1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حلالہ اور ہمارا معاشرہ

'طلاق' میں موضوعات آغاز کردہ از یوسف ثانی, ‏اکتوبر 31، 2012۔

  1. ‏نومبر 05، 2012 #21
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,935
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    جمشید صاحب آپ نے بہت آسان طریقہ ڈھونڈا ہے جواب نہ دینے کا۔ نہ نومن تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی۔

    آپ ان تکلفات کو چھوڑیے کہ ایک ایک اہل حدیث یہاں آکر اپنے رائے کا اظہار کرے بلکہ آپ نے جو دعویٰ کیا ہے اس کو قرآن و حدیث سے ثابت کیجئے اور یہی درخواست ماں کی دعا سے ہے کہ اپنا دعویٰ ثبوت کے ساتھ مکمل کیجئے۔ میرے بھائیوں یہاں اہل حدیث بھی ہیں یہ کوئی حنفیوں کی کالونی نہیں ہے کہ آپ جو بے بنیاد دعویٰ چاہیں گے کریں گے اور بغیر ثابت کئے چلتے بنیں گے۔
     
  2. ‏نومبر 05، 2012 #22
    عبد الوکیل

    عبد الوکیل مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 04، 2012
    پیغامات:
    142
    موصول شکریہ جات:
    604
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    حلالہ کا سنت طریقہ قرآن سے ثابت ہے ۔
    اگر اختلاف ہے تو اس کے غلط استعمال سے ہے

    تو سوال یہ ہے کہ حلالہ کا درست طریقہ کیا ہے
     
  3. ‏نومبر 05، 2012 #23
    راجا

    راجا سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 19، 2011
    پیغامات:
    734
    موصول شکریہ جات:
    2,555
    تمغے کے پوائنٹ:
    211

    آپ اپنے الفاظ میں خلاصہ تحریر کر دیتے تو بہتر تھا۔ یا غلام رسول حریری والی کتاب کا کوئی آن لائن لنک ہے تو دے دیں۔

    طلاق چاہے غصہ میں دی جائے، ہنسی مذاق میں، یا لالچ کے تحت۔ ایسی طلاق معتبر ہوتی ہے۔
    لیکن۔
    اصل غور طلب معاملہ یہ نہیں کہ حلالہ میں دوسرے شوہر کی دی جانے والی طلاق معتبر ہے یا نہیں۔
    بلکہ اختلافی معاملہ تو یہ ہے کہ آیا ایسا نکاح معتبر ہے جو پہلے سے ہی طلاق کی نیت کے تحت کیا جائے۔ آپ کہتے ہیں ایسا نکاح معتبر ہے اور ہم کہتے ہیں معتبر نہیں۔ آپ ایسے نکاح کے معتبر ہونے کے دلائل پیش کیجئے۔
    اور نظیر وہ پیش کریں جو اصل اختلافی معاملہ سے متعلق ہو۔

    پہلی بات کہ قرآن و سنت میں اس معاملے پر کہ ایک خاتون طلاق مغلظہ پانے کے بعد، کسی دوسرے شوہر سے گھر بسانے کی نیت سے نکاح کرے اور پھر دوسرے شوہر کے مر جانے یا اس سے بھی طلاق مغلظہ پانے کے بعد، پہلے شوہر سے نکاح کر لے، پر حلالہ کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا۔

    ہاں حلالہ کی اصطلاح ایک حرام فعل کے لئے وہاں ضرور استعمال ہوئی ہے جہاں پہلے سے طلاق کی نیت سے دوسرے شوہر سے نکاح کیا گیا ہو، تاکہ خاتون پہلے شوہر کے لئے حلال ہو جائے۔
    اور نیت کا فرق ہو تو بظاہر بالکل ایک جیسے نظر آنے والے دو اعمال کے لئے مختلف احکام، مختلف مسائل، مختلف اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں۔ بلکہ ان پر ثواب و عذاب بھی مختلف ہوتا ہے۔
    اور نظیر اس کی نماز ہے۔ دو رکعت فرض اور دو رکعت نفل میں عملاً آخر فرق ہی کیا ہے؟ طہارت اور وضو سے لے لیجئے اور تکبیر تحریمہ سے اختتام نماز تک بالکل ایک جیسے افعال انجام دئے جاتے ہیں۔ فقط آپ کے نزدیک نیت کے الفاظ یا ہمارے نزدیک دل کی نیت کے فرق سے دونوں افعال میں مشرق مغرب کا بُعد واقع ہو جاتا ہے۔

    اس نظیر کی بنیاد پر ہم یہ کہتے ہیں کہ ایسا نکاح ، جو پہلے ہی سے طلاق کی نیت کے تحت، خاتون کو پہلے شوہر کے لئے حلال کرنے کی غرض سے کیا جائے، واقع ہی نہیں ہوتا۔ یہ متعہ کی بھی قبیح ترین قسم ہے۔ متعہ تو پھر بھی کسی زمانے میں حلال رہا ہے، اور حلالہ تو شریعت میں کبھی حلال نہیں رہا۔
    لہٰذا، جیسے ہم نے لیت و لعل کے بغیر آپ کی باتوں کا واضح جواب دیا ہے۔ آپ بھی صراحت سے بتائیے کہ:
    کیا آپ کے نزدیک نکاح متعہ معتبر ہے؟ اگرچہ فریقین کو آپ گناہ گار ہی کیوں نہ تسلیم کریں؟
    اگر جواب ہاں میں ہو تو پھر ہمارے بیچ اختلاف کا دائرہ کافی وسیع ہے۔ ہمیں موجودہ موضوع کو بھی پھیلانا ہوگا۔
    اگر جواب ناں میں ہو تو پھر نکاح متعہ اور نکاح حلالہ میں وجوہات تفریق بتائیں۔

    پھر کچھ توجہ یہ بھی کیجئے کہ طلاق کا سنگین واقعہ کسی گھر میں پیش آ چکا ہو۔ اور انہیں مفتی صاحب یہ طریقہ بتائیں کہ حلالہ کروا لو، تم گناہ گار تو ہوگے لیکن دوبارہ سے بیوی تمہیں مل جائے گی۔ کیا اللہ کے صریح حرام کردہ کو حلال کرنے جیسا نہیں ہے؟

    خدارا، مسلک کی حمایت میں اتنا آگے نہ بڑھیں کہ آخرت کی فکر اور خوف خدا ہی بھول جائیں۔ یہاں لکھے گئے ہمارے الفاظ ثواب جاریہ کا مصداق بھی ہو سکتے ہیں اور عذاب جاریہ کا بھی، نعوذباللہ۔ لہٰذا احتیاط بہت ضروری ہے۔
     
  4. ‏نومبر 06، 2012 #24
    ابوالحسن عزیز

    ابوالحسن عزیز رکن
    جگہ:
    Islamabad
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 19، 2011
    پیغامات:
    75
    موصول شکریہ جات:
    403
    تمغے کے پوائنٹ:
    44

    محترم آپ کی تجویز تو بہت اچھی ہے مگر عمل کون کرے؟ جناب تقی عثمانی' محمود غازی اور دیگر متعدد حنفی علماء پاکستان کی اعلی عدلیہ میں ججز رہے مگر مجال ہے کہ اس مسئلے کو اس نہج پر حل کرنے کی کوشش کرتے کہ کچہریوں میں طلاق'طلاق' طلاق لکھنے والے وثیقہ نویس کم از کم ایسا کرنے سے باز رہتے۔ مگر آفریں ہو ان حضرات پر کہ قانون شفعہ کو حنفی بنانے کا خیال تو رہا مگر طلاق ثلاثہ کے مسئلے پر کچھ نہ کیا۔ تقی عثمانی صاحب سے خاص طور پر شکوہ ہے کہ وہ اس مسئلے پر صفحے کے صفحے سیاہ کرسکتے ہیں مگر جب کچھ صحیح کرنے کا موقع تھا تو مایوس کیا۔
     
  5. ‏نومبر 07، 2012 #25
    ٹائپسٹ

    ٹائپسٹ رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    186
    موصول شکریہ جات:
    987
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    انا للہ وانا الیہ راجعون
     
  6. ‏نومبر 07، 2012 #26
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    کالونی کی بات آپ نے اچھی کہی ہے۔ ظاہرسی بات ہے کہ کالونی میں رہنے کا حق انہی کو ہے جوکہ اپنے سرٹیفکٹ مکمل رکھتے ہیں اورجولوگ ادھرادھر سے آکر بس گئے ہیں اورجن کے دستاویزات درست نہیں ہیں وہ فٹ پاتھ پر ہی رہیں گے بہت ہواتوکہیں چوری چھپے اپنی جھگی جھونپڑی ڈال لی۔ آپ نے کہانہیں لیکن ہم سمجھ گئے ہیں کہ اہل حدیث حضرات کہاں رہتے ہیں۔
     
  7. ‏نومبر 07، 2012 #27
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    فاضل مراسلہ نگار عبدالوکیل صاحب نے شاید میری عبارات پر سوال قائم کرناچاہاہے۔وہ لکھتے ہیں۔
    لیکن اگر وہ مافی الضمیر کے اظہار پر پورے طورپر قادرنہیں ہیں توپھر میرے الفاظ کوٹ کرناچاہئے تھا اگرچہ پروف اورہجے کی کچھ غلطیاں میری عبارت میں ہوسکتی ہیں جونظرثانی نہ کرنے کی وجہ سے ہوتی ہیں لیکن اس طرح کی عبارت میں قطعانہیں لکھتا
    حلالہ کا سنت طریقہ قرآن سے ثابت
    یعنی قرآن سے سنت طریقہ ثابت ہوگا؟چہ خوب!
    بہرحال قرآن وسنت سے حلالہ کا جونساطریقہ ثابت ہے وہ میں ماقبل میں لکھ چکاہوں اب اسے دوہرانے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔میرے ماقبل کے مراسلے کو تھوڑادھیان سے پڑھیں۔
     
  8. ‏نومبر 07، 2012 #28
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    سوال میراوہ قطعانہیں ہے جسے آپ نے سمجھاہے ۔
    سوال صرف اس قدر ہے کہ ایک شخص طلاق دیتاہے مگر اس طلاق کی وجہ خود اس کاارادہ نہیں بلکہ دوسرے کی ترغیب وتحریص ہے۔
    توکیاایسی طلاق معتبر ہوگی یاغیرمعتبر ہوگی!اوروجہ بھی ساتھ میں فرمادیں۔
     
  9. ‏نومبر 08، 2012 #29
    عبداللہ عبدل

    عبداللہ عبدل مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    493
    موصول شکریہ جات:
    2,196
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    السلام علیکم۔
    حلالہ کی لعنت کا نبوی فتوی جن کے سر پر ہر وقت منڈلائے ، تحکیم بغیر ما انزل اللہ جن کا پسندیدہ کام ہو ، بھلا کیا وہ "اہل حق" ہو سکتے ہیں؟؟؟
     
  10. ‏نومبر 08، 2012 #30
    ابن قاسم

    ابن قاسم مشہور رکن
    جگہ:
    الہند
    شمولیت:
    ‏اگست 07، 2011
    پیغامات:
    253
    موصول شکریہ جات:
    1,073
    تمغے کے پوائنٹ:
    120

    ملزم کی تصدیق کی جائے کہ کیا واقعی اس نے کسی کی ترغیب و تحریص سے طلاق دیا ہے، اس سلسلہ میں عورت کا بیان بھی سننا ضروری ہے، اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا بتایا گیا ہے تو میاں بیوی کے علاوہ گواہوں کو مد نظر رکھتے ہوئے حتمی نتائج پر پہنچا جاسکتا ہے
    اگر یہ بات غلط ہے تو کوئی صاحب روشنی ڈالیں
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں