1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

قرآن خوانی کی شرعی حیثیت

'بدعت' میں موضوعات آغاز کردہ از مظاہر امیر, ‏جنوری 22، 2017۔

  1. ‏فروری 04، 2017 #61
    nasim

    nasim رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    519
    موصول شکریہ جات:
    93
    تمغے کے پوائنٹ:
    62

    وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ و برکاتہ
    اس تعریف کے تحت فرض کے علاوہ کوئی بھی نماز نہ پڑھنا باعث گناہ نہیں ۔ ایک حدیث کے مطابق جس کی نمازیں کم ہوں گی کہا جائے کہ نفل میں سے پوری کرلو۔ اس روایت میں بھی سنت نماز کا ذکر نہیں۔
     
  2. ‏فروری 04، 2017 #62
    ابن داود

    ابن داود سینئر رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    2,603
    موصول شکریہ جات:
    2,433
    تمغے کے پوائنٹ:
    489

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    درست، لیکن اوپر بیان کردہ حدیث کی کے مصداق ہونے سے بچتے ہوئے! جس میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا ''جس نے میری سنت سے بے رغبتی کی وہ مجھ میں سے نہیں!''
    یہاں نوافل سے مراد فقہی سنت مؤکدہ ، غیر مؤکدہ اور نوافل کی تقسیم والے نوافل نہیں، بلکہ صلاة مكتوبہ اور غیر مكتوبہ والے یعنی کہ وہ نمازیں جو فرض نہیں ، وہ نوافل کا ذکر ہے، اور نوافل کے اس معنی میں سنت مؤكدہ و سنت غیر مؤکدہ بھی شامل ہیں!
     
  3. ‏فروری 04، 2017 #63
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    1,903
    موصول شکریہ جات:
    617
    تمغے کے پوائنٹ:
    188

    اہل علم سے ایک گذارش اور هے کہ کیا اجتماعی طور پر قرآن کریم پڑهنا، سنت نبی صلی اللہ علیہ وسلم هے یا صحابہ الکرام رضی اللہ عنہم کے اعمال سے ثابت هے؟ جس طرح کے آج کل عموما برصغیر میں اس کا مشاہدہ عام هے ، مثلا هر شخص ایک ہی جگہ پر اجتماعی طور پر پڑهتا هے؟
    موضوع کی مناسبت سے اس پر علمی باتیں ان شاء اللہ میری طرح عام قارئین کے لیئے مفید هونگی ۔
     
  4. ‏مارچ 01، 2017 #64
    مظاہر امیر

    مظاہر امیر مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جولائی 15، 2016
    پیغامات:
    1,105
    موصول شکریہ جات:
    310
    تمغے کے پوائنٹ:
    157

  5. ‏اپریل 30، 2017 #65
    umaribnalkhitab

    umaribnalkhitab مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 26، 2017
    پیغامات:
    75
    موصول شکریہ جات:
    4
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    جزاکم اللہ خیرا احسن الجزاء

    Sent from my SM-J500F using Tapatalk
     
  6. ‏اپریل 30، 2017 #66
    umaribnalkhitab

    umaribnalkhitab مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 26، 2017
    پیغامات:
    75
    موصول شکریہ جات:
    4
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    جزاکم اللہ خیرا احسن الجزاء

    Sent from my SM-J500F using Tapatalk
     
  7. ‏مئی 01، 2017 #67
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,188
    موصول شکریہ جات:
    330
    تمغے کے پوائنٹ:
    147

  8. ‏مئی 01، 2017 #68
    nasim

    nasim رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    519
    موصول شکریہ جات:
    93
    تمغے کے پوائنٹ:
    62

    عدیل بھائی
    میں نے پہلے بھی ایک مثال دی تھی لیکن آپ لوگ اسے تسلیم نہیں کر رہے ۔ اگر میں لوگوں کو ایک جگہ جمع کر کے ان سے قران کی تلاوت کر واتا ہوں تو مجھے اس کا ثواب تو ملے گا۔
    میرے والد نے میری تربیت ایسی کرکے گئے ہیں جن سے مجھے اس کام کی توفیق ہوتی ہے تو ان کو اس کا ثواب کیوں نہیں ملے گا۔
    اور اگر آپ کے یہ کہتے ہیں کہ اولا کی دعا سے ہی مرنے والے کو فائدہ ہوتا ہے ۔ تو پھر رب جعلنی والی دعا تو سب مومنوں کیلئے ہے اس میں والدین کی کیا تخصیص ہے ۔
     
  9. ‏مئی 01، 2017 #69
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,022
    موصول شکریہ جات:
    1,152
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    بھائی جان بدعت من عمل عملا فلیس علیہ امرنا کے تحت اسکو کہتے ہیں کہ جب کسی عمل کو کسی خاص لحاظ سے فکس (متعین) کر دیا جائے مگر اس خاص لحاظ سے فکس کرنے (متعین کرنے) کا حکم شریعت میں موجود نہ ہو پس یہ مندرجہ ذیل قسم کی ہو سکتی ہے
    ۱۔ جو کام ثواب کی نیت سے کیا جائے مگر اس کام کے کرنے کا شریعت میں ڈائریکٹ حکم ہو نہ بالوسطہ حکم ہو مثلا عرس وغیرہ
    ۲۔ اس کام کا حکم تو ہو مگر جس ہیت (شکل) کو فکس کیا گیا ہو وہ ہیت شریعت میں فکس نہ ہو مثلا نوافل پڑھنے کا حکم تو ہے مگر کوئی سو نوافل ایک ہی سلام سے پڑھنا متعین کر لیتا ہے تو یہ ھیت (شکل) چونکہ شریعت میں متعین نہیں پس بدعت شمار ہو گا
    ۳۔ اس کام کا حکم تو موجود ہو اور اسکی ہیت یعنی شکل بھی شریعت میں متعین ہو مگر اس کے وقت کا تعین شریعت میں نہ کیا گیا ہو اس وقت اگر کوئی اس حکم کی اس شکل کے لئے وقت کو متعین کرنے کی کوشش کرے گا تو وہ بدعت ہو گی مثلا دو رکعت عام نفل پڑھنے کا حکم اور ھیت توشریعت میں متعین ہے مگر اسکا وقت فکس نہیں کیا گیا (ہاں بعض خاص نوافل کے لئے وقت متعین ہے جیسے اشراق وغیرہ) اب اگر کوئی عام نوافل کا وقت تین بجے فکس کر دے تو یہ بدعت ہو گا البتہ یہ یاد رکھ لیں کہ یہ وقت بعض صورتوں میں خود سے فکس کیا جا سکتا ہے جب فکس کرنے کا مقصد ثواب کی کمی زیادتی وغیرہ نہ ہو بلکہ کوئی اور مجبوری یا مصلحت ہو مثلا عمومی درس دینے کا حکم متعین ہے لیکن اگر کوئی خطیب اسکا وقت فجر کے بعد اس لئے فکس کر دیتا ہے کہ فجر کے بعد لوگ زیادہ ہوتے ہیں تو فائدہ زیادہ ہو گا یا پھر خطیب کے پاس اس وقت فراغت ہوتی ہے یا کوئی اور وجہ ہوتی ہے تو اسکو بدعت نہیں کہیں گے
    پس اصل اعتراض یہ ہوتا ہے کہ جس حکم یا ھہیت یا وقت وغیرہ کو شریعت نے فکس نہیں کیا اسکو فکس کیے بغیر عمل کرنا ممنوع نہیں امید ہے کچھ سمجھا سکا ہوں گا

    بھائی جان اس کام سے مراد سنت کام ہے تو بالکل آپ کے والد کو ضرور ثواب ملے گا جیسا کہ حدیث میں ہے کہ
    إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلا مِنْ ثَلاثَةٍ : إِلا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ (رواه مسلم)
    پیارے بھائی جان آپ کو بہت بڑی غلط فہمی لگی ہے ہم میں سے کوئی یہ نہیں کہتا کہ صرف اولاد کی دعا سے ہی والدین کو فائدہ ہوتا ہے بلکہ دعا تو کوئی بھی کسی کے لئے بھی کر سکتا ہے
    ہاں جو اعمال کا ثواب ہے وہ صرف اولاد کے اعمال کا ثواب والدین کو ملتا ہے کسی اور کے اعمال کا ثواب والدین کو نہیں مل سکتا کیونکہ لیس للانسان الا ما سعی کے تحت والدین نے اولاد پہ کوشش کی ہوتی ہے اوروں پہ نہیں کی ہوتی ہاں اگر والدین نے اولاد کے علاوہ اپنے بھتیجوں یا کسی غیر پہ بھی کسی عمل میں کوشش کی ہو گی تو اس عمل کا ثواب بھی انکو ملے گا جیسا کہ ہم سب مسلمانوں کا ثواب رسول اللہ ﷺ کو ملتا ہے بھائی یہ ہمارا عقیدہ ہے آپ دعا اور اعمال کے ثواب کو مکس نہ کریں
    اعمال کے ثواب کے لئے اوپر حدیث بیان کی ہے

    دعا اور اعمال کے ثواب میں یہ فرق کیوں کیا جاتا ہے اسکو سمجھیں

    اعمال کا ثواب جب کسی مرنے والے کو پہنچنے کی بات کی جاتی ہے تو اس وقت سمجھیں کہ ہم یہ کہ رہے ہوتے ہیں کہ اب اللہ کے لئے لازمی ہے کہ وہ اس مرنے والے کو ان اعمال کی جزا دے اور ظاہر ہے اللہ کے لئے لازمی بات وہی ہو گی جس کا اللہ نے اقرار کیا ہو گا
    البتہ دعا جب کسی کے لئے کی جاتی ہے تو اس وقت اللہ کے لازمی نہیں ہوتا کہ اس دعا کو قبول کرے یا نہ کرے پس اس میں اللہ پہ کوئی بات لازم ہونا نہیں آتی مزید تفصیل بعد میں
     
  10. ‏مئی 01، 2017 #70
    nasim

    nasim رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    519
    موصول شکریہ جات:
    93
    تمغے کے پوائنٹ:
    62

    السلام علیکم
    محترم عبدہ بھائی
    آپ کی جانب سے مزید تفصیل آئے گی تو ذہن میں اشکالات ہیں ان کا ذکر کروں گا۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں