محمد زاہد بن فیض
سینئر رکن
- شمولیت
- جون 01، 2011
- پیغامات
- 1,961
- ری ایکشن اسکور
- 5,788
- پوائنٹ
- 354
حدیث نمبر: 7076
حدثنا عمر بن حفص، حدثني أبي، حدثنا الأعمش، حدثنا شقيق، قال قال عبد الله قال النبي صلى الله عليه وسلم " سباب المسلم فسوق، وقتاله كفر ".
حدیث نمبر: 7077
حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا شعبة، أخبرني واقد، عن أبيه، عن ابن عمر، أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول " لا ترجعوا بعدي كفارا، يضرب بعضكم رقاب بعض ".
حدیث نمبر: 7078
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، حدثنا قرة بن خالد، حدثنا ابن سيرين، عن عبد الرحمن بن أبي بكرة، عن أبي بكرة، وعن رجل، آخر هو أفضل في نفسي من عبد الرحمن بن أبي بكرة عن أبي بكرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خطب الناس فقال " ألا تدرون أى يوم هذا ". قالوا الله ورسوله أعلم. قال حتى ظننا أنه سيسميه بغير اسمه. فقال " أليس بيوم النحر ". قلنا بلى يا رسول الله. قال " أى بلد، هذا أليست بالبلدة ". قلنا بلى يا رسول الله. قال " فإن دماءكم، وأموالكم، وأعراضكم، وأبشاركم عليكم حرام، كحرمة يومكم هذا، في شهركم هذا، في بلدكم هذا، ألا هل بلغت ". قلنا نعم. قال " اللهم اشهد، فليبلغ الشاهد الغائب، فإنه رب مبلغ يبلغه من هو أوعى له فكان كذلك ـ قال ـ لا ترجعوا بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض ". فلما كان يوم حرق ابن الحضرمي، حين حرقه جارية بن قدامة. قال أشرفوا على أبي بكرة. فقالوا هذا أبو بكرة يراك. قال عبد الرحمن فحدثتني أمي عن أبي بكرة أنه قال لو دخلوا على ما بهشت بقصبة.
حدیث نمبر: 7079
حدثنا أحمد بن إشكاب، حدثنا محمد بن فضيل، عن أبيه، عن عكرمة، عن ابن عباس ـ رضى الله عنهما ـ قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا ترتدوا بعدي كفارا، يضرب بعضكم رقاب بعض ".
حدیث نمبر: 7080
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن علي بن مدرك، سمعت أبا زرعة بن عمرو بن جرير، عن جده، جرير قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع " استنصت الناس ". ثم قال " لا ترجعوا بعدي كفارا، يضرب بعضكم رقاب بعض ".
حدثنا عمر بن حفص، حدثني أبي، حدثنا الأعمش، حدثنا شقيق، قال قال عبد الله قال النبي صلى الله عليه وسلم " سباب المسلم فسوق، وقتاله كفر ".
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ‘ ان سے شقیق نے بیان کیا ‘ کہا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس کو قتل کرنا کفرہے۔
حدیث نمبر: 7077
حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا شعبة، أخبرني واقد، عن أبيه، عن ابن عمر، أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول " لا ترجعوا بعدي كفارا، يضرب بعضكم رقاب بعض ".
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا مجھ کو واقد نے خبر دی ‘ انہیں ان کے والد نے اور انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ‘ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ‘آپ نے فرمایا کہ میرے بعد کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔
حدیث نمبر: 7078
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، حدثنا قرة بن خالد، حدثنا ابن سيرين، عن عبد الرحمن بن أبي بكرة، عن أبي بكرة، وعن رجل، آخر هو أفضل في نفسي من عبد الرحمن بن أبي بكرة عن أبي بكرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خطب الناس فقال " ألا تدرون أى يوم هذا ". قالوا الله ورسوله أعلم. قال حتى ظننا أنه سيسميه بغير اسمه. فقال " أليس بيوم النحر ". قلنا بلى يا رسول الله. قال " أى بلد، هذا أليست بالبلدة ". قلنا بلى يا رسول الله. قال " فإن دماءكم، وأموالكم، وأعراضكم، وأبشاركم عليكم حرام، كحرمة يومكم هذا، في شهركم هذا، في بلدكم هذا، ألا هل بلغت ". قلنا نعم. قال " اللهم اشهد، فليبلغ الشاهد الغائب، فإنه رب مبلغ يبلغه من هو أوعى له فكان كذلك ـ قال ـ لا ترجعوا بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض ". فلما كان يوم حرق ابن الحضرمي، حين حرقه جارية بن قدامة. قال أشرفوا على أبي بكرة. فقالوا هذا أبو بكرة يراك. قال عبد الرحمن فحدثتني أمي عن أبي بكرة أنه قال لو دخلوا على ما بهشت بقصبة.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے قرہ بن خالد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابن سیرین نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے بیان کیا اور ایک دوسرے شخص (حمید بن عبدالرحمٰن) سے بھی سنا جو میری نظر میں عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ سے اچھے ہیں اور ان سے ابو بکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو یوم النحر کو خطبہ دیا اور فرمایا تمہیں معلوم ہے یہ کون سا دن ہے؟ لوگوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ بیان کیا کہ (اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاموشی سے) ہم یہ سمجھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کوئی اور نام رکھیں گے۔ لیکن آپ نے فرمایا کیا یہ قربانی کا دن (یوم النحر) نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ! آپ نے پھر پوچھا یہ کون سا شہر ہے؟ کیا یہ البلدہ (مکہ مکرمہ) نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تمہارا خون ‘ تمہارے مال ‘ تمہاری عزت اور تمہاری کھال تم پر اسی طرح حرمت والے ہیں جس طرح اس دن کی حرمت اس مہینے اور اس شہر میں ہے۔ کیا میں نے پہنچا دیا؟ ہم نے کہا جی ہاں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! گواہ رہنا۔ پس میرا یہ پیغام موجود لوگ غیر موجود لوگوں کو پہنچا دیں کیونکہ بہت سے پہنچانے والے اس پیغام کو اس تک پہنچائیں گے جو اس کو زیادہ محفوظ رکھنے والا ہو گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ بعض بعض کی گردن مارنے لگو۔ پھر جب وہ دن آیا جب عبداللہ عمرو بن حضرمی کو جاریہ بن قدامہ نے ایک مکان میں گھیر کر جلا دیا تو جاریہ نے اپنے لشکر والوں سے کہا ذار ابوبکرہ کو تو جھانکو وہ کس خیال میں ہے۔ انہوں نے کہا یہ ابوبکرہ موجود ہیں تم کو دیکھ رہے ہیں۔ عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ کہتے ہیں مجھ سے میری والدہ ہالہ بنت غلیظ نے کہا کہ ابوبکرہ نے کہا اگر یہ لوگ (تین جاریہ کے لشکر والے) میرے گھر میں بھی گھس آئیں اور مجھ کو مارنے لگیں تو میں ان پر ایک بانس کی چھڑی بھی نہیں چلاؤں گا۔
حدیث نمبر: 7079
حدثنا أحمد بن إشكاب، حدثنا محمد بن فضيل، عن أبيه، عن عكرمة، عن ابن عباس ـ رضى الله عنهما ـ قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا ترتدوا بعدي كفارا، يضرب بعضكم رقاب بعض ".
ہم سے احمد بن اشکاب نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا ‘ ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم میں بعض بعض کی گردن مارنے لگے۔
حدیث نمبر: 7080
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن علي بن مدرك، سمعت أبا زرعة بن عمرو بن جرير، عن جده، جرير قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع " استنصت الناس ". ثم قال " لا ترجعوا بعدي كفارا، يضرب بعضكم رقاب بعض ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے علی بن مدرک نے بیان کیا ‘ کہا میں نے ابو زرعہ بن عمرو بن جریر سے سنا ‘ ان سے ان کے دادا جریر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا لوگوں کو خاموش کر دو۔ پھر آپ نے فرمایا میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردن مارنے لگ جاؤ۔
صحیح بخاری
کتاب الفتن