1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ایک مجلس کی تین طلاق سے متعلق حدیث رکانہ (مسند احمد) پر بحث

'تحقیق حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از کفایت اللہ, ‏جولائی 11، 2017۔

  1. ‏ستمبر 20، 2019 #41
    بھائی جان

    بھائی جان مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    247
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    ایک بات بہت اہم ہے کہ اگر کسی نے ایک طلاق دی اور رجوع نا کیا ھتیٰ کہ عدت پوری ہو گئی تو بھی وہ عورت آزاد ہے ۔
    وہ عورت اب کسی سے بھی اپنی مرضی سے نکاح کر سکتی ہے۔
    مرد بھی اور نکاح کر سکتا ہے اگر اس کے نکاح میں پہلے سے تین عورتیں موجود ہوں مطلقہ کے علاوہ۔
    تین کو ایک سمجھ کر رجوع کر لینا حرام کاری ہے۔
    ایسا کرنا حرامہ ہے۔
     
  2. ‏ستمبر 20، 2019 #42
    بھائی جان

    بھائی جان مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    247
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    @عدیل سلفی میرا خیال ہے کسی کی بات کو غیر متفق کی ریٹنگ دینے سے بہتر یہ ہے کہ غیر متفق ہونے کی وجہ لکھی جائے۔
    اس سے مراسلہ نگار کو بھی فائدہ ہو اور قارئین کو بھی۔
     
  3. ‏ستمبر 20، 2019 #43
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    858
    موصول شکریہ جات:
    240
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    محترم شیخ @کفایت اللہ حفظہ اللہ
    طلاق سے متعلق ایک دوسری روایت پر بھی دیوبندی اعتراض ہیں کافی طویل اس کا بھی جائزہ لے لیں ۔ جزاکم اللہ خیرا


     
  4. ‏ستمبر 20، 2019 #44
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,552
    موصول شکریہ جات:
    410
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    وجوہات لکھی جارہی ہیں لیکن "میں نے مانوں" لاعلاج مرض ہے!
     
  5. ‏ستمبر 20، 2019 #45
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    719
    موصول شکریہ جات:
    134
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    حیض کی طلاق بھی راجح موقف کے تحت منعقد نہیں ہوتی
    اپنے موقف کا تضاد دور کیا
    باقی بحث تو ان شاء اللہ شیخ کفایت اللہ ہی کریں گے
     
  6. ‏ستمبر 20، 2019 #46
    بھائی جان

    بھائی جان مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    247
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    جی بالکل صحیح کہا جناب نے اپنے بارے۔
     
  7. ‏ستمبر 20، 2019 #47
    بھائی جان

    بھائی جان مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    247
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    نا ماننے والے ضدی قسم کے اندھوں کے مقلد ریٹنگ یا چیٹنگ پر گزارا کیا کرتے ہیں۔
     
  8. ‏ستمبر 20، 2019 #48
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,552
    موصول شکریہ جات:
    410
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    ویسے آپ کے کچھ بہن بھائی بھی ریٹنگ پر گزارا کر کے جاچکے ہیں :)
     
  9. ‏ستمبر 23، 2019 #49
    بھائی جان

    بھائی جان مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    247
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان؛
    «لَعَنَ اللَّهُ الْمُحَلِّلَ، وَالْمُحَلَّلَ لَهُ»
    میں ایک بہت اہم بات ہے کہ حلالہ کر نے والے اور کروانے والے پر لعنت تو کی مگر اس پر یہ نا فرمایا کہ اس طرح وہ عورت پہلے خاوند کے لئے حلال نا ہوگی۔
    یعنی ’’محلل لہ‘‘ تو ذکر کیا مگر یہ نا کہا کہ ’’فلاتحل لہ‘‘۔
    اگر کسی کے علم میں ایسی کوئی روایت ہو تو براہ کرم لکھ دے۔

    ’’متعہ‘‘ اور ’’حلالہ‘‘ میں ایک واضح فرق ذہن نشیں رہے۔
    متعہ میں مدت نکاح مذکور ہوتی ہے۔ اس مدت کے بعد خود بخود طلاق ہوجاتی ہے۔
    حلالہ ملعونہ میں گو نکاح طلاق کی شرط پر کیا جاتا ہے مگر کسی بھی مدت کے بعد طلاق خود بخود وقوع پذیر نہیں ہوتی۔ بلکہ جب تک وہ نیا شوہر اس کو طلاق نہیں دیتا وہ عورت اسی کے نکاح میں رہتی ہے۔
    بلکہ اگر وہ طلاق دینے سے انکاری ہو جائے تو وہ عورت اسی کی منکوحہ رہے گی۔

    کسی ایسے فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم جس میں صراحت ہو کہ ’’طلاق کی نیت سے کیا جانے والا نکاح باطل ہے‘‘ وہ عربی متن و حوالہ کے ساتھ لکھ دیا جائے۔
    کسی صحابی سے ایسی صراحت ملتی ہو وہ لکھ دی جائے۔

    متنازعہ فیہ مسئلہ میں اقوال لکھنے کی کوشش نا کی جائے۔
     
  10. ‏ستمبر 24، 2019 #50
    بھائی جان

    بھائی جان مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    247
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    ایک نظر ان روایات پر بھی؛
    سنن النسائي: کتاب الطلاق: بَاب الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ
    أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَحْمَسِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ قَالَ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ قَالَتْ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ أَنَا بِنْتُ آلِ خَالِدٍ وَإِنَّ زَوْجِي فُلَانًا أَرْسَلَ إِلَيَّ بِطَلَاقِي وَإِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَهُ النَّفَقَةَ وَالسُّكْنَى فَأَبَوْا عَلَيَّ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ قَدْ أَرْسَلَ إِلَيْهَا بِثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا النَّفَقَةُ وَالسُّكْنَى لِلْمَرْأَةِ إِذَا كَانَ لِزَوْجِهَا عَلَيْهَا الرَّجْعَةُ

    سنن ابن ماجه: كِتَاب الطَّلَاقِ: بَاب مَنْ طَلَّقَ ثَلَاثًا فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ
    حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ قَالَ قُلْتُ لِفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ حَدِّثِينِي عَنْ طَلَاقِكِ قَالَتْ طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا وَهُوَ خَارِجٌ إِلَى الْيَمَنِ فَأَجَازَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں