1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

محافل قراء ات … اعتراضات کا جائزہ

'علم القراءات' میں موضوعات آغاز کردہ از ساجد, ‏مارچ 31، 2012۔

  1. ‏مارچ 31، 2012 #41
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    قاری کے لیے کرایہ آمدورفت لینا جائز ہے
    لیکن دینی مصلحت کے تحت جب کسی کو دور سے بلایا جائے تو آمدورفت اور خوردونوش کا خرچہ ان کو دینا اجرت میں داخل نہیں اور وہ ناجائز بھی نہیں ہے۔ اور یہ بھی صحیح کہ ناجائز میں دینے والے کی اِجازت سے بھی خرچ کرنا جائز نہیں اور اِجازت کے بغیر تو جائز میں بھی نہیں اس لیے ان سب باتوں کا لحاظ کرنا ضروری ہے۔ لیکن ان کوتاہیوں کے مجرم منتظمین ہیں اور انہی پر گناہ ہے، سامعین پر اس کااثر نہیں ہوسکتا۔پھرہر مجلس میں ان خرابیوں کاہونا بھی ضروری نہیں۔ منتظمین کوفہمائش( سمجھانے) کرنے کی ضرورت ہے مگراس وجہ سے مجالس کو بند کردینا درست نہیں ہوگا۔
    اُمید ہے کہ اَب سب باتوں پر خلوص کے ساتھ غور کیا جائے گا تاکہ برائیوں کی اِصلاح ہو اوربھلائیوں کی ترغیب ہو۔ واﷲ اعلم۔
     
  2. ‏مارچ 31، 2012 #42
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    صدق اﷲ العظیم بعد از تلاوت مستحب ہے
    سوال: تلاوت قرآن کریم کے بعد صدق اﷲ العظیم کہنا جائز ہے یا ناجائز؟ (سائل محمد سعادت اللہ کراچی)
    الجواب:بسم اللہ الرحمن الرحیم … حامدا ومصلیا ومسلما
    اَسکولوں اور کالجوں میں اِسلامی تعلیمات کا معاملہ صفر (نہ ہونے کے برابر) ہے اور دن رات اِسلام اور اہل اسلام پر غلط سلط اِعتراضات کئے جاتے ہیں اور انگریزوں کا جعلی اسلام ذہنوں میں جمایا جاتا ہے۔ اِسلام اور سچے پکے مسلمانوں سے نفرت پیدا کرکے مسلمانوں کے دماغ دین سے کھوکھلے کیے جارہے ہیں۔برس ہا برس سے یہ سازش چل رہی ہے۔ نتیجہ یہ کہ اَب گو نصاریٰ (عیسائی یعنی انگریزوںکی حکومت نہیں رہی) کا تسلط نہیں رہا مگر اکثریت ایسے لوگوں کی ہوگئی ہے جن کا نام مسلمانوں کا سا ہے مگر عیسائیت ان کے دل میں گھر کئے ہوئے ہے۔ کسی غلط فہمی کی وجہ سے اسلام میں اگرذرا سی بات بھی قابل اعتراض معلوم ہوجائے تو پورے اِسلام پر دشنام طرازی کا بازار گرم کر دیا جاتا ہے۔ انگریز چلے گئے مگر اپنے ایجنٹ ایسے بنا کر چھوڑ گئے کہ جو کام وہ نہ کر سکتے تھے اور ان سے نہ ہوسکے وہ ان ایجنٹوں کے ہاتھوں ہو رہے ہیں۔
     
  3. ‏مارچ 31، 2012 #43
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    جتنے فرقے پارٹیاں آپ دیکھ رہے ہیں سب اسی کے پھل پھول ہیں چونکہ ان میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو اسلام سے بالکل بے خبر بلکہ متنفر ہیں لہٰذا لوگ ان کو ہاتھوں ہاتھ لے لیتے ہیں بلکہ اب تو یہ ہوگیا ہے کہ اگر کوئی اعتراضات کرنے لگتا ہے تو اسے کوئی نہیں پوچھتا، بلکہ وہ اسلام کے خلاف بکواس کرکے ہاتھوں ہاتھ لیاجاتاہے۔ خالفوا تعرفوا ’مخالفت کرو مشہور ہوجاؤ گے‘ محاورہ پر بھرپور عمل ہے اور مخالفت بھی اس کی جس کے پیروکاربہت ہوں اور سب چلا اٹھیں۔ اسی گُر سے اہل باطل کام لے رہے ہیں اور روز ایک نیا فرقہ وجود میں آتاہے۔
    ابھی حال ہی میں کوئی عبدالرؤف صاحب جوکراچی یونیورسٹی کے لیکچرار ہیں، انہوں نے بھی ذرا سی غلط سلط عربی سیکھ کر اَسکول کالج کے دینی اعتبار سے صفر لوگوں میں یہ شوشہ چھوڑا کہ علماء دین اور قاری صاحبان جو تلاوت کے بعد صدق اﷲالعظیم پڑھتے ہیں، یہ بدعت ہے۔ اور بدعت کہتے ہوئے کسی عالم کی پوری تقریر جھاڑ دی اوران سب کو مجرم بلکہ بدعتی ومشرک و اسلام سے خارج کہہ ڈالا اور ایک کتابچہ داغ دیا۔ کسی صاحب نے وہ کتابچہ دفتر ’الاشرف‘ میں بھیج دیا ، ہم اس کے متعلق کچھ عرض کرتے ہیں۔
    کتابچہ کے صفحہ نمبر ۹ پر مذکور ہے کہ انہوں (موصوف عبدالرؤف صاحب)نے تلاوت کے بعد صدق اﷲ العظیم نہ کہا تو ان کے ایک شاگرد نے اِعتراض کیاکہ آپ نے ایک آیت چھوڑ دی ہے یعنی صدق اﷲ العظیم نہیں کہا۔ اس پر بہت غصہ آیا کہ بہت سے نادان اسے قرآن کریم کی آیت سمجھنے لگے ہیں لہٰذا اس کا رد کر دیا۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ ان صاحب کو بدعت کی حقیقت معلوم نہیں ہے یا اسے سمجھے نہیں۔ حضورﷺنے بدعت کی جو تعریف فرمائی ہے وہ صفحہ۲ پر درج کردی گئی ہے:
    ’’جس نے ہمارے اس کام یعنی دین میں کوئی ایسی بات نکالی جو اس میں سے نہیں ہے یعنی اس کا ثبوت قرآن مجید و حدیث میں نہیں ہے تو وہ عمل بھی عند اللہ مقبول نہیں ہے اور اس کاکرنے والا اللہ کی رحمت سے دور ہے۔‘‘
     
  4. ‏مارچ 31، 2012 #44
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    (١) حدیث کے لفظ أحدث کا ترجمہ نکالنا نہیں بلکہ پیداکرنا ہے۔ نکالی ہوئی کا مطلب تو اَندر سے پوشیدہ چیزنکالنا ہے وہ تو بدعت نہیں ہوسکتی آگے کا لفظ ما لیس منہ کا ترجمہ ’جو اس میں سے نہیں ہے‘، اس پر صادق نہیں آتا ہے۔ اس لیے یہ ترجمہ غلط ہے، جو اس سے ماخوذ ہے وہ تو اس کے اَندر ہے وہ بدعت کیسے ہوسکتا ہے۔
    (٢) ذرا ذہن کو صاف کرکے سنئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اﷲِ قِیْلاً‘‘ (سورۃ نساء:۱۲۲) یعنی ’’قول میں اللہ سے زیادہ کون سچا ہے۔‘‘
    (٣) اور اِرشاد ہے: ’’ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اﷲِ حَدِیْثًا ‘‘ (سورۃ نساء:۸۷) ’’اور بات میں اللہ سے زیادہ کون سچا ہے؟‘‘ دونوں آیتوں میں استفہام اِنکاری ہے۔ یعنی کوئی سچا نہیں آپ ہی سچے ہیں اب اللہ تعالیٰ کے قول کے بعد یہ کہنا صدق اﷲ العظیم یعنی عظمت والا اللہ ہی سچا ہے کیا یہ ان دونوں آیتوں کی تصدیق نہیں ہے؟ اب تلاوت کرنے والا اللہ تعالیٰ کے حکم اور اللہ تعالیٰ کی بات کو سچا بتلا رہا ہے تو یہ شرک و بدعت ہے یا اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل ہے؟ اب یہ فرمائیے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کو شرک و بدعت کہتا ہے وہ خود کیسا ہے؟
     
  5. ‏مارچ 31، 2012 #45
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    (٤) اَمر کا ترجمہ ہرکام نہیں ہے بلکہ وہ ہے جو فرض و واجب ہو، کیونکہ اَمر تو حکم کو کہتے ہیں اور اَمر فرض یا واجب ہے لہٰذا جوچیز دین نہ ہو اسے دین بنائیں یاجو چیز فرض و واجب نہیں اسے فرض و واجب بنائیں تو اس پر حکم ہے کہ ’فھو رد‘ یعنی ’’وہ مردود ہے‘‘ لہٰذا جو غیر کام فرض واجب سمجھ کر نہ کیاگیاوہ بدعت نہیں ہوگا جیسے تمام مستحبات اور تمام جائز کام اور تمام نوافل و اَذکار وغیرہ جو دین ہیں، جب تک ان کو فرض و واجب نہیں کہے گا اسے بدعت کہنا درست نہیں ہوگا جیسے عمدہ عمدہ کپڑے، مکان، ہوائی جہاز، ریل وغیرہ اور بڑی بڑی مساجد یہ سب کام دین کے لیے تو ہیں مگر فرض و واجب نہیں۔ اس لیے یہ کام بدعت نہیں کہلائے جاسکیں گے۔
    (٥) ما لیس منہ یعنی جو دین نہ ہو اور جو کام اس سے ماخوذ ہوگا وہ بدعت نہیں ہوسکتا جیسے مذاہب ِاَربعہ کے فقہی مسائل۔
    (٦) پھر بدعت کو شرک کہنا بالکل ناواقفی کی دلیل ہے۔ شرک تو عبادت میں یا حق تعالیٰ کی صفاتِ ذاتیہ یااَزل تا اَبد میں شریک کرنے کو کہا جاتا ہے۔ بدعت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرکت نہیں ہوتی۔ مصنف صاحب چونکہ دینی علوم سے ناواقف ہیں صرف عصری علوم دل و دماغ پرپیوستہ ہیں اس لیے وہ مسئلے کو سمجھ نہیں پائے ۔ واﷲ اعلم
     
  6. ‏مارچ 31، 2012 #46
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ’صدق اﷲ العظیم‘ پڑھنے کے دلائل
    تلاوتِ قرآن حکیم کے بعد جو قراء عام طور پر ’صدق اﷲ العظیم‘ پڑھتے ہیں اس کو ایک صاحب نے بدعت قرار دیا تھا۔جس کے بارے میں حضرت مفتی صاحب﷫ نے ایک مضمون لکھا تھا کہ اس کو بدعت کہنا درست نہیں جو سابقہ صفحات میں آپ پڑھ چکے ہیں۔اس کے جواب میں انہوں نے کوئی خط لکھا جس کا ذکر حضرت﷫نے بھی فرمایاہے، اس کا مفصل جواب لکھنے کا اِرادہ کیا تھا لیکن پھر ترک کردیاکہ ماننے کے لیے چند دلائل کا سن لینا ہی کافی ہے اورنہ ماننے والے کے لیے دفتر کے دفتر بھی ناکافی ہیں۔ چنانچہ بعد اَز قراء ت ’صدق اﷲ العظیم‘ کہنے کے چند دلائل حضرت﷫ نے ذکر کئے ہیں، جو حسب ِذیل ہیں:
    دلیل ۱: امام غزالی﷫ جن کو سب مسلمان انتہائی معتبر مانتے ہیں، آداب تلاوت میں رقم طراز ہیں:
    ’’لیقل عند فراغہ من القرأۃ صدق اﷲ تعالیٰ وبلغ رسول اﷲ ﷺ‘‘
    ’’قراء ت سے فارغ ہونے پر کہے، سچ فرمایا اللہ تعالیٰ نے اور ان کے رسولﷺ نے ہم تک پہنچایا ہے۔‘‘
     
  7. ‏مارچ 31، 2012 #47
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    دلیل ۲: اس کی شرح اتحاف السادۃ میں ہے:
    ’’ولیقل عند فراغہ من کل سورۃ صدق اﷲ العظیم و بلّغ رسولہ الکریم و نحن علی ذلک من الشاھدین، أو یقول صدق اﷲ تعالیٰ و بلّغ رسولہ ﷺ۔‘‘(اتحاف السادۃ:۴؍۴۹۱)
    ’’اور قاری ہر سورت سے فارغ ہونے پر کہے: صدق اﷲ العظیم وبلغ رسول الکریم… الخ، اللہ برتر نے سچ فرمایا، ان کے رسول کریمﷺنے پہنچایا اور ہم اس پرگواہوں میں سے ہیں یایہ کہے اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا اور ان کے رسولﷺنے پہنچایا‘‘
    حدیثوں میں اوربھی الفاظ آئے ہیں جو ان آیات کے موافق ہیں یہ بہت حدیثوں میں ہے۔
    دلیل ۳:کنز العمال میں ہے، اَز ابوداؤد و ترمذی: ’’من قرأ منکم ’’ وَالتِّیْنِ وَالزَّیْتُوْنِ ‘‘ فانتھی إلی آخرھا ’’ أَ لَیْسَ اﷲُ بِأَحْکَمِ الْحٰکِمِیْنَ ‘‘ فلیقل: بلی! وأنا علی ذلک من الشاھدین۔‘‘ (کنز العمال:۱؍۶۰۸)
    ’’تم میں سے جو سورۃ والتین والزیتون پڑھے اور آخر میں ألیس اﷲ باحکم الحاکمین تک پہنچے تو ضرور کہے: اور میں اس پر گواہوں میں ہوں۔‘‘
    اِسی طرح حدیثوں میں بہت سورتوں کے بعد ایسے جملے آئے ہیں۔ اگر کوئی دینی علوم سے نابلد ان جملوں کو قرآن سمجھ بیٹھے تو یہ بدعت کیوں ہوگا۔ قصور اس کاہے نہ کہ پڑھنے والے کا۔
     
  8. ‏مارچ 31، 2012 #48
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    دلیل۴: سورۃ آل عمران میں ہے: ’’ قُلْ صَدَقَ اﷲُ فَاتَّبِعُوْا مِلَّۃَ إِبْرٰہِیْمَ حَنِیْفًا‘‘ (آل عمران :۹۵)
    ’’آپ کہہ دیں اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے تم ابراہیم﷤ کی پیروی کرو۔‘‘ اس آیت میں حضورﷺ کو اور سب کو صدق اللہ کہنے کاحکم ہے۔
    دلیل ۵: سورۃ اَحزاب میں اِرشاد ہے:’’ ھٰذَا مَا وَعَدَنَا اﷲُ وَ رَسُوْلُہٗ وَ صَدَقَ اﷲُ وَ رَسُوْلُہٗ ‘‘ (الأحزاب :۲۲) ’’
    یہ وہی ہے جس کا اللہ تعالیٰ اور رسول کریمﷺنے وعدہ کیا تھا اور اللہ، رسولﷺنے سچ فرمایا‘‘ اس آیت میں تو اللہ و رسولﷺدونوں کے صادق ہونے کا اِقرار ہے۔
    دلیل ۶: سورۃ یٰسین میں ہے: ’’ ھٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَ صَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ ‘‘ (یس: ۵۲)
    ’’یہ ہے وہ جو اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا اور رسول کریمﷺنے تصدیق کی۔‘‘
    دلیل۷: سورہ نساء میں ہے: ’’ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اﷲِ حَدِیْثًا ‘‘ (النساء :۸۷)
    ’’اور کون زیادہ سچا ہے بات میں اللہ تعالیٰ سے۔‘‘
     
  9. ‏مارچ 31، 2012 #49
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    اس آیت میں تنبیہ ہے کہ کون سچا ہے؟ اگر ہے تو لاؤ، بتاؤ۔ اس کے جواب میں مسلمانوں کو یہ کہنا چاہئے کہ: ’صدق اﷲالعظیم‘ اگر نہ کہا جائے تو شبہ رہے گا کہ یہ باوجود تنبیہ کے نہ کہنا اِنکار تو نہیں۔ یعنی صدق اﷲ نہ کہنے سے اللہ تعالیٰ کے صادق ہونے کاانکار تو نہیں کہ باوجود تنبیہ کے نہیں کہتا۔ اس لیے کہنا ہی بہتر ہے۔
    دلیل ۸: سورۃ الحشر میں ہے: ’’ وَمَآ ءَ اتَــــٰــــــکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَھٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْا ‘‘ (الحشر: ۷)
    ’’جو تم کو رسولﷺ دیں، لے لو اور جس سے منع کریں رُک جاؤ۔‘‘
    اس سے معلوم ہوا کہ جس کا حکم ہے اس کا کرنا لازم ہے اور جس کامنع فرمایا ہے اس سے رُکنا لازم ہے اور جس میں دونوں باتیں نہ ہوں، نہ حکم نہ منع، وہ جائز ہے۔ لہٰذا ’صدق اﷲ العظیم‘ کہنا جائز ہے، کیونکہ نہ اس کا حکم ہے کہ یہ فرض، یا واجب ہو ، نہ منع ہے کہ حرام یا مکروہ ہو اور نہ ہی بدعت، کہ یہ تو تصدیق رب ہے۔
    ٭۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔٭
     
  10. ‏فروری 05، 2014 #50
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,731
    موصول شکریہ جات:
    8,323
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    تحریر سے اتفاق و عدم اتفاق الگ مسئلہ ہے البتہ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اپنے موضوع پر ایک شاندار اور علمی کاوش ہے ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں