاشف' میں بیان کی ہے

براہ کرم اس کا جواب دیں۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
١۔ اہل علم کا اس بارے اتفاق ہے کہ ابونعمان سدوسی یا عارم اپنی آخر عمر میں مختلط ہو گیا تھا۔
٢۔ عارم متوفی ٢٢٤ھ کے زمانہ اختلاط کے بارے اختلاف ہے۔ امام ابو داود رحمہ کے نزدیک اس کازمانہ اختلاط ٢١٣ھ تا ٢١٦ھ ہے اور اس کے بعد اس کا حافظہ درست ہو گیا تھاجبکہ امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ کے نزدیک ٢٢٠ھ تا ٢٢٤ھ ہے۔ پس امام ابوداود رحمہ اللہ کے نزدیک زمانہ اختلاط کی زیادہ سے زیادہ مدت ٨ سال بنتی ہے جبکہ امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ مدت تقریبا ٤ سال بنتی ہے۔
٣۔امام دارقطنی رحمہ اللہ اور امام ذہبی رحمہ اللہ کے نزدیک اختلاط کے بعد عارم سے کسی نے بھی روایت نقل نہیں کی ہے جبکہ امام ابن حبان رحمہ اللہ کے بقول اختلاط کے بعد عارم سے لوگوں نے روایات نقل کی ہیں۔ امام نسائی رحمہ اللہ اور امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ کے اقوال کے ظاہر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرات کے نزدیک بھی عارم سے اختلاط کے بعد بھی روایات منقول ہیں۔
٤۔ امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ کے بقول عارم سے ٢٢٠ ھ سے پہلے کا سماع جید ہے ۔
٥۔ بعض اہل علم کے نزدیک شیخ ابو زرعہ رحمہ اللہ کی ملاقات عارم سے ٢٢٢ھ میں ہوئی ہے۔
٦۔ عارم سے اختلاط کے بعد کن راویوں نے نقل کیا ہے اور کون سی روایات نقل کی ہیں، اس بارے کوئی صراحت ہمیں نہیں ملی ہے۔لہذا اس مسئلہ میں امام ذہبی رحمہ اللہ کی رائے قابل ترجیح ہے کہ اختلاط کے بعد ابو نعمان السدوسی یا عارم سے کسی راوی کی نقل کی تصریح موجود نہیں ہے، پس اس راوی سے نقل کرنے والے جمیع رواۃ کی روایات اختلاط سے ماقبل ہونے کی وجہ سے سے قابل قبول ہیں۔
اس بارے دونوں قسم کے موقف کی تفصیلی بحث درج ذیل لنک پر موجود ہے:
مع الشيعة في دعواهم أن عائشة قبورية - ::: منتديات السرداب الإسلامية :::
http://www.kl28.com/knol5/?p=view&post=129251&page=4
 

رضا میاں

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
1,557
ری ایکشن اسکور
3,583
پوائنٹ
384
بہت بہت شکریہ، بھائی جان، آپ امام بخاری کے اس اصول کے بارے میں کیا فرماتے ہیں، کہ جو شخص کسی کام کو ہوتے ہوئے دیکھتا ہے اس کی بات نہ دیکھنے والے پر برتری رکھتی ہے۔ یہ اصول امام بخاری نے دلائل کے ساتھ جز رفع الیدین میں بتایا ہے۔ اس اصول کے متابق تو امام ابن حبان کی بات ہی مانی جائے گی۔

یہ رہی جز رفع الیدین، آپ یہ اصول صفحہ نمبر 41 اور 42 میں حدیث نمبر ١١ کے نیچے دیکھ سکتے ہیں

http://ahlulhadeeth.net/book/Juzz_rafa_ul_Yadain.pdf

جزاک اللہ خیراً
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
١۔
اس اصول کے متابق تو امام ابن حبان کی بات ہی مانی جائے گی۔
مجھے آپ کا یہ سوال واضح نہیں ہو سکا ہے کہ کیا آپ کے نزدیک امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ابو نعمان سدوسی رحمہ اللہ متوفی ٢٢٤ھ کو حالت اختلاط میں دیکھا ہے اور امام ذہبی رحمہ اللہ نے نہیں دیکھا ہے لہذا امام ابن حبان رحمہ اللہ کی بات کو ترجیح حاصل ہو گی؟ کیا آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں؟ ذرا سوال کی مزید وضاحت کر دیں۔
٢۔ اگر تو مراد یہی ہے توکیا امام ابن حبان رحمہ اللہ متوفی تقریبا ٢٥٦ھ نے کہیں یہ لکھا ہے کہ انہوں نے بعض افراد کو ابو نعمان سدوسی سے اختلاط کے بعد نقل کرتے دیکھا ہے؟
٣۔ مجرد کسی کا زمانہ پا لینا تو اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ آپ کی اس سے ملاقات بھی ہوئی ہو یا اگر کسی سے ملاقات ثابت ہو تو یہ اس بات کی دلیل تو نہیں ہے کہ کسی خاص وقت میں بھی آپ کی اس سے ملاقات رہی ہو یعنی زمانہ اختلاط میں یا کسی سے زمانہ اختلاط میں ملاقات ثابت ہو جائے تو یہ اس بات کی دلیل تو نہیں ہے کہ آپ نے اس وقت میں کچھ لوگوں کو اس سے روایت کرتے بھی دیکھا ہو۔
٤۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہاں یہ اصول اپلائی کیسے ہو رہا ہے، یہ ابھی تک ہم پر واضح نہیں ہو سکا ہے ۔ آپ ذرا اس کی وضاحت کر دیں تو جواب دینے میں آسانی رہے گی۔
کچھ مزید تکلیف دینے کے لیے معذرت خواہ ہوں۔لیکن ان شاء اللہ اس سے آپ کو بھی فائدہ ہو گا۔
جزاکم اللہ خیرا۔
 

رضا میاں

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
1,557
ری ایکشن اسکور
3,583
پوائنٹ
384
بات یہ ہے کہ:

ابو النعمان آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہو گئے تھے
امام ذہبی نے کہا کہ اختلاظ کے بعد انہوں نے کوئی روایت نہیں کی۔
لیکن امام ابن حبان اور امام نسائی نے کہا کہ اختلاظ کے بعد ان کی روایات میں بہت سی غلطیاں آ گئی تھیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے متابق ابوالنعمان نے اختلاظ کے بعد روایت کی تھی۔
دونوں متعارض اقوال ہو گئے۔
اب دونوں میں سے کون سا صحیح ہے؟
امام بخاری کے اصول کے متابق مثبت کو نافی پر ترجیح ہے۔
تو کیا اس اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا ہم امام ابن حبان کے قول کو ترجیح نا دیں گے؟
جبکہ ان کا یہ قول مثبت ہے، اور امام ذہبی کا نافی!

امید ہے آپ کو سمجھ آ گئی ہو گی۔

جزاک اللہ خیراً
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
١۔بھائی امام بخاری رحمہ اللہ کا اصول وہ نہیں ہے، جو آپ سمجھ رہے ہیں۔
٢۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے مثبت کو نافی پر مقدم کرنے کی بات مطلق طور نہیں کی ہے بلکہ اسے فعل کی رویت کے ساتھ مشروط کیا ہے اور یہ بہت ہی منطقی قاعدہ اورعقلی دلیل ہے۔
اس کی مثال یوں سمجھیں کہ زید ایک شخص ہے جو میرا اورآپ دونوں کا استاذ ہے۔ آپ نے اپنے استاذ زید کو عمرہ کرتے دیکھا ہے جبکہ میں نے نہیں دیکھا ہے ۔ آپ اپنے استاذ سے عمرہ کا اثبات کرتے ہیں جبکہ میں اپنے استاذ سے اس فعل کی نفی کرتا ہوں۔ یہ امکان ہے کہ جتنی دیر میں نے اپنے استاذ کی مصاحبت اختیار کی ہو اس وقت میں استاذ نے عمرہ نہ کیا ہو لیکن میں ہر ہر لمحہ تو استاذ کے ساتھ نہیں تھا اور بہر حال اس کا امکان موجود ہے کہ میں جب استاذ کے ساتھ نہیں تھا تو اس وقت میں استاذ نے عمرہ کیا اور مجھے معلوم نہ ہو سکا جبکہ دوسرے شاگرد یعنی آپ نے اسے محفوظ رکھا۔ لہذا آپ کی بات مجھ پر مقدم ہے۔ یہاں فعل کو دیکھنے کی صورت میں مثبت کو نافی پر مقدم کرنے کی بات ہے ۔
میرے خیال میں مناسب وضاحت ہو گئی ہے۔
٣۔ امام بخاری رحمہ اللہ کا اصول یہاں اس صورت لاگو ہوتا ہے جبکہ امام ابن حبان رحمہ اللہ یہ دعوی کریں کہ میں نے بعض راویوں کو ابو نعمان رحمہ اللہ سے اختلاط کے بعد بھی روایات نقل کرتے دیکھا ہے۔
 
Top