1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

آیت خاتم النبیینْ کا لغوی پہلو۔

'قرآن وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از نجیب اللہ خاں ایاؔز, ‏ستمبر 30، 2017۔

  1. ‏اکتوبر 06، 2017 #31
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,674
    موصول شکریہ جات:
    731
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    میں نے اس میں "حرام" والے جملے کو ہائی لائٹ کر دیا ہے۔ آپ ذرا حرمت لغیرہ کے لیے وہ تمام چیزیں ہائیلائٹ کردیں جو خود حرام ہیں اور جہاد کے ساتھ شامل ہیں اور ان کی وجہ سے جہاد کو پورے عالم میں مطلقاً ہر طریقے سے حرام قرار دیا جانا چاہیے۔
    یاد رہے کہ ہائی لائٹ شدہ چیزوں کی
    حرمت آپ فقہ کی کتب سے دکھائیں گے۔ آپ کے مرزا صاحب نے فقہ حنفی کا التزام کیا تھا تو فقہ حنفی کے مفتی بہ اقوال سے ہی دکھائیے گا۔
    جامعہ میں آپ کو امید ہے فقہ حنفی کی کتب سے آشنائی تو دلائی گئی ہوگی۔
     
  2. ‏اکتوبر 06، 2017 #32
    نجیب اللہ خاں ایاؔز

    نجیب اللہ خاں ایاؔز مبتدی
    جگہ:
    ٹورانٹو ، کینیڈا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 28، 2017
    پیغامات:
    18
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    6

    اشماریہ صاحب
    اب یہ بحث فقط وقت کا ضیاع ہے ۔ اس لئے اسے یہاں ختم کرتے ہیں ۔ پڑھنے والے خود ہی سمجھ لیں گے کہ کہاں نور ہے اور کہاں تاریکی۔
    خاتمہ
    اب میں اس بات چیت کی کاروائی کواوّل سے آخر تک مختصراً بیان کر کے اجازت چاہوں گا ۔ باقی سمجھنے والے سمجھ جائیں گے ۔
    خاکسار:- آیت خاتم النبیین ؐ کا لغوی پہلو مفردات القرآن کی روشنی میں۔ لفظ ختم کے 2 اصلی معانی اور 2 مجازی معانی ۔ ختم نبوت سے مراد مرتبی ہے نہ کہ زمانی ۔ حوالہ مولانا قاسم نانوتوی ۔نیز اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ نبوت مستقلاً بند ہے ۔نیز لا نبی بعدی پر علامائے سلف (مولانا قاسم نانوتوی،تفسیر عمدۃ البیان ، ابن عربی ؒ، عبد الوہاب شعرانی ؒ، شاہ ولی اللہ محڈّث دہلوی ؒ، حضرت ملاّ علی قاری ؒ، حضرت عائشہؓ ، نواب صدیق حسن خان صاحب ) نے کیا ارشادات فرمائے ہیں وہ بھی پیش کئے ہیں جن کا تا حال کوئی جواب موصول نہیں ہوا ۔

    اشماریہ صاحب بجائے اسکے کہ ختم کی لغوی بحث کو حل کرتے یا اقوال ائمہ سلف ؒ کا ردّ فرماتے ۔ تشریعی اور غیر تشریعی کی بحث میں پڑ گئے اور اسود عنسی اور مسیلمہ کی کیا حیثیت ہے جیسے مسائل میں چلے گئے ۔

    اوّلاً تشریعی و غیر تشریعی کی جو بھی تعریف کر لی جائے ۔ ان علماء کے نزدیک جن کا نام لیا ہے غیر تشریعی کی اجازت موجود ہے جو امت میں بطور نبی آ سکتا ہے ۔

    لیکن پھر تعریف بیان کی تو وہ عیسیٰؑ کے صاحب ِ شریعت ہونے پر دلائل دینے لگے ۔ حالانکہ وہ خود جانتے ہیں کہ ایک طبقہ ایسا علماء میں موجود ہے جو انہیں شرعی تسلیم نہیں کرتا ۔ بہر حال انکے دلائل کا جواب دیا گیا اور دلائل بھی دئیے گئے ۔ لیکن اگر مان بھی لیں کہ عیسیٰ ؑ شرعی نبی تھے ( جو کہ قرآن سے ثابت نہیں ہوتا) تب بھی سوال خاتم کی لغوی بحث اور اس پر علماء سلف کے ارشادات کا قائم تھا جس پر حضرت عیسیٰ کی شریعت کے ثابت ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تاہم ابھی تک نہ لغوی پہلو ردّ کیا گیا ہے نہ علمائے سلف کے اقوال ۔

    دوسرا مسئلہ جس کا اس خاتم النبیین ؐ کی لغوی بحث کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔ حضرت مرزا صاحب ؑ نے جہاد کو کس صورت میں حرام کیا تھا کا ہے ۔ یہ بحث میں لے آئے ۔ جس کا شافی جواب بھجوا چکا ہوں ملاحظہ فرما لیں ۔
    پھر یہ لفظ بعد کے معانی جو مدّ مقابل اور مخالف کہ جو میں نے کئے تھے کے پیچھے پڑ گئے ۔ جنکو قرآن کریم سے اورلغت کی کتب سے ثابت کر چکا ہوں ۔ ( بعد کے معانی غیر کے آئے ہیں جن میں مخالفت کا مفہوم پایا جاتا ہے ۔ اور دون کے بھی آئے ہیں جن میں مقابل ، غیر کا مفہوم پایا جاتا ہے ۔ اشماریہ صاحب سے درخواست ہے کہ وہ لکھ دیں کہ مطلقاً ان دونوں الفاظ میں(غیر اور دون) میں مقابل ، یا مخالف کا مفہوم نہیں پایا جاتا ۔جو کہ وہ تاحال نہیں لکھ رہے ۔ مجھے یقین ہے وہ آگے بھی ایسا نہ کریں گے ۔ فما علینا الا البلاغ ) بہرحال یہ بھی ایک فروعی مسئلہ ہے ۔ میں بحث کی خاطر مان بھی لوں کہ انکے معانوں میں یہ بات شامل نہیں تب بھی بتائیں کہ ختم کی بحث اور علمائے سلف کے اقوال کا کیا ردّ فرمائیں گے ؟؟

    اشماریہ صاحب پھر بھی مسئلہ خاتم کی لغوی بحث اور علمائے سلف کی اس پر تشریح کو ردّ کرنے کی طرف نہیں آئے نہ آ رہے ہیں جو کہ مرجع بحث تھا۔۔

    اور اب تک موصوف حضرت عیسٰی ؑ کی شریعت کو ثابت کرنے میں لگے ہیں ۔ جس کا خاکسار ردّ کر چکا ہے ۔ اب اس مسئلہ کو اور کھینچنا وقت کا ضیاع ہے ۔ لیکن میں انکی شریعت کو مان بھی لوں ( جو کہ قرآن سے کبھی ثابت نہ ہوگی ) تو پھر بھی بتائیں کہ خاتمیت کے مسئلہ کا کیا توڑ دیں گے ؟؟۔

    خاکسار طالب علم ہے اور اتنا وقت اس غیر متعلقہ بحث کو نہیں دے سکتا ۔ اب موصوف سے میری یہی درخواست ہے اور مجھے یقین ہے کہ ہمیشہ کی طرح اشماریہ صاحب نہ خاتم کی لغوی بحث پر کلام فرمائیں گے نہ علمائے سلف ؒ کے اقوال پر روشنی ڈالیں گے ۔ کیونکہ انہوں نے طریق یہ اختیار کیا ہے کہ فروعی مسئلہ کو اتنا کھینچو کہ اصل کی طرف نظر نہ جائے۔ اسلئے خاکسار کی طرف سے بس آخری سوال یہ ہے کہ :-
    خاتم کی لغوی بحث(مفردات ) پر جرح فرمائیں اورایک ایک کر کے علمائے سلف ؒ کے اقوال کا ردّ فر ما دیں۔

    باقی سارے فروعی مسائل ہیں نہ انکو میری توجیہہ پسند آئے گی نہ مجھے انکی۔

    والسلام
    خاکسار
    نجیب اللہ خاں ایاؔز
     
  3. ‏اکتوبر 06، 2017 #33
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,674
    موصول شکریہ جات:
    731
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    بہت جلدی راہ فرار اختیار کر لی جناب والا!

    کہانی کے آخر میں آپ "ختم شد" لگانا بھول گئے تھے اس لیے کہانی کا دوسرا حصہ میں مکمل کر دوں (مسکراہٹ)۔

    آپ نے "ختم" کی لغوی بحث فرمائی۔ اپنی بحث کے درمیان میں یہ نتیجہ نکالا کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے بعد کوئی تشریعی نبی نہیں آ سکتا، غیر تشریعی آ سکتا ہے۔ یہی بات آپ نے اسلاف کے بعض حوالہ جات سے ثابت فرمائی۔
    اس پر میں نے دو اصولی سوالات کیے:

    1. تشریعی اور غیر تشریعی نبی میں کیا فرق ہے؟ (ظاہر ہے ان میں فرق معلوم ہوگا تو ہم کہیں گے کہ کون آ سکتا ہے اور کون نہیں)
    2. اسود عنسی اور مسیلمہ (یعنی نبی کریم ﷺ کے بعد جو بھی نبی آئے) وہ تشریعی تھے یا غیر تشریعی؟ (آپ نے مرزا قادیانی کی نبوت کا تو کہا نہیں تھا اس لیے ہمیں سب مدعیوں کے بارے میں جاننا تھا کہ ان میں سے کون کون سا نبی ہے)
    پہلے سوال کا آپ نے جو جواب دیا وہ ناقص تھا، نہ تو وہ اپنی مثالوں کو جامع تھا جیسا کہ عیسیؑ کو اور نہ ہی وہ آپ کے مرزا صاحب کی نبوت کو درست قرار دیتا تھا کیوں کہ مرزا صاحب نہ صرف جہاد کو حرام کر گئے ہیں بلکہ اپنے خلاف خود گواہی دے کر یہ فرما گئے ہیں کہ صاحب شریعت نبی کی وحی میں امر و نہی ہوتے ہیں اور میری وحی میں بھی امر و نہی موجود ہیں۔
    دوسرے سوال کا جواب آپ نے تاحال نہیں دیا۔ آپ نے اسود عنسی اور مسیلمہ پر بحث چھیڑ دی کہ انہوں نے نبی ﷺ کے مد مقابل دعوی کیا تھا اور اس پر بات آگے چل پڑی، لیکن آپ نے تاحال قارئین کو یہ نہیں بتایا کہ وہ اور ان کے بعد آنے والے نبیوں میں سے کون تشریعی تھے جنہیں ہم نہ مانیں اور کون غیر تشریعی تھے۔

    ان دو سوالوں کے جوابات کے بعد قارئین کے لیے یہ واضح ہو جاتا کہ غیر تشریعی نبی ہوتا کیا ہے اور امت میں غیر تشریعی نبی کون کون سے آ چکے ہیں۔ پھر ہم آپ کے حوالہ جات اور تشریحات کو دیکھتے۔
    ابھی تو ہم بڑے پیار سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ جناب والا! ہر وہ نبی جس کی وحی میں کسی بھی قسم کا امر یا کسی بھی قسم کی نہی موجود ہو، چاہے وہ امر اور نہی پچھلے نبی کی وحی سے ماخوذ ہو یا نئے ہوں، وہ تشریعی یا صاحب شریعت نبی ہو گا۔ یہ تعریف آپ کے مرزا صاحب کی کی ہوئی ہے جس میں "چاہے" سے شروع ہونے والا جملہ ہمارا اپنا ہے کیوں کہ مرزا صاحب نے خود کہا ہے: "اگر کہو کہ شریعت سے مراد وہ شریعت ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔" (روحانی خزائن، 17۔436)
    جب مرزا صاحب خود مانتے ہیں کہ وہ صاحب شریعت ہیں تو پھر ہم کیوں انہیں غیر تشریعی قرار دیں، اور جب امت میں کسی کے نزدیک صاحب شریعت یا تشریعی پیغمبر نہیں آ سکتا تو مرزا صاحب پھر کیا ہوئے؟ یہ آپ جانیں یا قارئین۔

    اس لیے میں نے آپ کو موقع دیا تھا کہ آپ تشریعی و غیر تشریعی کی اپنی پسند کی تعریف کر لیں جو جامع بھی ہو اور مانع بھی۔

    اب اگر آپ نہیں کرنا چاہتے تو پھر ہم آپ کے مرزا صاحب کی تعریف کو ہی لے لیتے ہیں۔ آپ بے فکر رہیں! میں اس تعریف کو لے کر ہی سہی لیکن آپ کے حوالہ جات پر گفتگو ان شاء اللہ ضرور کروں گا۔
    فی الحال دو تین دن کی مصروفیت ہے۔۔۔ اس کے بعد میں آپ کے حوالہ جات پر بات شروع کرتا ہوں۔
    لیکن پہلے ایک کام کر دیجیے۔۔۔۔ آپ نے جن کتب سے حوالے دیے ہیں ان میں اکثر کتب نیٹ پر نہیں ملتیں اور بعض تو نایاب ہیں۔ اس لیے اپنے حوالہ جات کے اسکین بھی لگا دیجیے۔
     
  4. ‏اکتوبر 07، 2017 #34
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,525
    موصول شکریہ جات:
    4,367
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    ایسے ممبران رٹا والے ہوتے ہیں جنہیں چند ایک لفظوں کو دکھا کر رٹا لگوایا جاتا ہے اور یہ جہاں بھی ملیں گے اپنی بات لکھ کر اسی کے گرد گھومتے رہیں گے اس سے آگے نہیں بڑھ سکتے علمی کنورسیشن ان کے بس کی بات نہیں کیونکہ اس کے لئے بہت سے علوم پر قابض ہونا ضروری ہے، میرا ایسے ممبران پر جہاں بھی واسطہ پڑا سب اس جیسے ہی نکلے۔ ایک خان صاحب ہوتے تھے امریکہ سے، پرویزی سوچ کے، خود ہی قرآن کا ترجمہ لکھنا شروع کیا، اسی ہی آیت پر بڑا عجیب سا ترجمہ کر دیا انہوں نے، انہیں کان کی ساعت پر مکمل پارٹس معہ تصاویر سے پریکٹیکلی انہیں جواب دیا تھا، فورم بند ہونے سے میٹریل حاصل نہیں ہو سکا۔ ایک رانا صاحب تھے بوھیو کی کتابوں سے لکھا کرتا تھا، اسی طرح کنورسیشن پر کبھی نہیں ٹھہرتا تھا، ایسے اور بھی بہت سے رفو چکر دیکھنے کو ملے۔

    وقت ملنے پر مہر پر الگ سے ایک دھاگہ بنانے کی کوشش کروں گا جو معلوماتی ہو گی۔

    والسلام
     
    • پسند پسند x 3
    • متفق متفق x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  5. ‏اکتوبر 07، 2017 #35
    T.K.H

    T.K.H مشہور رکن
    جگہ:
    یہی دنیا اور بھلا کہاں سے ؟
    شمولیت:
    ‏مارچ 05، 2013
    پیغامات:
    1,045
    موصول شکریہ جات:
    311
    تمغے کے پوائنٹ:
    156

    عقیدۂ ختم ِ نبوت ﷺ

    ایک گروہ ، جس نے اِس دور میں نئی نبوّت کا فتنۂ عظیم کھڑا کیا ہے ، لفظ خَاتَم النّبیّین کے معنی ’’نبیوں کی ُمہر‘‘ کرتا ہے اور اس کا مطلب یہ لیتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو انبیاء بھی آئیں گے وہ آپؐ کی مُہر لگنے سے نبی بنیں گے ، یا بالفاظ دیگر جب تک کسی کی نبوت پر آپؐ کی مُہر نہ لگے وہ نبی نہ ہو سکے گا۔
    لیکن جس سلسلۂ بیان میں یہ آیت وارد ہوئی ہے اس کے اندر رکھ کر اسے دیکھا جائے تو اِس لفظ کا یہ مفہوم لینے کی قطعاً کوئی گنجائش نظر نہیں آتی ، بلکہ اگر یہی اس کے معنی ہوں تو یہاں یہ لفظ نے محل ہی نہیں ، مقصود کلام کے بھی خلاف ہو جاتا ہے۔ آخر اس بات کا کیا تُک ہے کہ اوپر سے تو نکاح زینبؓ پر معترضین کے اعتراضات اور ان کے پیدا کیے ہوئے شکوک و شبہات کا جواب دیا جا رہا ہو اور یکایک یہ بات کہہ ڈالی جائے کہ محمدﷺ نبیوں کی مُہر ہیں ، آئندہ جو نبی بھی بنے گا، ان کی مُہر لگ کر بنے گا۔ اس سیاق و سباق میں یہ بات نہ صرف یہ کہ بالکل بے تُکی ہے ، بلکہ اس سے وہ استدلال اُلٹا کمزور ہو جاتا ہے جو اوپر سے معترضین کے جواب میں چلا آ رہا ہے۔ اِ س صورت میں تو معترضین کے لیے یہ کہنے کا اچھا موقع تھا کہ آپ یہ کام اِس وقت نہ کرتے تو کوئی خطرہ نہ تھا۔ اِس رسم کو مٹانے کی ایسی ہی کچھ شدید ضرورت ہے تو آپ کے بعد آپ کی مُہر لگ لگ کر جو انبیاء آتے رہیں گے اُن میں سے کوئی اسے مٹا دے گا۔
    ایک دوسری تاویل اس گروہ نے یہ بھی کی ہے کہ ’’ خاتم النبیین‘‘ کے معنی افضل النبیین کے ہیں ، یعنی نبوت کا دروازہ تو کھُلا ہوا ہے ، البتہ کمالاتِ نبوّت حضورﷺپر ختم ہو گئے ہیں۔ لیکن یہ مفہوم لینے میں بھی وہی قباحت ہے جو اوپر ہم نے بیان کی ہے۔ سیاق و سباق سے یہ مفہوم بھی کوئی مناسبت نہیں رکھتا ، بلکہ اُلٹا اس کے خلاف پڑتا ہے۔ کفّار و منافقین کہہ سکتے تھے کہ حضرت، کم تر درجے کے ہی سہی۔ بہر حال آپ کے بعد بھی نبی آتے رہیں گے۔ پھر کیا ضرور تھا کہ اس رسم کو بھی آپ ہی مٹا کر تشریف لے جاتے۔
    لُغت کی رُو سے خاتم النبیین کے معنی
    پس جہاں تک سیاق وسباق کا تعلق ہے وہ قطعی طور پر اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ یہاں خاتم النبییّن کے معنی سلسلۂ نبوّت کو ختم کر دینے والے ہی کے لیے جائیں اور یہ سمجھا جائے کہ حضورؐ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔ لیکن یہ صرف سیاق ہی کا تقاضا نہیں ہے ، لغت بھی اِسی معنی کی مقتضی ہے۔ عرنی لغت اور محاورے کی رُو سے ’’ ختم‘‘ کے معنی مُہر لگانے ، بند کرنے ، آخر تک پہنچ جانے ، اور کسی کام کو پورا کر کے فارغ ہو جانے کے ہیں۔
    خَتَمَ الْعَمَل کے معنی ہیں فَرَغَ مِنَ الْعَمَلِ ، ’’کام سے فارغ ہو گیا۔‘‘
    خَتَمَ الْاِنَا ءَ کے معنی ہیں ’’برتن کا منہ بند کر دیا اور اس پر مُہر لگا دی تاکہ نہ کوئی چیز اس میں سے نکلے اور نہ کچھ اس کے اندر داخل ہو‘‘
    خَتَمَ الْکِتَابَ کے معنی ہیں ’’ خط بند کر کے اس پر مُہر لگا دی تاکہ خط محفوظ ہو جائے۔‘‘
    خَتَمَ عَلَی الْقَلْبِ، ’’ دِل پر مُہر لگا دی کہ نہ کوئی بات اس کی سمجھ میں آئے ، نہ پہلے سے جمی ہوئی کوئی بات اس میں سے نِکل سکے۔‘‘
    خِتَا مُ کُلِّ مَشْرُوبٍ، ’’ وہ مزا جو کسی چیز کو پینے کے بعد آخر میں محسوس ہوتا ہے۔‘‘
    خَا تمۃُ کُلِّ شَیئئٍ عاقبتہ واٰخرتہ، ہر چیز کے خاتمہ سے مراد ہے اس کی عاقبت اور آخرت۔‘‘
    خَتَمَ الشَّیْء ، بلغ اٰخرہ، ’’کسی چیز کو ختم کرنے کا مطلب ہے اس کے آخر تک پہنچ جانا۔ ‘‘ اسی معنی میں ختم قرآن بولتے ہیں اور اسی معنی میں سورتوں کی آخری آیات کو خواتیم کہا جاتا ہے۔
    خَاتَمُ الْقَوْمِ، اٰخرھم، خاتم القوم سے مراد ہے قبیلے کا آخری آدمی‘‘۔
    (ملاحظہ ہو لسان العرب، قاموس اور قرب الموارد)
    اس بنا پر تمام اہل لغت اور اہل تفسیر نے بالاتفاق خاتم النبییّن کے معنی آخر النبییّن کے لیے ہیں۔ عربی لُغت و محاورے کی رُو سے خاتم کے معنیٰ ڈاک خانے کی مُہر کے نہیں ہیں جسے لگا لگا کر خطوط جاری کیے جاتے ہیں ، بلکہ اس سے مراد وہ مُہر ہے جو لفافے پر اس لیے لگائی جاتی ہے کہ نہ اس کے اندر سے کوئی چیز باہر نکلنے نہ باہر کی کوئی چیز اندر جائے۔

    جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  6. ‏اکتوبر 07، 2017 #36
    T.K.H

    T.K.H مشہور رکن
    جگہ:
    یہی دنیا اور بھلا کہاں سے ؟
    شمولیت:
    ‏مارچ 05، 2013
    پیغامات:
    1,045
    موصول شکریہ جات:
    311
    تمغے کے پوائنٹ:
    156

    ختم نبوّت کے بَارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات

    قرآن کے سیاق و سباق اور لغت کے لحاظ سے اس لفظ کا جو مفہوم ہے اسی کی تائید بنی صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریحات کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر چند صحیح ترین احادیث ہم یہاں نقل کرتے ہیں :

    ۱)۔قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم کانت بنو اسرائیل تسو سھم الانبیاء۔ ھلک نبی خلفہ نبی، و انہ لا نبی بعدی و سیکون خلفاء (بخاری ، کتاب المناقب، باب ما ذکر عن بنی اسرئیل)
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’ بنی اسرائیل کی قیادت انبیاء کیا کرتے تھے۔ جب کوئی نبی مر جاتا تو دوسرا نبی اس کا جانشین ہوتا۔ مگر میری بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ بلکہ خلفاء ہوں گے۔‘‘

    ۲)۔ قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم ان مثلی و مثل الانبیاء من قبلی کمثل رجل بنیٰ بیتاً فاحسنہ و اجملہ الّا موضع لبنۃ من زاویۃ فجعل الناس یطوفون بہ ویعجبون لہ ویقولون ھلّا وُضِعَتْ ھٰذہ اللبنۃ، فانا اللبنۃ۔ و انا خاتم النبیّین (بخاری ، کتاب المناقب، باب خاتم النبیّین)
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’ میری اور مجھ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسی ایک شخص نے ایک عمارت بنائی اور خوب حسین و جمیل بنائی مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوٹی ہوئی تھی۔ لوگ اس عمارت کے گرد پھرے اور اس کی خونی پر اظہارِ حیرت کرتے تھے ، مگر کہتے تھے کہ اس جگہ اینٹ کیوں نہ رکھی گئی؟ تو وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں‘‘ (یعنی میرے آنے پر نبوت کی عمر مکمل ہو چکی ہے ، اب کوئی جگہ باقی نہیں ہے جسے پُر کرنے کے لیے کوئی آئے )
    اسی مضمون کی چار حدیثیں مسلم، کتاب الفضائل ، باب خاتم النبیین میں ہیں اور آخری حدیث میں یہ الفاظ زائد ہیں :
    فَجِعْتُ فَختمت الانبیاء، ’’پس میں آیا اور انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا۔‘‘
    یہی حدیث انہی الفاظ میں ترمذی، کتاب المناقب، باب فضل النبی، اور کتاب الآداب، باب الامثال میں ہے۔
    مُسند ابو داوٗد وطَیا لِسی میں یہ حدیث جابر بن عبداللہ کی روایت کردہ احادیث کے سلسلے میں آئی ہے اور اس کے آخری الفاظ یہ ہیں
    :ختم بی الانبیاء، ’’ میرے ذریعہ سے انبیاء کا سلسلہ ختم کیا گیا۔‘‘
    مُسند احمد میں تھوڑے تھوڑے لفظی فرق کے ساتھ اس مضمون کی احادیث حضرت اُبَیّ بن کعبؓ ، حضرت ابو سعد خُدرِی ؓ اور حضرت ابوہریرہؓ سے نقل کی گئی ہیں۔

    ۳)۔ ان رسول اللہ صلی اللہ وسلم قال فُضِّلْتُ علی الانبیَاء بستِّ، اعطیت جوامع الکلم، ونصرت بالرعب واُحلّت لی الغنائم، وجعلت لی الارض مسجداً و طھوراً ، واُرْسلتُ الی الخلق کانۃ، و ختم بی النبیّون۔ (مسلم ، ترمذی، ابن ماجہ)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’ مجھے چھ باتوں میں انبیاء پر فضیلت دی گئی ہے
    (۱) مجھے جامع و مختصر بات کہنے کی صلاحیت دی گئی
    (۲)مجھے رعب کے ذریعہ سے نُصرت بخشی گئی
    (۳) میرے لیے اموالِ غنیمت حلال کیے گیے
    (۴)میرے لیے زمین کو مسجد بھی بنا دیا گیا اور پاکیزگی حاصل کرنے کا ذریعہ بھی (یعنی میری شریعت میں نما ز صرف مخصوص عبادت گاہوں میں ہی نہیں بلکہ روئے زمین پر ہر جگہ پڑھی جا سکتی ہے اور پانے نہ ملے تو میری شریعت میں تیمم کر کے وضو کے حاجت بھی پوری کی جا سکتی ہے اور غسل کی حاجت بھی)
    (۵)مجھے تمام دُنیا کے لیے رسول بنا یا گیا
    (۶)اور میرے اوپر انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔ ‘‘

    ۴)۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انّ الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی (ترمذی ، کتاب الرؤیا، باب ذہاب النبوۃ۔ مسند احمد، مرویّات انس بن مالکؓ)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ’’رسالت اور نبوّت کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ میرے بعد اب نہ کوئی رسول ہے اور نہ نبی۔ ‘‘

    ۵)۔ قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم انا محمد ، و انا احمد و انا الماحیٰ الذی یحشر الناس علی عقبی، و انا العاقب الذی لیس بعدہٗ نبی ( بخاری و مسلم، کتاب الفضائل، باب اسماء النبی۔ ترمذی، کتاب الآداب، باب اسماء النبی۔ مُوطّا ، کتاب اسماء النبی۔ المستدرک للحاکم، کتاب التاریخ ، باب اسماء النبی)
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’میں محمدﷺہوں۔ میں احمدﷺ ہوں۔ میں ماحی ہوں کہ میرے ذریعہ سے کفر محو کیا جائے گا۔ میں حاشر ہوں کہ میرے بعد لوگ حشر میں جمع کیے جائیں گے (یعنی میرے بعد اب جس قیامت ہی آنی ہے )۔ اور میں عاقب ہوں۔ اور عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔‘‘

    ۶)۔ قال رسول اللہ علیہ وسلم ان اللہ لم یبعث نبیّاً الاحذر امتہ الدّجّال و انا اٰخر الانبیاء وانتم اٰخر الامم و ھو خارج فیکم لا محالۃ(ابن ماجہ ، کتاب الفتن، باب الدجّال)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی نہیں بھیجا جس نے اپنی اُمّت کو دجّال کے خروج سے نہ ڈرایا ہو (مگر اُن کے زمانے میں وہ نہ آیا ) اب میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امّت ہو۔ لامحالہ اب اس کو تمہارے اندر ہی نکلنا ہے۔‘‘

    ۷)۔ عن عبدالرحمٰن بن جبیر قال سمعت عبداللہ بن عمرو بن العاص یقول خرج علینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوماً کالمودّع فقال انا محمّد النبی الامی ثلاثاً ولا نبی بعدی۔ (مسند احمد،مرویات عبداللہ بن عمرو بن العاص)
    عبدلرحمٰن بن جُبَیر کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عَمْرو بن عاص کو یہ کہتے سُنا کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مکان سے نکل کر ہمارے درمیان تشریف لائے اس انداز سے کہ گویا آپؐ ہم سے رخصت ہو رہے ہیں۔ آپؐ نے تین مرتبہ فرمایا:
    ’’ میں محمدﷺ نبی امّی ہوں۔‘‘ پھر فرمایا: ’’اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘

    ۸)۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا نبوۃ بعدی الا المبشرات ۔ قیل وما المبشرات یارسول اللہَ؟ قال الرؤیا الحسنۃ۔ او قال الرؤیا الصالحۃ۔ (مُسند احمد، مرویات ابو الطفیل، نسائی، ابوداؤد)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’ میرے بعد کوئی نبوت نہیں ہے ، صرف بشارت دینے والی باتیں ہیں ‘‘
    عرض کیا گیا ’’وہ بشارت دینے والی باتیں کیا ہیں یا رسول اللہ ؟‘‘
    فرمایا:’’اچھا خواب‘‘ یا فرمایا :’’صالح خواب۔ ‘‘(یعنی وحی کا اب کوئی امکان نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ اگر کسی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی اشارہ ملے گا بھی تو بس اچھے خواب کے ذریعہ سے مل جائے گا)۔

    ۹)۔ قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم لو کان بعدی نبیّ لکان عمر بن الخطاب(ترمذی، کتاب المناقب)
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عمر بن الخطاب ہوتے۔‘‘

    ۱۰)۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لعلٍیّ انت منّی بمنزلۃ ھارون من موسیٰ ، الا انہ لانبی بعدی (بخاری و مسلم ، کتاب فضائل الصحابہ)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ سے فرمایا:
    ’’میرے ساتھ تمہاری نسبت وہی ہے جو موسیٰؑ کے ساتھ ہارونؑ کی تھی ، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘
    بخاری و مسلم نے یہ حدیث غَزوۂ تَبوک کے ذکر میں بھی نقل کی ہے۔ مُسند احمد میں اس مضمون کی دو حدیثیں حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت کی گئی ہیں جب میں سے ایک کا آخری فقرہ یوں ہے : الا انہ لا نبوۃ بعدی، ’’مگر میرے بعد کوئی نبوت نہیں ہے۔‘‘ ابو داوٗد و طیالِسی، امام احمد اور محمد بن اسحاق نے اس سلسلے میں جو تفصیلی روایات نقل کی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ غزوۂ تبوک کے لیے تشریف لے جاتے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ کو مدینہ طیّبہ کی حفاظت و نگرانی کے لیے اپنے پیچھے چھوڑنے کا فیصلہ فرمایا تھا۔ منافقین نے اس پر طرح طرح کی با تین ان کے بارے میں کہنی شرع کر دیں انہوں نے جا کر حضورﷺ سے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہﷺ، کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑے جا رہے ہیں ‘‘؟ اس موقع پر حضورﷺنے ان کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ ’’ تم میرے ساتھ وہی نسب رکھتے ہو جو موسیٰ کے ساتھ ہارون رکھتے تھے ‘‘۔ یعنی جس طرح حضرت موسیٰؑ نے کوہِ طور پر جاتے ہوئے حضرت ہارونؐ کو بنی اسرائیل کی نگرانی کے لیے پیچھے چھوڑا تھا اسی طرح میں تم کو مدینے کی حفاظت کے لیے چھوڑے جا رہا ہو۔ لیکن اس کے ساتھ ہی حضورﷺکو اندیشہ ہوا کہ حضرت ہارون کے ساتھ یہ تشبیہ کہیں بعد میں کسی فتنے کی موجب نہ بن جائے ، اس لیے فورا آپﷺ نے یہ تصریح فرما دی کہ میرے بعد کوئی شخص نبی ہونے والا نہیں ہے۔

    ۱۱)۔ عن ثوبان قال رسول اللہ علیہ وسلم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ و انہ سیکون فی اُمّتی کذابون ثلاثون کلھم یزعم انہ نبی و انا خاتم النبیین لا نبی بعدی۔ (ابوداود، کتاب الفتن)
    ثوبان سے روایت ہے کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’اور یہ کہ میری امت میں تیس کذَّاب ہوں گے جن میں سے ہر ایک بنی ہونے کا دعویٰ کرے گا، حالاں کہ میں خاتم النبیین ہوں ، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ ‘‘
    اسی مضمون کی ایک اور حدیث ابو داوٗد نے کتاب الملاحم میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی ہے۔ ترمذی نے بھی حضرت ثوبان اور حضرت ابوہریرہؓ سے یہ دونوں روایتیں نقل کی ہیں اور دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں :’’
    حتی یبعث دجالون کذابون قریب من ثلا ثین کلھم یزعم انہ رسول اللہ،’’ یہاں تک کہ اُٹھیں گے تیس کے قریب جھوٹے فریبی جن میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا وہ اللہ کا رسول ہے۔‘‘

    ۱۲)۔قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم لقد کان فیمن کان قبلکم من بنی اسرائیل رجال یُکلَّمون من غیران یکونو اانبیاء فان یکن من امتی احد نعمر (بخاری، کتاب المناقب)
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’تم سے پہلے جو بنی اسرائیل گزرے ہیں ان میں ایسے لوگ ہوئے ہیں جن سے کلام کیا جاتا تھا بغیر اس کے کہ وہ نبی ہوں۔ میری امت میں اگر کوئی ہوا تو وہ عمرؓ ہو گا۔‘‘
    مسلم میں اس مضمون کی جو حدیث ہے اس میں یکلَّمون کے بجائے محدَّثون کا لفظ ہے۔ لیکن مکلَّم اور محدَّث ، دونوں کے معنی ایک ہی ہیں ، یعنی ایسا شخص جو مکالمۂ الہٰی سے سرفراز ہونے والے بھی اس اُمّت میں اگر کوئی ہوتے تو وہ حضرت عمرؓ ہوتے۔

    ۱۳)۔ قال رسُول اللہ علیہ وسلم لا نبی بعدی و لا امۃ بعدی امتی۔ (بَکتاب الرؤیا۔ طَبرانی بہیقی،)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میری اُمت کے بعد کوئی اُمّت (یعنی کسی نئے آنے والے نبی کی اُمّت ) نہیں۔‘‘

    ۱۴)۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فانی اٰخر الانبیاء و ان مسجدی اٰخر المساجد۔(مسلم، کتاب الحج، باب فضل الصلوٰۃ بمسجد مکہ والمدینۃ)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد آخری مسجد (یعنی مسجدِ نبویﷺ) ہے۔‘‘

    یہ احادیث بکثرت صحابہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہیں اور بکثرت محدثین نے ان کو بہت سی قوی سندوں سے نقل کیا ہے۔ ان کے مطالعہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضورﷺ نے مختلف مواقع پر، مختلف طریقوں سے ، مختلف الفاظ میں اس امر کی تصریح فرمائی ہے کہ آپﷺ آخری نبی ہیں ، آپ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے ، نبوت کا سلسلہ آپﷺ پر ختم ہو چکا ہے اور آپﷺ کے بعد جو بھی رسول یا نبی ہونے کا دعویٰ کریں وہ دجال و کذّاب ہیں۔ قرآن کے الفاظ ’’ خاتم النبیین‘‘ کی اس کے زیادہ مستند و معتبر اور قطعی الثبوت تشریح اور کیا ہوسکتی ہے۔ رسول پاکﷺ کا ارشاد تو بجائے خود سند و حجت ہے۔ مگر جب وہ قرآن کی ایک نص کی شرح کر رہا ہو تب تو وہ اور بھی زیادہ قوی حجّت بن جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر قرآن کو سمجھنے والا اور اس کی تفسیر کا حق دار اور کون ہو سکتا ہے کہ وہ ختمِ نبوت کا کوئی دوسرا مفہوم بیان کرے اور ہم اسے قبول کرنا کیا معنی قابل التفات بھی سمجھیں ؟

    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    Last edited: ‏اکتوبر 07، 2017
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں