1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تین طلاق پر ایک حنفی بھائی کی تحریرکا جائزہ

'طلاق' میں موضوعات آغاز کردہ از مقبول احمد سلفی, ‏نومبر 10، 2016۔

Tags:
  1. ‏نومبر 14، 2016 #21
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,143
    موصول شکریہ جات:
    326
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    طبیعت ساتھ نہیں دے رہی ہے ، مختصر یہ کہ بدستور میرا مطالبہ یہی ہے کہ شوال کے روزوں کے متعلق مجھے متعبرحنفی کتاب سے بحیثیت اصول حوالہ چاہئے کہ شوال کے روزوں کے متعلق امام ابوحنیفہ سے غلطی ہوئی یا ان کا قول صحیح حدیث کے خلاف ہونے کی وجہ سے امام صاحب کے اس موقف کوہم حنفی تسلیم نہیں کرتے یا پھر ایسا اصول لائیں کہ امام صاحب کی بات صحیح حدیث سے ٹکرانے پر ہم حنفی چھوڑدیں گے ۔ یہ مطالبہ اس وجہ سے ہے کہ آپ جو مثال پیش کررہے ہیں وہ تقلید اور تقلیدی اصول کے خلاف ہے ۔ ایک طرف شوال کا روزہ پیش کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف اپنے ہی حنفی علماء کی بات تسلیم نہیں کرتے کیونکہ وہ حنفی مذہب کے خلاف ہے مثلا بعض احناف آمین بالجہر کے قائل ہیں ، بعض رفع یدین کے قائل ہیں ، بعض قرات خلف الامام کے قائل ہیں ، بعض منی پاک ہونے کے قائل ہیں ، بعض ایک مجلس کی تین طلاق کو ایک تسلیم کرتے ہیں ۔ ہزاروں ایسے مسائل ہیں آپ لوگ اپنے ہی علماء کی ان باتوں کو حجت نہیں مانتے کیونکہ یہ تقلید اور تقلیدی مذہب کے خلاف ہے توپھر بغیر اصول کے شوال والی بات میں کیسے تسلیم کرلوں ۔ میں تو چاہتاہوں کہ کچھ ثبوت اس قسم کے مجھے ہاتھ لگے کہ تقلید کا جمود توڑا جاسکے اور لوگوں کو ہلاکت سے بچایاجاسکے ۔ جس چیز کا مطالبہ ہے اسے دلیل سے ثابت کریں ۔
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏نومبر 14، 2016 #22
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,143
    موصول شکریہ جات:
    326
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    آپ کے اس قتباس کے ہرجملے پر مجھے لکھنے کا دل کررہاہے مگر میری طبیعت ساتھ نہیں دے رہی ہے اس لئے مجبور ہوں، خلاصہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس میں آپ کی کسی بات سے متفق نہیں ہوں سوائے فقہی اختلاف کے اسباب کے ، اس میں بھی کچھ صحیح اور کچھ غلط ہے ۔
     
  3. ‏نومبر 14، 2016 #23
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,281
    موصول شکریہ جات:
    1,067
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    اللہ آپکو جلد از جلد شفاء کامل عاجل عطا فرمائے آمین
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  4. ‏نومبر 14، 2016 #24
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    286
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    اختلاف ”اجتہادی “ امور میں ہی جائز ہے اور اس میں ”مجتہد“ کی بات مانی جاتی ہے نہ کہ ”عالم“ کی کیونکہ مجتہد کو ہر دو صورت اجر ہی ملتا ہے اور اس پر عامل بھی مستحق اجر ہوتا ہے۔
     
  5. ‏نومبر 14، 2016 #25
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    286
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    پہلی بات یہ کہ یہ ”بعض “احناف ”مجتہد“ نہیں اور ”تقلید“ مجتہد کی کِی جاتی ہے۔
    دوسری بات یہ کہ کیا ان کی بات حدیث کے مطابق اور دسروں کی مخالف کس طرح ہے؟
    کسی غیر مجتہد کی بات کیوں کر تسلیم کی جائے؟
     
  6. ‏نومبر 14، 2016 #26
    تلمیذ

    تلمیذ مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2011
    پیغامات:
    765
    موصول شکریہ جات:
    1,503
    تمغے کے پوائنٹ:
    191

    مخصوص الفاظ جب مانگے جاتے ہیں جب بات نہ ماننی ہو. میں نےاشرف علی تھانوی کا قول پیش کردیا. اس کا مفھوم وہی ہے جو آپ ہم سے مانگ رہے ہیں. اگر جواب مطالبہ شدہ والے الفاظ میں چاھئے تو پھر ایسے مطالبات ہم بھی کرسکتے کہ آپ ہمیں رفع الیدین میں تا حیات کا لفظ دکھا دو اگر نہیں دکھا گے تو اس کا مطلب رفع الیدین منسوخ ہے آخر آپ اپنے الفاظ والے اقوال کا مطالبہ کیوں کر رہے ہیں جب کی اشرف علی تھانوی واضح کہ رہے ہیں کہ صحیح منصوص حدیث کی وجہ سے امام کا قول چھوڑا جائے گا.
    ۔
    میں نے پہلی بھی کہا کہ ہر مسلک میں شاذ اقوال ہوتے ہیں. ہم شاذ اقوال پر عمل نہیں کرتے بلکہ مفتی بہ اقوال پر عمل کرتے ہیں . آپ کو اس لئے یہ لگ رہا ہے کہ ہم قرآن و حدیث پر عامل نہیں کیوں کہ آپ صرف اپنے مسلک کو حق پر سمجھتے ہیں.
    اگر ہم رفع الیدین کر نا شروع کردیں, امام کے پیچھے قرآت شروع کردیں تو آپ پھر مانیں گے ہم قرآن وسنت پر عامل ہیں اور ہم امام کا قول چھوڑ سکتے ہیں اگر آپ کی یی سوچ ہے تو بات آگے بڑھانے کا کوئی فائدہ نہی
     
  7. ‏نومبر 14، 2016 #27
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,143
    موصول شکریہ جات:
    326
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    آمین یارب
     
  8. ‏نومبر 14، 2016 #28
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,143
    موصول شکریہ جات:
    326
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    اس میں میرا مطالبہ ہے ہی نہیں ۔
     
  9. ‏نومبر 14، 2016 #29
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,143
    موصول شکریہ جات:
    326
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    آپ کی بات حقیقت کا ترجمان نہیں ہے بلکہ دائیں بائیں سے کترانا ہے ۔ میرے مطالبہ کی وجہ بھی صاف ہے ۔
    اسی قسم کی باتیں ناقابل قبول ہیں ، شوال کے روزوں کی بات آپ نے لے لی ، عبدالحی لکھنوی کی رفع یدین ثابت اور مشروع والی بات چھوڑدی (الٹے مجھ سے دلیل مانگنے لگے جبکہ یہاں میں اس موضوع پہ اہل حدیث کی طرف سے موقف کی بات ہی نہیں کی بلکہ حنفی مذہب کے عالم کا موقف پیش کیا) آپ نے مجھ سے رفع یدین کی تاحیات کی دلیل مانگی ،اگر نہ دے سکا تو منسوخ۔ یہیں پر آپ کا تضاد واضح ہوجاتا ہے ۔ شاذ کہہ کے کترانے سے نہیں ہوگا۔
     
  10. ‏نومبر 15، 2016 #30
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,143
    موصول شکریہ جات:
    326
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    جان بوجھ کر دین میں اختلاف کرنا جائز نہیں ہے ،ہاں کسی اجتہادی مسئلہ میں مجتہد سے اختلاف ہوجائے تو اور بات ہے اسے اختلاف کرنا نہیں کہیں گے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ" شوال کا چھ روزہ " یہ کونسا اجتہادی مسئلہ ہے ؟ نص صریح موجود ہے۔ یہاں مجتہد کی ضرورت ہی نہیں ۔عالم ہو، محدث ہو، مفتی ہو کوئی بھی حدیث دیکھ کر کہہ سکتا ہے کہ شوال کے شش روزوں کی بڑی فضیلت ہے ۔
    اس وجہ سے میری اس بات پر
    آپ کا یہ جواب بالکل غلط ہے ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں