1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

آیت خاتم النبیینْ کا لغوی پہلو۔

'قرآن وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از نجیب اللہ خاں ایاؔز, ‏ستمبر 30، 2017۔

  1. ‏اکتوبر 04، 2017 #11
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,525
    موصول شکریہ جات:
    4,367
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    آپ نے اتنی آیت پیش کی جتنی آپکی ضرورت تھی،
    بقول آپ کے اگر مہر کا مطلب نشان یا نقش ہے تو کانوں اور دل پر مہر لگانے سے ہمیں کیا حاصل ہو گا اس پر تفصیل یا تفسیر پیش کریں، عبارت جہاں سے بھی اٹھائیں آپ اس پر اپنی رائے و علمی گفتگو سے نوازیں ورنہ صرف رٹہ لگانے پر ہم باہر ہیں۔

    والسلام
     
  2. ‏اکتوبر 04، 2017 #12
    نجیب اللہ خاں ایاؔز

    نجیب اللہ خاں ایاؔز مبتدی
    جگہ:
    ٹورانٹو ، کینیڈا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 28، 2017
    پیغامات:
    18
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    6

    کنعان صاحب !
    رٹہ بازی میرا طریق نہیں۔آپ کو شائد یہ بات ہضم نہیں ہو پا رہی کہ میں نے لفظ با لفظ مفردات امام راغب ؒ کا حوالہ دیا ہے ۔ اور جو معانی میں نے پیش کئے ہیں وہ لفظ با لفظ امام راغبؒ کے بیان کردہ ہیں اور جو آیا ت ہیں وہ بھی امام نے ایسے ہی پیش کی ہیں اور اتنی ہی پیش کی ہیں۔ جا کر مفردات کا ملاحظہ فرمائیں اگر موجود نہیں تو بتائیں لنک بھجوا دیتا ہوں۔ اس لئے بقول میرے کچھ نہیں بقول قرآن کی سب سے مستند لغت کے یہی معانی بنتے ہیں۔
    باقی سوال مجھ پر نہیں آپ پر پڑتا ہے کہ کانوں پر اور دل پر مہر لگانے کےمعانی سیلڈ کے ہیں کہ نہ کچھ اند ر جاتا ہے نہ باہر آتا ہے تو بتائیں کہ جو کفر کرتے ہیں کیا وہ بہرے ہو جاتے ہیں؟ یا ان کے دل بند ہو جاتے ہیں؟ کہ نہ خون اندر جائے نہ باہر جائے ۔ نہ آواز اندر جائے نہ؟ ۔
     
  3. ‏اکتوبر 04، 2017 #13
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,674
    موصول شکریہ جات:
    731
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    آپ نے "بعد" کا معنی "مخالف" کیا ہے:
    اس پر آپ نے آیت سے دلیل پیش کرنے کی کوشش بھی فرمائی ہے:

    لیکن کیا آپ اس معنی یعنی "مخالفت" کو کسی لغت کی کتاب یا تفسیر سے ثابت کر سکتے ہیں؟؟؟
    اگر نہیں ثابت کر سکتے تو پھر میں قرآن کریم کی کئی آیتیں دکھا سکتا ہوں جہاں "بعد" کا معنی کسی چیز کا دوسرے کے مخالف ہونا نہیں بلکہ زمان یا مکان میں دوسرے کے بعد ہونا ہے۔

    رہ گئی بات آپ کی پیش کردہ آیت کی کہ اس میں "بعد" کا معنی پھر کیا ہوگا؟ تو عرض ہے کہ اس كا مطلب حقیقتاً "بعد" میں ہونا ہے۔ "بعد اللہ" سے مراد ہے اللہ کے کلام کے بعد یعنی جو شخص اللہ کی ان آیات اور کلام سے فائدہ نہیں اٹھا پایا تو اس کے بعد کس چیز سے فائدہ اٹھا سکے گا؟ اس کے لیے ان کے بعد (یعنی ان کو سننے کے بعد) کسی چیز سے نفع اٹھانا ممکن نہیں ہے۔
    ومعنى الآية أن من لم ينتفع بهذه الآيات، فلا شيء بعده يجوز أن ينتفع به.
    (اللباب فی علوم الکتاب)
    ثم قال تعالى: فبأي حديث بعد الله وآياته يؤمنون يعني أن من لم ينتفع بهذه الآيات فلا شيء بعده يجوز أن ينتفع به
    (تفسیر الرازی)
    فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّهِ وَآياتِهِ يُؤْمِنُونَ أي بعد آيات اللهِ، وتقديم اسم اللَّهِ للمبالغة والتعظيم كما في قولك أعجبني زيد وكرمه أو بعد حديث اللَّهِ وهو القرآن كقوله تعالى: اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ وآياتِهِ دلائله المتلوة أو القرآن
    (تفسیر البیضاوی)

    اس سے معلوم ہوا کہ آپ کی مخالفت" والی بات درست نہیں ہے اور "بعد" اپنے اصلی لغوی معنی میں ہے۔

    اب جب یہ مخالفت والا معنی نہ درست ہے اور نہ ہی لغت میں موجود ہے تو پھر مسیلمہ اور اسود عنسی کے بارے میں آپ کی تمام تفصیل بھی (مخالفت کی بنیاد پر ان کے جھوٹے ہونے والی) درست نہیں ہوئی لہذا ہمارا سوال وہیں آ جاتا ہے کہ مسیلمہ اور اسود عنسی تشریعی نبی تھے یا غیر تشریعی؟
    نیز طلیحہ اسدی اور اس کے بعد تاریخ میں دعوائے نبوت کرنے والے کئی افراد (مثلاً ابو الطیب متنبی، نوح وغیرہ) کے بارے میں کیا خیال ہے کہ وہ تشریعی تھے یا غیر تشریعی؟
     
    • پسند پسند x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  4. ‏اکتوبر 04، 2017 #14
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,525
    موصول شکریہ جات:
    4,367
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    پوسٹ آپ لائے ہیں تو پہلے آپ کی بات تو جان لیں پھر آپ کو اپنی کیمسٹری بیان کریں گے۔

    بقول آپ کے اگر مہر کا مطلب نشان یا نقش ہے تو کانوں اور دل پر مہر نشان و نقش سے کیا ہو گا شکریہ کے ساتھ اپنے قلم سے اس کی کیمسٹری بیان فرمائیں۔

    والسلام
     
  5. ‏اکتوبر 04، 2017 #15
    نجیب اللہ خاں ایاؔز

    نجیب اللہ خاں ایاؔز مبتدی
    جگہ:
    ٹورانٹو ، کینیڈا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 28، 2017
    پیغامات:
    18
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    6

    کنعان صاحب
    میرا مؤقف وہی ہے جو امام راغب ؒ نے ان آیا ت سے لیا ہے ۔ آپ اسکا مطالعہ فرمائیں پھر مجھے بتائیں کہ آپ کیا فرماتے ہیں ۔ فالأمر الیکم۔

    اصل بحث محترم اشماریہ صاحب کے ساتھ ہے آپ اپنا ہومورک کریں پھر انشاء اللہ بات ہو گی ۔
    والسلام
     
  6. ‏اکتوبر 05، 2017 #16
    نجیب اللہ خاں ایاؔز

    نجیب اللہ خاں ایاؔز مبتدی
    جگہ:
    ٹورانٹو ، کینیڈا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 28، 2017
    پیغامات:
    18
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    6

    محترم اشماریہ صاحب
    مفصل جواب کے لئے جزاکم اللہ ۔
    خاکسار اپنے کالج کی تدریسی سر گرمیوں میں کچھ مصروف ہے۔ انٹر ول امتحان نیز مقالہ وغیرہ چھوڑیے کیا بتاؤں ۔کچھ وقت عنایت فرمائیں آپکی اس کامنٹ کا مفصل با حوالہ جواب لکھ کر بھجواتا ہوں۔

    لیکن سرِ دست کچھ وضاحتیں آپ فرما دیں تو جواب دینے میں آسانی ہو گی ۔ کیوں مسئلہ تعریف تشریعی و غیر تشریعی فروعی ہے وہ جو بھی ہو، بات آنحضرتﷺ کی خاتمیت کی چل رہی تھی۔
    1) آپکو امام راغبؒ کی بیان کر دہ لفظ خاتم کی تشریح پر تو اعتراض نہیں ؟
    2) جو حوالا جات خاکسار نے علمائے سلف کے بھجوائے ہیں جن میں انہوں نے خاتمیت سے مراد تشریعی نبوت لی ہے نہ کہ مقام نبوت ۔ان پر آپکو اعتراض تو نہیں ؟۔ ان کے بارہ میں آپکا کیا خیال ہے ؟۔
    3) علماء نے (ابن عربی ؒ، نواب حسن خان صاحب وغیرہ ) نے جو معانی لا نبی بعدی کے کئے ہیں ۔ان پر آپکو اعتراض تو نہیں ؟۔ ان کے بارہ میں آپکا کیا خیال ہے ؟

    باقی رہا بار جو میرے کندھوں پر ہے ۔ حضرت عیسی ٰ ؑ شرعی نبی ہیں یا نہیں ۔ آپؑ نے شیعت موسوی کو نسخ کیا یا نہیں ۔ قرآن کریم سے خاکسار مدلل جواب آپکو بھجوا دے گا۔
     
  7. ‏اکتوبر 05، 2017 #17
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,674
    موصول شکریہ جات:
    731
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    محترمی نجیب اللہ صاحب! ان شاء اللہ آپ کی پوسٹ کے ہر جزو پر بات کریں گے۔ امام راغب کی تشریحات پر بھی، دیگر مفسرین کے اقوال پر بھی اور ہر چیز پر۔
    تعریفات تمہید اور بنیاد کی حیثیت رکھتی ہیں اس لیے پہلے ان پر بات کرنا چاہتا ہوں تاکہ جب ہم آگے بات کریں تو آسانی ہو۔ اسی لیے تشریعی و غیر تشریعی کی بات چھیڑی ہے۔ یہ تو ہم بھی مانتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے بعد تشریعی نبی کوئی نہیں آ سکتا اور آپ بھی، اختلاف یہ ہے کہ غیر تشریعی نبی آ سکتا ہے یا نہیں؟ اور آپ ﷺ غیر تشریعی نبی کے لیے کیا خاتمیت کی صفت رکھتے ہیں؟ تو اس کے لیے پہلے یہ علم ہونا ضروری ہے تشریعی و غیر تشریعی ہے کیا؟
    آپ اطمینان سے اپنا جواب بھجوا دیجیے گا، مجھے کوئی جلدی نہیں ہے۔
     
  8. ‏اکتوبر 05، 2017 #18
    نجیب اللہ خاں ایاؔز

    نجیب اللہ خاں ایاؔز مبتدی
    جگہ:
    ٹورانٹو ، کینیڈا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 28، 2017
    پیغامات:
    18
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    6

    محترم اشماریہ صاحب
    مفصّل جواب کے لئے شکریہ۔
    سب سے پہلے تو خاکسار چاہتا ہے کہ آپ فاوّلتھما کذابین یخرجان بعدی میں بعدی کی تشریح فرما ویں جو کہ اصل مرجع بحث تھی جس کی دلیل میں قرآنی آیت پیش کی گئی ۔ نیز اذا ھلک قیصر فلا قیصر بعدہ میں جو بعد آیا ہے اسکی بھی تشریح فرما ویں۔ پھر لا ھجرۃ بعد الفتح میں جو بعد آیا ہے اسکی تشریح بھی فرماویں یا ابن حجرؒ کی تشریح سے اتفاق ہے ؟۔

