1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قبروں میں مدفون مردے نہیں سنتے۔

'مسائل قبور' میں موضوعات آغاز کردہ از طاہر رمضان, ‏دسمبر 26، 2012۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. ‏اکتوبر 24، 2016 #91
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    قرآن کی تفسیر کا حق صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل تھا۔ آپ نے جو کچھ (یہاں تک اور آگے بھی) لکھا اس پر نبوت کی تصدیق نہیں۔ جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں وہ آپ کو تسلیم نہیں!!!!


    یہاں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو آپ تسلیم نہیں کر رہے اور امتیوں کے اقوال پیش کیئے جارہے ہیں۔
    عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آیت کی تفیر نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی تفسیر جاننا چاہتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وضاحت فرمادی کہ ” میری بات تم ان سے زیادہ نہیں سنتے“ جیسے تم سن رہے ہو ویسے ہی وہ بھی سن رہے ہیں۔ اس کے بعد زندہ اور مردہ کے سننے کے فرق کو بھی واضح فرما دیا کہأَنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يَرُدُّوا عَلَيَّ شَيْئًا“
    دوسری حدیث میں ہے ”وَلَكِنَّهُمْ لَا يَقْدِرُونَ أَنْ يُجِيبُوا“۔
     
  2. ‏اکتوبر 25، 2016 #92
    Muhamad Ali

    Muhamad Ali مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 31، 2016
    پیغامات:
    50
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    16

    بھٹی صاحب! آپ نےپوچھاھےکہ کیا آپ اس حدیث کو صحیح تسلیم کرتے ہیں؟___ بھٹی صاحب اسکاجواب میں بروزھفتہ 4:50‎ PM‏ کی پوسٹ میں تفصیلا" دےچکا ھوں-البتہ آپ میرےسوال کاجواب دینےسےمسلسل بچ رھےھیں،میراسوال بہت سادہ ھےکہ جب آپ یہ تسلیم کرتےھیں کہ"مردہ کا زندہ ھوجانا کامعجزہ ھوناتوٹھیک ھے"___ تو پھریہ مانناکہ ھرمردہ زندہ ھوجاتاھےاوردفناکرجانےوالوں کےقدموں کی آوازسنتا ھے معجزےکومعمول بنانا نہیں؟
     
  3. ‏اکتوبر 25، 2016 #93
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    اقرار کے ساتھ انکار کا کیا معنیٰ؟؟؟؟؟
     
  4. ‏اکتوبر 25، 2016 #94
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    میری اس پوسٹ کا مکمل قتباس پیش کریں جس میں یہ اقرار ہے؟؟؟؟؟
    یاد رکھیں دوسروں کو دھوکہ دینے والا حقیقتآ خود کو دھوکہ دے رہا ہوتا ہے۔ فلا شک
     
  5. ‏اکتوبر 25، 2016 #95
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    حدیثَ مبارکہ میں جس قرآنی آیت کو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پیش کیا وہ صاف ظاہر ہے کہ پہلے نازل ہوچکی تھی اسی کی وضاحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کا مخالف باور کرا رہے ہیں اور اپنے بڑوں کی خود ساختہ تفسیر کو حق باور کرانا چاہتے ہو۔

    آپ سے گزارش ہے کہ وہ صحیح احادیث پیش کریں جو آپ کے مدعا کو ثابت کرتی ہیں۔
    یاد رکھیں کہ قرآنِ پاک کی آیت کا مفہوم جو احادیث سے ثابت ہو وہی قابلِ قبول ہے تفسیر بالرائے ہرگز ہرگز قبول نہیں۔
     
  6. ‏اکتوبر 25، 2016 #96
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    اس کا بھی آپ نے کوئی جواب اب تک نہیں دیا۔
     
  7. ‏اکتوبر 25، 2016 #97
    Muhamad Ali

    Muhamad Ali مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 31، 2016
    پیغامات:
    50
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    16

    بھٹی صاحب! اگرنادانستگی میں بھی آپ نےیہ بات مانی ھےکہ قیامت سےقبل مردے کا زندہ ھوجانامعجزہ ھے ____تو یہ بات قابل گرفت یا جرم نہیں کہ جس پرآپ کو پشیمانی ھو یا توبہ و رجوع کرناپڑے بلکہ عین حق ھے-البتہ اس اعتراف_ حق سےیقینا" آپ کےاکابرین کےعقائد پرشدیدترین ضرب پڑتی ھےکہ انہوں نےتو ھرمردےکودفناکرجانے والوں کےجوتوں کی آواز سننےوالا قراردیکرمعجزےکو معمول بناڈالا،صحیح بخاری کے باب:المیت یسمع خفق النعال گےتحت حدیث کا قرآنی نصوص کومطلق نظراندازکرتےھوئے خلاف قرآن مفھوم لیا- جس سےسورۃ المومنون آیت16میں بیان ھونےوالےعام قانون [ثم انكم يوم القيامة تبعثون]کامذاق بن گیا وغیرہ وغیرہ ____ توبھٹی صاحب اکابرین کادفاع کرنےکےبجائےآپ اپنی آخرت کی فکرکیجیئے- بہرحال آپ کی پوسٹ 18‎ Oct 2016‏ کا اقتباس ملاحظہ ھو;‏

    Muhamad Ali نے کہا ہے: ↑
    مردےکا قیامت سےقبل زندہ ھونابھی معجزہ ھےاور زندہ ھوکرسننابھی معجزہ ھے
    ”مردہ کا زندہ ہوجانا“کا معجزہ ہونا تو ٹھیک ہے مگر ”زندہ“ کا سننا تو درکنار چلنا پھرنا کھانا وغیرہ سب کام عام فہم ہیں یہ ”معجزہ“ کیوں کر ہوگئے؟
     
  8. ‏اکتوبر 26، 2016 #98
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    قرآنِ پاک کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اور بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتا۔

    صحيح البخاري: كِتَابُ المَغَازِي: بَابُ قَتْلِ أَبِي جَهْلٍ
    حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، سَمِعَ رَوْحَ بْنَ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: ذَكَرَ لَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ يَوْمَ بَدْرٍ بِأَرْبَعَةٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا مِنْ صَنَادِيدِ قُرَيْشٍ، فَقُذِفُوا فِي طَوِيٍّ مِنْ أَطْوَاءِ بَدْرٍ خَبِيثٍ مُخْبِثٍ، وَكَانَ إِذَا ظَهَرَ عَلَى قَوْمٍ أَقَامَ بِالعَرْصَةِ ثَلاَثَ لَيَالٍ، فَلَمَّا كَانَ بِبَدْرٍ اليَوْمَ الثَّالِثَ أَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ فَشُدَّ عَلَيْهَا رَحْلُهَا، ثُمَّ مَشَى وَاتَّبَعَهُ أَصْحَابُهُ، وَقَالُوا: مَا نُرَى يَنْطَلِقُ إِلَّا لِبَعْضِ حَاجَتِهِ، حَتَّى قَامَ عَلَى شَفَةِ الرَّكِيِّ، فَجَعَلَ يُنَادِيهِمْ بِأَسْمَائِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ: «يَا فُلاَنُ بْنَ فُلاَنٍ، وَيَا فُلاَنُ بْنَ فُلاَنٍ، أَيَسُرُّكُمْ أَنَّكُمْ أَطَعْتُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا، فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا؟» قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تُكَلِّمُ مِنْ أَجْسَادٍ لاَ أَرْوَاحَ لَهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ» ،
    قَالَ قَتَادَةُ: أَحْيَاهُمُ اللَّهُ حَتَّى أَسْمَعَهُمْ، قَوْلَهُ تَوْبِيخًا وَتَصْغِيرًا وَنَقِيمَةً وَحَسْرَةً وَنَدَمًا

    حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے روز بدر قریش کے چوبیس سربرآوردہ اشخاص کو بدر کے کنوؤں میں ایک گندے پلید کنویں میں پھنکوادیا، حضور کاطریقہ یہ تھا کہ جب کسی قوم پر فتحیاب ہوتے تو میدان میں تین دن قیام فرماتے، جب بدرکا تیسرا دن تھا تو سواری مبارک پر کجاوہ کسوایا، پھر چلے، صحابہ نے ہمر کابی کی، اور کہا ہمارا یہی خیال ہے کہ اپنے کسی کام سے تشریف لے جارہے ہیں، یہاں تک کہ کنویں کے سرے پر ٹھہر کران کا اور ان کے آباء کانام لے لے کر اے فلاں بن فلاں اور اے فلاں بن فلاں کہہ کر پکارنے لگے، فرمایا ''کیا اس سے تمھیں خوشی ہوتی کہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم تم نے مانا ہوتا، ہم نے تو حق پایا وہ جس کا ہمارے رب نے ہم سے وعدہ فرمایا تھا، کیا تم نے اس کو ثابت پایا جو تمھارے رب نے تم سے وعدہ کیا تھا ''۔عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا یا رسول اللہ آپ ایسے جسموں سے کلام فرما رھے ہیں جن میں روح موجود نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے میری بات تم ان سے زیادہ نہیں سنتے۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان

    اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میری بات تم ان سے زیادہ نہیں سنتے۔
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان

    صحيح البخاري: كِتَابُ الجَنَائِزِ: بَابٌ: المَيِّتُ يَسْمَعُ خَفْقَ النِّعَالِ
    النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "العَبْدُ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ، وَتُوُلِّيَ وَذَهَبَ أَصْحَابُهُ حَتَّى إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ،۔۔۔ الحدیث
    جب بندے کو قبر میں رکھ کر اس کے ساتھی واپس ہوتے ہیں تو وہ مردہ ان کے جوتوں کی آواز سن رہا ہوتا ہے ۔۔۔ الحدیث
     
  9. ‏اکتوبر 29، 2016 #99
    Muhamad Ali

    Muhamad Ali مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 31، 2016
    پیغامات:
    50
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    16

    بھٹی صاحب! آپ کا (چیلنج کےاندازمیں) مطالبہ تھا کہ میں آپ کی
    اس پوسٹ کا مکمل اقتباس پیش کروں جس میں آپ کا یہ اقرار ہےکہ (مردہ کا زندہ ھوجانا کامعجزہ ھوناتوٹھیک ھے) ..... اورمطالبہ کے ساتھ ھی آپ نے مجھے یہ بھی یاد دھانی کرائی تھی کہ دوسروں کو دھوکہ دینے والا حقیقتآ خود کو دھوکہ دے رہا ہوتا ہے- _____ بہرحال آپ کےاس مطالبہ پر میں نےفورا" ھی آپ کی 18 ‏Oct 2016‎‏ کی پوسٹ پیش کردی-لیکن اس کےبعد آپ کی طرف سےخاموشی ھے ___ بھٹی صاحب اس خاموشی کو میں اوراس بحث کےدوسرےقارئین آپ کا اپنےسابقہ خلاف_قرآن موقف سے رجوع وتوبہ سمجھیں یا بحث سے فرار ؟ جلدمطلع فرمائیں-
     
  10. ‏اکتوبر 29، 2016 #100
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    میری 18 اکتوبر کی پوسٹ
    قارئین اندازہ لگائیں کہ میں نے کیا کہا ہے اور موصوف کیا سمجھ رہے ہیں یا سمجھانے کی کوشش میں ہیں!!!!!
     
لوڈ کرتے ہوئے...
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں