1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ایک بریلوی مکتب فکر کے پروفیسر کا جوابی مضمون

'تازہ مضامین' میں موضوعات آغاز کردہ از Urdu, ‏ستمبر 03، 2013۔

  1. ‏ستمبر 03، 2013 #1
    Urdu

    Urdu رکن
    جگہ:
    انڈیا
    شمولیت:
    ‏مئی 14، 2011
    پیغامات:
    199
    موصول شکریہ جات:
    341
    تمغے کے پوائنٹ:
    76

    السلام علیکم،​
    مالیگائوں کے مشہور نقاد و ادیب اور بریلوی مکتبہء فکر کے حامل پروفیسر اشفاق انجم کی حال ہی میں شائع شدہ تنقیدی کتاب "پس نوشت" (جسکا پیش لفظ شیخ حافظ جلال الدین القاسمی نے لکھا تھا) پر جامعہ محمدیہ منصورہ ،مالیگائوں کے ایک سلفی عالم دین نے ایک سلفی شاعر کے دفاع میں جوابی مضمون لکھا تھا ، مگرساتھ ہی انہوں نے شیخ جلال الدین القاسمی حفظہ اللہ کے عقیدہ پر انگشت نمائی کی تھی۔​
    شیخ نے تو انکے مضمون کا کوئی نوٹس نہ لیا۔ہاں! اشفاق انجم صاحب نے انکے اعتراضات کو رفع کرنے کے لئے ایک جوابی مضمون لکھا ہے۔جسے قارئین محدث فورم کے مطالعہ کے لئے شیئر کیا جا رہا ہے۔اگر اس فورم کے علماء ضروری سمجھیں تو ان پروفیسر صاحب کے ان اعتراضات کا جواب مختصراً درج کر دیں،جو انہوں نے سلفی منہج کے متعلق کیا ہے تو بہتر ہوگا۔​
    (یاد رہے کہ اس مضمون کے ان حصوں سے میں قطعی اتفاق نہیں کرتا،جو سلفی منہج سے ہٹ کر ہیں۔لہذا میری خطائیں در گذر فرمائیں۔پلیز)​
    img863.jpg
     
  2. ‏ستمبر 03، 2013 #2
    Urdu

    Urdu رکن
    جگہ:
    انڈیا
    شمولیت:
    ‏مئی 14، 2011
    پیغامات:
    199
    موصول شکریہ جات:
    341
    تمغے کے پوائنٹ:
    76

    img865.jpg
     
  3. ‏ستمبر 03، 2013 #3
    Urdu

    Urdu رکن
    جگہ:
    انڈیا
    شمولیت:
    ‏مئی 14، 2011
    پیغامات:
    199
    موصول شکریہ جات:
    341
    تمغے کے پوائنٹ:
    76

    img866-01.jpg
     
  4. ‏ستمبر 03، 2013 #4
    Urdu

    Urdu رکن
    جگہ:
    انڈیا
    شمولیت:
    ‏مئی 14، 2011
    پیغامات:
    199
    موصول شکریہ جات:
    341
    تمغے کے پوائنٹ:
    76

    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  5. ‏ستمبر 04، 2013 #5
    Urdu

    Urdu رکن
    جگہ:
    انڈیا
    شمولیت:
    ‏مئی 14، 2011
    پیغامات:
    199
    موصول شکریہ جات:
    341
    تمغے کے پوائنٹ:
    76

    معاف کیجیے سہواً مکتب فکر کی بجائے مکتبہء فکر ہو گیا ہے۔
     
  6. ‏ستمبر 05، 2013 #6
    ادبی محفل

    ادبی محفل مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 04، 2013
    پیغامات:
    9
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    3

    اس تحریر کو پڑھنے کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک بریلوی نے جلال الدین قاسمی کا دفاع کیوں کیا؟
    وجہ یہ ہے کہ جیسا کہ آنجاب نے ہی لکھا ہے کہ اشفاق انجم صاحب ایک بریلوی مکتب فکر کے نقاد و ادیب ہیں۔اس بریلوی مکتب فکر کے نقاد و ادیب کو شیخ جلال الدین قاسمی صاحب نے صحت عقیدہ کی سند عطا کی ہے، اور اس کی کتاب جس کے اندر اس نے سلفی علماء کے عقیدہ و منہج پر سوال اٹھایا ہے اس پر مقدمہ لکھتے ہوئے جناب کی مدح سرائی کا ایک ہوا محل تعمیر کرنے کی کوشش کی ہے۔ اور اس طرح سے بہت ساری باتیں جسے مضمون نگار صاحب ڈنڈی مارکر حذف کر گئے ہیں انشاء اللہ حقیقت کوجلد ہی معلوم کر لیا جائے گا۔
    مکمل وضاحت کا انتظار کیجیے
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  7. ‏ستمبر 05، 2013 #7
    ادبی محفل

    ادبی محفل مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 04، 2013
    پیغامات:
    9
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    3

    الحمد اللہ امید سے کہیں زیادہ جلدی وہ مضمون ہمارے ایک عزیز کے پاس مل گیا جس کے جواب میں یہ مضمون لکھا گیا ہے۔
    ساتھ ہی یہ وضاحت بھی ضروری سمجھتا ہوں اس لیے کہ مصدقہ ذرائع سے یہ بات بھی معلوم ہوئی ہے کہ جناب اشفاق انجم نے اپنی اس گمراہ کن اور گندے تبصروں والی کتاب پر جلاالدین قاسمی صاحب سے مقدمہ لکھوا کر مولانا ابوالعاص وحیدی صاحب کے پاس تبصرے کے لیے بھیجا تھا اور فون پر گفتگو بھی کی، لیکن جب مولانا نے اس کتاب کا مطالعہ تو اس کے معلوم ہوا کہ کتاب میں سلفی عقیدے پر انگلی اٹھائی گئی ہے اور اس پر جلال الدین قاسمی صاحب نے تصدیق بھی کی ہے تو مولانا نے اس کا اظہار فون پر جناب اشفاق انجم صاحب سے کر دیا بس یہی ہے کل ان کی ناراضغی کا سب، جس کی وجہ سے جناب گالی گلوچ پر اتر آئے اور یہ بھول بیٹھے کہ یہ گالی جسے جلال الدین قاسمی صاحب نے اس پوسٹ میں حذف کر دیا ہے وہ ان کے پیر جناب جلال الدین قاسمی صاحب پر صادق آتی ہے۔
    اشفاق صاحب نے لکھا ہے کہ ''مولانا کس ----نے آپ سے کہہ دیا کہ میں بریلوی ہوں'' تو جناب یہ تو جلال الدین قاسمی صاحب نے ہی لکھا ہے کہ ایک بریلوی پروفیسر کا جوابی تحریر:
    لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا
    اور اشفاق صاحب آپ اپنے بریلویت کی تصدیق کے لیے اپنی ہی کتاب پس نوشت صفحہ نمبر 23 کا مطالعہ فرما ئیں۔ فی الحال اتنا ہی کافی ہے۔
     

    منسلک کردہ فائلیں:

  8. ‏ستمبر 05، 2013 #8
    Urdu

    Urdu رکن
    جگہ:
    انڈیا
    شمولیت:
    ‏مئی 14، 2011
    پیغامات:
    199
    موصول شکریہ جات:
    341
    تمغے کے پوائنٹ:
    76

    شاید آپ نے عینک الٹی کر کے یہ تحریر ملاحظہ فرمائی ہے۔سیدھی عینک پہن کر باصرہ نوازی کرتے تو یہ احمقانہ سوال ہرگز نہ کرتے۔
    شیخ جلال الدین القاسمی حفظہ اللہ نے اشفاق انجم کو ادب میں میں صحت فکر کی سند دی ہے نہ کہ عقیدہ میں۔
    نیم حکیم خطرہ جان۔نیم ملا خطرہ ایمان۔
    سمجھ میں آیا حضرت؟
    آپ ہی بیان فرما دیں کہ کیا ڈنڈی ماری گئی ہے؟
    آپ کیا حقیقت معلوم کرتے ہیں ہم بھی دیکھتے ہیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  9. ‏ستمبر 05، 2013 #9
    Urdu

    Urdu رکن
    جگہ:
    انڈیا
    شمولیت:
    ‏مئی 14، 2011
    پیغامات:
    199
    موصول شکریہ جات:
    341
    تمغے کے پوائنٹ:
    76

    شیخ نے اس کی (اشفاق انجم کے ذریعے سلفی عقیدہ پر اعتراضات) تصدیق ہی نہیں کی ۔یہ بات آپکی خام خیالی اور شیخ پر بہتان عظیم اور شیخ سے آپکا بغض و عناد ظاہر کرتی ہے حضرت۔
    یہ گالی والا لفظ اس پوسٹ سے ہم نے حذف کیا ہے محترم،نہ کہ جلال الدین القاسمی نے۔
    حذف کرنے کی وجہ یہ تھی کہ ہم یہاں صاف ستھری پوسٹ شیئر کرنا چاہتے تھے،کیونکہ یہ علماء کی مجلس ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • متفق متفق x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  10. ‏ستمبر 05، 2013 #10
    Urdu

    Urdu رکن
    جگہ:
    انڈیا
    شمولیت:
    ‏مئی 14، 2011
    پیغامات:
    199
    موصول شکریہ جات:
    341
    تمغے کے پوائنٹ:
    76

    کاش کہ پہلی پوسٹ میں لکھی ہوئی ہماری یہ تحریر آپ پڑھ لیتے۔تو سمجھ جاتے کہ ہم نے خود انکے اعتراضات کی کوئی تائید نہیں کی ہے۔بلکہ فورم پر موجود علمائے کرام کو اس کا جواب دینے کی دعوت دی ہے۔
    بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
    جو چیرہ تو اک قطرہ خوں نہ نکلا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں