• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

معافی مانگنے کے بارے میں سوال

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,101
پوائنٹ
1,155
السلام علیکم
اگر میری کسی کے ساتھ تکرار ہو جائے اور میں اپنی غلطی مان کر معافی مانگ لوں اور دوسرا آدمی معاف نہ کرے یا نظر انداز کرے تو کیا معافی مانگنے والا کل قیامت کے دن جواب دہ ہو گا؟
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
جب کوئی شخص صدق دل سے معافی طلب کرے یا معذرت کرے تو اسے معاف کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ{22}
اور انہیں چاہیے کہ وہ بھی معاف کریں اور درگزر کریں ۔ کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالی تمہیں معاف کرے اور اللہ تعالی معاف فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
آیت کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے والوں میں بعض حضرت ابو صدیق رضی اللہ عنہ کے ایسے رشتہ دار بھی تھے کہ جن کی وہ مالی امداد کرتے تھے۔ اس سبب سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کی مالی امداد روک دی اور انہیں معاف نہ کیا۔ جس پر آیت مبارک نازل ہوئی کہ اگر ایک مسلمان دوسرے مسلمان بھائی کو معاف نہیں کرتا تو وہ اللہ سے معافی کی امید کیسے لگائے بیٹھا ہے؟یعنی اللہ کو تو یہ پسند ہے کہ اس کے بندوں کو معاف کیا جائے تو جو اس کے بندوں کو معاف نہیں کرتا تو معافی میں ایسے بخیل کی اللہ سے یہ کیے توقع ہے کہ وہ اسے معاف کر دے گا۔
پس ان بھائی کے لیے آپ کو معاف کرنا لازم ہے اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے ہیں تو آپ نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے اور امید ہے کہ اللہ کے ہاں اس میں آپ کی پکڑ نہیں ہو گی۔ واللہ اعلم بالصواب
 
Top