• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام ابن تیمیہ کا سہو یا ؟

سٹیٹس
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

بہرام

مشہور رکن
شمولیت
اگست 09، 2011
پیغامات
1,171
ری ایکشن اسکور
439
پوائنٹ
132
ابن تیمیہ اپنی کتاب منهاج السنة النبوية في نقض كلام الشيعة القدرية ۔؎،الجزء السابع ، صفحہ ٣٣٠
میں لکھتےہیں
ما ثبت في الصحيحين من قول النبي صلى الله عليه وسلم في حديث الأسارى لما استشار أبا بكر ، وأشار بالفداء ، واستشار عمر فأشار بالقتل . قال : " سأخبركم عن صاحبيكم ن ، م ، س : عن صاحبكم . . مثلك يا أبا بكر كمثل إبراهيم إذ قال: ( فمن تبعني فإنه مني ومن عصاني فإنك غفور رحيم ) ( سورة إبراهيم : 36 ) ، ومثل عيسى إذ قال: ( إن تعذبهم فإنهم عبادك وإن تغفر لهم فإنك أنت العزيز الحكيم ) ( سورة المائدة : 118 ) ، ومثلك يا عمر مثل نوح إذ قال: ( رب لا تذر على الأرض من الكافرين ديارا ) ( سورة نوح : 26 ) ، ومثل س ، ب : أو مثل . موسى إذ قال: ( ربنا اطمس على أموالهم واشدد على قلوبهم فلا يؤمنوا حتى يروا العذاب الأليم ) ( سورة يونس : 88 ) سبق هذا الحديث فيما مضى 6 \ 133 .

فقوله لهذا : مثلك كمثل ن ، م : مثل . إبراهيم ، وعيسى ، ولهذا : مثل نوح ، وموسى - أعظم من قوله : أنت مني بمنزلة هارون من موسى ; فإن نوحا ، وإبراهيم ، وموسى ، وعيسى أعظم من هارون

ترجمہ
بخاری و مسلم میں یہ حدیث ثابت ہے کہ ۔۔۔۔ ابوبکر مثل ابرہیم ہیں اور مثل عیسی ہیں اور عمر مثل نوح اور مثل موسی ہیں ۔۔۔ پس رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانا:اے ابوبکر تم مثل ابرہیم اور عیسی ہو اور اسکی [حضرت عمر] کی مثل نوح و موسی سی ہے یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس قول سے أنت مني بمنزلة هارون من موسى زیادہ افضل ہے اس لئے نوح اور ابراہیم ، موسی ، عیسی، تمام کے تمام ہارون سے افضل ہیں ۔
آن لائن لنک :
http://www.islamweb.net/newlibrary/display_book.php?bk_no=108&ID=1&idfrom=1&idto=917&bookid=108&startno=793#docu
کیا اس طرح کی کوئی حدیث صحیحین میں وادر ہوئی ہے یا پھر یہ سہو ہے ؟؟ مہربانی فرماکر رہنمائی فرمائیں شکریہ
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,999
ری ایکشن اسکور
9,803
پوائنٹ
773
شيخ الاسلام ابن تيمية رحمه الله (المتوفى728)نے کہا:
وَقَوْلُ الْقَائِلِ: " هَذَا بِمَنْزِلَةِ هَذَا، وَهَذَا مِثْلُ هَذَا " هُوَ كَتَشْبِيهِ الشَّيْءِ بِالشَّيْءِ، وَتَشْبِيهُ الشَّيْءِ بِالشَّيْءِ يَكُونُ بِحَسَبِ مَا دَلَّ عَلَيْهِ السِّيَاقُ لَا يَقْتَضِي الْمُسَاوَاةَ فِي كُلِّ شَيْءٍ أَلَا تَرَى إِلَى مَا ثَبَتَ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثِ الْأُسَارَى لَمَّا اسْتَشَارَ أَبَا بَكْرٍ، وَأَشَارَ بِالْفِدَاءِ، وَاسْتَشَارَ عُمَرَ فَأَشَارَ بِالْقَتْلِ. قَالَ: " سَأُخْبِرُكُمْ عَنْ صَاحِبَيْكُمْ . «مَثَلُكَ يَا أَبَا بَكْرٍ كَمَثَلِ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ: {فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ} (سُورَةُ إِبْرَاهِيمَ: ٣٦) ، وَمَثَلُ عِيسَى إِذْ قَالَ: {إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} (سُورَةُ الْمَائِدَةِ: ١١٨) ، وَمَثَلُكَ يَا عُمَرُ مَثَلُ نُوحٍ إِذْ قَالَ: {رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا} (سُورَةُ نُوحٍ: ٢٦) ، وَمَثَلُ مُوسَى إِذْ قَالَ: {رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ} » (سُورَةُ يُونُسَ: ٨٨) . فَقَوْلُهُ لِهَذَا: مَثَلُكَ كَمَثَلِ إِبْرَاهِيمَ، وَعِيسَى، وَلِهَذَا: مِثْلُ نُوحٍ، وَمُوسَى - أَعْظَمُ مِنْ قَوْلِهِ: «أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى» ; فَإِنَّ نُوحًا، وَإِبْرَاهِيمَ، وَمُوسَى، وَعِيسَى [منهاج السنة النبوية 7/ 330]۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی اس عبارت میں ایک حدیث منقول ہے اور اس سے قبل ہے:
أَلَا تَرَى إِلَى مَا ثَبَتَ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
یعنی کیا آپ نہیں دیکھ رہے کہ صحیحین میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ثابت ہے۔

یہاں اشکال یہ ہے کہ یہ حدیث تو صحیحین میں ہے ہی نہیں پھر شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے صحیحین کا حوالہ کیوں دے دیا ؟؟ کیا یہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا سہو ہے؟؟

عرض ہے کہ بے شک شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ بھی انسان ہی ہیں اور سبقت قلم سے اس طرح کا سہو ہوجانا کوئی مستبعد بھی نہیں بہت سارے اہل علم سے سہو ہوجایا کرتا ہے ، لیکن جہاں تک مجھے لگتا ہے وہ یہ کہ یہاں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے سہو نہیں ہوا ہے بلکہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی اصل کتاب سے سب سے پہلے جس نے نسخ کیا ہے اسی سے سہوا ہے پھر اسی نسخے سے دیگر نسخوں تک بھی یہ سہو منتقل ہوتا رہا ۔


ہماری پاس اس کی دو دلیلیں ہیں:

اول:
امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748) شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے شاگرد ہیں اورانہوں نے اپنے شیخ کی اس کتاب کا اختصار کیا ہے لیکن زیرنظر حوالہ والے الفاظ کو حرف بحرف نقل کرتے ہوئے امام ذہبی رحمہ اللہ نے کہا:
وَقَول الْقَائِل هَذَا بمنزله هَذَا أَو مثل هَذَا أَو كَهَذا تَشْبِيه للشَّيْء بالشَّيْء وَيكون بِحَسب مَا دلّ عَلَيْهِ السِّيَاق وَلَا تَقْتَضِي الْمُسَاوَاة فِي كل شَيْء أَلا ترى إِلَى مَا ثَبت من قَول النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فِي حَدِيث الأساري حِين اسْتَشَارَ أَبَا بكر فَأَشَارَ بِالْفِدَاءِ وَاسْتَشَارَ عمر فَأَشَارَ بِالْقَتْلِ فَقَالَ مثلك يَا أَبَا بكر مثل إِبْرَاهِيم إِذْ قَالَ (فَمن تَبِعنِي فَإِنَّهُ مني وَمن عَصَانِي فَإنَّك غَفُور رَحِيم) وَمثلك يَا عمر مثل نوح إِذْ قَالَ (رب لَا تذر على الأَرْض من الْكَافرين ديارًا) الحَدِيث[المنتقى من منهاج الاعتدال: ص: 468]۔

یعنی امام ذہبی رحمہ اللہ نے متعلقہ الفاظ کو حرف بحرف نقل کیا ہے لیکن نہ تو ’’فی الصحیحین‘‘ نقل کیا اور نہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ پر کوئی تعاقب کیا ہے ، اس سے پتہ چلتاہے کہ امام ذہبی رحمہ اللہ کے سامنے جو نسخہ تھا اس میں مذکورہ روایت صحیحین کے حوالہ کے بغیر تھی ۔

دوم:
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے خود اسی کتاب میں اس عبارت سے کافی پہلے اسی حدیث کو مع حوالہ نقل کرچکے ہیں اور اس جگہ کے الفاظ یہ ہیں:
وَقَدْ رَوَى أَحْمَدُ فِي الْمُسْنَدِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَرَوَاهُ ابْنُ بَطَّةَ، وَرُوِّينَاهُ فِي جُزْءِ ابْنِ عَرَفَةَ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَهَذَا لَفْظُهُ قَالَ : " «لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " مَا تَقُولُونَ فِي هَؤُلَاءِ الْأُسَارَى ؟ " فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَوْمُكَ وَأَهْلُكَ، اسْتَبْقِهِمْ وَاسْتَأْنِ بِهِمْ، لَعَلَّ اللَّهَ يَتُوبُ عَلَيْهِمْ. وَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَذَّبُوكَ وَأَخْرَجُوكَ ، قَرِّبْهُمْ وَاضْرِبْ أَعْنَاقَهُمْ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قَالَ: " فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ شَيْئًا. قَالَ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: " إِنَّ مَثَلَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ كَمَثَلِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: {فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ} [سُورَةُ إِبْرَاهِيمَ: ٣٦] وَإِنَّ مَثَلَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ كَمَثَلِ عِيسَى قَالَ: {إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} [سُورَةُ الْمَائِدَةِ:١١٨] وَإِنَّ مَثَلَكَ يَا عُمَرُ كَمَثَلِ نُوحٍ قَالَ: {رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا} [سُورَةُ نُوحٍ: ٢٦] وَإِنَّ مَثَلَكَ يَا عُمَرُ كَمَثَلِ مُوسَى قَالَ: {وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ} » [سُورَةُ يُونُسَ: ٨٨] . [منهاج السنة النبوية 6/ 134- 135]

ملاحظہ فرمائیں کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے یہاں پر اسی حدیث کا پورا حوالہ دیا ہے لیکن کہیں بھی صحیحین یا ان میں سے کسی ایک کا بھی ذکر نہیں کیا بلکہ مسنداحمد اور دیگر حوالے سے اسے نقل کیا ہے۔
 

بہرام

مشہور رکن
شمولیت
اگست 09، 2011
پیغامات
1,171
ری ایکشن اسکور
439
پوائنٹ
132
شيخ الاسلام ابن تيمية رحمه الله (المتوفى728)نے کہا:
وَقَوْلُ الْقَائِلِ: " هَذَا بِمَنْزِلَةِ هَذَا، وَهَذَا مِثْلُ هَذَا " هُوَ كَتَشْبِيهِ الشَّيْءِ بِالشَّيْءِ، وَتَشْبِيهُ الشَّيْءِ بِالشَّيْءِ يَكُونُ بِحَسَبِ مَا دَلَّ عَلَيْهِ السِّيَاقُ لَا يَقْتَضِي الْمُسَاوَاةَ فِي كُلِّ شَيْءٍ أَلَا تَرَى إِلَى مَا ثَبَتَ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثِ الْأُسَارَى لَمَّا اسْتَشَارَ أَبَا بَكْرٍ، وَأَشَارَ بِالْفِدَاءِ، وَاسْتَشَارَ عُمَرَ فَأَشَارَ بِالْقَتْلِ. قَالَ: " سَأُخْبِرُكُمْ عَنْ صَاحِبَيْكُمْ . «مَثَلُكَ يَا أَبَا بَكْرٍ كَمَثَلِ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ: {فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ} (سُورَةُ إِبْرَاهِيمَ: ٣٦) ، وَمَثَلُ عِيسَى إِذْ قَالَ: {إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} (سُورَةُ الْمَائِدَةِ: ١١٨) ، وَمَثَلُكَ يَا عُمَرُ مَثَلُ نُوحٍ إِذْ قَالَ: {رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا} (سُورَةُ نُوحٍ: ٢٦) ، وَمَثَلُ مُوسَى إِذْ قَالَ: {رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ} » (سُورَةُ يُونُسَ: ٨٨) . فَقَوْلُهُ لِهَذَا: مَثَلُكَ كَمَثَلِ إِبْرَاهِيمَ، وَعِيسَى، وَلِهَذَا: مِثْلُ نُوحٍ، وَمُوسَى - أَعْظَمُ مِنْ قَوْلِهِ: «أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى» ; فَإِنَّ نُوحًا، وَإِبْرَاهِيمَ، وَمُوسَى، وَعِيسَى [منهاج السنة النبوية 7/ 330]۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی اس عبارت میں ایک حدیث منقول ہے اور اس سے قبل ہے:
أَلَا تَرَى إِلَى مَا ثَبَتَ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
یعنی کیا آپ نہیں دیکھ رہے کہ صحیحین میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ثابت ہے۔

یہاں اشکال یہ ہے کہ یہ حدیث تو صحیحین میں ہے ہی نہیں پھر شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے صحیحین کا حوالہ کیوں دے دیا ؟؟ کیا یہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا سہو ہے؟؟

عرض ہے کہ بے شک شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ بھی انسان ہی ہیں اور سبقت قلم سے اس طرح کا سہو ہوجانا کوئی مستبعد بھی نہیں بہت سارے اہل علم سے سہو ہوجایا کرتا ہے ، لیکن جہاں تک مجھے لگتا ہے وہ یہ کہ یہاں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے سہو نہیں ہوا ہے بلکہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی اصل کتاب سے سب سے پہلے جس نے نسخ کیا ہے اسی سے سہوا ہے پھر اسی نسخے سے دیگر نسخوں تک بھی یہ سہو منتقل ہوتا رہا ۔


ہماری پاس اس کی دو دلیلیں ہیں:

اول:
امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748) شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے شاگرد ہیں اورانہوں نے اپنے شیخ کی اس کتاب کا اختصار کیا ہے لیکن زیرنظر حوالہ والے الفاظ کو حرف بحرف نقل کرتے ہوئے امام ذہبی رحمہ اللہ نے کہا:
وَقَول الْقَائِل هَذَا بمنزله هَذَا أَو مثل هَذَا أَو كَهَذا تَشْبِيه للشَّيْء بالشَّيْء وَيكون بِحَسب مَا دلّ عَلَيْهِ السِّيَاق وَلَا تَقْتَضِي الْمُسَاوَاة فِي كل شَيْء أَلا ترى إِلَى مَا ثَبت من قَول النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فِي حَدِيث الأساري حِين اسْتَشَارَ أَبَا بكر فَأَشَارَ بِالْفِدَاءِ وَاسْتَشَارَ عمر فَأَشَارَ بِالْقَتْلِ فَقَالَ مثلك يَا أَبَا بكر مثل إِبْرَاهِيم إِذْ قَالَ (فَمن تَبِعنِي فَإِنَّهُ مني وَمن عَصَانِي فَإنَّك غَفُور رَحِيم) وَمثلك يَا عمر مثل نوح إِذْ قَالَ (رب لَا تذر على الأَرْض من الْكَافرين ديارًا) الحَدِيث[المنتقى من منهاج الاعتدال: ص: 468]۔

یعنی امام ذہبی رحمہ اللہ نے متعلقہ الفاظ کو حرف بحرف نقل کیا ہے لیکن نہ تو ’’فی الصحیحین‘‘ نقل کیا اور نہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ پر کوئی تعاقب کیا ہے ، اس سے پتہ چلتاہے کہ امام ذہبی رحمہ اللہ کے سامنے جو نسخہ تھا اس میں مذکورہ روایت صحیحین کے حوالہ کے بغیر تھی ۔

دوم:
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے خود اسی کتاب میں اس عبارت سے کافی پہلے اسی حدیث کو مع حوالہ نقل کرچکے ہیں اور اس جگہ کے الفاظ یہ ہیں:
وَقَدْ رَوَى أَحْمَدُ فِي الْمُسْنَدِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَرَوَاهُ ابْنُ بَطَّةَ، وَرُوِّينَاهُ فِي جُزْءِ ابْنِ عَرَفَةَ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَهَذَا لَفْظُهُ قَالَ : " «لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " مَا تَقُولُونَ فِي هَؤُلَاءِ الْأُسَارَى ؟ " فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَوْمُكَ وَأَهْلُكَ، اسْتَبْقِهِمْ وَاسْتَأْنِ بِهِمْ، لَعَلَّ اللَّهَ يَتُوبُ عَلَيْهِمْ. وَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَذَّبُوكَ وَأَخْرَجُوكَ ، قَرِّبْهُمْ وَاضْرِبْ أَعْنَاقَهُمْ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قَالَ: " فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ شَيْئًا. قَالَ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: " إِنَّ مَثَلَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ كَمَثَلِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: {فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ} [سُورَةُ إِبْرَاهِيمَ: ٣٦] وَإِنَّ مَثَلَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ كَمَثَلِ عِيسَى قَالَ: {إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} [سُورَةُ الْمَائِدَةِ:١١٨] وَإِنَّ مَثَلَكَ يَا عُمَرُ كَمَثَلِ نُوحٍ قَالَ: {رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا} [سُورَةُ نُوحٍ: ٢٦] وَإِنَّ مَثَلَكَ يَا عُمَرُ كَمَثَلِ مُوسَى قَالَ: {وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ} » [سُورَةُ يُونُسَ: ٨٨] . [منهاج السنة النبوية 6/ 134- 135]

ملاحظہ فرمائیں کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے یہاں پر اسی حدیث کا پورا حوالہ دیا ہے لیکن کہیں بھی صحیحین یا ان میں سے کسی ایک کا بھی ذکر نہیں کیا بلکہ مسنداحمد اور دیگر حوالے سے اسے نقل کیا ہے۔
مسنداحمد کی اس حدیث کی صحت بھی بتا دیں جس کو ابن تیمیہ نے صحیح بخاری کی حدیث کے جواب میں پیش کیا ہے ، شکریہ
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,999
ری ایکشن اسکور
9,803
پوائنٹ
773
مسنداحمد کی اس حدیث کی صحت بھی بتا دیں جس کو ابن تیمیہ نے صحیح بخاری کی حدیث کے جواب میں پیش کیا ہے ، شکریہ
متفرق شواہدکی روشنی میں یہ روایت حسن ہے۔
اب یہ سوال وجواب بحث کی شکل اپنا رہا ہے نیز اصل بات بھی دوسرا رخ اختیار کررہی ہے اس لئے یہ موضوع یہیں بند ۔
 
سٹیٹس
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
Top