1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مکمل صحیح بخاری اردو ترجمہ و تشریح جلد ٢ - حدیث نمبر٨١٤ تا ١٦٥٤

'کتب احادیث' میں موضوعات آغاز کردہ از Aamir, ‏جولائی 19، 2012۔

  1. ‏دسمبر 13، 2012 #491
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الحج
    باب : حجراسود کا بیان

    حدیث نمبر : 1597
    حدثنا محمد بن كثير، أخبرنا سفيان، عن الأعمش، عن إبراهيم، عن عابس بن ربيعة، عن عمر ـ رضى الله عنه ـ أنه جاء إلى الحجر الأسود فقبله، فقال إني أعلم أنك حجر لا تضر ولا تنفع، ولولا أني رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يقبلك ما قبلتك‏.‏
    ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں سفیان ثوری نے خبردی، انہیں اعمش نے، انہیں ابراہیم نے، انہیں عابس نے، انہیں ربیعہ نے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حجر اسود کے پاس آئے اور اسے بوسہ دیا اور فرمایا میں خوب جانتا ہوں کہ تو صرف ایک پتھر ہے، نہ کسی کو نقصان پہنچا سکتا ہے نہ نفع۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے میں نہ دیکھتا تو میں بھی کبھی تجھے بوسہ نہ دیتا۔

    تشریح : حجر اسود وہ کالا پتھر ہے جو کعبہ کے مشرقی کونے میں لگا ہوا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ حجر اسود جنت کا پتھر ہے۔ پہلے وہ دودھ سے بھی زیادہ سفید تھا پھر لوگوں کے گناہوں نے اس کو کالا کردیا۔ حاکم کی روایت میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی یہ بات سن کر علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا اے امیرالمؤمنین! یہ پتھر بگاڑ اور فائدہ کرسکتا ہے، قیامت کے دن اس کی آنکھیں ہوں گی اور زبان اور ہونٹ اور وہ گواہی دے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا ابوالحسن! جہاں تم نہ ہو وہاں اللہ مجھ کو نہ رکھے۔ ذہبی نے کہا کہ حاکم کی روایت ساقط ہے۔ خود مرفوع حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حجر اسود کو بوسہ دیتے وقت ایسا ہی فرمایا تھا۔ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی کہا۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ اس کا مطلب یہ کہ تیرا چومنا محض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی نیت سے ہے۔

    اس روایت سے صاف یہ نکلا کہ قبروں کی چوکھٹ چومنایا قبروں کی زمین چومنا یا خود قبر کو چومنا یہ سب ناجائز کام ہیں۔ بلکہ بدعات سیہ ہیں۔ کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو صرف اس لیے چوما کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چوما تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ سے کہیں منقول نہیں ہے کہ انہوں نے قبر کا بوسہ لیا ہو۔ یہ سب کام جاہلوں نے نکالے ہیں اور شرک ہیں کیونکہ جن کی قبروں کو چومتے ہیں ان کو اپنے نفع نقصان کا مالک گردانتے ہیں اور ان کی دہائی دیتے اور ان سے مرادیں مانگتے ہیں۔ لہٰذا شرک ہونے میں کیا کلام ہے۔ کوئی خالص محبت سے چومے تو یہ بھی غلط اور بدعت ہوگا اس لیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہ سے کہیں کسی قبر کو چومنے کا ثبوت نہیں ہے۔
    علامہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں قال الطبری انما قال ذلک عمر لان الناس کانوا حدیثی عہد بعبادۃ الاصنام فخشی عمر ان یظن الجہال ان استلام الحجر من باب تعظیم بعض الاحجار کما کانب العرب تفعل فی الجاہلیۃ فاراد عمر ان یعلم الناس ان استلامہ اتباعا لفعل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا لان الحجر ینفع اویضر بذاتہ کما کانت الجاہلیۃ تعتقدہ فی الاوثان ( فتح الباری )
    یہ وہ تاریخی پتھر ہے جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ کے بیٹے حضرت اسمعیل علیہ السلام کے مبارک جسموں سے مس ہونے کا شرف حاصل ہے۔ جس وقت خانہ کعبہ کی عمارت بن چکی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام سے کہا کہ ایک پتھر لاؤ تاکہ اس کو ایسے مقام پر لگادوں جہاں سے طواف شروع کیا جائے۔ تاریخ مکہ میں ہے فقال ابراہیم لا سمعیل علیہما السلام یا اسماعیل ایتنی بحجر اضعہ حتی یکون علماللناس یبتدون منہ الطواف یعنی حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے کہا کہ ایک پتھر لاؤ تاکہ میں ایسی جگہ نصب کر دوں جہاں سے لوگ طواف شروع کریں۔

    بعض روایات کی بناپر اس پتھر کی تاریخ حضرت آدم علیہ السلام کے جنت سے ہبوط کے ساتھ ساتھ شروع ہوتی ہے۔ چنانچہ طوفان نوح کے وقت یہ پتھر بہہ کر کوہ ابوقبیس پر چلاگیا تھا۔ اس موقع پر کوہ ابو قبیس سے صدا بلند ہوئی کہ اے ابراہیم! یہ امانت ایک مدت سے میرے سپرد ہے۔ آپ نے وہاں سے اس پتھر کو حاصل کرکے کعبہ کے ایک کونہ میں نصب کردیا اور کعبہ شریف کا طواف کرنے کے لیے اس کو شروع کرنے اور ختم کرنے کا مقام ٹھہرایا۔
    حاجیوں کے لیے حجر اسود کو بوسہ دینا یا ہاتھ لگانا یہ کام مسنون اور کار ثواب ہیں۔ قیامت کے دن یہ پتھر ان لوگوں کی گواہی دے گا جو اللہ کے گھر کی زیارت کے لیے آتے ہیں اور اس کو ہاتھ لگاکر حج یا عمرہ کی شہادت ثبت کراتے ہیں۔
    بعض روایات کی بناپر عہد ابراہیمی میں پیمان لینے کا یہ عام دستور تھا ایک پتھر رکھ دیا جاتا جس پر لوگ آکر ہاتھ مارتے۔ اس کے معنے یہ ہوتے کہ جس عہد کے لیے وہ پتھر گاڑا گیا ہے اس کو انہوں نے تسلیم کرلیا۔ بلکہ اپنے دلوں میں اس پتھر کی طرح مضبوط گاڑلیا۔ اسی دستور کے موافق حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مقتدی قوموں کے لیے یہ پتھر نصب کیا تاکہ جو شخص بیت اللہ شریف میں داخل ہو اس پتھر پر ہاتھ رکھے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے توحید الٰہی کے بیان کو قبول کرلیا۔ اگر جان بھی دینی پڑے گی تو اس سے منحرف نہ ہوگا۔ گویا حجر اسود کا استلام اللہ تعالیٰ سے بیعت کرنا ہے۔ اس تمثیل کی تصریح ایک حدیث میں یوں آئی ہے۔ عن ابن عباس مرفوعا الحجر الاسود یمین اللہ فی ارضہ یصافح بہ خلقہ ( طبرانی ) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ حجر اسود زمین میں گویا اللہ کا دایاں ہاتھ ہے۔ جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے مصافحہ فرماتا ہے۔

    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی دوسری روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں نزل الحجر الاسود من الجنۃ وہو اشد بیاضا من اللبن فسودتہ خطایا بنی ادم ( رواہ احمد والترمذی ) یعنی حجر اسود جنت سے نازل ہوا تو دودھ سے بھی زیادہ سفید تھا مگر انسانوں کی خطا کاریوں نے اس کو سیاہ کردیا۔ اس سے حجر اسود کی شرافت وبزرگی مراد ہے۔

    ایک روایت میں یوں آیا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس تاریخی پتھر کو نطق اور بصارت سے سرفراز کرے گا۔ جن لوگوں نے حقانیت کے ساتھ توحید الٰہی کا عہد کرتے ہوئے اس کو چوما ہے، ان پر یہ گواہی دے گا۔ ان فضائل کے باوجود کسی مسلمان کا یہ عقیدہ نہیں کہ یہ پتھر معبود ہے اس کے اختیار میں نفع وضرر ہے۔
    ایک دفعہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیتے ہوئے صاف اعلان فرمایا کہ انی اعلم انک حجر لا تضرو لا تنفع ولولا انی رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقبلک ماقبلتک ( رواہ الستۃ واحمد ) یعنی میں خوب جانتا ہوں کہ تو صرف ایک پتھر ہے، تیرے قبضے میں نہ کسی کا نفع ہے نہ نقصان اور اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے کبھی بھی بوسہ نہ دیتا۔

    علامہ طبری مرحوم لکھتے ہیں انما قال ذلک عمر لان الناس کانوا حدیثی عہد بعبادۃ الاصنام فخشی عمزان یظن الجہال ان استلام الحجر من باب تعظیم بعض الاحجار کما کانت العرب تفعل فی الجاہلیۃ فاراد عمران یعلم الناس ان استلامہ اتباع لفعل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا کان الحجر ینفع ویضر بذاتہ کما کانت الجاہلیۃ تعتقدہ فی الاوثان یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ اعلان اس لیے کیا کہ اکثر لوگ بت پرستی سے نکل کر قریبی زمانہ میں اسلام کے اندر داخل ہوئے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس خطرے کو محسوس کرلیا کہ جاہل لوگ یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ زمانہ جاہلیت کے دستور کے مطابق پتھروں کی تعظیم ہے۔ اس لیے آپ نے لوگوں کو آگاہ کیا کہ حجر اسود کا استلام صرف اللہ کے رسول کی اتباع میں کیا جاتا ہے ورنہ حجر اسود اپنی ذات میں نفع یا نقصان پہنچانے کی کوئی طاقت نہیں رکھتا، جیساگ عہد جاہلیت کے لوگ بتوں کے بارے میں اعتقاد رکھتے تھے۔

    ابن ابی شیبہ اور دار قطنی نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بھی یہی الفاظ نقل کئے ہیں کہ آپ نے بھی حجر اسود کے استلام کے وقت یوں فرمایا ”میں جانتا ہوں کہ تیری حقیقت ایک پتھر سے زیادہ کچھ نہیں۔ نفع یا نقصان کی کوئی طاقت تیرے اندر نہیں ہے۔ اگر میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی تجھ کو بوسہ نہ دیتا۔“
    بعض محدثین نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی یہ الفاظ نقل فرمائے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کو بوسہ دیتے ہوئے فرمایا ”میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے جس میں نفع ونقصان کی تاثیر نہیں ہے۔ اگر مجھے میرے رب کا حکم نہ ہوتاتو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔“
    اسلامی روایات کی روشنی میں حجر اسود کی حیثیت ایک تاریخی پتھر کی ہے جس کو اللہ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام نے خانہ خدا کی تعمیر کے وقت ایک ”بنیادی پتھر“ کی حیثیت سے نصب کیا۔ اس لحاظ سے دین حنیف کی ہزارہا سالہ تاریخ اس پتھر کے ساتھ وابستہ ہوجاتی ہے۔ اہل اسلام اس کی جو بھی تعظیم استلام وغیرہ کی شکل میں کرتے ہیں وہ سب کچھ صرف اسی بناپر ہے۔ ملت ابراہیمی کا اللہ کے ہاں مقبول ہونا اور مذہب اسلام کی حقانیت پر بھی یہ پتھر ایک تاریخی شاہد عادل کی حیثیت سے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ جس کو ہزارہا سال کے بے شمار انقلابات فنا نہ کرسکے۔ وہ جس طرح ہزاروں برس پہلے نصب کیا گیا تھا آج بھی اسی شکل میں اسی جگہ تمام دنیا کے حوادثات وانقلابات کا مقابلہ کرتے ہوئے موجود ہے۔ اس کو دیکھنے سے اس کو چومنے سے ایک سچے مسلمان موحد کی نظروں کے سامنے دین حنیف کے چار ہزار سالہ تاریخی اوراق یکے بعد دیگرے الٹنے لگ جاتے ہیں۔ حضرت خلیل اللہ اور حضرت ذبیح اللہ علیہ السلام کی پاک زندگیاں سامنے آکر معرفت حق کی نئی نئی راہیں دماغوں کے سامنے کھول دیتی ہیں۔ روحانیت وجد میں آجاتی ہے۔ توحید پرستی کا جذبہ جوش مارنے لگتا ہے۔ حجر اسود بنائے توحید کا ایک بنیادی پتھر ہے ”دعائے خلیل ونوید مسیحا“ حضرت سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے اظہار کے لیے ایک غیر فانی یادگار ہے۔ اس مختصر سے تبصرہ کے بعد کتاب اللہ وسنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں اس حقیقت کو اچھی طرح ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ مصنوعات الٰہیہ میں جو چیز بھی محترم ہے وہ بالذات محترم نہیں ہے بلکہ پیغمبر اسلام کی تعلیم وارشاد کی وجہ سے محترم ہے۔ اسی کلیہ کے تحت خانہ کعبہ، حجر اسود، صفا مروہ وغیرہ وغیرہ محترم قرار پائے۔ اسی لیے اسلام کا کوئی فعل بھی جس کو وہ عبادت یا لائق عظمت قرار دیتا ہو، ایسا نہیں ہے جس کی سند سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے حق تعالیٰ تک نہ پہنچتی ہو۔ اگر کوئی مسلمان ایسا فعل ایجاد کرے جس کی سند پیغمبر علیہ السلام تک نہ پہنچتی ہوتو وہ فعل نظروں میں کیسا بھی پیارا اور عقل کے نزدیک کتنا ہی مستحسن کیوں نہ ہو، اسلام فوراً اس پر بدعت ہونے کا حکم لگا دیتا ہے اور صرف اس لیے اس کو نظروں سے گرادیتا ہے کہ اس کی سند حضرت رسول خدا تک نہیں پہنچتی بلکہ وہ ایک غیر ملہم انسان کا ایجاد کیا ہوا فعل ہے۔
    اسی پاک تعلیم کا اثر ہے کہ سارا کعبہ باوجود یکہ ایک گھر ہے حجر اسود اور رکن یمانی وملتزم پر پیغمبراسلام علیہ السلام نے جو طریق استلام یا چمٹنے کا بتلایا ہے مسلمان اس سے انچ بھر آگے نہیں بڑھتے۔ نہ دوسری دیواروں کے پتھروں کو چومتے ہیں۔ کیونکہ مسلمان مخلوقات الٰہیہ کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد وعمل کے تابع ہیں۔
     
  2. ‏دسمبر 13، 2012 #492
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الحج
    باب : کعبہ کا دروازہ اندر سے بند کرلینا اور اس کے ہر کونے میں نماز پڑھنا جدھر چاہے

    حدیث نمبر : 1598
    حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن سالم، عن أبيه، أنه قال دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم البيت هو وأسامة بن زيد، وبلال، وعثمان بن طلحة، فأغلقوا عليهم فلما فتحوا، كنت أول من ولج، فلقيت بلالا فسألته هل صلى فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم قال نعم، بين العمودين اليمانيين‏.‏
    ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سالم نے اور ان سے ان کے باپ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسامہ بن زید اور بلال وعثمان بن ابی طلحہ چاروں خانہ کعبہ کے اندر گئے اور اندر سے دروازہ بند کرلیا۔ پھر جب دروازہ کھولا تو میں پہلا شخص تھا جو اندر گیا۔ میری ملاقات بلال سے ہوئی۔ میں نے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اندر ) نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ ہاں ! دونوں یمنی ستونوں کے درمیان آپ نے نماز پڑھی ہے۔

    حدیث اور باب میں مطابقت ظاہر ہے۔ حضرت امام یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ کعبہ شریف میں داخل ہوکر اور دروازہ بند کرکے جدھر چاہے نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ دروازہ بند کرنا اس لیے ضروری ہے کہ اگر وہ کھلارہے تو ادھر منہ کرکے نمازی کے سامنے کعبہ کا کوئی حصہ نہیں رہ سکتا جس کی طرف رخ کرنا ضروری ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں یمنی ستونوں کے درمیان نماز پڑھی جو اتفاقی چیز تھی۔
     
  3. ‏دسمبر 13، 2012 #493
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الحج
    باب : کعبہ کے اندر نماز پڑھنا

    حدیث نمبر : 1599
    حدثنا أحمد بن محمد، أخبرنا عبد الله، أخبرنا موسى بن عقبة، عن نافع، عن ابن عمر ـ رضى الله عنهما ـ أنه كان إذا دخل الكعبة مشى قبل الوجه حين يدخل، ويجعل الباب قبل الظهر، يمشي حتى يكون بينه وبين الجدار الذي قبل وجهه قريبا من ثلاث أذرع، فيصلي يتوخى المكان الذي أخبره بلال أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى فيه، وليس على أحد بأس أن يصلي في أى نواحي البيت شاء‏.‏
    ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبردی، انہوں نے کہا کہ ہمیں موسیٰ بن عقبہ نے خبردی، انہیں نافع نے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب کعبہ کے اندر داخل ہوتے تو سامنے کی طرف چلتے اور دروازہ پیٹھ کی طرف چھوڑ دیتے۔ آپ اسی طرح چلتے رہتے اور جب سامنے کی دیوار تقریباً تین ہاتھ رہ جاتی تو نماز پڑھتے تھے۔ اس طرح آپ اس جگہ نماز پڑھنے کا اہتمام کرتے تھے جس کے متعلق بلال رضی اللہ عنہ سے معلوم ہوا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں نماز پڑھی تھی۔ لیکن اس میں کوئی حرج نہیں کعبہ میں جس جگہ بھی کوئی چاہے نماز پڑھ لے۔
     
  4. ‏دسمبر 13، 2012 #494
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الحج
    باب : جو کعبہ میں داخل نہ ہو

    وكان ابن عمر ـ رضى الله عنهما ـ يحج كثيرا ولا يدخل‏.
    اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اکثر حج کرتے مگر کعبہ کے اندر نہیں جاتے تھے۔

    حدیث نمبر : 1600
    حدثنا مسدد، حدثنا خالد بن عبد الله، حدثنا إسماعيل بن أبي خالد، عن عبد الله بن أبي أوفى، قال اعتمر رسول الله صلى الله عليه وسلم فطاف بالبيت وصلى خلف المقام ركعتين، ومعه من يستره من الناس فقال له رجل أدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم الكعبة قال لا‏.‏
    ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا، انہیں اسماعیل بن ابی خالد نے خبردی، انہیں عبداللہ ابن ابی اوفیٰ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا تو آپ نے کعبہ کا طواف کرکے مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں۔ آپ کے ساتھ کچھ لوگ تھے جو آپ کے اور لوگوں کے درمیان آڑ بنے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک صاحب نے ابن ابی اوفیٰ سے پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر تشریف لے گئے تھے تو انہوں نے بتایا کہ نہیں۔

    تشریح : یعنی کعبہ کے اندر داخل ہونا کوئی لازمی رکن نہیں۔ نہ حج کی کوئی عبادت ہے۔ اگر کوئی کعبہ کے اندر نہ جائے تو کچھ قباحت نہیں۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم خود حجتہ الوداع کے موقع پر اندر نہیں گئے۔ نہ عمرۃ القضاءمیں آپ اندر گئے نہ عمرئہ جعرانہ کے موقع پر۔ غالباً اس لیے بھی نہیں کہ ان دنوں کعبہ میں بت رکھے ہوئے تھے۔ پھر فتح مکہ کے وقت آپ نے کعبہ شریف کی تطہیر کی اور بتوں کو نکالا۔ تب آپ اندر تشریف لے گئے۔ حجتہ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر نہیں گئے حالانکہ اس وقت کعبہ میں بت بھی نہ تھے۔ غالباً اس لیے بھی کہ لوگ اسے لازمی نہ سمجھ لیں۔
     
  5. ‏دسمبر 13، 2012 #495
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الحج
    باب : جس نے کعبہ کے چاروں کونوں میں تکبیر کہی

    حدیث نمبر : 1601
    حدثنا أبو معمر، حدثنا عبد الوارث، حدثنا أيوب، حدثنا عكرمة، عن ابن عباس ـ رضى الله عنهما ـ قال إن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما قدم أبى أن يدخل البيت وفيه الآلهة فأمر بها فأخرجت فأخرجوا صورة إبراهيم وإسماعيل في أيديهما الأزلام فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏قاتلهم الله أما والله قد علموا أنهما لم يستقسما بها قط‏"‏‏. ‏ فدخل البيت، فكبر في نواحيه، ولم يصل فيه‏.‏
    ہم سے ابو معمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا، آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ( فتح مکہ کے دن ) تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر جانے سے اس لیے انکار فرمایا کہ اس میں بت رکھے ہوئے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور وہ نکالے گئے، لوگوں نے ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کے بت بھی نکالے۔ ان کے ہاتھوں میں فال نکالنے کے تیردے رکھے تھے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ ان مشرکوں کو غارت کرے، خدا کی قسم انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ ان بزرگوں نے تیر سے فال کبھی نہیں نکالی۔ اس کے بعد آپ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے اور چاروں طرف تکبیر کہی۔ آپ نے اندر نماز نہیں پڑھی۔

    مشرکین مکہ نے خانہ کعبہ میں حضرت ابراہیم وحضرت اسماعیل علیہما السلام کے بتوں کے ہاتھوں میں تیر دے رکھے تھے اور ان سے فال نکالا کرتے۔ اگر افعل ( اس کام کو کر ) والا تیر نکلتا تو کرتے اگر لا تفعل ( نہ کر ) والا ہوتا تو وہ کام نہ کرتے۔ یہ سب کچھ حضرات انبیاءعلیہم السلام پر ان کا افتراءتھا۔ قرآن نے اس کو رجس من عمل الشیطان کہا کہ یہ گندے شیطانی کام ہیں۔ مسلمانوں کو ہرگز ہر گز ایسے ڈھکو سلوں میں نہ پھنسنا چاہیے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ میں کعبہ کو بتوں سے پاک کیا۔ پھر آپ اندر داخل ہوئے اور خوشی میں کعبہ کے چاروں کونوں میں آپ نے نعرہ تکبیر بلند فرمایا جآءالحق وزہق الباطل ( بنی اسرائیل:81
     
  6. ‏دسمبر 13، 2012 #496
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الحج
    باب : رمل کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    حدیث نمبر : 1602
    حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد ـ هو ابن زيد ـ عن أيوب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس ـ رضى الله عنهما ـ قال قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه فقال المشركون إنه يقدم عليكم، وقد وهنهم حمى يثرب‏.‏ فأمرهم النبي صلى الله عليه وسلم أن يرملوا الأشواط الثلاثة، وأن يمشوا ما بين الركنين، ولم يمنعه أن يأمرهم أن يرملوا الأشواط كلها إلا الإبقاء عليهم‏.‏
    ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ( عمرۃ القضاء ھ میں ) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( مکہ ) تشریف لائے تو مشرکوں نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آئے ہیں، ان کے ساتھ ایسے لوگ آئے ہیں جنہیں یثرب ( مدینہ منورہ ) کے بخار نے کمزور کردیا ہے۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل ( تیز چلنا جس سے اظہار قوت ہو ) کریں اور دونوں یمانی رکنوں کے درمیان حسب معمول چلیں اور آپ نے یہ حکم نہیں دیا کہ سب پھیروں میں رمل کریں اس لیے کہ ان پر آسانی ہو۔

    تشریح : رمل کا سب حدیث بالا میں خود ذکر ہے۔ مشرکین نے سمجھا تھا کہ مسلمان مدینہ کی مرطوب آب و ہوا سے بالکل کمزور ہو چکے ہیں۔ اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ طواف کے پہلے تین چکروں میں ذرا اکڑ کر تیز چال چلیں، مونڈھوں کو ہلاتے ہوئے تاکہ کفار مکہ دیکھیں اور اپنے غلط خیال کو واپس لے لیں۔ بعد میں یہ عمل بطور سنت رسول جاری رہا اور اب بھی جاری ہے۔ اب یادگار کے طورپر رمل کرنا چاہیے تاکہ اسلام کے عروج کی تاریخ یاد رہے۔ اس وقت کفار مکہ دونوں شامی رکنوں کی طرف جمع ہوا کرتے تھے، اس لیے اسی حصہ میں رمل سنت قرار پایا۔
     
  7. ‏دسمبر 13، 2012 #497
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الحج
    باب : جب کوئی مکہ میں آئے تو پہلے حجر اسود کو چومے طواف شروع کرتے وقت اور تین پھیروں میں رمل کرے

    حدیث نمبر : 1603
    حدثنا أصبغ بن الفرج، أخبرني ابن وهب، عن يونس، عن ابن شهاب، عن سالم، عن أبيه ـ رضى الله عنه ـ قال رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم حين يقدم مكة، إذا استلم الركن الأسود أول ما يطوف يخب ثلاثة أطواف من السبع‏.‏
    ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبداللہ بن وہب نے خبردی، انہیں یونس نے، انہیں زہری نے، انہیں سالم نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ جب آپ مکہ تشریف لاتے تو پہلے طواف شروع کرتے وقت حجر اسود کو بوسہ دیتے اور سات چکروں میں سے پہلے تین چکروں میں رمل کرتے تھے۔
     
  8. ‏دسمبر 13، 2012 #498
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الحج
    باب : حج اور عمرہ میں رمل کرنے کا بیان

    حدیث نمبر : 1604
    حدثني محمد، حدثنا سريج بن النعمان، حدثنا فليح، عن نافع، عن ابن عمر ـ رضى الله عنهما ـ قال سعى النبي صلى الله عليه وسلم ثلاثة أشواط ومشى أربعة في الحج والعمرة‏. تابعه الليث قال: حدثني كثير بن فرقد، عن نافع، عن ابن عمر رضي الله عنهما، عن النبي صلى الله عليه وسلم.‏
    ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سریج بن نعمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے فلیح نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے تین چکروں میں رمل کیا اور بقیہ چار چکروں میں حسب معمول چلے، حج اور عمرہ دونوں میں۔ سریج کے ساتھ اس حدیث کو لیث نے روایت کیا ہے۔ کہا کہ مجھ سے کثیر بن فرقد نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے۔

    مراد حجتہ الوداع اور عمرۃ القضاءہے۔ حدیبیہ میں تو آپ کعبہ تک پہنچ ہی نہ سکے تھے اور جعرانہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما آپ کے ساتھ نہ تھے۔

    حدیث نمبر : 1605
    حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا محمد بن جعفر، قال أخبرني زيد بن أسلم، عن أبيه، أن عمر بن الخطاب ـ رضى الله عنه ـ قال للركن أما والله إني لأعلم أنك حجر لا تضر ولا تنفع، ولولا أني رأيت النبي صلى الله عليه وسلم استلمك ما استلمتك‏.‏ فاستلمه، ثم قال فما لنا وللرمل إنما كنا راءينا به المشركين، وقد أهلكهم الله‏.‏ ثم قال شىء صنعه النبي صلى الله عليه وسلم فلا نحب أن نتركه‏.‏
    ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں محمد بن جعفر نے خبردی، کہا کہ مجھے زید بن اسلم نے خبردی، انہیں ان کے والد نے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو خطاب کرکے فرمایا۔ بخدا مجھے خوب معلوم ہے کہ تو صرف ایک پتھر ہے جو نہ کوئی نفع پہنچا سکتاہے نہ نقصان اور اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا تو میں کبھی بوسہ نہ دیتا۔ اس کے بعد آپ نے بوسہ دیا۔ پھر فرمایا اور اب ہمیں رمل کی بھی کیا ضرورت ہے۔ ہم نے اس کے ذریعہ مشرکوں کو اپنی قوت دکھائی تھی تو اللہ نے ان کو تباہ کردیا۔ پھر فرمایا جو عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے اسے اب چھوڑنا بھی ہم پسند نہیں کرتے۔

    حضرت عمررضی اللہ عنہ نے پہلے رمل کی علت اور سبب پر خیال کرکے اس کو چھوڑ دیناچاہا۔ پھر ان کو خیال آیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فعل کیا تھا۔ شاید اس میں اور کوئی حکمت ہو اور آپ کی پیروی ضروری ہے۔ اس لیے اس کو جاری رکھا ( وحیدی )

    حدیث نمبر : 1606
    حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر ـ رضى الله عنهما ـ قال ما تركت استلام هذين الركنين في شدة ولا رخاء، منذ رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يستلمهما‏.‏ قلت لنافع أكان ابن عمر يمشي بين الركنين قال إنما كان يمشي ليكون أيسر لاستلامه‏.‏
    ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے یحٰ قطان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا۔ جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں رکن یمانی کو چومتے ہوئے دیکھا میں نے بھی اس کے چومنے کو خواہ سخت حالات ہوں یا نرم نہیں چھوڑا۔ میں نے نافع سے پوچھا کیا ابن عمر رضی اللہ عنہما ان دونوں یمنی رکنوں کے درمیان معمول کے مطابق چلتے تھے؟ تو انہو ںنے بتایا کہ آپ معمول کے مطابق اس لیے چلتے تھے تاکہ حجر اسود کو چھونے میں آسانی رہے۔
     
  9. ‏دسمبر 13، 2012 #499
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الحج
    باب : حجر اسود کو چھڑی سے چھونا اور چومنا

    حدیث نمبر : 1607
    حدثنا أحمد بن صالح، ويحيى بن سليمان، قالا حدثنا ابن وهب، قال أخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس ـ رضى الله عنهما ـ قال طاف النبي صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع على بعير، يستلم الركن بمحجن‏.‏ تابعه الدراوردي عن ابن أخي الزهري عن عمه‏.‏
    ہم سے احمد بن صالح اور یحٰ بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں یونس نے ابن شہاب سے خبردی، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کے موقع پر اپنی اونٹنی پر طواف کیا تھا اور آپ حجر اسود کا استلام ایک چھڑی کے ذریعہ کررہے تھے او راس چھڑی کو چومتے تھے۔ اور یونس کے ساتھ اس حدیث کو دراوردی نے زہری کے بھتیجے سے روایت کیا اور انہو ںنے اپنے چچا ( زہری ) سے۔

    جمہور علماءکا یہ قول ہے کہ حجر اسود کو منہ لگا کر چومنا چاہیے۔ اگر یہ نہ ہوسکے تو ہاتھ لگاکر ہاتھ کو چوم لے، اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو لکڑی لگا کر اس کو چوم لے۔ اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو جب حجر اسود کے سامنے پہنچے ہاتھ سے اس کی طرف اشارہ کرکے اس کو چوم لے۔
    جب ہاتھ یا لکڑی سے دور سے اشارہ کیا جائے جو حجر اسود کو لگ نہ سکے تو اسے چومنا نہیں چاہیے۔ ( رشید
     
  10. ‏دسمبر 13، 2012 #500
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الحج
    باب : اس شخص سے متعلق جس نے صرف دونوں ارکان یمانی کا استلام کیا

    حدیث نمبر : 1608
    وقال محمد بن بكر أخبرنا ابن جريج، أخبرني عمرو بن دينار، عن أبي الشعثاء، أنه قال ومن يتقي شيئا من البيت، وكان معاوية يستلم الأركان، فقال له ابن عباس ـ رضى الله عنهما ـ إنه لا يستلم هذان الركنان‏.‏ فقال ليس شىء من البيت مهجورا، وكان ابن الزبير ـ رضى الله عنهما ـ يستلمهن كلهن‏.‏
    اور محمد بن بکرنے کہا کہ ہمیں ابن جریج نے خبردی، انہوں نے کہا مجھ کو عمروبن دینار نے خبردی کہ ابوالشعثاءنے کہا بیت اللہ کے کسی بھی حصہ سے بھلا کون پرہیز کرسکتا ہے۔ اور معاویہ رضی اللہ عنہ چاروں رکنوں کا استلام کرتے تھے، اس پر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا کہ ہم ان دوار کان شامی اور عراقی کا استلام نہیں کرتے تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بیت اللہ کا کوئی جزءایسا نہیں جسے چھوڑ دیا جائے اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بھی تمام ارکان کا استلام کرتے تھے۔

    حدیث نمبر : 1609
    حدثنا أبو الوليد، حدثنا ليث، عن ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله، عن أبيه ـ رضى الله عنهما ـ قال لم أر النبي صلى الله عليه وسلم يستلم من البيت إلا الركنين اليمانيين‏.‏
    ہم سے ابوالولید طیالسی نے بیان کیا، ان سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سالم بن عبداللہ نے، ان سے ان کے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف دونوں یمانی ارکان کا استلام کرتے دیکھا۔

    کعبہ کے چار کونے ہیں حجر اسود، رکن یمانی، رکن شامی اور رکن عراقی۔ حجر اسود اور رکن یمانی کور کنین یمانیین اور شامی اور عراقی کو شامیین کہتے ہیں۔ حجر اسود کے علاوہ رکن یمانی کو چھونا یہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کا طریقہ رہا ہے۔ اسی پر عمل درآمد ہے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے جو کچھ فرمایا ان کی رائے تھی مگر فعل نبوی مقدم ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں