1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سجدے کی حالت میں دونوں پیرکو ہٹائے رکھناسنت ہے

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از مقبول احمد سلفی, ‏دسمبر 15، 2016۔

  1. ‏دسمبر 15، 2016 #1
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,242
    موصول شکریہ جات:
    353
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    نماز چونکہ تعبدی امر ہے اور رات ودن میں پانچ وقت فرض ہے ، ان کے علاوہ بہت ساری سنن و نوافل ہیں ۔ اس لئے احادیث میں نماز کی مکمل تفصیلات ملتی ہیں۔ قیام ، رکوع، سجود کے مسائل بالکل واضح ہیں ۔کہیں کہیں فہم نصوص میں اختلاف کے سبب بعض مسائل میں اہل علم کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے جیساکہ سجدے کی حالت میں قدموں کو ملانے اور نہ ملانے کا مسئلہ ہے ۔
    سجدے کی حالت میں پیر ملانے کے متعلق اہل علم کے درمیان دو رائیں پائی جاتی ہیں ۔
    (1)ایک تو یہ ہے کہ دونوں پیر ملاکے رکھنا چاہئے ۔
    (2)دوسری یہ کہ دونوں پیر کو جدا رکھنا چاہئے ۔

    کیفیت نماز خصوصا ًصف بندی اور سجدے کے مسائل کا جب احادیث کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سجدے کی حالت میں دونوں پیر کو جدا جدا رکھنا ہی مسنون ہے ۔ اس کے مختلف دلائل ہیں ۔
    (1) نماز کی اس قدر اہمیت وفضیلت اوردن ورات میں باربار نماز آنے کی وجہ سے صحابہ کرام نے نبی ﷺ کی نماز کی مکمل کیفیت بتلائی ہیں جن میں کہیں یہ مذکور نہیں ہے کہ آپ ﷺ نماز میں سجدے کی حالت میں دونوں پیر ملاکے رکھا کرتے تھے ۔
    (2) جس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ سجدے میں دونوں پیر ملانا چاہئے اس میں پیر ملانے والے الفاظ کی زیادتی راوی کی طرف سے ہے جو ناقابل استدلال ہے۔
    (3) نماز میں قدم سے قدم اور ٹخنے سے ٹخنہ ملانے والی احادیث دلالت کرتی ہیں کہ سجدے کی حالت میں پیر جدا جدا رکھا جائے، حدیث دیکھیں ۔
    سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف اپنا رخ کیا اور فرمایا :
    أقيموا صفوفكم ثلاثا والله لتقيمن صفوفكم أو ليخالفن الله بين قلوبكم قال فرأيت الرجل يلزق منكبه بمنكب صاحبه وركبته بركبة صاحبه وكعبه بكعبه(صحيح أبي داود: 662)
    ترجمہ: اپنی صفیں برابر کر لو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین بار فرمایا ۔ قسم اللہ کی ! ( ضرور ایسا ہو گا کہ ) یا تو تم اپنی صفوں کو برابر رکھو گے یا اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں مخالفت پیدا کر دے گا ۔ سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے دیکھا کہ ایک آدمی اپنے کندھے کو اپنے ساتھی کے کندھے کے ساتھ ، اپنے گھٹنے کو اپنے ساتھی کے گھٹنے کے ساتھ اور اپنے ٹخنے کو اپنے ساتھی کے ٹخنے کے ساتھ ملا کر اور جوڑ کر کھڑا ہوتا تھا ۔
    یہ حدیث تقاضہ کرتی ہے کہ نمازی جس طرح قیام میں قدم کو الگ الگ رکھا تھا اسی طرح رکوع میں بھی الگ الگ رکھے لہذا سجدہ میں بھی یہی کیفیت رہے گی کیونکہ سجدے میں الگ سے کوئی حکم نہیں ہے ۔
    (4) سجدے کی سنت میں سے ہے کہ دونوں بازو پہلو سے الگ رہے ، پیٹ رانوں سے الگ رہے اور دونوں ہاتھوں کے درمیان کشادگی رہے جو پہلو اور ران سے الگ ہو۔ اس سے لازم آتا ہے کہ دونوں قدم بھی جدا جدا رہے ۔
    بخاری شریف کی حدیث ہے :
    كان النبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم إذا سَجَدَ فَرَّجَ بين يَدَيهِ حتى نَرَى إبْطَيْهِ.(صحيح البخاري: 3564)
    ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو اپنے بازوؤں کے درمیان اس قدر کشادگی کر دیتے کہ دونوں بغلوں کی سفیدی ظاہر ہونے لگتی تھی۔
    عباس بن سہل ساعدی نے سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث روایت کی اور کہا:
    وإذا سجدَ فرَّجَ بينَ فخِذيْهِ غيرَ حامِلٍ بطنَهُ على شيءٍ من فخذيْه(ابوداؤد: 735)
    ترجمہ: جب سجدہ کیا تو اپنی رانوں کو کشادہ رکھا اور پیٹ کو رانوں سے نہ لگایا ۔
    گوکہ یہ حدیث ضعیف ہے مگرسجدے میں دونوں رانوں کو الگ الگ اور پیٹ سے جدا رکھنا مسنون ہے ،اس سنت پہ شوکانی رحمہ اللہ نے اہل علم کا اجماع نقل کیا ہے ۔
    علامہ شوکانی نے کہا ہے "فرَّجَ بين فخذيه" یعنی دونوں رانوں ، دونوں گھٹنوں اور دونوں قدموں کے درمیان تفریق کرے ۔ اور اصحاب شافعی نے کہا کہ دونوں پیر کے درمیان ایک بالشت جدائی رکھے۔ (نيل الأوطار:2/297) .
    نووی رحمہ اللہ نے کہا : امام شافعی اور اصحاب شافعی نے کہا کہ سجدہ کرنے والے کے لئے مستحب ہے کہ وہ دونوں گھٹنوں اور دونوں قدموں کے درمیان جدائی کرے ۔ قاضی ابوالطیب نے اپنی تعلیق میں کہا : ہمارے اصحاب نے کہا کہ دونوں قدم کے درمیان ایک بالشت کا فاصلہ رہے ۔ (المجموع : 3/407)
    (5) نبی ﷺ نے سجدہ میں اعتدال کا حکم دیا ہے ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
    اعْتَدِلوا في السُّجودِ، ولا يَبسُطْ أحَدُكم ذِراعَيهِ انبِساطَ الكَلبِ .(صحيح البخاري:822)
    ترجمہ: سجدہ میں اعتدال کو ملحوظ رکھو اور اپنے بازو کتوں کی طرح نہ پھیلایا کرو۔
    یہ اعتدال پیر سے پیر ملانے پر نہیں پیدا ہوگا بلکہ جس طرح قیام ورکوع میں تھا اسی طرح باقی رہنے پر ہوگا۔
    قدم ملانے والی حدیث کا جواب
    سجدہ کی حالت میں دونوں پاؤں کو ملا کررکھنے والی ایک حدیث ملتی ہے اس کے الفاظ اس طرح سے ہیں ۔
    فوجَدْتُه ساجدًا راصًّا عقِبَيْه مستقبِلًا بأطرافِ أصابعِه للقِبلةِ۔
    ترجمہ: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدے کی حالت میں اس طرح پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایڑیوں کو ملانے والے اور اپنی انگلیوں کے سروں کو قبلہ رخ کرنے والے تھے ۔
    اس حدیث امام ابن خزیمہ ، امام حاکم ، امام بیہقی اور امام ابن حبان نے روایت کیا ہے ۔
    اولا: یہ حدیث صحیح احادیث کے مخالف ہے ،شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے کہا کہ یہ حدیث محل نظر ہے ، بظاہر یہ شاذ اور صحیح احادیث کے مخالف ہے۔(فتاوى نور على الدرب لابن باز: 8/294)
    یہی وجہ ہے کہ صحیح مسلم میں یہ روایت موجود ہے مگر قدم ملانے کی زیادتی نہیں ہے ۔ روایت دیکھیں ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ :
    فقدتُ رسولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم ليلةً من الفراشِ فالتمستُه فوقعتْ يدي على بطنِ قدميْه وهو في المسجدِ وهما منصوبتانِ وهو يقول:" اللهم أعوذُ برضاك من سخطِك, وبمعافاتِك من عقوبتِك , وأعوذُ بك منك لا أُحْصى ثناءً عليك أنت كما أثنيتَ على نفسِك " .(صحيح مسلم:486)
    ترجمہ: ایک رات میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ نہ پایا تو میں نے اپنے ہاتھوں سے آپ کو تلاش کرنا شروع کر دیا، چنانچہ میرا ہاتھ آپ کے پاؤں کو لگا جو سیدھے کھڑے تھے، جب کہ آپ سجدے میں تھے اور پڑھ رہے تھے"اللهم أعوذُ برضاك من سخطِك, وبمعافاتِك من عقوبتِك , وأعوذُ بك منك لا أُحْصى ثناءً عليك أنت كما أثنيتَ على نفسِك"۔
    ثانیا : ان ساری روایت میں یحی بن ایوب ضعیف راوی ہیں جن سے کافی منکرات مروی ہیں، لہذا یہ قابل حجت نہیں ۔
    خلاصہ کلام یہ ہے کہ سجدے کی حالت میں دونوں پیر کو الگ الگ رکھا جائے ، یہی مسنون عمل ہے ۔

    مقبول احمد سلفی
    داعی /اسلامک سنٹر -طائف
     
    • زبردست زبردست x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  2. ‏دسمبر 15، 2016 #2
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,351
    موصول شکریہ جات:
    1,078
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    جزاکم اللہ خیرا محترم شیخ. الحمد للہ اصلاح ہوئی
     
  3. ‏دسمبر 15، 2016 #3
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,242
    موصول شکریہ جات:
    353
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    وایاک
     
  4. ‏دسمبر 20، 2016 #4
    Mohsin Ali Tabish

    Mohsin Ali Tabish رکن
    جگہ:
    Raiwind
    شمولیت:
    ‏اپریل 17، 2014
    پیغامات:
    91
    موصول شکریہ جات:
    34
    تمغے کے پوائنٹ:
    83

    حالت نماز میں دونوں پاؤں(ایڑیوں) کو ملائے رکھنا ہی مسنون ہے۔

    السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته!
    کچھ ہی دن قبل ہمارے فاضل شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ نے ایک پوسٹ لگائی جس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ حالت سجدہ میں پاؤں سے پاؤں نا ملانا مسنون ہے جو کہ بالکل غیر مقبول استدلال ہے اور مسنون کہنا محل نظر ہے اسی طرح راوی یحی بن ایوب پر جرح کیئے بغیر روایت رد کر دینا اور شاذ کہنا مؤجب حیرت ہے۔
    یحیی بن ایوب محدثیں کی اکثریت کے نزدیک صدوق اور حسن الحدیث راوی ہے۔ تفصیل یہ ہے: قال المزي في تهذيب الكمال :
    ( خ م د ت س ق ) : يحيى بن أيوب الغافقى ، أبو العباس المصرى .
    قال أبو سعيد بن يونس : نسبوه فى موالى عمر بن مروان بن الحكم . اهـ .
    و قال المزى :
    قال عبد الله بن أحمد بن حنبل ، عن أبيه : سىء الحفظ ، و هو دون حيوة و سعيد بن أبى أيوب فى الحديث .
    و قال إسحاق بن منصور ، عن يحيى بن معين : صالح . و قال مرة : ثقة .
    و قال عبد الرحمن بن أبى حاتم : سئل أبى : يحيى بن أيوب أحب إليك أو ابن أبى الموال ؟ قال : يحيى بن أيوب أحب إلى ، و محل يحيى الصدق ، يكتب حديثه و لا يحتج به .
    و قال أبو عبيد الآجرى : قلت لأبى داود : يحيى بن أيوب ثقة ؟ قال : هو صالح ، يعنى المصرى .
    و قال النسائى : ليس بالقوى .
    و قال فى موضع آخر : ليس به بأس .
    و ذكره ابن حبان فى كتاب " الثقات " .
    و قال أبو سعيد بن يونس : كان أحد الطلابين للعلم ، حدث عن أهل مكة و المدينة و الشام و أهل مصر و العراق ، و حدث عنه الغرباء بأحاديث ليست عند أهل مصر
    عنه ، فحدث عنه يحيى بن إسحاق السالحينى عن يزيد بن أبى حبيب ، عن ربيعة بن لقيط ، عن ابن حوالة :
    " من نجا من ثلاث " .
    ليس هذا بمصر من حديث يحيى بن أيوب . و روى عنه أيضا عن يزيد ، عن ابن شماسة ، عن زيد بن ثابت :
    " طوبى للشام " . مرفوعا ، و ليس هو بمصر من حديث يحيى .
    و أحاديث جرير بن حازم ، عن يحيى بن أيوب ، ليس عند المصريين منها حديث ، و هى تشبه عندى أن تكون من حديث ابن لهيعة ، و الله أعلم .
    و روى زيد بن الحباب عن يحيى بن أيوب ، عن عياش بن عباس ، عن أبى الحصين حديث أبى ريحانة :
    " نهى عن الوشر و الوشم " .
    و ليس هذا الحديث بمصر من حديث يحيى بن أيوب ، إنما هو من حديث ابن لهيعة
    و المفضل و حيوة و عبد الله بن سويد عن عياش بن عباس .
    توفى سنة ثمان و ستين و مئة .
    روى له الجماعة . اهـ .
    ْ ْ ْ ْ ْ ْ ْ ْ ْ ْ ْ ْ ْ ْ ْ ْ ْ ْ ْ ْ ْ ْ ْ ْ ْ ْ ْ ْ ْ ْ ْ ْ ْ ْ ْ ْ ْ ْ ْ ْ ْ ْ ْ
    قال الحافظ في تهذيب التهذيب 11 / 187 :
    و قال ابن سعد : منكر الحديث .
    و قال الدارقطنى : فى بعض حديثه اضطراب ، و من مناكيره : عن ابن جريج عن الزهرى عن سالم عن أبيه مرفوعا : و إن كان مائعا فانتفعوا به .
    و قال الترمذى عن البخارى : ثقة .
    و قال يعقوب بن سفيان : كان ثقة حافظا .
    و قال الإسماعيلى : لا يحتج به .
    و قال أبو زرعة الدمشقى عن أحمد بن صالح : كان يحيى بن أيوب من وجوه أهل
    البصرة ، و ربما خل فى حفظه .
    و قال ابن شاهين فى " الثقات " : قال ابن صالح : له أشياء يخالف فيها .
    و قال إبراهيم الحربى : ثقة .
    و قال الساجى : صدوق يهم ، كان أحمد يقول : يحيى ين أيوب يخطىء خطأ كثيرا .
    و قال الحاكم أبو أحمد : إذا حدث من حفظه يخطىء ، و ما حدث من كتاب فليس به
    بأس .
    و ذكره العقيلى فى " الضعفاء " .
    و حكى عن أحمد أنه أنكر حديثه عن يحيى بن سعيد عن حجر عن عائشة فى القراءة فى الوتر .
    و كذا نقل ابن عدى ، ثم قال : و لا أرى فى حديثه أذا روى عن ثقة حديثا منكرا ، و هو عندى صدوق لا بأس به . اهـ .
    اس حدیث کو کئی محدثین نے صھیح قرار دیا ہے اور اس سے استدلال کیا ہے۔
    یہ کہنا کہ یہ شاذ ہے درست نہیں۔ یہ کسی بھی حدیث کے خلات نہیں ۔ صحیح مسلم میں اس کا کوئی ذکر نہیں کہ قدم ملے نہیں ہوئے تھے۔ اس حدیث میں ایک اضافی بات ہے نہ کہ مخالف۔ یہ بات سمجھنے کی ہے!!!!!!حافظ ابن ملقن نے بھی اس حدیث کو صحیح کہا اور اس سے استدلال کیا۔ لکھتے ہیں: البدر المنير (3/ 669)
    ثمَّ رَأَيْته بعد ذَلِك فِي «وصف الصَّلَاة بِالسنةِ» لأبي حَاتِم بن حبَان بِإِسْنَادِهِ الصَّحِيح عَن عَائِشَة رَضِيَ اللَّهُ عَنْها قَالَت: «فقدتُ رَسُول الله - صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم - وَكَانَ معي عَلَى فِرَاشِي فوجدتهُ سَاجِدا راصًّا عَقِبَيْهِ مُسْتَقْبلا بأطراف أَصَابِعه الْقبْلَة» .

    یہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی عبارت ہے: التلخيص الحبير ط قرطبة (1/ 461)
    لَكِنْ رَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ عَنْ عَائِشَةَ فِي حَدِيثٍ أَوَّلُهُ: «فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ مَعِي عَلَى فِرَاشِي، فَوَجَدْتُهُ سَاجِدًا رَاصًّا عَقِبَيْهِ، مُسْتَقْبِلًا بِأَطْرَافِ أَصَابِعِهِ الْقِبْلَةَ.»
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فِي رِوَايَةِ ابْنِ حِبَّانَ الصَّحِيحَةِ يَخُصُّهُ بِالرِّجْلَيْنِ،شیخ البانی رحمہ اللہ: أصل صفة صلاة النبي صلى الله عليه وسلم (2/ 736)
    هو من حديث عائشة أيضاً قالت:
    فقدت رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وكان معي على فراشي -؛ فوجدته ساجداً، راصّاً عقبيه، مستقبلاً بأطراف أصابعه القبلة، فسمعته يقول:
    " أعوذ برضاك من سخطك، وبعفوك من عقوبتك، وبك منك، أثني عليك، لا أبلغ
    كل ما فيك ". فلما انصرف؛ قال:
    " يا عائشة! أخذك شيطانك؟ ".
    فقلت: أما لك شيطان؟ فقال:
    " ما من آدمي إلا له شيطان ".
    فقلت: وإياك يا رسول الله؟! قال:
    " وإياي، لكني أعانني الله عليه؛ فأسلم ".
    أخرجه الطحاوي في " المشكل " (1/30) ، {وابن خزيمة (رقم 654) } ، والحاكم (1/228) ،
    وعنه البيهقي (2/116) عن سعيد ابن أبي مريم: أنبأ يحيى بن أيوب: ثني عُمارة بن غَزيَّة
    قال: سمعت أبا النضر يقول: سمعت عُروة بن الزبير يقول: قالت عائشة: ... . وقال الحاكم:
    " صحيح على شرط الشيخين ". ووافقه الذهبي. {وانظر " صحيح الموارد " (406) } .
    وأقول: إنما هو صحيح على شرط مسلم فقط؛ فإن البخاري لم يحتج بعُمارة هذا،
    وإنما استشهد به - كما ذكر ذلك الذهبي نفسه في " الميزان " -.
    والحديث رواه أيضاً ابن حبان؛ كما في " التلخيص " (3/475) ، ثم قال الحافظ
    - بعد أن عزاه إليه وحده -:
    " إنها رواية صحيحة "
    حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ: التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد (23/ 348)
    وَمِنْ حَدِيثِ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ مِنْ طُرُقٍ صِحَاحٍ ثَابِتَةٍ
    حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ قِرَاءَةً مِنِّي عَلَيْهِ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفَضْلِ الدِّينَوَرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَرِيرٍ الطَّبَرِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ قَالَ حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ يَقُولُ سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ قَالَتْ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مَعِي عَلَى فِرَاشِي فَوَجَدْتُهُ سَاجِدًا رَاصًّا عَقِبَيْهِ مُسْتَقْبِلًا بِأَطْرَافِ أَصَابِعِهِ الْقِبْلَةَشیخ مھمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ: الشرح الممتع على زاد المستقنع (3/ 122)
    وقد جاء ذلك أيضاً في «صحيح ابن خزيمة» في حديث عائشة المتقدِّم: «أنَّ الرسولَ صلّى الله عليه وسلّم كان رَاصًّا عقبيه» (2). وعلى هذا؛ فالسُّنَّةُ في القدمين هو التَّراصُّ بخلاف الرُّكبتين واليدين. اس میں آپ نے اسے سنت قرار دیا ہے۔

    دوسری جگہ لکھتے ہیں: فقه العبادات للعثيمين (ص: 161، بترقيم الشاملة آلياأما في حال الجلوس فقد عرفناه فيما سبق، وأما في حال السجود فالأفضل أن يلصق إحدى القدمين بالأخرى، وألا يفرق بينهما، كما يدل على ذلك حديث عائشة رضي الله عنها، حين وقعت يدها على قدمي النبي صلى الله عليه وسلم منصوبتين وهو ساجد (1) ، ومعلوم أن اليد الواحدة لا تقع على قدمين منصوبتين إلا وبعضها قد ضم إلى بعض، وكذلك جاء صريحاً في صحيح ابن خزيمة رحمه الله أنه يلصق إحدى القدمين بالأخرى في حال السجود (2)
     
    Last edited by a moderator: ‏دسمبر 21، 2016
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  5. ‏دسمبر 20، 2016 #5
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,351
    موصول شکریہ جات:
    1,078
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    مضمون تو عربی میں ہے؟
    اردو میں پیش کرنا چاہیۓ
    میرے خیال سے یہ طریقہ مناسب نہیں ہے
     
  6. ‏دسمبر 20، 2016 #6
    Mohsin Ali Tabish

    Mohsin Ali Tabish رکن
    جگہ:
    Raiwind
    شمولیت:
    ‏اپریل 17، 2014
    پیغامات:
    91
    موصول شکریہ جات:
    34
    تمغے کے پوائنٹ:
    83

    معذرت چاہتا ہوں لیکن کیونکہ توثیق عربی میں ہی ملی اور میں عربی میں ماہر نہیں۔
    میرا مقصد اتنے دن اہل علم کی خاموشی کو توڑنا تھا۔ اگر کوئی اردو کردے تو جزاہ اللہ خیرا۔

    چونکہ میں پوسٹنگ نہیں کرتا اس لئے مندرجہ بالا پوسٹ میں کچھ کمیاں رہ گئی ہونگی جس کے لئے پیشگی معذرت۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏دسمبر 20، 2016 #7
    Mohsin Ali Tabish

    Mohsin Ali Tabish رکن
    جگہ:
    Raiwind
    شمولیت:
    ‏اپریل 17، 2014
    پیغامات:
    91
    موصول شکریہ جات:
    34
    تمغے کے پوائنٹ:
    83

    السلام علیکم!
    محترم میرا مختصر سا سوال ہے کہ متقدمین میں کسی نے اس طرح طرز استدلال کیا ؟
     
  8. ‏دسمبر 20، 2016 #8
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,351
    موصول شکریہ جات:
    1,078
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    پہلی بات: آپکے یہ الفاظ مناسب نہیں.
    دوسری بات: آپکا کوئی اشکال تھا تو وہیں اسی تھریڈ میں ذکر کرنا چاہیۓ تھا.
     
  9. ‏دسمبر 20، 2016 #9
    Mohsin Ali Tabish

    Mohsin Ali Tabish رکن
    جگہ:
    Raiwind
    شمولیت:
    ‏اپریل 17، 2014
    پیغامات:
    91
    موصول شکریہ جات:
    34
    تمغے کے پوائنٹ:
    83

    پیارے بھائی غیر مسنون کو سنت کہنا مناسب ہے ؟
    میرے الفاظ پر غور تو کریں کس طرح غیر مناسب ہیں ؟
    نئی تھریڈ نا بنانے پر کوئی اصول ہے فورم کا تو بتا دیں ؟
    میں تو بحث کی بجائے سیکھنے کا شوقین ہوں, استفسار یا اعتراض کرنے میں بھی یہی نیت ہے.

    چناچہ اصل موضوع پر بات کرنی ہے تو بہتر وگرنہ مزید جوابات کی توقع نا رکھئے گا...
    باقی مسئلہ رہا ترجمہ کا تو کوشش کرتا ہوں اپنے اہل علاقہ کے کسی معتبر مترجم سے کروا لوں.

    اللہ سے دعا ہے کہ وہ حق بات کو سمجھ کر اسی پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور ذاتی محبتوں کو بھی شریعت کے تابع مسائل پر ہی قائم رکھے نا کہ صرف ذاتیات پرستی پر.
     
  10. ‏دسمبر 20، 2016 #10
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,351
    موصول شکریہ جات:
    1,078
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    پیارے بھائی!
    آپ تو شیخ @مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ کے مضمون پر اس قدر رد عمل دکھا رہے ہیں جیسے کہ انھوں نے بنا دلیل ہی پورا مضمون لکھ دیا.
    غور کرنے کے بعد ہی لکھا ہے.
    اسی لۓ کہا تھا کہ سیکھنا یا استفسار کرنا مقصد ہو تو وہیں پر اعتراض کرتے یا سوال وغیرہ کرتے. خیر یہ آپکا ذاتی فعل ہے. آپ آزاد ہیں. میں آپکو پابند نہیں بنا سکتا.
    مجھے بھی کوئی شوق نہیں کہ بلا وجہ بیکار کی بحوث میں الجھوں. بس آپ کا رویہ غلط لگا سو بول دیا.
    برا لگا ہو تو معذرت.
    والسلام علیکم
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں