• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صحیح بخاری کی ایک موقوف روایت کی صحت

رضا میاں

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
1,557
ری ایکشن اسکور
3,583
پوائنٹ
384
اسلام علیکم،

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَقَالَ، عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ صَارَتِ الأَوْثَانُ الَّتِي كَانَتْ فِي قَوْمِ نُوحٍ فِي الْعَرَبِ بَعْدُ، أَمَّا وُدٌّ كَانَتْ لِكَلْبٍ بِدَوْمَةِ الْجَنْدَلِ، وَأَمَّا سُوَاعٌ كَانَتْ لِهُذَيْلٍ، وَأَمَّا يَغُوثُ فَكَانَتْ لِمُرَادٍ ثُمَّ لِبَنِي غُطَيْفٍ بِالْجُرُفِ عِنْدَ سَبَا، وَأَمَّا يَعُوقُ فَكَانَتْ لِهَمْدَانَ، وَأَمَّا نَسْرٌ فَكَانَتْ لِحِمْيَرَ، لآلِ ذِي الْكَلاَعِ‏.‏ أَسْمَاءُ رِجَالٍ صَالِحِينَ مِنْ قَوْمِ نُوحٍ، فَلَمَّا هَلَكُوا أَوْحَى الشَّيْطَانُ إِلَى قَوْمِهِمْ أَنِ انْصِبُوا إِلَى مَجَالِسِهِمُ الَّتِي كَانُوا يَجْلِسُونَ أَنْصَابًا، وَسَمُّوهَا بِأَسْمَائِهِمْ فَفَعَلُوا فَلَمْ تُعْبَدْ حَتَّى إِذَا هَلَكَ أُولَئِكَ وَتَنَسَّخَ الْعِلْمُ عُبِدَتْ‏.‏

صحیح بخاری: 4920

اس حدیث پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس سند میں عطا سے مراد الخراسانی ہے اور ابن جریج نے ان سے یہ روایت نہیں لی، اور نہ ہی عطا الخراسانی نے ابن عباس سے سنا ہے۔ الغرض یہ روایت منقطع ہے۔
کیا یہی درست ہے!؟ یہ حدیث توسل کے معاملے میں اہم دلیل ہے۔ اگر اس کا شاہد وغیرہ ہے تو بتا دیں!
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,999
ری ایکشن اسکور
9,803
پوائنٹ
773
بخاری کی مذکورہ روایت بالکل صحیح ہے اوریہاں بخاری کی اس سند میں عطاء سے مراد عطاء بن ابی رباح ہیں ۔

دراصل مذکورہ روایت کو ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عطاء الخراسانی اورعطاء بن ابی رباح دونوں نے نقل کیا ہے ۔
حافظ ابن حجررحمہ اللہ فرماتے ہیں:
فَيحْتَمل أَن يكون هَذَانِ الحديثان عَن عَطاء بن أبي رَبَاح وَعَطَاء الخرساني جَمِيعًا [فتح الباري لابن حجر: 1/ 376]۔

دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:
لَكِنَّ الَّذِي قَوِيَ عِنْدِي أَنَّ هَذَا الحَدِيث بِخُصُوصِهِ عِنْد بن جريج عَن عَطاء الخرساني وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ جَمِيعًا وَلَا يَلْزَمُ مِنَ امْتِنَاعِ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ مِنَ التَّحْدِيثِ بِالتَّفْسِيرِ أَنْ لَا يُحَدِّثَ بِهَذَا الحَدِيث فِي بَابٍ آخَرَ مِنَ الْأَبْوَابِ أَوْ فِي الْمُذَاكَرَةِ وَإِلَّا فَكَيْفَ يَخْفَى عَلَى الْبُخَارِيِّ ذَلِكَ مَعَ تَشَدُّدِهِ فِي شَرْطِ الِاتِّصَالِ [فتح الباري لابن حجر: 8/ 668]۔

اورامام بخاری رحمہ اللہ نے وہ سند نقل کی ہے جس میں عطاء بن ابی رباح ہیں۔
اس کے دو دلائل ہیں:

پہلی دلیل:
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس روایت کو مسندا روایت کیا ہے، اگر یہ منقطع سند ہوتی تو اتنی واضح علت امام بخاری رحمہ اللہ سے مخفی نہیں ہوسکتی ۔
حافظ ابن حجررحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لَكِن البُخَارِيّ مَا أخرجه إِلَّا على أَنه من رِوَايَة عَطاء بن أبي رَبَاح وَأما الخرساني فَلَيْسَ من شَرطه لِأَنَّهُ لم يسمع من بن عَبَّاس[فتح الباري لابن حجر: 1/ 376]۔

دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:
وَحَاصِل الْجَواب جَوَاز أَن يكون الحَدِيث عِنْد بن جُرَيْجٍ بِالْإِسْنَادَيْنِ لِأَنَّ مِثْلَ ذَلِكَ لَا يَخْفَى عَلَى الْبُخَارِيِّ مَعَ تَشَدُّدِهِ فِي شَرْطِ الِاتِّصَالِ[فتح الباري لابن حجر: 9/ 418]۔

ایک اورمقام پر کہتے ہیں:
وَهَذَا مِمَّا اسْتُعْظِمَ عَلَى الْبُخَارِيِّ أَنْ يَخْفَى عَلَيْهِ [فتح الباري لابن حجر: 8/ 667]۔

مزید برآں یہ کہ اس علت کو بتلانے والے علی ابن مدینی ہیں جو امام بخاری رحمہ اللہ کے استاذ ہیں ، ایسی صورت میں اس علت سے امام بخاری رحمہ اللہ کا لاعلم ہونا بہت بعید ہے۔
حافظ ابن حجررحمہ اللہ فرماتے ہیں:
مَعَ كَوْنِ الَّذِي نَبَّهَ عَلَى الْعِلَّةِ الْمَذْكُورَةِ هُوَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ شَيْخُ الْبُخَارِيِّ الْمَشْهُورُ بِهِ وَعَلَيْهِ يُعَوَّلُ غَالِبًا فِي هَذَا الْفَنِّ خُصُوصًا عِلَلَ الْحَدِيثِ[فتح الباري لابن حجر: 9/ 418]۔

دوسری دلیل:
امام بخاری رحمہ اللہ سے اس سند سے صرف دو مقامات پرروایت نقل کی ہے اگر یہ خراسانی والی سند ہوتی اورامام بخاری نے اسے اپنے شرط کے مطابق سمجھا ہوتا، تو اس سند سے امام بخاری کتاب التفسیر میں بہت ساری روایات جمع کردیتے کیونکہ اس سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہ کی مرویات بہت ہیں ، اورکتاب التفسیر میں انہیں پیش کرنے کا موقع بھی تھا اورضرورت بھی لیکن امام بخاری رحمہ اللہ نے ایسا نہیں کیا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ انقطاع والی سند سے باخبرہیں ۔
حافظ ابن حجررحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وَمِمَّا يُؤَيِّدُ ذَلِكَ أَنَّهُ لَمْ يُكْثِرْ مِنْ تَخْرِيجِ هَذِهِ النُّسْخَةِ وَإِنَّمَا ذَكَرَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مَوْضِعَيْنِ هَذَا وَآخَرَ فِي النِّكَاحِ وَلَوْ كَانَ خَفِيَ عَلَيْهِ لَاسْتَكْثَرَ مِنْ إِخْرَاجِهَا لِأَنَّ ظَاهِرَهَا أَنَّهَا عَلَى شَرْطِهِ[فتح الباري لابن حجر: 8/ 668]۔

اس بات کی مزید تائید اس سے ہوتی ہے کہ اسی روایت کو امام فاکھی نے بھی نقل کیا لیکن انہوں نے بھی الخراسانی کی صراحت نہیں کی ہے اور ابن جریج کے شیوخ میں جب مطلق عطاء ہو تو اس سے مراد عطاء بن ابی رباح ہی ہوتے ہیں،چانچہ:
امام فاكھی رحمہ اللہ (المتوفى: 272) نے کہا:
عَن مُحَمَّد بن ثَوْر عَن ابْن جريج عَن عَطاء عَن ابْن عَبَّاس رَضِي الله عَنْهُمَا قَالَ صَارَت الْأَوْثَان۔۔۔۔۔فذکر نحوہ [أخبار مكة للفاكهي 5/ 141]۔

حافظ ابن حجررحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وَقَدْ أَخْرَجَ الْفَاكِهِيُّ الْحَدِيثَ الْمَذْكُورَ مِنْ طَرِيقِ مُحَمَّد بن ثَوْر عَن بن جريج عَن عَطاء عَن بن عَبَّاس وَلم يقل الخرساني[فتح الباري لابن حجر: 8/ 667]۔
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,999
ری ایکشن اسکور
9,803
پوائنٹ
773
اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ابن عباس نے اسے اسرئیلیات میں سے روایت کیا ہے کیونکہ وہ بکثرت ان سے روایت لیتے تھے!
ہمیں اس بات کی کوئی دلیل نہیں ملی۔
 

رضا میاں

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
1,557
ری ایکشن اسکور
3,583
پوائنٹ
384
آپوزیشن کا اعتراض ہے کہ ابن حجر کے جوابات احتمالات پر مشتمل ہیں، یقنی طور پر کچھ ثابت نہیں۔
اور اس کے علاوہ کیا اس سند کی تقویت کے لیے امام ابن جریج کا درج ذیل قول کچھ کام آ سکتا ہے؟

عن ابن جريج قال إذا قلت قال عطاء فأنا سمعته منه وإن لم أقل سمعته) (التعديل والتجريح للباجي(2\905) وتهذيب التهذيب(6\406)

اس سند میں بھی انہوں نے قال عطاء ہی کہا ہے تو اس کا مطلب یہ الخراسانی نہیں بلکہ ابن ابی رباح ہی ہوں گے جن سے انہوں نے سنا ہے!!
اور کیا اس قول سے یہ اصول نکلتا ہے کہ جب امام ابن جریج صرف عطاء کہیں اور نصب بیان نہ کریں تو اس سے مراد ابن ابی رباح ہوں گے؟؟
 
Top