• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

Brands اور ہم !!!

Dua

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 30، 2013
پیغامات
2,579
ری ایکشن اسکور
4,431
پوائنٹ
463

ایک المیہ
فرانس کا ایک وزیر تجارت کہتا تھا؛ برانڈڈ چیزیں مارکیٹنگ کی دُنیا کا سب سے بڑا جھوٹ ہوتی ہیں جنکا مقصد تو امیروں سے پیسہ نکلوانا ہوتا ھے مگر غریب اس سے بہت متاثر ہو رہے ہوتے ہیں۔​
کیا یہ ضروری هے کہ میں I phone اُٹھا کر پھروں تاکہ لوگ مجھے ذہین اور سمجھدار مانیں؟
کیا یہ ضروری هے کہ میں روزانہ Mac یا Kfc کھاؤں تاکہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ میں کنجوس ہوں؟
کیا یہ ضروری هے کہ میں روزانہ دوستوں کے ساتھ اٹھک بیٹھک Downtown Cafe پر جا کر لگایا کروں تاکہ لوگ یہ سمجھیں کہ میں خاندانی رئیس ہوں؟
کیا یہ ضروری هے کہ میں Gucci,Lacoste, Adidas یا Nike سے کپڑے لیکر پہنوں تو جینٹل مین کہلایا جاؤں گا؟
کیا یہ ضروری هے کہ میں اپنی ہر بات میں دو چار انگریزی کے لفظ ٹھونسوں تو مہذب کہلاؤں؟
نہیں دوستو!!!
میرے کپڑے عام دکانوں سے خریدے ہوئے ہوتے ہیں، دوستوں کے ساتھ کسی تھڑے پر بھی بیٹھ جاتا ہوں، بھوک لگے تو کسی ٹھیلے سے لیکر کھانے میں بھی عار نہیں سمجھتا، اپنی سیدھی سادی زبان بولتا ہوں۔ چاہوں تو وہ سب کر سکتا ہوں جو اوپر لکھا هے لیکن۔۔۔۔
میں نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو میری Adidas سے خریدی گئی ایک قمیص کی قیمت میں پورے ہفتے کا راشن لے سکتے ہیں۔
میں نے ایسے خاندان دیکھے ہیں جو میرے ایک Mac برگر کی قیمت میں سارے گھر کا کھانا بنا سکتے ہیں۔
بس میں نے یہاں سے راز پایا هے کہ پیسے سب کچھ نہیں، جو لوگ ظاہری حالت سے کسی کی قیمت لگاتے ہیں وہ فورا اپنا علاج کروائیں۔ انسان کی اصل قیمت اس کا اخلاق، برتاؤ، میل جول کا انداز، صلہ رحمی، ہمدردی اور بھائی چارہ هے۔ نہ کہ اس کی ظاہری شکل و صورت۔

یہ ایک تحریر ہے جو کہ مجھے سرچنگ کے دوران ملی۔مگر یہ ہمارا المیہ ضرور ہے۔
آج ہمارے یہاں ظاہری شان وشوکت کی اس قدر قیمت اور بھاگ دوڑ ہے کہ اخلاقیات کو جیسے ترک کیا جا چکا ہے۔حالانکہ بظاہر "قیمتی" اور "مہذب" نظر آنے والے اندر سے بے حد کھوکھلے واقع ہوئے ہیں۔
درحقیقت "برانڈڈ" کی اس بیماری کو ہوا دینے والے ہم خود ہیں جو ایسے "نیم بیماروں" سے مرعوب ہوتے ہیں۔
خوبیوں میں اس "مرض" کی "علامات اور اسباب" دوسروں سے بڑھا چڑھا کر بیان کیئے جاتے ہیں۔
بیٹی یا بہن کا رشتہ دیکھنے جائیں تو لڑکے کی "برانڈڈ" چوائس ہی متاثر کر جاتی ہے۔۔۔

آخر یہ معیار کیوں؟؟؟

شہرت کے لیے یا
سٹیٹس کے لیے یا
دنیا سے ریس کے لیے یا عیش وعشرت کے لیے۔۔۔۔؟؟؟

اور

اس "بیماری" کا علاج اور ایسے "بیماروں" کا کوئی حل بھی ہے؟؟؟
 

اخت ولید

سینئر رکن
شمولیت
اگست 26، 2013
پیغامات
1,792
ری ایکشن اسکور
1,290
پوائنٹ
326
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بہت اچھا نکتہ اٹھایا گیا ہے!!
یہ سب شہرت کے کھیل اور چاہتیں ہیں۔ دکھلاوے نے انسان کو یہاں لا کھڑا ہے۔ ۔دوسروں کو مرعوب کرنے کا جنوں کہیں کا نہیں چھوڑتا!!
دوسری اہم بات کہ نامی گرامی برانڈ کی چیز استعمال کرنے والا جب اتراتا ہے تو دوسروں میں بھی احساس کمتری کا احساس اجاگر کر دیتا ہے۔ ۔ اور وہ بھی اسی کوشش میں مگن ہو جاتے ہیں کہ ہم بھی اسے نیچا دیکھائیں ۔ ۔
ایک دلچسپ بات یاد آئی کہ اخت طٰہٰ کی قریبی عزیزہ اسلام آباد کے ایک کالج کی پرنسپل ہیں۔ ۔ اب روز ان عزیزہ کے بچوں کا فرمان جاری ہو رہا ہوتا کہ ہم تو ’سپر ‘جا رہے ہیں؟؟سپر مارکیٹ اسلام آباد کی مہنگی،مشہور مارکیٹ ہے)
’کیا کھانے جا رہے ہو؟؟‘
’چپس!!‘حد ہو گئی۔ ۔اخت طٰہٰ کہنے لگیں کہ ہاں چاہے فٹ پاتھ پر سے ہی بیس روپے کا چپس پیکٹ لے ،کھا پی کر گھر آ جاتے ہوں۔ ۔ مگر مشہوری تو ہو گئی کہ اس کے بچے تو روز سپر کھانے پینے جاتے ہیں۔ ۔ یہ ہماری نفسیات بن چکی ہے!!
اور اس کا علاج وہیں سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود ہے۔ ۔ جہاں دکھلاوہ ہے نہ ریا۔ ۔ احساس کمتری ہے نہ برتری۔ ۔ کچھ بنایا ہے تو ساتھ ہمسائے کو بھی بھیجو یہ نہیں کہ کھڑکی میں کھڑے ہو کر باتیں کرو کہ آج یہ بنایا کھایا ہے!!!
 
Top