    اب سنیے اہل علم کیا کہتے ہیں ۔حضرت شاہ ولی اللہ صاحب ؒ فرماتے ہیں :
    ’’باید دانس کہ مدلول ِ ایں آیت نیست الاستخلاف ِ علیؓ بر مدینہ در غزوۂ تبوک و تشبیہ دا دن این استخلاف با استخلاف موسیٰ ہارون را در وقتِ سفرِِ خود بجانب طور و معنی ’’ بعدی‘‘ اینجا ’’ غیری ‘‘ است ‘‘
    ترجمہ : جاننا چاہیے کہ اس حدیث (لانبی بعدی) کا مدلول صرف غزوۂ تبوک میں حضرت علیؓ کا مدینہ میں نائب یا مقامی امیر بنایا جانا اور حضرت ہارون ؓ سے تشبیہ دیا جانا ہے جبکہ موسیٰؑ نے طور کی جانب سفر کیا اور ’’ بعدی‘‘ کے معنی اس جگہ ’’ غیری‘ ‘ ہیں نہ کہ بعدیت زمانی ۔‘‘
    (غیری کے لغوی معانی :- سوا ، علاوہ ، نفی ، مخالفت ، مغایرت ، مقابل ، غیر موجودگی وغیرہ ہیں تفصیل کے لئے دیکھو مفردات القرآن ، اما م راغبؒ)
    پھر حضرت شاہ محدّث دہلوی ؒ اس کی مثال قرآن سے بیان فرماتے ہوئے اُس آیت (جو ہم نے بیان کی ہے جاثیہ 5)سے ملتی جلتی آیت کی تفسیر بھی انہیں معانوں میں فرماتے ہیں :
    ’’چنانچہ در آیت فمن یھد یہ من بعد اللہ (الجاثیہ : 23) گفتہ اند نہ بعدیّتِ زمانی ‘‘ (قرّۃ العینین فی تفصیل الشیخین صفحہ 206)
    آیت فمن یھدیہ من بعد اللہ کے معنی بھی غیری ہی کہ ہیں نہ کہ بعدیت زمانی ۔
    لہذا ثابت یہ ہو کہ اہل علم کے نزدیک بعد کے معانی صرف زمانی مکانی نہیں بلکہ ان سے زائد ہیں۔
    باقی آئندہ انشاء اللہ اور حوالا جات بھی بھجوا دوں گا سرِ دست اس پر تبصرہ فرمائیے ۔
    باقی احادیث کی تشریح ضرور بھجوا دی جئے گا ۔ انتظار رہے گا۔
     
  9. ‏اکتوبر 05، 2017 #19
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,674
    موصول شکریہ جات:
    731
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    پہلی فرصت میں اس کا جواب شراح حدیث سے دیتا ہوں۔ فی الحال ذرا سا مصروف ہوں۔

    محترمی! اگر آپ کی عبارت کی نقل درست ہے تو پھر آپ کا ترجمہ شاید غلط ہے۔
    ’’باید دانس کہ مدلول ِ ایں آیت نیست الاستخلاف ِ علیؓ بر مدینہ در غزوۂ تبوک و تشبیہ دا دن این استخلاف با استخلاف موسیٰ ہارون را در وقتِ سفرِِ خود بجانب طور و معنی ’’ بعدی‘‘ اینجا ’’ غیری ‘‘ است ‘‘
    "چاہیے کہ جان لیا جائے کہ اس آیت کا مدلول نہیں ہے علی رضی اللہ عنہ کو مدینے پر خلیفہ بنانا غزوہ تبوک میں اور اس خلیفہ بنانے کو تشبیہ دینا موسی کے ہارون کو خلیفہ بنانے سے ان کے طور کی جانب سفر کے وقت، اور یہاں "بعدی" کا معنی "غیری" ہے۔"
    غلطی سے آج سے بارہ سال پہلے ٹوٹی پھوٹی فارسی ہم نے بھی سیکھ لی تھی۔ اس میں "الاستخلاف" نہ "الا استخلاف" اور آخر میں "نہ کہ بعدیت زمانی" کے کوئی الفاظ نہیں ہیں۔ ممکن ہے یہ آپ سے عبارت نقل کرنے میں غلطی ہوئی ہو۔
    بہر حال چونکہ یہ کتاب نیٹ پر بھی آسانی سے نہیں ملتی اور ہمارے پاس بھی نہیں ہے اس لیے فورم کے اصول کے مطابق اس صفحے کا اسکین عنایت فرمائیے تاکہ ہم اصل عبارت اور اس کا سیاق و سباق دیکھ سکیں۔

    یہاں بھی کچھ ایسا ہی مسئلہ ہے کہ آپ کی فارسی عبارت میں "غیری" والے معنی کا دور دور تک پتا نہیں ہے۔ اس کا بھی اسکین عنایت فرمائیے۔ میں ممنون ہوں گا۔

    باقی "بعد" کے معنی تو تاج العروس میں "مع" بھی لکھے ہیں لیکن وہ آپ کو نافع نہیں ہیں۔ اگر ایک بار تاج العروس کا مطالعہ فرمالیں اس لفظ کے تحت تو اس میں اس کے تمام حقیقی و مجازی معانی مذکور ہیں۔
     
  10. ‏اکتوبر 05، 2017 #20
    نجیب اللہ خاں ایاؔز

    نجیب اللہ خاں ایاؔز مبتدی
    جگہ:
    ٹورانٹو ، کینیڈا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 28، 2017
    پیغامات:
    18
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    6

    میں نے حوالہ کو دو حصوں پر پیش کیا تھا اور اس درمیان اپنا تبصرہ شامل کیا تھا ۔تاہم لگتا ہے کہ آپ کے لئے مضمون واضح نہیں ہو پایا۔

    اپنی فارسی دانی پر معذرت خواہ ہوں پورا حوالہ یہ ہے ۔ میں ترجمہ لکھتا ہوں ۔لیکن آپ خود بھی اسکا ترجمہ فرما لیں۔ اور بتائیں کہ کیا سمجھے ہیں؟۔
    ’باید دانس کہ مدلول ِ ایں آیت نیست الااستخلاف ِ علیؓ بر مدینہ در غزوۂ تبوک و تشبیہ دا دن این استخلاف با استخلاف موسیٰ ہارون را در وقتِ سفرِِ خود بجانب طور و معنی ’’ بعدی‘‘ اینجا ’’ غیری ‘‘ است چنانچہ در آیت فمن یھد یہ من بعد اللہ (الجاثیہ : 23) گفتہ اند نہ بعدیّتِ زمانی ‘‘ (قرّۃ العینین فی تفصیل الشیخین صفحہ 206)
    ’’جاننا چاہیے کہ اس حدیث (لانبی بعدی) کا مدلول صرف غزوۂ تبوک میں حضرت علیؓ کا مدینہ میں نائب یا مقامی امیر بنایا جانا اور حضرت ہارون ؓ سے تشبیہ دیا جانا ہے جبکہ موسیٰؑ نے طور کی جانب سفر کیا اور ’’ بعدی‘‘ کے معنی اس جگہ ’’ غیری‘ ‘ ہیں جیسا کہ آیت
    فمن یھد یہ من بعد اللہ میں ہے نہ کہ بعدیت زمانی ‘‘۔
    ( یہ کتاب نایاب ہے خاکسار نے اس کا حوالہ لکھا تھا ۔ کوشش کرتا ہوں لائبریری سے اسکین یا تصویر مل جائے تو بھجواتا ہوں۔)

    دوسرا حوالہ بھی پیش خدمت ہے ۔
    2)لغات القرآن مصنفہ غلام احمد پرویز میں ’بعد ‘کے معانی ملاحظہ ہوں۔
    ’’ بعد کے معنی ’غیر‘ کے بھی آتے ہیں ۔ فمن یھد یہ من بعد اللہ‘‘
    (لغات القرآن صفحہ 331)



     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں