1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تين طلاق كي حقيقت

'طلاق' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن خلیل, ‏جولائی 03، 2012۔

  1. ‏جولائی 03، 2012 #1
    ابن خلیل

    ابن خلیل سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 03، 2011
    پیغامات:
    1,383
    موصول شکریہ جات:
    6,746
    تمغے کے پوائنٹ:
    332

    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
     
    • شکریہ شکریہ x 7
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏جولائی 03، 2012 #2
    ابن خلیل

    ابن خلیل سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 03، 2011
    پیغامات:
    1,383
    موصول شکریہ جات:
    6,746
    تمغے کے پوائنٹ:
    332

    اس موضوع پر ایک حنفی بھائی نے یہ سوال کے ہیں

    اس طرح کے سوالوں کا کیا جواب ہے؟
     
  3. ‏جولائی 04، 2012 #3
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    یہ ایک ہی سوال ہے جو کئی طرح سے کیا گیا ہے۔
    اس بھائی جان کو بولو کہ اللہ تیرا بھلا کرے دوبارہ پوسٹ تحریر کا بنظر غور مطالعہ فرماؤ آپ کے سوال کاجواب تحریر میں ہی موجود ہے۔
     
  4. ‏جولائی 04، 2012 #4
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    مجھے بھی اس سوال کا جواب جاننے کی خواہش ہے ۔ علمائے کرام ہی بہتر بتائیں گے۔ میں تو اب تک یہ سمجھتا ہوں کہ ایک طہر میں دی گئی تمام طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی ہیں۔ دوسری طلاق کے شمار کے لئے ضروری ہے کہ حیض کے بعد دوسرے ماہ میں دی جائے۔ اس شرعی طریقہ طلاق پر احناف سمیت تمام مسلم گروہ متفق ہیں کہ ایک طلاق ایک طہر میں، دوسری دوسرے طہر میں اور تیسری طلاق تیسرے طہر میں دی جائے۔
    فرق بس یہ ہے کہ احناف کہتے ہیں اگر ایک سے زائد طلاق ایک ہی طہر میں دے دی جائیں (اب چاہے وہ ایک ہی مجلس ہو، ایک دن ہو، ایک ہفتہ ہو وغیرہ) تو اگرچہ اس طرح طلاق دینا بدعت ہے، لیکن یہ دوسری طلاق بھی لاگو ہو جائے گی۔
    اور اہلحدیث کہتے ہیں کہ جب ایک ہی طہر میں ایک سے زائد طلاق دینا ہی بدعت ہے تو لاگو کیسے ہوگی؟
     
  5. ‏جولائی 04، 2012 #5
    ابن خلیل

    ابن خلیل سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 03، 2011
    پیغامات:
    1,383
    موصول شکریہ جات:
    6,746
    تمغے کے پوائنٹ:
    332

    جی بلکل اسی طرح کا جواب دیا گیا ہے انہی
    اب وہ جناب اپنے دلائل جمع کرنے میں لگے ہیں
    انکے جواب کا انتظار ہے، آپ تمام اہل علم سے گزارش ہے کے اس بحث میں رہنمائی کریں
     
  6. ‏جولائی 05، 2012 #6
    ابن خلیل

    ابن خلیل سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 03، 2011
    پیغامات:
    1,383
    موصول شکریہ جات:
    6,746
    تمغے کے پوائنٹ:
    332

    جی بلکل علمائے کرام کے جواب کا ہی انتظار ہے
     
  7. ‏جولائی 06، 2012 #7
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ، امام ابن قیم اور اہل الحدیث اہل علم کی ایک جماعت کا موقف یہ ہے کہ طلاق بدعی واقع ہی نہیں ہوتی ہے۔ راقم کا ذاتی میلان اور رجحان بھی اسی قول کی طرف ہے۔ اس قول کے مطابق:

    حالت حیض اور نفاس میں طلاق واقع نہیں ہوتی ہے۔

    ایک مجلس میں اگر تین طلاقیں دی ہیں تو پہلی سنت ہے لہذا واقع ہو جائے گی اور دوسری اور تیسری بدعت ہے لہذا واقع نہیں ہو گی۔

    اسی طرح اگر ایک طہر میں تین طلاقیں دی ہیں تو پہلی واقع ہو جائے گی کیونکہ ایک طہر میں ایک طلاق دینا طلاق سنی ہے جبکہ دوسری اور تیسری بدعت ہیں لہذا واقع نہیں ہوں گی۔

    اگر ایسے طہر میں طلاق دی ہے کہ جس میں بیوی سے مباشرت کر چکا ہو تو ایسی طلاق بھی بدعت ہے لہذا واقع نہیں ہو گی یعنی صرف اسی طہر میں ایک طلاق واقع ہو گی کہ جس طہر میں مباشرت نہ کی ہو۔ اورجس میں مباشرت کی ہو تو اس میں ایک بھی واقع نہ ہو گی۔

    اسی طرح اگر ایک طہر میں مباشرت نہیں کی اور طلاق دی تو یہ طلاق سنی ہے اور ایک طلاق ہے۔ اب اگلے طہر میں دوبارہ طلاق دے دی لیکن درمیان میں رجوع نہیں کیا تو یہ دوسری طلاق، طلاق بدعی ہے کیونکہ دوسری طلاق کے سنت ہونے کے لیے پہلی سے رجوع لازم ہے لہذا دوسری واقع نہیں ہو گی۔

    ان تمام فتاوی کی اصل یہ ہے کہ طلاق سنت واقع ہوتی ہے اور طلاق بدعی واقع نہیں ہوتی ہے۔ یعنی اصول یہ ہے کہ طلاق کا جو طریقہ مشروع ہے، اس کے مطابق طلاق دی ہے تو طلاق واقع ہو جائے گی اور اگر اس کے علاوہ کسی طریقہ سے طلاق دی ہے تو طلاق واقع نہ ہو گی۔

    جزاکم اللہ خیرا
     
    • شکریہ شکریہ x 11
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏جولائی 07، 2012 #8
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    جزاک اللہ خیرا شیخ اگر ایک منٹ کےلیے ہم یہ تسلیم کرلیتے ہیں کہ ایک مجلس کی تین طلاق دینا ازروئے شریعت ہے تو ناجائر یعنی بدعت لیکن اس بدعت کا وقوع ہوجائے گا۔تو پھر اہل بدعت کےلیے کیا راستہ نکلے گا۔؟ اور کہاں جاکر اہل بدعت دم توڑیں گے۔؟ اس کی کوئی حد ہی نہ ہوگی۔کیونکہ ہربدعت میں وہ اسی اصول کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہنے کے حق بجانب ہونگے کہ جس طرح تین طلاق ایک مجلس میں دینا بدعت ہے لیکن تین طلاق واقع ہوجاتی ہیں ۔اسی طرح ہر بدعت بدعت تو ہے لیکن اس بدعت کو جس مقصد کےلیے کیا جاتا ہے وہ مقصد حاصل ہوجاتا ہے۔ایسی صورت میں اس فرمان کا کیا ہوگا ؟
     
  9. ‏جولائی 26، 2012 #9
    تلمیذ

    تلمیذ مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2011
    پیغامات:
    765
    موصول شکریہ جات:
    1,503
    تمغے کے پوائنٹ:
    191

    فی الحال کچھ مصروفیات کی بنا پر اس مسئلہ کے تمام پہلوں پر لکھ نہیں سکتا لیکن گڈمسلم صاحب نے جو نقطہ اٹھایا میرے نذدیک وہ باطل ہے ۔ صرف اس نقطہ کے حوالہ سے کچھ مختصر سا لکھنا چاہتا ہوں ۔
    قراں و حدیث میں میاں بیوی میں علیحدگي کے لئیے جو لفظ آیا ہے وہ ہے "طلاق " ۔ اگر کوئی اپنی بیوی کو "طلاق" دیتے ہوئے "تلاک" کہے تو کیا طلاق ہوجائے گي ؟
    اگر اس کا فتوی یہ دیا جائے کہ طلاق ہو جائے گي تو ہر شخص بغیر تجوید کے نماز پڑہے گا اور الحمد کی الہمد پڑہے گا ، صراط الذین کی جگہ صرات الذین پڑہے گا اور گڈمسلم صاحب کی طرح قیاس کرتے ہوئے کہے گا جب طلاق کو تلاک کہنے سے علیحدگي ہوجاتی ہے تو میری نماز بھی ہوجاتی ہے ۔
    اس طرح کے فتنے کو روکنے کے لئیے آپ تلاک کہنے پر طلاق کا فتوی نہیں دیتے تو ان پاکستانیوں کا کیا ہوگا جو تجوید نہیں جانتے اور تلاک ہی کہتے ہیں ۔ اور ان خواتیں کے نکاح ثانی کا کیا ہوگا جو تلاک لینے کے بعد کرچکی ہیں
    جو عرب ممالک ہیں وہاں کتب ، اخبارات میں تو اسٹینڈرڈ عربی (اللغہ الفصحی ) ہوتی ہے لیکن عام زندگي میں جو عربی بولی جاتی ہے وہ اللغہ العامیہ کہلاتی ہے اور اللغہ الفصحی سے کچھ مختلف ہوتی ہے ۔ اور ہر خطہ کی اللغہ العامیہ مختلف ہے ۔ مصر میں جو اللغہ العامیہ بولی جاتی ہے اس میں "ق" کی جگہ "ہمزہ" کی مانند آواز نکالی جاتی ہے ۔ وہ طلاق کو طلاء بولتے ہیں تو کیا کسی مصری کی طلاق واقع نہیں ہوگي ۔
    گڈمسلم صاحب طلاق معاشرتی مسائل میں سے ہے اس کو عبادات پر قیاس نہ کریں
    عبادات خلاف سنت ادا نہیں ہوتی لیکن طلاق اگر خلاف سنت دی جائے تو اس خلاف سنت طلاق دینے کا گناہ طلاق دینے والے کو ہوگا لیکن واقع ہوجائے گي ۔
    اگر صرف اس کو موثر نہ ماننے کی وجہ خلاف سنت طریقہ سے طلاق دینا ہے تو تلاک بھی خلاف قران و حدیث لفظ ہے اس حوالہ سے ضرور بتائیے گا کہ تلاک کہنے سے طلاق ہوجاتی ہے یہ نہیں ۔ ہونے اور نہ ہونے دونوں صورتوں میں میں نے نتائج سے آگاہ کردیا ہے ۔
    اب آپ کو بتانا ہے کہ آپ تلاک کہنے سے طلاق واقع ہونا سمجھتے ہیں یا خلاف قران و حدیث کے ہونے کی وجہ سے طلاق کو موثر نہیں سمجھتے ۔ جواب کا انتظار رہے گا
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  10. ‏جولائی 26، 2012 #10
    ابن خلیل

    ابن خلیل سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 03، 2011
    پیغامات:
    1,383
    موصول شکریہ جات:
    6,746
    تمغے کے پوائنٹ:
    332

    یہاں شاید ایک مجلس کی تین طلاق تین واقع ہوگی یا ایک اس پر بات ہو رہی ہے
     
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. أبو القاسم
    جوابات:
    0
    مناظر:
    1,149
  2. محمد عامر یونس
    جوابات:
    6
    مناظر:
    1,772
  3. محمد عامر یونس
    جوابات:
    0
    مناظر:
    2,273
  4. محمد عثمان سلفی
    جوابات:
    1
    مناظر:
    326
  5. بھائی جان
    جوابات:
    18
    مناظر:
    657

اس صفحے کو مشتہر کریں