• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مکمل صحیح بخاری اردو ترجمہ و تشریح جلد ٢ - حدیث نمبر٨١٤ تا ١٦٥٤

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
صحیح بخاری -> کتاب الجنائز
باب : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی قبروں کا بیان

‏{‏فأقبره‏}‏ أقبرت الرجل إذا جعلت له قبرا، وقبرته دفنته‏.‏ ‏{‏كفاتا‏}‏ يكونون فيها أحياء، ويدفنون فيها أمواتا‏. اور سورئہ عبس میں جو آیا ہے فاقبرہ تو عرب لوگ کہتے ہیں اقبرت الرجل اقبرہ یعنی میں نے اس کے لیے قبر بنائی اور قبرتہ کے معنی میں نے اسے دفن کیا اور سورئہ مرسلات میں جو کفاتا کا لفظ ہے زندگی بھی زمین ہی پر گزارو گے اور مرنے کے بعد بھی اسی میں دفن ہوں گے۔

حدیث نمبر : 1389
حدثنا إسماعيل، حدثني سليمان، عن هشام، وحدثني محمد بن حرب، حدثنا أبو مروان، يحيى بن أبي زكرياء عن هشام، عن عروة، عن عائشة، قالت إن كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ليتعذر في مرضه ‏"‏ أين أنا اليوم أين أنا غدا ‏"‏ استبطاء ليوم عائشة، فلما كان يومي قبضه الله بين سحري ونحري، ودفن في بيتي‏.‏
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا‘ کہا کہ مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا اور ان سے ہشام بن عروہ نے ( دوسری سند۔ امام بخاری نے کہا ) اور مجھ سے محمد بن حرب نے بیان کیا‘ کہا ہم سے ابو مروان یحیٰی بن ابی زکریا نے بیان کیا‘ ان سے ہشام بن عروہ نے‘ ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض الوفات میں گویا اجازت لینا چاہتے تھے ( دریافت فرماتے ) آج میری باری کن کے یہاں ہے۔ کل کن کے یہاں ہوگی؟ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کے دن کے متعلق خیال فرماتے تھے کہ بہت دن بعد آئے گی۔ چنانچہ جب میری باری آئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح اس حال میں قبض کی کہ آپ میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے اور میرے ہی گھر میں آپ دفن کئے گئے۔

تشریح : 29 صفر 11 ھ کا دن تھا کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف شروع ہوئی اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو رومال حضور کے سر مبارک پر تھا اور بخار کی وجہ سے ایسا گرم تھا کہ میرے ہاتھ کو برداشت نہ ہوسکی۔ آپ 13 دن یا 14 دن بیمار رہے۔ آخری ہفتہ آپ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گھر پر ہی پورا فرمایا۔ ان ایام میں بیشتر آپ مسجد میں جاکر نماز بھی پڑھاتے رہے مگر چار روز قبل حالت بہت دگر گوں ہوگئی۔ آخر 12 ربیع الاول 11 ھ یوم دو شنبہ بوقت چاشت آپ دنیائے فانی سے منہ موڑ کر ملاءاعلیٰ سے جاملے۔ عمر مبارک 63 سال قمری پر چار دن تھی اللہم صلی علی محمد وعلی آل محمد وفات پر صحابہ کرام نے آپ کے دفن کے متعلق سوچا تو آخری رائے یہی قرار پائی کہ حجرہ مبارکہ میں آپ کو دفن کیا جائے کیونکہ انبیاءجہاں انتقال کرتے ہیں اس جگہ دفن کئے جاتے ہیں۔ یہی حجرہ مبارکہ ہے جو آج گنبد خضراءکے نام سے دنیا کے کروڑہا انسانوں کا مرجع عقیدت ہے۔ حضرت امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف کی نشان دہی کرتے ہوئے یہ ثابت فرمایا کہ مرنے والے کو اگر اس کے گھر ہی میں دفن کردیا جائے تو شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

آپ کے اخلاق حسنہ میں سے ہے کہ آپ ایام بیماری میں دوسری بیویوں سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں جانے کے لیے معذرت فرماتے رہے۔ یہاں تک کہ جملہ ازواج مطہرات نے آپ کو حجرہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے لیے اجازت دے دی اور آخری ایام آپ نے وہیں بسر کئے۔ اس سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی بھی کمال فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ تف ہے ان نام نہاد مسلمانوں پر جو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جیسی مایہ ناز اسلامی خاتون کی فضیلت کا انکار کریں۔ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت عطا فرمائے۔

حدیث نمبر : 1390
حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا أبو عوانة، عن هلال، عن عروة، عن عائشة ـ رضى الله عنها ـ قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في مرضه الذي لم يقم منه ‏"‏ لعن الله اليهود والنصارى، اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد‏"‏‏. ‏ لولا ذلك أبرز قبره، غير أنه خشي أو خشي أن يتخذ مسجدا‏.‏ وعن هلال قال كناني عروة بن الزبير ولم يولد لي‏.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا‘ ان سے ہلال بن حمیدنے‘ ان سے عروہ نے اور ان سے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس مرض کے موقع پر فرمایا تھا جس سے آپ جانبرنہ ہوسکے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی یہود ونصاریٰ پر لعنت ہو۔ انہوں نے اپنے انبیاءکی قبروں کو مساجد بنالیا۔ اگر یہ ڈرنہ ہوتاتو آپ کی قبر بھی کھلی رہنے دی جاتی۔ لیکن ڈر اس کا ہے کہ کہیں اسے بھی لوگ سجدہ گاہ نہ بنالیں۔ اور ہلال سے روایت ہے کہ عروہ بن زبیر نے میری کنیت ( ابوعوانہ یعنی عوانہ کے والد ) رکھ دی تھی ورنہ میرے کوئی اولاد نہ تھی۔

حدثنا محمد بن مقاتل، أخبرنا عبد الله، أخبرنا أبو بكر بن عياش، عن سفيان التمار، أنه حدثه أنه، رأى قبر النبي صلى الله عليه وسلم مسنما‏. حدثنا فروة: حدثنا علي، عن هشام بن عروة، عن أبيه: لما سقط عليهم الحائط في زمان الوليد بن عبد الملك، أخذوا في بنائه، فبدت لهم قدم، ففزعوا، وظنوا أنها قدم النبي صلى الله عليه وسلم، فما وجدوا أحدا يعلم ذلك، حتى قال لهم عروة: لا والله، ما هي قدم النبي صلى الله عليه وسلم، ما هي إلا قدم عمر رضي الله عنه.‏
ہم سے محمد نے بیان کیا‘ کہا کہ ہمیں عبداللہ نے خبر دی ‘ کہا کہ ہمیں ابوبکر بن عیاش نے خبر دی اور ان سے سفیان تمار نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک دیکھی ہے جو کوہان نما ہے۔ ہم نے فروہ بن ابی المغراءنے بیان کیا‘ کہا کہ ہم سے علی بن مسہرنے بیان کیا‘ ان سے ہشام بن عروہ نے‘ ان سے ان کے والد نے کہ ولید بن عبدالملک بن مروان کے عہد حکومت میں ( جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ مبارک کی ) دیوار گری اور لوگ اسے ( زیادہ اونچی ) اٹھانے لگے تو وہاں ایک قدم ظاہر ہوا۔ لوگ یہ سمجھ کر گھبرا گئے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم مبارک ہے۔ کوئی شخص ایسا نہیں تھا جو قدم کو پہچان سکتا۔ آخر عروہ بن زبیر نے بتایا کہ نہیں خدا گواہ ہے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم نہیں ہے بلکہ یہ تو عمر رضی اللہ عنہ کا قدم ہے۔

حدیث نمبر : 1391
وعن هشام، عن أبيه، عن عائشة ـ رضى الله عنها ـ أنها أوصت عبد الله بن الزبير ـ رضى الله عنهما ـ لا تدفني معهم وادفني مع صواحبي بالبقيع، لا أزكى به أبدا‏.‏
ہشام اپنے والد سے اور وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو وصیت کی تھی کہ مجھے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کے ساتھ دفن نہ کرنا۔ بلکہ میری دوسری سوکنوں کے ساتھ بقیع غرقد میں مجھے دفن کرنا۔ میں یہ نہیں چاہتی کہ ان کے ساتھ میری بھی تعریف ہوا کرے۔

تشریح : ہوا یہ کہ ولید کی خلافت کے زمانہ میں اس نے عمر بن عبدالعزیز کو جو اس کی طرف سے مدینہ شریف کے عامل تھے‘ یہ لکھا کہ ازواج مطہرات کے حجرے گرا کر مسجد نبوی کو وسیع کردو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کی جانب دیوار بلند کردو کہ نماز میں ادھر منہ نہ ہو عمر بن عبدالعزیز نے یہ حجرے گرانے شروع کئے تو ایک پاؤں زمین سے نمودار ہوا جسے حضرت عروہ نے شناخت کیا اور بتلایا کہ یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا پاؤں ہے جسے یوں ہی احترام سے دفن کیا گیا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی کسر نفسی کے طورپر فرمایا تھا کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجرئہ مبارک میں دفن ہوں گی تو لوگ آپ کے ساتھ میرا بھی ذکر کریں گے اور دوسری بیویوں میں مجھ کو ترجیح دیں گے جسے میں پسند نہیں کرتی۔ لہٰذا مجھے بقیع غرقد میں دفن ہونا پسند ہے جہاں میری بہنیں ازواج مطہرات مدفون ہیں اور میں اپنی یہ جگہ جو خالی ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لیے دے دیتی ہوں۔ سبحان اللہ کتنا بڑا ایثار ہے۔ سلام اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔
حجرئہ مبارک کی دیواریں بلند کرنے کے بارے میں حضرت حافظ ابن حجر فرماتے ہیں۔ ای حائط حجرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم وفی روایۃ الحموی عنہم والسبب فی ذلک مارواہ ابوبکر الاجری من طبری شعیب بن اسحاق عن ہشام عن عروۃ قال اخبرنی ابی قال کان الناس یصلون الی القبر فامربہ عمر بن عبدالعزیز فرفع حتی لا یصلی الیہ احد فلما ہدم بدت قدم بساق ورکبۃ ففزع عمر بن عبدالعزیز فاتاہ عروۃ فقال ہذا ساق عمرو رکبتہ فسری عن عمر بن عبدالعزیز وروی الاجری من طریق مالک بن مغول عن رجاءبن حیوۃ قال کتب الولید بن عبدالملک الی عمر بن عبدالعزیز وکان قد اشتری حجر ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم ان اہدمہا ووسع بہا المسجد فقعد عمر فی ناحیۃ ثم امربہدمہا فما رایتہ باکیا اکثر من یومئذ ثم بناہ کما اراد فلما ان بنی البیت علی القبر وہدم البیت الاول ظہرت القبور الثلاثۃ وکان الرمل الذی علیہاقد انہار ففزع عمر بن عبدالعزیز واراد ان یقوم فیسویہا بنفسہ فقلت لہ اصلحک اللہ انک ان قمت قام الناس معک فلو امرت رجلا ان یصلحہا ورجوت انہ یامرنی بذالک فقال یا مزاحم یعنی مولاہ قم فاصلحہا قال فاصلحہا قال رجاءوکان قبرابی بکر عند وسط النبی صلی اللہ علیہ وسلم وعمر خلف ابی بکر راسہ عند وسطہ اس عبارت کا خلاصہ وہی مضمون ہے جو گزر چکا ہے ) ( فتح الباری‘ج: 6 ص: 6 )

حدیث نمبر : 1392
حدثنا قتيبة، حدثنا جرير بن عبد الحميد، حدثنا حصين بن عبد الرحمن، عن عمرو بن ميمون الأودي، قال رأيت عمر بن الخطاب ـ رضى الله عنه ـ قال يا عبد الله بن عمر، اذهب إلى أم المؤمنين عائشة ـ رضى الله عنها ـ فقل يقرأ عمر بن الخطاب عليك السلام، ثم سلها أن أدفن مع صاحبى‏.‏ قالت كنت أريده لنفسي، فلأوثرنه اليوم على نفسي‏.‏ فلما أقبل قال له ما لديك قال أذنت لك يا أمير المؤمنين‏.‏ قال ما كان شىء أهم إلى من ذلك المضجع، فإذا قبضت فاحملوني ثم سلموا ثم قل يستأذن عمر بن الخطاب‏.‏ فإن أذنت لي فادفنوني، وإلا فردوني إلى مقابر المسلمين، إني لا أعلم أحدا أحق بهذا الأمر من هؤلاء النفر الذين توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو عنهم راض، فمن استخلفوا بعدي فهو الخليفة، فاسمعوا له وأطيعوا‏.‏ فسمى عثمان وعليا وطلحة والزبير وعبد الرحمن بن عوف وسعد بن أبي وقاص، وولج عليه شاب من الأنصار فقال أبشر يا أمير المؤمنين ببشرى الله، كان لك من القدم في الإسلام ما قد علمت، ثم استخلفت فعدلت، ثم الشهادة بعد هذا كله‏.‏ فقال ليتني يا ابن أخي وذلك كفافا لا على ولا لي أوصي الخليفة من بعدي بالمهاجرين الأولين خيرا، أن يعرف لهم حقهم، وأن يحفظ لهم حرمتهم، وأوصيه بالأنصار خيرا الذين تبوءوا الدار والإيمان أن يقبل من محسنهم، ويعفى عن مسيئهم، وأوصيه بذمة الله وذمة رسوله صلى الله عليه وسلم أن يوفى لهم بعهدهم، وأن يقاتل من ورائهم، وأن لا يكلفوا فوق طاقتهم‏.‏
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا‘ کہا کہ ہم سے جریربن عبدالحمید نے بیان کیا‘ کہا کہ ہم سے حصین بن عبدالرحمن نے بیان کیا‘ ان سے عمرو بن میمون اودی نے بیان کیا کہ میری موجودگی میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ اے عبداللہ! ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں جا اور کہہ کہ عمر بن خطاب نے آپ کو سلام کہا ہے اور پھر ان سے معلوم کرنا کہ کیا مجھے میرے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن ہونے کی آپ کی طرف سے اجازت مل سکتی ہے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے اس جگہ کو اپنے لیے پسند کر رکھا تھا لیکن آج میں اپنے پر عمر رضی اللہ عنہ کو ترجیح دیتی ہوں۔ جب ابن عمر رضی اللہ عنہما واپس آئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ کیا پیغام لائے ہو؟ کہا کہ امیرالمؤمنین انہوں نے آپ کو اجازت دے دی ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ یہ سن کر بولے کہ اس جگہ دفن ہونے سے زیادہ مجھے اور کوئی چیز عزیز نہیں تھی۔ لیکن جب میری روح قبض ہوجائے تو مجھے اٹھاکر لے جانا اور پھر دوبارہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو میرا سلام پہنچا کر ان سے کہنا کہ عمر نے آپ سے اجازت چاہی ہے۔ اگر اس وقت بھی وہ اجازت دے دیں تو مجھے وہیں دفن کردینا‘ ورنہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کردینا۔ میں اس امرخلافت کا ان چند صحابہ سے زیادہ اور کسی کو مستحق نہیں سمجھتا جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات کے وقت تک خوش اور راضی رہے۔ وہ حضرات میرے بعد جسے بھی خلیفہ بنائیں‘ خلیفہ وہی ہوگا اور تمہارے لیے ضروری ہے کہ تم اپنے خلیفہ کی باتیں توجہ سے سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ آپ نے اس موقع پر حضرت عثمان‘ علی‘ طلحہ‘ زبیر‘ عبدالرحمن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم کے نام لیے۔ اتنے میں ایک انصاری نوجوان داخل ہوا اور کہا کہ اے امیرالمؤمنین آپ کو بشارت ہو‘ اللہ عزوجل کی طرف سے‘ آپ کا اسلام میں پہلے داخل ہونے کی وجہ سے جو مرتبہ تھا وہ آپ کو معلوم ہے۔ پھر جب آپ خلیفہ ہوئے تو آپ نے انصاف کیا۔ پھر آپ نے شہادت پائی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بولے میرے بھائی کے بیٹے! کاش ان کی وجہ سے میں برابر چھوٹ جاؤں۔ نہ مجھے کوئی عذاب ہو اور نہ کوئی ثواب۔ ہاں میں اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو وصیت کرتا ہوں کہ وہ مہاجرین اولین کے ساتھ اچھا برتاؤ رکھے‘ ان کے حقوق پہچانے اور ان کی عزت کی حفاظت کرے اور میں اسے انصار کے بارے میں بھی اچھا برتاؤ رکھنے کی وصیت کرتا ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایمان والوں کو اپنے گھروں میںجگہ دی۔ ( میری وصیت ہے کہ ) ان کے اچھے لوگوں کے ساتھ بھلائی کی جائے اور ان میں جو برے ہوں ان سے درگذر کیا جائے اور میں ہونے والے خلیفہ کو وصیت کرتاہوں اس ذمہ داری کو پورا کرنے کی جو اللہ اور رسول کی ذمہ داری ہے ( یعنی غیر مسلموں کی جو اسلامی حکومت کے تحت زندگی گذارتے ہیں ) کہ ان سے کئے گئے وعدوں کو پورا کیا جائے۔ انہیں بچا کرلڑا جائے اور طاقت سے زیادہ ان پر کوئی بار نہ ڈالا جائے۔

تشریح : سیدنا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوحفصہ ہے۔ عدوی قریشی ہیں۔ نبوت کے چھٹے سال اسلام میں داخل ہوئے بعضوں نے کہاں کہ پانچویں سال میں۔ ان سے پہلے چالیس مرد اور گیارہ عورتیں اسلام لاچکی تھیں اور کہا جاتا ہے کہ چالیسویں مرد حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہی تھے۔ ان کے اسلام قبول کرنے کے دن ہی سے اسلام نمایاں ہونا شروع ہوگیا۔ اسی وجہ سے ان کا لقب فاروق ہوا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا کہ آپ کا لقب فاروق کیسے ہوا؟ فرمایا کہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ میرے اسلام سے تین دن پہلے مسلمان ہوچکے تھے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لیے میرا سینہ بھی کھول دیا تو میں نے کہا اللہ لا الہ الا ہولہ الا سماءالحسنی اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اسی کے لیے سب اچھے نام ہیں۔ اس کے بعد کوئی جان مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جان سے پیاری نہ تھی۔ اس کے بعد میں نے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہاں تشریف فرما ہیں تو میری بہن نے مجھ کو بتلایا کہ آپ دار ارقم بن ابی ارقم میں جو کوہ صفا کے پاس ہے‘ تشریف رکھتے ہیں۔ میں ابو ارقم کے مکان پر حاضر ہوا جب کہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ بھی آپ کے صحابہ کے ساتھ مکان میں موجود تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی گھر میں تشریف فرما تھے۔ میں نے دروازے کو پیٹا تو لوگوں نے نکلنا چاہا۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم لوگوں کو کیاہوگیا؟ سب نے کہا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آئے ہیں پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور مجھے کپڑوں سے پکڑلیا۔ پھر خوب زور سے مجھ کو اپنی طرف کھینچا کہ میں رک نہ سکااور گھٹنے کے بل گرگیا۔ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عمر اس کفر سے کب تک باز نہیں آؤ گے؟ تو بے ساختہ میری زبان سے نکلا اشہدان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ واشہدان محمدا عبدہ ورسولہ اس پر تمام دارارقم کے لوگوں نے نعرہ تکبیر بلند کیا کہ جس کی آواز حرم شریف میں سنی گئی۔ اس کے بعد میں نے کہا کہ یا رسول اللہ! کیا ہم موت اور حیات میں دین حق پر نہیں ہیں؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم سب حق پر ہو‘ اپنی موت میں بھی اور حیات میں بھی۔ اس پر میں نے عرض کیاکہ پھر اس حق کو چھپانے کا کیا مطلب۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ہم ضرور حق کولے کر باہر نکلیں گے۔

چنانچہ ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دو صفوں کے درمیان نکالا۔ ایک صف میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اور دوسری صف میں میں تھا اور میرے اندر جوش ایمان کی وجہ سے ایک چکی جیسی گڑ گڑاہٹ تھی۔ یہاں تک کہ ہم مسجد حرام میں پہنچ گئے تو مجھ کو اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو قریش نے دیکھا اور ان کو اس قدر صدمہ پہنچا کہ ایسا صدمہ انہیں اس سے پہلے کبھی نہ پہنچا تھا۔ اسی دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام فاروق رکھ دیا کہ اللہ نے میری وجہ سے حق اور باطل میں فرق کردیا۔ روایتوں میں ہے کہ آپ کے اسلام لانے پر حضرت جبرئیل امین علیہ السلام تشریف لائے اور فرمایا کہ اے اللہ کے رسول! آج عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے سے تمام آسمانوں والے بے حد خوش ہوئے ہیں۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قسم خدا کی میں یقین رکھتا ہوں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے علم کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور دوسری میں تمام زندہ انسانوں کاعلم تو یقینا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے علم والا پلڑا جھک جائے گا۔

آپ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام غزوات میں شریک ہوئے اور یہ پہلے خلیفہ ہیں جو امیرالمؤمنین لقب سے پکارے گئے۔ حضرت عمر گورے رنگ والے لمبے قدوالے تھے۔ سر کے بال اکثر گر گئے تھے۔ آنکھوں میں سرخ جھلک رہا کرتی تھی۔ اپنی خلافت میں تمام امور حکومت کو احسن طریق پر انجام دیا۔

آخرمدینہ میں بدھ کے دن 26ذی الحجہ 23ھ میں مغیرہ بن شعبہ کے غلام ابولولوءنے آپ کو خنجر سے زخمی کیا اور یکم محرم الحرام کو آپ نے جام شہادت نوش فرمایا۔ تریسٹھ سال کی عمر پائی۔ مدت خلافت دس سال چھ ماہ ہے۔ آپ کے جنازہ کی نماز حضرت صہیب رومی نے پڑھائی۔ وفات سے قبل حجرئہ نبوی میں دفن ہونے کے لیے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے باضابطہ اجازت حاصل کرلی۔

حافظ ابن حجر فرماتے ہیں۔ وفیہ الحرص علی مجاورۃ الصالحین فی القبور طمعا فی اصابۃ الرحمۃ اذا نزلت علیہم وفی دعاءمن یزورہم من اہل الخیر یعنی آپ کے اس واقعہ میں یہ پہلو بھی ہے کہ صالحین بندوں کے پڑوس میں دفن ہونے کی حرص کرنا درست ہے۔ اس طمع میں کہ ان صالحین بندوں پر رحمت الٰہی کا نزول ہوگا تو اس میں ان کو بھی شرکت کا موقع ملے گا اور جواہل خیر ان کے لیے دعائے خیر کرنے آئیں گے وہ ان کی قبر پر بھی دعا کرتے جائیں گے۔ اس طرح دعاؤں میں بھی شرکت رہے گی۔

سبحان اللہ کیا مقام ہے! ہر سال لاکھوں مسلمان مدینہ شریف پہنچ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام پڑھتے ہیں۔ ساتھ ہی آپ کے جان نثاروں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور فاروق اعظم رضی اللہ عنہ پر بھی سلام بھیجنے کا موقع مل جاتا ہے۔ سچ ہے

نگاہ ناز جسے آشنائے راز کرے
وہ اپنی خوبی قسمت پہ کیوں نہ ناز کرے

عشرہ مبشرہ میں سے یہی لوگ موجود تھے جن کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خلیفہ بنانے والی کمیٹی کے لیے نام لیا۔ ابوعبیدہ بن جراح کا انتقال ہوچکا تھا اور سعید بن زید گوزندہ تھے مگر وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے رشہ دار یعنی چچا زاد بھائی ہوتے تھے‘ اس لیے ان کا بھی نام نہیں لیا۔ دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے بتاکید فرمایا کہ دیکھو میرے بیٹے عبداللہ کا خلافت میں کوئی حق نہیں ہے۔ یہ آپ کا وہ کارنامہ ہے جس پر آج کی نام نہاد جمہوریتیں ہزارہا بار قربان کی جاسکتی ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی کسرنفسی کا یہ عالم ہے کہ ساری عمر خلافت کمال عدل کے ساتھ چلائی پھر بھی اب آخر وقت میں اسی کو غنیمت تصور فرمارہے ہیں کہ خلافت کا نہ ثواب ملے نہ عذاب ہو بلکہ برابر برابر میں اُتر جائے تو یہی غنیمت ہے۔ اخیر میں آپ نے مہاجرین وانصار کے لیے بہترین وصیتیں فرمائیں اور سب سے بڑا کارنامہ یہ کہ ان غیر مسلموں کے لیے جو خلافت اسلامی کے زیر نگین امن وامان کی زندگی گزارتے ہیں‘ خصوصی وصیت فرمائی کہ ہرگز ہرگز ان سے بد عہدی نہ کی جائے اور طاقت سے زیادہ ان پر کوئی بار نہ ڈالا جائے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
صحیح بخاری -> کتاب الجنائز

باب : اس بارے میں کہ مردوں کو برا کہنے کی ممانعت ہے۔

حدیث نمبر : 1393
حدثنا آدم، حدثنا شعبة، عن الأعمش، عن مجاهد، عن عائشة ـ رضى الله عنها ـ قالت قال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لا تسبوا الأموات فإنهم قد أفضوا إلى ما قدموا‏"‏‏. ‏ ورواه عبد الله بن عبد القدوس عن الأعمش، ومحمد بن أنس عن الأعمش‏.‏ تابعه علي بن الجعد وابن عرعرة وابن أبي عدي عن شعبة‏.‏
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا‘ انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا‘ ان سے اعمش نے بیان کیا‘ ان سے مجاہد نے بیان کیا اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا‘ مردوں کو برانہ کہو کیونکہ انہوں نے جیسا عمل کیا اس کا بدلہ پالیا۔ اس روایت کی متابعت علی بن جعد‘ محمد بن عرعرہ اور ابن ابی عدی نے شعبہ سے کی ہے۔ اور اس کی روایت عبداللہ بن عبدالقدوس نے اعمش سے اور محمد بن انس نے بھی اعمش سے کی ہے۔

یعنی مسلمان جو مرجائیں ان کا مرنے کے بعد عیب نہ بیان کرنا چاہیے۔ اب ان کو برا کہنا ان کے عزیزوں کو ایذا دینا ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
صحیح بخاری -> کتاب الجنائز
باب : برے مردوں کی برائی بیان کرنا درست ہے

حدیث نمبر : 1394
حدثنا عمر بن حفص، حدثنا أبي، حدثنا الأعمش، حدثني عمرو بن مرة، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس ـ رضى الله عنهما ـ قال قال أبو لهب ـ عليه لعنة الله ـ للنبي صلى الله عليه وسلم تبا لك سائر اليوم‏.‏ فنزلت ‏{‏تبت يدا أبي لهب وتب‏}‏ ‏.‏
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا اعمش سے‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے عمروبن مرہ نے بیان کیا‘ ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیاکہ ابولہب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ سارے دن تجھ پر بربادی ہو۔ اس پر یہ آیت اتری ﴿ تبت یدا ابی لہب وتب ﴾ یعنی ٹوٹ گئے ہاتھ ابولہب کے اور وہ خود ہی برباد ہوگیا۔

تشریح : جب یہ آیت اتری وَاَنذِر عَشِیرَتَکَ الاَقرَبِینَ ( الشعرا: 214 ) یعنی اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرا تو آپ کوہ صفا پر چڑھے اور قریش کے لوگوں کو پکارا‘ وہ سب اکٹھے ہوئے۔ پھر آپ نے ان کو خدا کے عذاب سے ڈرایا تب ابولہب مردود کہنے لگا تیری خرابی ہو سارے دن کیا تو نے ہم کو اسی بات کے لیے اکٹھا کیاتھا؟ اس وقت یہ سورت اتری تبت یدا ابی لہب وتب یعنی ابولہب ہی کے دونوں ہاتھ ٹوٹے اور وہ ہلاک ہوا۔ معلوم ہوا کہ برے لوگوں کافروں‘ ملحدوں کو ان کے برے کاموں کے ساتھ یاد کرنا درست ہے۔

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ای وصلوا الی ما عملوا من خیر وشرو اشتد بہ علی منع سبب الاموات مطلقا وقد تقدم ان عمومہ مخصوص واصح ماقیل فی ذالک ان اموات الکفار والفساق یجوز ذکر مساویہم للتحذیر منہم والتنفیر عنہم وقد اجمع العلماءعلی جواز جرح المجروحین من الرواۃ احیاءوامواتا یعنی انہوں نے جو کچھ برائی بھلائی کی وہ سب کچھ ان کے سامنے آگیا۔ اب ان کی برائی کرنا بیکار ہے اور اس سے دلیل پکڑی گئی ہے کہ اموات کو برائیوں سے یاد کرنا مطلقاً منع ہے اور پیچھے گزرچکا ہے کہ اس کا عموم مخصوص ہے اور اس بارے میں صحیح ترین خیال یہ ہے کہ مرے ہوئے کافروں اور فاسقوں کی برائیوں کا ذکر کرنا جائز ہے۔ تاکہ ان کے جیسے برے کاموں سے نفرت پیدا ہو اور علماءنے اجماع کیا ہے کہ راویان حدیث زندوں مردوں پر جرح کرنا جائز ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
کتاب الزکوۃ


صحیح بخاری -> کتاب الزکوۃ
باب : زکوٰۃ دینا فرض ہے

وقول الله تعالى‏:‏ ‏{‏وأقيموا الصلاة وآتوا الزكاة‏}‏ وقال ابن عباس ـ رضى الله عنهما ـ حدثني أبو سفيان ـ رضى الله عنه ـ فذكر حديث النبي صلى الله عليه وسلم فقال يأمرنا بالصلاة والزكاة والصلة والعفاف‏.
اور اللہ عزوجل نے فرمایا کہ نماز قائم کرو اور زکوٰة دو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا‘ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق ( قیصر روم سے اپنی ) گفتگو نقل کی کہ انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں وہ نماز‘ زکوٰة‘ صلہ رحمی‘ ناطہ جوڑنے اور حرام کاری سے بچنے کا حکم دیتے ہیں۔

تشریح : حضرت امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اپنی روش کے مطابق پہلے قرآن مجید کی آیت لائے اور فرضیت زکوٰۃ کو قرآن مجید سے ثابت کیا۔ قرآن مجید میں زکوٰۃ کی بابت بیاسی آیات میں اللہ پاک نے حکم فرمایا ہے اور یہ اسلام کا ایک عظیم رکن ہے۔ جو اس کا منکر ہے وہ بالا تفاق کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ زکوٰۃ نہ دینے والوں پر حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جہاد کا اعلان فرما دیا تھا۔

زکوٰۃ 2ھ میں مسلمانوں پر فرض ہوئی۔ یہ درحقیقت اس صفت ہمدردی ورحم کے بقاعدہ استعمال کا نام ہے جو انسان کے دل میں اپنے ابنائے جنس کے ساتھ قدرتاً فطری طورپر موجود ہے۔ یہ اموال نامیہ یعنی ترقی کرنے والوں میں مقرر کی گئی ہے جن میں سے ادا کرنا ناگوار بھی نہیں گزر سکتا۔ اموال نامیہ میں تجارت سے حاصل ہونے والی دولت‘ زراعت اور مویشی ( بھیڑ بکری گائے وغیرہ ) اور نقد روپیہ اور معدنیات اور دفائن شمار ہوتے ہیں۔ جن کے مختلف نصاب ہیں۔ ان کے تحت ایک حصہ ادا کرنافرض ہے۔ قرآن مجید میں اللہ پاک نے زکوٰۃ کی تقسیم ان لفظوں میں فرمائی۔ اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلفُقَرَائِ وَالمَسٰکِینَ وَالعٰمِلَینَ عَلَیہَا وَالمُوَلَّفَۃِ قُلُوبُہُم وَفِی الرِّقَابِ وَالغٰرِمِینَ وَفِی سَبِیلِ اللّٰہِ وَابنِ السَّبِیلِ ( التوبہ: 60 ) یعنی زکوٰۃ کا مال فقیروں اور مسکینوں کے لیے ہے اور تحصیلدار ان زکوٰۃ کے لیے ( جو اسلامی اسٹیٹ کی طرف سے زکوٰۃ کی وصولی کے لیے مقرر ہوں گے ان کی تنخواہ اس میں سے ادا کی جائے گی ) اور ان لوگوں کے لیے جن کی دل افزائی اسلام میں منظور ہو یعنی نو مسلم لوگ اور غلاموں کو آزادی دلانے کے لیے اور ایسے قرضداروں کا فرض چکانے کے لیے جو قرض نہ اتارسکتے ہوں اور اللہ کے راستے میں ( اسلام کی اشاعت وترقی وسربلندی کے لیے ) اور مسافروں کے لیے۔

لفظ زکوٰۃ کی لغوی اور شرعی تشریح کے لیے علامہ حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ اپنی مایہ ناز کتاب فتح الباری شرح صحیح بخاری شریف میں فرماتے ہیں: والزکوہ فی اللغۃ النماءیقال زکا الزرع اذا نما ویرد ایضا فی المال وترد ایضا یمعنی التطہیر وشرعا باعتبارین معا اما بالاول فلان اخراجہا سبب للنماءفی المال اوبمعنی ان الا جر بسببہا یکثر ان بمعنی ان متعلقہا الاموال ذات النماءکالتجارۃ والزراعۃ ودلیل الاول مانقص مال من صدقۃ ولانہا یضاعف ثوابہا کما جاءان اللہ یربی الصدقۃ واما بالثانی فلانہا طہرۃ للنفس من رذیلۃ البخل وتطہیر من الذنوب وہی الرکن الثالث من الارکان التی بنی الاسلام علیہا کما تقدم فی کتاب الایمان وقال ابن العربی تطلق الزکوۃ علی الصدقۃ الواجبۃ والمندوبۃ والنفقۃ والحق والعفو وتعریفہا فی الشرع اعطاءجزءمن النصاب الحولی الی الفقیر ونحوہ غیر ہاشمی ولا مطلبی ثم لہا رکن وہو الاخلاص وشرط ہو السبب وہو ملک النصاب الحولی وشرط من تجب علیہ وہو العقل البلوغ والحریۃ لہاحکم وہو سقوط الجواب فی الدنیا وحصول الثواب فی الاخری وحکمۃ وہی تطہیر من الادناس ورفع الدرجۃ واسترقاق الاحرار انتہی وہو جیدلکن فی شرط من تجب علیہ اختلاف والزکوٰۃ امر مقطوع بہ فی الشرع یستغنی عن تکلف لاحتجاج لہ وانما وقع الاختلاف فی بعض فروعہ واما اصل فرضیۃ الزکوۃ فمن جحدہا کفر وانما ترجم المصنف بذلک علی عادتہ فی ایراد الادلۃ الشرعیۃ والمتفق علیہا والمختلف فیہا ( فتح الباری‘ ج: 3ص: 308 )

اختلف فی اول وقت فرض الزکوۃ فذہب الاکثر الی انہ وقع بعد الہجرۃ فقیل کان فی السنۃ الثانیۃ قبل فرض رمضان اشار الیہ النووی
خلاصہ یہ کہ لفظ زکوٰۃ نشوونما پر بولا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ زکاالزرع یعنی زراعت کھیتی نے نشوونما پائی جب وہ بڑھنے لگے تو ایسا بولا جاتا ہے۔ اسی طرح مال کی بڑھوتری پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے اور پاک کرنے کے معنی میں بھی آیا ہے اور شرعاً ہر دو اعتبار سے اس کا استعمال ہوا ہے۔ اول تو یہ کہ اس کی ادائیگی سے مال میں بڑھوتری ہوتی ہے اور یہ بھی کہ اس کے سبب اجروثواب کی نشوونما حاصل ہوتی ہے یا یہ بھی کہ یہ زکوٰۃ ان اموال سے ادا کی جاتی ہے جو بڑھنے والے ہیں جیسے تجارت زراعت وغیرہ۔ اول کی دلیل وہ حدیث ہے جس میں وارد ہے کہ صدقہ نکالنے سے مال کم نہیں ہوتا بلکہ وہ بڑھ ہی جاتا ہے اور یہ بھی کہ اس کا ثواب دو گناسہ گنا بڑھتا ہے۔ جیسا کہ آیا ہے کہ اللہ پاک صدقہ کے مال کو بڑھاتا ہے۔ اور دوسرے اعتبار سے نفس کو بخل کے رذائل سے پاک کرنے والی چیز ہے اور گناہوں سے بھی پاک کرتی ہے اور اسلام کا یہ تیسرا عظیم رکن ہے۔ ابن العربی نے کہا کہ لفظ زکوٰۃ صدقہ فرض اور صدقہ نفل اور دیگر عطایا پر بھی بولا جاتا ہے۔

اس کی شرعی تعریف یہ کہ مقررہ نصاب پر سال گزرنے کے بعد فقراءودیگر مستحقین کو اسے ادا کرنا فقراءہاشمی اور مطلبی نہ ہوں کہ ان کے لیے اموال زکوٰۃ کا استعمال ناجائز ہے۔ زکوٰۃ کے لیے بھی کچھ اور شرائط ہیں۔ اول اس کی ادائیگی کے وقت اخلاص ہونا ضروری ہے۔ ریا ونمود کے لیے زکوٰۃ ادا کرے تو وہ عند اللہ زکوٰۃ نہیں ہوگی۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ایک حد مقررہ کے اندر وہ مال ہو اور اس پر سال گزرجائے اور زکوٰۃ عاقل بالغ آزاد پر واجب ہے۔ اس سے دنیا میں وجوب کی ادائیگی اور آخرت میں ثواب حاصل ہونا مقصود ہے اور اس میں حکمت یہ کہ یہ انسانوں کو گناہوں کے ساتھ خصائل رذالت سے بھی پاک کرتی ہے اور درجات بلند کرتی ہے۔
اور یہ اسلام میں ایک بہترین عمل ہے مگر جس پر یہ واجب ہے اس کی تفصیلات میں کچھ اختلاف ہے اور یہ اسلام میں ایک ایسا قطعی فریضہ ہے کہ جس کے لیے کسی اور مزید دلیل کی ضرورت ہی نہیں اور دراصل یہ قطعی فرض ہے‘ جو اس کی فرضیت کا انکار کرے وہ کافر ہے۔ یہاں بھی مصنف نے اپنی عادت کے مطابق ادلہ شرعیہ سے اس کی فرضیت ثابت کی ہے۔ وہ ادلہ جو متفق علیہ ہیں۔ جن میں پہلے آیت شریفہ‘ پھر چھ احادیث ہیں۔

حدیث نمبر : 1395
حدثنا أبو عاصم الضحاك بن مخلد، عن زكرياء بن إسحاق، عن يحيى بن عبد الله بن صيفي، عن أبي معبد، عن ابن عباس ـ رضى الله عنهما ـ أن النبي صلى الله عليه وسلم بعث معاذا ـ رضى الله عنه ـ إلى اليمن فقال ‏"‏ ادعهم إلى شهادة أن لا إله إلا الله، وأني رسول الله، فإن هم أطاعوا لذلك فأعلمهم أن الله قد افترض عليهم خمس صلوات في كل يوم وليلة، فإن هم أطاعوا لذلك فأعلمهم أن الله افترض عليهم صدقة في أموالهم، تؤخذ من أغنيائهم وترد على فقرائهم‏"‏‏. ‏
ہم سے ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے بیان کیا‘ ان سے زکریا بن اسحاق نے بیان کیا‘ ان سے یحیٰی بن عبداللہ بن صیفی نے بیان کیا‘ ان سے ابومعبد نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن ( کا حاکم بناکر ) بھیجا تو فرمایا کہ تم انہیں اس کلمہ کی گواہی کی دعوت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اگر وہ لوگ یہ بات مان لیں تو پھر انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر روزانہ پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں۔ اگر وہ لوگ یہ بات بھی مان لیں تو پھر انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مال پر کچھ صدقہ فرض کیا ہے جو ان کے مالدار لوگوں سے لے کر انہیں کے محتاجوں میں لوٹا دیا جائے گا۔

حدیث نمبر : 1396
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن ابن عثمان بن عبد الله بن موهب، عن موسى بن طلحة، عن أبي أيوب، رضى الله عنه أن رجلا، قال للنبي صلى الله عليه وسلم أخبرني بعمل يدخلني الجنة‏.‏ قال ما له ما له وقال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أرب ماله، تعبد الله، ولا تشرك به شيئا، وتقيم الصلاة، وتؤتي الزكاة، وتصل الرحم‏"‏‏. وقال بهز: حدثنا شعبة: حدثنا محمد بن عثمان، وأبوه عثمان بن عبد الله: أنهما سمعا موسى بن طلحة، عن أبي أيوب: بهذا. قال أبو عبد الله: أخشى أن يكون محمد غير محفوظ، إنما هو عمرو.‏
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے محمد بن عثمان بن عبداللہ بن موہب سے بیان کیا ہے‘ ان سے موسیٰ بن طلحہ نے اور ان سے ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں لے جائے۔ اس پر لوگوں نے کہا کہ آخر یہ کیا چاہتا ہے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو بہت اہم ضرورت ہے۔ ( سنو ) اللہ کی عبادت کرو اور اس کا کوئی شریک نہ ٹھہراؤ۔ نماز قائم کرو۔ زکوٰة دو اور صلہ رحمی کرو۔ اور بہزنے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا کہ ہم سے محمد بن عثمان اور ان کے باپ عثمان بن عبداللہ نے بیان کیا کہ ان دونوں صاحبان نے موسیٰ بن طلحہ سے سنا اور انہوں نے ابوایوب سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کی طرح ( سنا ) ابوعبداللہ ( امام بخاری ) نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ محمد سے روایت غیر محفوظ ہے اور روایت عمر وبن عثمان سے ( محفوظ ہے )

حدیث نمبر : 1397
حدثني محمد بن عبد الرحيم، حدثنا عفان بن مسلم، حدثنا وهيب، عن يحيى بن سعيد بن حيان، عن أبي زرعة، عن أبي هريرة ـ رضى الله عنه ـ أن أعرابيا، أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال دلني على عمل إذا عملته دخلت الجنة‏.‏ قال ‏"‏ تعبد الله لا تشرك به شيئا، وتقيم الصلاة المكتوبة، وتؤدي الزكاة المفروضة، وتصوم رمضان‏"‏‏. ‏ قال والذي نفسي بيده لا أزيد على هذا‏.‏ فلما ولى قال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ من سره أن ينظر إلى رجل من أهل الجنة فلينظر إلى هذا‏"‏‏. حدثنا مسدد، عن يحيى، عن أبي حيان، قال أخبرني أبو زرعة، عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا‏.‏
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا‘ کہا کہ ہم سے عفان بن مسلم نے بیان کیا‘ کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا ان سے یحییٰ بن سعید بن حیان نے‘ ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی کہ آپ مجھے کوئی ایسا کام بتلائیے جس پر اگر میں ہمیشگی کروں تو جنت میں داخل ہوجاؤں۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ کی عبادت کر‘ اس کا کسی کو شریک نہ ٹھہرا‘ فرض نماز قائم کر‘ فرض زکوٰة دے اور رمضان کے روزے رکھ۔ دیہاتی نے کہا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے‘ ان عملوں پر میں کوئی زیادتی نہیں کروں گا۔ جب وہ پیٹھ موڑ کر جانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر کوئی ایسے شخص کو دیکھنا چاہے جو جنت والوں میں سے ہوتو وہ اس شخص کو دیکھ لے۔ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا‘ ان سے یحیٰی بن سعید قطان نے‘ ان سے ابوحیان نے‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوزرعہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی۔

مگر یحیٰی بن سعید قطان کی یہ روایت مرسل ہے۔ کیونکہ ابوزرعہ تابعی ہیں۔ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا اور وہیب کی روایت جو اوپر گزری وہ موصول ہے اور وہیب ثقہ ہیں۔ ان کی زیارت مقبول ہے۔ اس لیے حدیث میں کوئی علت نہیں ( وحیدی )
اس حدیث کے ذیل حافظ ابن حجر فرماتے ہیں: قال القرطبی فی ہذا الحدیث وکذا حدیث طلحۃ فی قصۃ الاعرابی وغیرہما دلالۃ علی جواز ترک التطوعات لکن من داوم علی ترک السنن کان نقصا فی دینہ فان کان ترکہا تہاونا بہا ورغبۃ عنہا کان ذلک فسقا یعنی لو رود الوعید علیہ حیث قال صلی اللہ علیہ وسلم من رغب عن سنتی فلیس من وقد کان صدر الصحابۃ ومن تبعہم یواظبون علی السنن مواظبتہم علی الفرائض ولا یفرقون بینہما فی اغتنام ثوابہما ( فتح الباری ) یعنی قرطبی نے کہا کہ اس حدیث میں اور نیز حدیث طلحہ میں جس میں ایک دیہاتی کا ذکر ہے‘ اس پر دلیل ہے کہ نفلیات کا ترک کردینا بھی جائز ہے مگر جو شخص سنتوں کے چھوڑنے پر ہمیشگی کرے گا وہ اس کے دین میں نقص ہوگا اور اگر وہ بے رغبتی اور سستی سے ترک کررہا ہے تو یہ فسق ہوگا۔ اس لیے کہ ترک سنن کے متعلق وعید آئی ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو میری سنتوں سے بے رغبتی کرے وہ مجھ سے نہیں ہے۔ اور صدر اول میں صحابہ کرام اور تابعین عظام سنتوں پر فرضوں ہی کی طرح ہمیشگی کیا کرتے تھے اور ثواب حاصل کرنے کے خیال میں وہ لوگ فرضوں اور سنتوں میں فرق نہیں کرتے تھے۔

حدیث بالا میں حج کا ذکر نہیں ہے‘ اس پر حافظ فرماتے ہیں۔ لم یذکر الحج لانہ کان حینئذ حاجا ولعلہ ذکرہ لہ فاختصرہ یعنی حج کا ذکر نہیں فرمایا اس لیے کہ وہ اس وقت حاجی تھا یا آپ نے ذکر فرمایا مگر راوی نے بطور اختصار اس کا ذکر چھوڑ دیا۔

بعض محترم حنفی حضرات نے اہلحدیث پر الزام لگایا ہے کہ یہ لوگ سنتوں کا اہتمام نہیں کرتے‘ یہ الزام سراسر غلط ہے۔ الحمدللہ اہلحدیث کا بنیادی اصول توحید وسنت پر کاربند ہونا ہے۔ سنت کی محبت اہلحدیث کا شیوہ ہے لہٰذا یہ الزام بالکل بے حقیقت ہے۔ ہاں معاندین اہلحدیث کے بارے میں اگر کہا جائے کہ ان کے ہاں اقوال ائمہ اکثر سنتوں پر مقدم سمجھے جاتے ہیں تو یہ ایک حد تک درست ہے۔ جس کی تفصیل کے لیے اعلام الموقعین از علامہ ابن قیم کا مطالعہ مفید ہوگا۔

حدیث نمبر : 1398

حدثنا حجاج، حدثنا حماد بن زيد، حدثنا أبو جمرة، قال سمعت ابن عباس ـ رضى الله عنهما ـ يقول قدم وفد عبد القيس على النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا يا رسول الله إن هذا الحى من ربيعة قد حالت بيننا وبينك كفار مضر، ولسنا نخلص إليك إلا في الشهر الحرام، فمرنا بشىء نأخذه عنك، وندعو إليه من وراءنا‏.‏ قال ‏"‏ آمركم بأربع، وأنهاكم عن أربع الإيمان بالله وشهادة أن لا إله إلا الله ـ وعقد بيده هكذا ـ وإقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، وأن تؤدوا خمس ما غنمتم، وأنهاكم عن الدباء والحنتم والنقير والمزفت‏"‏‏. ‏ وقال سليمان وأبو النعمان عن حماد ‏"‏ الإيمان بالله شهادة أن لا إله إلا الله‏"‏‏. ‏
ہم سے حجاج بن منہال نے حدیث بیان کی‘ کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا‘ کہا کہ ہم سے ابوجمرہ نصربن عمران ضبعی نے بیان کیا‘ کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا‘ آپ نے بتلایا کہ قبیلہ عبدالقیس کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! ہم ربیعہ قبیلہ کی ایک شاخ ہیں اور قبیلہ مضر کے کافر ہمارے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان پڑتے ہیں۔ اس لیے ہم آپ کی خدمت میں صرف حرمت کے مہینوں ہی میں حاضر ہوسکتے ہیں ( کیونکہ ان مہینوں میں لڑائیاں بند ہوجاتی ہیں اور راستے پر امن ہوجاتے ہیں ) آپ ہمیں کچھ ایسی باتیں بتلادیجئے جس پر ہم خود بھی عمل کریں اور اپنے قبیلہ کے لوگوں سے بھی ان پر عمل کرنے کے لیے کہیں جو ہمارے ساتھ نہیں آسکے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور اس کی وحدانیت کی شہادت دینے کا ( یہ کہتے ہوئے ) آپ نے اپنی انگلی سے ایک طرف اشارہ کیا۔ نماز قائم کرنا‘ پھر زکوٰة ادا کرنا اور مال غنیمت سے پانچواں حصہ ادا کرنے ( کا حکم دیتا ہوں ) اور میں تمہیں کدو کے تو نبی سے اور حنتم ( سبزرنگ کا چھوٹا سا مرتبان جیسا گھڑا ) فقیر ( کھجور کی جڑ سے کھودا ہوا ایک برتن ) اور زفت لگا ہوا برتن ( زفت بصرہ میں ایک قسم کا تیل ہوتا تھا ) کے استعمال سے منع کرتا ہوں۔ سلیمان اور ابوالنعمان نے حماد کے واسطہ سے یہی روایت اس طرح بیان کی ہے۔ الایمان باللہ شہادة ان لا الہ الا اللہ یعنی اللہ پر ایمان لانے کا مطلب لا الہ الااللہ کی گواہی دینا۔

تشریح : یہ حدیث اوپر کئی بار گزر چکی ہے۔ سلیمان اور ابوالنعمان کی روایت میں ایمان باللہ کے بعد واؤ عطف نہیں ہے اور حجاج کی روایت میں واؤ عطف تھی۔ جیسے اوپر گزری۔ ایمان باللہ اور شہادۃ ان لا الہ الا اللہ دونوں ایک ہی ہیں۔ اب یہ اعتراض نہ ہوگا کہ یہ پانچ باتیں ہوگئیں اور حج کا ذکر نہیں کیا کیونکہ ان لوگوں پر شاید حج فرض نہ ہوگا۔ اس حدیث سے بھی زکوٰۃ کی فرضیت نکلتی ہے کیونکہ آپ نے اس کا امر کیا اور امر وجوب کے لیے ہوا کرتا ہے۔ مگر جب کوئی دوسرا قرینہ ہو جس میں عدم وجوب ثابت ہو۔ حافظ نے کہا کہ سلیمان کی روایت کو خود مؤلف نے مغازی میں اور ابوالنعمان کی روایت کو بھی خود مؤلف نے خمیس میں وصل کیا۔ ( وحیدی )

چار قسم کے برتن جن کے استعمال سے آپ نے ان کو منع فرمایا وہ یہ تھے جن میں عرب لوگ شراب بطور ذخیرہ رکھا کرتے تھے اور اکثر ان ہی سے صراحی اور جام کا کام لیا کرتے تھے۔ ان برتنوں میں رکھنے سے شراب اور زیادہ نشہ آور ہوجایا کرتی تھی۔ اس لیے آپ نے ان کے استعمال سے منع فرما دیا۔ ظاہر ہے کہ یہ ممانعت وقتی ممانعت تھی۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ نہ صرف گناہوں سے بچنا بلکہ ان کے اسباب اور دواعی سے بھی پرہیز کرنالازمی ہے جن سے ان گناہوں کے لیے آمادگی پیدا ہوسکتی ہو۔ اسی بناپر قرآن مجید میں کہا گیا کہ لاتقربوا الزنیٰ یعنی ان کاموں کے بھی قریب نہ جاؤ جن سے زنا کے لیے آمادگی کا امکان ہو۔

حدیث نمبر : 1399
حدثنا أبو اليمان الحكم بن نافع، أخبرنا شعيب بن أبي حمزة، عن الزهري، حدثنا عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، أن أبا هريرة ـ رضى الله عنه ـ قال لما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان أبو بكر ـ رضى الله عنه ـ وكفر من كفر من العرب فقال عمر ـ رضى الله عنه كيف تقاتل الناس، وقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله‏.‏ فمن قالها فقد عصم مني ماله ونفسه إلا بحقه، وحسابه على الله‏"‏‏. ‏
ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا‘ کہا کہ ہمیں شعیب بن ابی حمزہ نے خبر دی ‘ ان سے زہری نے کہا کہ ہم سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو عرب کے کچھ قبائل کافر ہوگئے ( اور کچھ نے زکوٰة سے انکار کردیا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے لڑنا چاہا ) تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی موجودگی میں کیونکر جنگ کرسکتے ہیں “ مجھے حکم ہے لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کی شہادت نہ دیدیں اور جو شخص اس کی شہادت دے دے تو میری طرف سے اس کا مال وجان محفوظ ہوجائے گا۔ سوا اسی کے حق کے ( یعنی قصاص وغیرہ کی صورتوں کے ) اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہوگا۔

حدیث نمبر : 1400
فقال والله لأقاتلن من فرق بين الصلاة والزكاة، فإن الزكاة حق المال، والله لو منعوني عناقا كانوا يؤدونها إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم لقاتلتهم على منعها‏.‏ قال عمر ـ رضى الله عنه ـ فوالله ما هو إلا أن قد شرح الله صدر أبي بكر ـ رضى الله عنه ـ فعرفت أنه الحق‏.‏
اس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ قسم اللہ کی میں ہر اس شخص سے جنگ کروں گا جو زکوٰة اور نماز میں تفریق کرے گا۔ ( یعنی نماز تو پڑھے مگر زکوٰة کے لیے انکار کردے ) کیونکہ زکوٰة مال کا حق ہے۔ خدا کی قسم اگر انہوں نے زکوٰة میں چار مہینے کی ( بکری کے ) بچے کو دینے سے بھی انکار کیا جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے تو میں ان سے لڑوں گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بخدایہ بات اس کا نتیجہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیا تھا اور بعد میں میں بھی اس نتیجہ پر پہنچا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی حق پر تھے۔

تشریح : وفات نبی کے بعد مدینہ کے اطراف میں مختلف قبائل جو پہلے اسلام لاچکے تھے اب انہوں نے سمجھا کہ اسلام ختم ہوگیا لہٰذا ان میں سے بعض بت پرست بن گئے۔ بعض مسیلمہ کذاب کے تابع ہوگئے جیسے یمامہ والے اور بعض مسلمان رہے مگر زکوٰۃ کی فرضیت کا انکار کرنے لگے اور قرآن شریف کی یوں تاویل کرنے لگے کہ زکوٰۃ لینا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خاص تھا۔ کیونکہ اللہ نے فرمایا۔ خُذ مِن اَموَالِہِم صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُم وُتُزَکِّیہِم بِہَا وَصَلِّ عَلَیہِم اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَن لَّہُم ( التوبہ: 103 ) اور پیغمبر کے سوا اور کسی کی دعا سے ان کو تسلی نہیں ہوسکتی۔ وحسابہ علی اللہ کا مطلب یہ کہ دل میں اس کے ایمان ہے یا نہیں اس سے ہم کو غرض نہیں اس کی پوچھ قیامت کے دن اللہ کے سامنے ہوگی اور دنیا میں جو کوئی زبان سے لا الہ الا اللہ کہے گا اس کو مومن سمجھیں گے اور اس کے مال اور جان پر حملہ نہ کریں گے۔ صدیقی الفاظ میں فرق بین الصلوٰۃ والزکوٰۃ کا مطلب یہ کہ جو شخص نماز کو فرض کہے گا مگر زکوٰۃ کی فرضیت کا انکار کرے گا ہم ضرور ضرور اس پر جہاد کریں گے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی بعد میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے سے اتفاق کیا اور سب صحابہ متفق ہوگئے اور زکوٰۃ دینے والوں پر جہاد کیا۔ یہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی فہم وفراست تھی۔ اگر وہ اس عزم سے کام نہ لیتے تو اسی وقت اسلامی نظام درہم برہم ہوجاتا مگر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنے عزم صمیم سے اسلام کو ایک بڑے فتنے سے بچالیا۔ آج بھی اسلامی قانون یہی ہے کہ کوئی شخص محض کلمہ گو ہونے سے مسلمان نہیں بن جاتا جب تک وہ نماز‘ زکوٰۃ‘ روزہ‘ حج کی فرضیت کا اقراری نہ ہو اور وقت آنے پر ان کو ادا نہ کرے۔ جو کوئی کسی بھی اسلام کے رکن کی فرضیت کا انکار کرے وہ متفقہ طورپر اسلام سے خارج اور کافر ہے۔ نماز کے لیے تو صاف موجود ہے من ترک الصلوٰۃ متعمدا فقد کفر جس نے جان بوجھ کر بلا عذر شرعی ایک وقت کی نماز بھی ترک کردی تو اس نے کفر کا ارتکاب کیا۔

عدم زکوٰۃ کے لیے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا فتویٰ جہاد موجود ہے اور حج کے متعلق فاروق اعظم کا وہ فرمان قابل غور ہے جس میں آپ نے مملکت اسلامیہ سے ایسے لوگوں کی فہرست طلب کی تھی جو مسلمان ہیں اورجن پر حج فرض ہے مگر وہ یہ فرض نہیں ادا کرتے تو آپ نے فرمایا تھا کہ ان پر جزیہ قائم کردو‘ وہ مسلمانوں کی جماعت سے خارج ہیں۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
صحیح بخاری -> کتاب الزکوۃ
باب : زکوٰۃ دینے پر بیعت کرنا اور اللہ پاک نے ( سورئہ براة میں ) فرمایا کہ اگر وہ ( کفارومشرکین ) توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰة دینے لگیں تو پھر وہ تمہارے دینی بھائی ہیں

حدیث نمبر : 1401
حدثنا ابن نمير، قال حدثني أبي، حدثنا إسماعيل، عن قيس، قال قال جرير بن عبد الله بايعت النبي صلى الله عليه وسلم على إقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، والنصح لكل مسلم‏.‏
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا‘ کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا‘ کہا کہ ہم سے اسماعیل بن خالد نے بیان کیا‘ ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا کہ جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز قائم کرنے‘ زکوٰة دینے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی تھی۔

معلوم ہوا کہ دینی بھائی بننے کے لیے قبولیت ایمان واسلام کے ساتھ ساتھ نماز قائم کرنا اور صاحب نصاب ہونے پر زکوٰۃ ادا کرنا بھی ضروری ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
صحیح بخاری -> کتاب الزکوۃ
باب : زکوٰۃ نہ ادا کرنے والے کا گناہ اور اللہ تعالیٰ نے ( سورئہ براۃ میں ) فرمایا

وقول الله تعالى ‏{‏والذين يكنزون الذهب والفضة ولا ينفقونها في سبيل الله فبشرهم بعذاب أليم * يوم يحمى عليها في نار جهنم فتكوى بها جباههم وجنوبهم وظهورهم هذا ما كنزتم لأنفسكم فذوقوا ما كنتم تكنزون‏}‏‏. کہ جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور انہیں اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے آخر آیت ﴿ فذو قواما کنتم تکنزون ﴾ تک۔ یعنی اپنے مال کو گاڑنے کا مزہ چکھو۔

آیت میں کنز کا لفظ ہے کنز اسی مال کو کہیں گے جس کی زکوٰۃ نہ دی جائے۔ اکثر صحابہ اور تابعین کا یہی قول ہے کہ آیت اہل کتاب اور مشرکین اور مومنین سب کو شامل ہے۔ امام بخاری نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے اور بعض صحابہ نے اس آیت کو کافروں کے ساتھ خاص کیا ہے۔ ( وحیدی )

حدیث نمبر : 1402
حدثنا الحكم بن نافع، أخبرنا شعيب، حدثنا أبو الزناد، أن عبد الرحمن بن هرمز الأعرج، حدثه أنه، سمع أبا هريرة ـ رضى الله عنه ـ يقول قال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تأتي الإبل على صاحبها، على خير ما كانت، إذا هو لم يعط فيها حقها، تطؤه بأخفافها، وتأتي الغنم على صاحبها على خير ما كانت، إذا لم يعط فيها حقها، تطؤه بأظلافها، وتنطحه بقرونها‏"‏‏. ‏ وقال ‏"‏ ومن حقها أن تحلب على الماء‏"‏‏. ‏ قال ‏"‏ ولا يأتي أحدكم يوم القيامة بشاة يحملها على رقبته لها يعار، فيقول يا محمد‏.‏ فأقول لا أملك لك شيئا قد بلغت‏.‏ ولا يأتي ببعير، يحمله على رقبته له رغاء، فيقول يا محمد‏.‏ فأقول لا أملك لك شيئا قد بلغت‏"‏‏. ‏
ہم سے ابولیمان حکم بن نافع نے بیان کیا‘ کہا کہ ہمیں شعیب بن ابی حمزہ نے خبر دی ‘ کہا کہ ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا کہ عبدالرحمن بن ہر مزا عرج نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا‘ آپ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اونٹ ( قیامت کے دن ) اپنے مالکوں کے پاس جنہوں نے ان کا حق ( زکوٰة ) نہ ادا کیا کہ اس سے زیادہ موٹے تازے ہوکر آئیں گے ( جیسے دنیا میں تھے ) اور انہیں اپنے کھروں سے روندیں گے۔ بکریاں بھی اپنے ان مالکوں کے پاس جنہوں نے ان کے حق نہیں دئیے تھے پہلے سے زیادہ موٹی تازی ہوکر آئیں گی اور انہیں اپنے کھروں سے روندیں گی اور اپنے سینگوں سے ماریں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا حق یہ بھی ہے کہ اسے پانی ہی پر ( یعنی جہاں وہ چرا گاہ میں چر رہی ہوں ) دوہا جائے۔ آپ نے فرمایا کہ کوئی شخص قیامت کے دن اس طرح نہ آئے کہ وہ اپنی گردن پر ایک ایسی بکری اٹھائے ہوئے ہو جو چلارہی ہو اور وہ مجھ سے کہے کہ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! مجھے عذاب سے بچائیے میں اسے یہ جواب دوں کہ تیرے لیے میں کچھ نہیں کرسکتا ( میرا کام پہنچانا تھا ) سو میں نے پہنچا دیا۔ اسی طرح کوئی شخص اپنی گردن پر اونٹ لیے ہوئے قیامت کے دن نہ آ : ے کہ اونٹ چلارہا ہو اور وہ خود مجھ سے فریاد کرے‘ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! مجھے بچائےے اور میں یہ جواب دے دوں کہ تیرے لیے میں کچھ نہیں کرسکتا۔ میں نے تجھ کو ( خدا کا حکم زکوٰة ) پہنچادیا تھا۔

تشریح : مسلم کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ منہ سے کاٹیں گے۔ پچاس ہزار برس کا جو دن ہوگا اس دن یہی کرتے رہیں گے۔ یہاں تک کہ اللہ بندوں کا فیصلہ کرے اور وہ اپنا ٹھکانا دیکھ لیں۔ ( بہشت میں یا دوزخ میں ) اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو تنبیہ فرمائی ہے کہ جو لوگ اپنے اموال اونٹ یا بکری وغیرہ میں سے مقررہ نصاب کے تحت زکوٰۃ نہیں ادا کریں گے‘ قیامت کے دن ان کا یہ حال ہوگا جو یہاں مذکور ہوا۔ فی الواقع وہ جانور ان حالات میں آئیں گے اور اس شخص کی گردن پر زبردستی سوار ہوجائیں گے۔ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مدد کے لیے پکارے گا مگر آپ کا یہ جواب ہوگا جو مذکور ہوا۔ بکری کو پانی پر دوہنے سے غرض یہ کہ عرب میں پانی پر اکثر غریب محتاج لوگ جمع رہتے ہیں وہاں وہ دودھ نکال کر مساکین فقراءکو پلایا جائے۔ بعضوں نے کہا یہ حکم زکوٰۃ کی فرضیت سے پہلے تھا‘ جب زکوٰۃ فرض ہوگئی تو اب کوئی صدقہ یا حق واجب نہیں رہا۔ ایک حدیث میں ہے کہ زکوٰۃ کے سوا مال میں دوسرا حق بھی ہے۔ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ اونٹوں کا بھی یہی حق ہے کہ ان کا دودھ پانی کے کنارے پر دوہا جائے۔

حافظ ابن حجر فرماتے ہیں وانما خص الحلب بموضع المآءلیکون اسہل علی المحتاج من قصد المنازل وارفق بالماشیۃ یعنی پانی پر دودھ دوہنے کے خصوص کا ذکر اس لیے فرمایا کہ وہاں محتاج اور مسافر لوگ آرام کے لیے قیام پذیر رہتے ہیں۔

اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ قیامت کے دن گناہ مثالی جسم اختیار کرلیں گے۔ وہ جسمانی شکلوں میں سامنے آئیں گے۔ اسی طرح نیکیاں بھی مثالی شکلیں اختیار کرکے سامنے لائی جائیں گی۔ ہر دو قسم کی تفصیلات بہت سی احادیث میں موجود ہیں۔ آئندہ حدیث میں بھی ایک ایسا ہی ذکر موجود ہے۔

حدیث نمبر : 1403
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا هاشم بن القاسم، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار، عن أبيه، عن أبي صالح السمان، عن أبي هريرة ـ رضى الله عنه ـ قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ من آتاه الله مالا، فلم يؤد زكاته مثل له يوم القيامة شجاعا أقرع، له زبيبتان، يطوقه يوم القيامة، ثم يأخذ بلهزمتيه ـ يعني شدقيه ـ ثم يقول أنا مالك، أنا كنزك ‏"‏ ثم تلا ‏{‏لا يحسبن الذين يبخلون‏}‏ الآية‏.‏
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا‘ انہوں نے کہا ہم سے ہاشم بن قاسم نے بیان کیا کہ ہم سے عبدالرحمن بن عبداللہ بن دینار نے اپنے والد سے بیان کیا‘ ان سے ابوصالح سمان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جسے اللہ نے مال دیا اور اس نے اس کی زکوٰة نہیں ادا کی توقیامت کے دن اس کا مال نہایت زہریلے گنجے سانپ کی شکل اختیار کرلے گا۔ اس کی آنکھوں کے پاس دوسیاہ نقطے ہوں گے۔ جیسے سانپ کے ہوتے ہیں‘ پھر وہ سانپ اس کے دونوں جبڑوں سے اسے پکڑلے گا اور کہے گا کہ میں تیرا مال اور خزانہ ہوں۔ اس کے بعد آپ نے یہ آیت پڑھی “ اور وہ لوگ یہ گمان نہ کریں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جو کچھ اپنے فضل سے دیا ہے وہ اس پر بخل سے کام لیتے ہیں کہ ان کا مال ان کے لیے بہتر ہے۔ بلکہ وہ برا ہے جس مال کے معاملہ میں انہوں نے بخل کیا ہے۔ قیامت میں اس کا طوق بناکر ان کی گردن میں ڈالا جائے گا۔

تشریح : نسائی میں یہ الفاظ اور ہیں۔ ویکون کنز احدکم یوم القیامۃ شجاعا اقرع یفرمنہ صاحبہ ویطلبہ انا کنزک فلا یزال حتی یلقمہ اصبعہ یعنی وہ گنجا سانپ اس کی طرف لپکے گا اور وہ شخص اس سے بھاگے گا۔ وہ سانپ کہے گا کہ میں تیرا خزانہ ہوں۔ پس وہ اس کی انگلیوں کا لقمہ بنالے گا۔ یہ آیت کریمہ ان مالداروں کے حق میں نازل ہوئی جو صاحب نصاب ہونے کے باوجود زکوٰۃ ادا نہ کرتے بلکہ دولت کو زمین میں بطور خزانہ گاڑتے تھے۔ آج بھی اس کا حکم یہی ہے جو مالدار مسلمان زکوٰۃ ہضم کرجائیں ان کا یہی حشر ہوگا۔ آج سونا چاندی کی جگہ کرنسی نے لے لی ہے جو چاندی اور سونے ہی کے حکم میں داخل ہے۔ اب یہ کہا جائے گا کہ جو لوگ نوٹوں کی گڈیاں بنابناکر رکھتے اور زکوٰۃ نہیں ادا کرتے ان کے وہی نوٹ ان کے لیے دوزخ کا سانپ بن کر ان کے گلوں کا ہار بنائے جائیں گے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
صحیح بخاری -> کتاب الزکوۃ
باب : جس مال کی زکوٰۃ دے دی جائے وہ کنز ( خزانہ ) نہیں ہے۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں ہے

حدیث نمبر : 1404
وقال أحمد بن شبيب بن سعيد حدثنا أبي، عن يونس، عن ابن شهاب، عن خالد بن أسلم، قال خرجنا مع عبد الله بن عمر ـ رضى الله عنهما ـ فقال أعرابي أخبرني قول الله، ‏{‏والذين يكنزون الذهب والفضة ولا ينفقونها في سبيل الله‏}‏ قال ابن عمر ـ رضى الله عنهما ـ من كنزها فلم يؤد زكاتها فويل له، إنما كان هذا قبل أن تنزل الزكاة فلما أنزلت جعلها الله طهرا للأموال‏.‏
ہم سے احمد بن شبیب بن سعید نے بیان کیا‘ انہوں نے کہا ہم سے میرے والد شبیب نے بیان کیا‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے یونس نے بیان کیا‘ ان سے ابن شہاب نے‘ ان سے خالد بن اسلم نے‘ انہوں نے بیان کیا کہ ہم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ کہیں جارہے تھے۔ ایک اعرابی نے آپ سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر بتلائیے “ جو لوگ سونے اور چاندی کا خزانہ بناکر رکھتے ہیں۔ ” حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کا جواب دیا کہ اگر کسی نے سونا چاندی جمع کیا اور اس کی زکوٰة نہ دی تو اس کے لیے ویل ( خرابی ) ہے۔ یہ حکم زکوٰة کے احکام نازل ہونے سے پہلے تھا لیکن جب اللہ تعالیٰ نے زکوٰة کا حکم نازل کردیا تو اب وہی زکوٰة مال ودولت کو پاک کردینے والی ہے۔

تشریح : یعنی اس مال سے متعلق یہ آیت نہیں ہے وَالَّذِینَ یَکنِزُونَ الذَّہَبَ وَالفِضَّۃَ ( التوبہ: 34 ) معلوم ہوا کہ اگر کوئی مال جمع کرے تو گنہگار نہیں بشرطیکہ زکوٰۃ دیا کرے۔ گو تقویٰ اور فضیلت کے خلاف ہے۔ یہ ترجمہ باب خود ایک حدیث ہے۔ جسے امام مالک نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے موقوفاً نکالا ہے اور ابوداؤد نے ایک مرفوع حدیث نکالی جس کا مطلب یہی ہے۔ حدیث لیس فیمادون خمس اواق صدقۃ یہ حدیث اس باب میں آتی ہے۔ امام بخاری نے اس حدیث سے دلیل لی کہ جس مال کی زکوٰۃ ادا کی جائے وہ کنزنہیں ہے۔ اس کا دبانا اور رکھ چھوڑنا درست ہے کیونکہ پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں بموجب نص حدیث زکوٰۃ نہیں ہے۔ پس اتنی چاندی کا رکھ چھوڑنا اور دبانا کنزنہ ہوگا اور آیت میں سے اس کو خاص کرنا ہوگا اور خاص کرنے کی وجہ یہی ہوئی کہ زکوٰۃ اس پر نہیں ہے تو جس مال کی زکوٰۃ ادا کردی گئی وہ بھی کنزنہ ہوگا کیونکہ اس پر بھی زکوٰۃ نہیں رہی۔ ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے پانچ اوقیوں کے دو سو درہم ہوئے یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی۔ یہی چاندی کا نصاب ہے اس سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے۔

کنز کے متعلق بیہقی میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کل ما ادیت زکوتہ وان کان تحت سبع ارضین فلیس بکنز وکل مالا تودی زکوتہ فہو کنز وان کان ظاہرا علی وجہ الارض ( فتح الباری )

یعنی ہر وہ مال جس کی تونے زکوٰۃ ادا کردی ہے وہ کنز نہیں ہے اگرچہ وہ ساتویں زمین کے نیچے دفن ہو اور ہر وہ مال جس کی زکوٰۃ نہیں ادا کی وہ کنز ہے اگر چہ وہ زمین کی پیٹھ پر رکھا ہوا ہو۔ آپ کا یہ قول بھی مروی ہے ما ابالی لو کان لی مثل احد ذہبا اعلم عددہ ازکیہ واعمل فیہ بطاعۃ اللہ تعالیٰ ( فتح ) یعنی مجھ کو کچھ پروا نہیں جب کہ میرے پاس احد پہاڑ جتنا سونا ہو اور میں زکوٰۃ ادا کرکے اسے پاک کروں اور اس میں اللہ کی اطاعت کے کام کروں یعنی اس حالت میں اتنا خزانہ بھی میرے لیے مضر نہیں ہے۔

حدیث نمبر : 1405
حدثنا إسحاق بن يزيد، أخبرنا شعيب بن إسحاق، قال الأوزاعي أخبرني يحيى بن أبي كثير، أن عمرو بن يحيى بن عمارة، أخبره عن أبيه، يحيى بن عمارة بن أبي الحسن أنه سمع أبا سعيد ـ رضى الله عنه ـ يقول قال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ليس فيما دون خمس أواق صدقة، وليس فيما دون خمس ذود صدقة، وليس فيما دون خمس أوسق صدقة‏"‏‏.
ہم سے اسحاق بن یزید نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب بن اسحاق نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں امام اوزاعی نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا کہ مجھے یحیٰی بن ابی کثیر نے خبر دی کہ عمروبن یحییٰ بن عمارہ نے انہیں خبر دی اپنے والد یحیٰی بن عمارہ بن ابولحسن سے اور انہو ںابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے انہوں نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰة نہیں ہے اور پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰة نہیں ہے اور پانچ وسق سے کم ( غلہ ) میں زکوٰة نہیں ہے۔

تشریح : ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔ پانچ اوقیہ کے دو سو درہم یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی ہوتی ہے‘ یہ چاندی کا نصاب ہے۔ وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے صاع چار مد کا۔ مدایک رطل اور تہائی رطل کا۔ ہندوستان کے وزن ( اسی تولہ سیر کے حساب سے ) ایک وسق پکے ساڑھے چار من یا پانچ من کے قریب ہوتا ہے۔ پانچ وسق ساڑھے بائیس من یا 25 من ہوا۔ اس سے کم میں زکوٰۃ ( عشر ) نہیں ہے۔

حدیث نمبر : 1406
حدثنا علي، سمع هشيما، أخبرنا حصين، عن زيد بن وهب، قال مررت بالربذة فإذا أنا بأبي، ذر ـ رضى الله عنه ـ فقلت له ما أنزلك منزلك هذا قال كنت بالشأم، فاختلفت أنا ومعاوية في الذين يكنزون الذهب والفضة ولا ينفقونها في سبيل الله‏.‏ قال معاوية نزلت في أهل الكتاب‏.‏ فقلت نزلت فينا وفيهم‏.‏ فكان بيني وبينه في ذاك، وكتب إلى عثمان ـ رضى الله عنه ـ يشكوني، فكتب إلى عثمان أن اقدم المدينة‏.‏ فقدمتها فكثر على الناس حتى كأنهم لم يروني قبل ذلك، فذكرت ذاك لعثمان فقال لي إن شئت تنحيت فكنت قريبا‏.‏ فذاك الذي أنزلني هذا المنزل، ولو أمروا على حبشيا لسمعت وأطعت‏.
ہم سے علی بن ابی ہاشم نے بیان کیا‘ انہوں نے ہشیم سے سنا‘ کہا کہ ہمیں حصین نے خبر دی ‘ انہیں زید بن وہب نے کہا کہ میں مقام ربذہ سے گزر رہا تھا کہ ابوذر رضی اللہ عنہ دکھائی دیئے۔ میں نے پوچھا کہ آپ یہاں کیوں آگئے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں شام میں تھا تو معاویہ ( رضی اللہ عنہ ) سے میرا اختلاف ( قرآن کی آیت ) “ جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور انہیں اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ” کے متعلق ہوگیا۔ معاویہ کا کہنا یہ تھا کہ یہ آیت اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور میں یہ کہتا تھا کہ اہل کتاب کے ساتھ ہمارے متعلق بھی یہ نازل ہوئی ہے۔ اس اختلاف کے نتیجہ میں میرے اور ان کے درمیان کچھ تلخی پیدا ہوگئی۔ چنانچہ انہوں نے عثمان رضی اللہ عنہ ( جو ان دنوں خلیفة المسلمین تھے ) کے یہاں میری شکایت لکھی۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے مجھے لکھا کہ میں مدینہ چلا آؤں۔ چنانچہ میں چلا آیا۔ ( وہاں جب پہنچا ) تو لوگوں کا میرے یہاں اس طرح ہجوم ہونے لگا جیسے انہوں نے مجھے پہلے دیکھا ہی نہ ہو۔ پھر جب میں نے لوگوں کے اس طرح اپنی طرف آنے کے متعلق عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر مناسب سمجھو تو یہاں کا قیام چھوڑ کر مدینہ سے قریب ہی کہیں اور جگہ الگ قیام اختیار کرلو۔ یہی بات ہے جو مجھے یہاں ( ربذہ ) تک لے آئی ہے۔ اگر وہ میرے اوپر ایک حبشی کو بھی امیر مقرر کردیں تو میں اس کی بھی سنوں گا اور اطاعت کروں گا۔

تشریح : حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بڑے عالی شان صحابی اور زہد ودرویشی میں اپنا نظیر نہیں رکھتے تھے‘ ایسی بزرگ شخصیت کے پاس خواہ مخواہ لوگ بہت جمع ہوتے ہیں۔ حضرت معاویہ نے ان سے یہ اندیشہ کیا کہ کہیں کوئی فساد نہ اٹھ کھڑا ہو۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کو وہاں سے بلا بھیجا تو فوراً چلے آئے۔ خلیفہ اور حاکم اسلام کی اطاعت فرض ہے۔ ابوذر نے ایسا ہی کیا۔ مدینہ آئے تو شام سے بھی زیادہ ان کے پاس مجمع ہونے لگا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بھی وہی اندیشہ ہوا جو معاویہ رضی اللہ عنہ کو ہوا تھا۔ انہوں نے صاف تو نہیں کہا کہ تو مدینہ سے نکل جاؤ مگر اصلاح کے طورپر بیان کیا۔ ابوذر نے ان کی مرضی پاکر مدینہ کو بھی چھوڑا۔ اور وہ ربذہ نامی ایک گاؤں میں جاکر رہ گئے اور تادم وفات وہیں مقیم رہے۔ آپ کی قبر بھی وہیں ہے۔

امام احمد اور ابویعلیٰ نے مرفوعاً نکالا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوذر سے فرمایا تھا جب تو مدینہ سے نکالا جائے گا تو کہاں جائے گا؟ تو انہوں نے کہا شام کے ملک میں۔ آپ نے فرمایا کہ جب تو وہاں سے بھی نکالا جائے گا؟ انہوں نے کہا کہ میں پھر مدینہ شریف میں آجاؤں گا۔ آپ نے فرمایا جب پھر وہاں سے نکالا جائے گا تو کیاکرے گا۔ ابوذر نے کہا میں اپنی تلوار سنبھال لوں گا اور لڑوں گا۔ آپ نے فرمایا بہتر بات یہ ہے کہ امام وقت کی بات سن لینا اور مان لینا۔ وہ تم کو جہاں بھیجیں چلے جانا۔ چنانچہ حضرت ابوذر نے اسی ارشاد پر عمل کیا اور دم نہ مارا اور آخردم تک ربذہ ہی میں رہے۔
جب آپ کے انتقال کا وقت قریب آیا تو آپ کی بیوی جو ساتھ تھیں اس موت غربت کا تصور کرکے رونے لگیں۔ کفن کے لیے بھی کچھ نہ تھا۔ آخر ابوذر کو ایک پیش گوئی یا دآئی اور بیوی سے فرمایا کہ میری وفات کے بعد اس ٹیلے پر جابیٹھنا کوئی قافلہ آئے گا وہی میرے کفن کا انتظام کرے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اچانک ایک قافلہ کے ساتھ ادھر سے گزرے اور صورت حال معلوم کرکے رونے لگے‘ پھر کفن دفن کا انتظام کیا۔ کفن میں اپنا عمامہ ان کو دے دیا ( رضی اللہ عنہم )
علامہ حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں وفی ہذا الحدیث من الفوائد غیرماتقدم ان الکفار مخاطبون بفروع الشریعۃ لاتفاق ابی ذر ومعاویۃ ان الایہ نزلت فی اہل الکتاب وفیہ ملاطفۃ الائمۃ للعلماءفان معاویۃ لم یجسر علی الانکار علیہ حتی کاتب من ہو اعلیٰ منہ فی امرہ وعثمان لم یحنق اعلیٰ ابی ذرمع کونہ کان مخالفا لہ فی تاویلہ فیہ التحذیر من الشقاق والخروج علی الائمۃ والترغیب فی الطاعۃ لاولی الامر وامر الافضل بطاعۃ المفضول خشیۃ المفسدۃ وجواز الاختلاف فی الاجتہاد والاخذ بالشدۃ فی الامر بالمعروف وان ادی ذالک الی فراق الوطن وتقدیم دفع المفسدۃ علی جلب المنفعۃ لان فی بقاءابی ذر بالمدینۃ مصلحۃ کبیرۃ من بث عملہ فی طالب العلم ومع ذالک فرجع عند عثمان دفع مایتوقع عند المفسدۃ من الاخذ بمذہبہ الشدید فی ہذہ المسئلۃ ولم یامرہ بعد ذالک بالرجوع عنہ لا ن کلا منہما کان مجتہدا۔
یعنی اس حدیث سے بہت سے فوائد نکلتے ہیں حضرت ابوذر اور حضرت معاویہ یہاں تک متفق تھے کہ یہ آیت اہل کتاب کے حق میں نازل ہوئی ہے پس معلوم ہوا کہ شریعت کے فروعی احکامات کے کفار بھی مخاطب ہیں اور اس سے یہ بھی نکلا کہ حکام اسلام کو علماءکے ساتھ مہربانی سے پیش آنا چاہیے۔ حضرت معاویہ نے یہ جسارت نہیں کی کہ کھلم کھلا حضرت ابوذر کی مخالفت کریں بلکہ یہ معاملہ حضرت عثمان تک پہنچادیا جو اس وقت مسلمانوں کے خلیفہ برحق تھے اور واقعات معلوم ہونے پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوئی سختی نہیں کی حالانکہ وہ ان کی تاویل کے خلاف تھے۔ اس سے یہ بھی نکلا کہ اہل اسلام کو باہمی نفاق وشقاق سے ڈرنا ہی چاہیے اور ائمہ برحق پر خروج نہ کرنا چاہیے بلکہ اولوالا مرکی اطاعت کرنی چاہیے اور اجتہادی امور میں اس سے اختلاف کا جواز بھی ثابت ہوا اور یہ بھی کہ امربالمعروف کرنا ہی چاہیے خواہ اس کے لیے وطن چھوڑنا پڑے اور فساد کی چیز کو دفع ہی کرنا چاہیے اگرچہ وہ نفع کے خلاف بھی ہو۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا‘ اس میں بڑی مصلحت تھی کہ یہ یہاں مدینہ میں رہیں گے تو لوگ ان کے پاس بکثرت علم حاصل کرنے آئیں گے اور اس مسئلہ متنازعہ میں ان سے اسی شدت کا اثر لیں گے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو اس شدت سے رجوع کرنے کا بھی حکم نہیںفرمایا۔ اس لیے کہ یہ سب مجتہد تھے اور ہر مجتہد اپنے اپنے اجتہاد کا خود ذمہ دار ہے۔

خلاصہ الکلام یہ کہ حضرت ابوذر اپنے زہد وتقویٰ کی بناپر مال کے متعلق بہت شدت برتتے تھے اور وہ اپنے خیال پر اٹل تھے۔ مگر دیگر اکابر نے ان سے اتفاق نہیں کیا اور نہ ان سے زیادہ تعرض کیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے خود ان کی مرضی دیکھ کر ان کو ربذہ میں آباد فرمایا تھا‘ باہمی ناراضگی نہ تھی جیسا کہ بعض خوارج نے سمجھا۔ تفصیل کے لیے فتح الباری کا مطالعہ کیا جائے۔

حدیث نمبر : 1407
حدثنا عياش، حدثنا عبد الأعلى، حدثنا الجريري، عن أبي العلاء، عن الأحنف بن قيس، قال جلست‏.‏ وحدثني إسحاق بن منصور، أخبرنا عبد الصمد، قال حدثني أبي، حدثنا الجريري، حدثنا أبو العلاء بن الشخير، أن الأحنف بن قيس، حدثهم قال جلست إلى ملإ من قريش، فجاء رجل خشن الشعر والثياب والهيئة حتى قام عليهم فسلم ثم قال بشر الكانزين برضف يحمى عليه في نار جهنم، ثم يوضع على حلمة ثدى أحدهم حتى يخرج من نغض كتفه، ويوضع على نغض كتفه حتى يخرج من حلمة ثديه يتزلزل، ثم ولى فجلس إلى سارية، وتبعته وجلست إليه، وأنا لا أدري من هو فقلت له لا أرى القوم إلا قد كرهوا الذي قلت‏.‏ قال إنهم لا يعقلون شيئا‏.‏
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا‘ کہا کہ ہم سے سعید جریری نے ابوالعلاءیزید سے بیان کیا‘ ان سے احنف بن قیس نے‘ انہوں نے کہا کہ میں بیٹھا تھا ( دوسری سند ) اور امام بخاری نے فرمایا کہ مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالصمد بن عبدالوارث نے بیان کیا‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا‘ انہوں نے کہا مجھ سے سعید جریری نے بیان کیا‘ کہا کہ ہم سے ابوالعلاءبن شخیر نے بیان کیا‘ ان سے احنف بن قیس نے بیان کیا کہ میں قریش کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا۔ اتنے میں سخت بال‘ موٹے کپڑے اور موٹی جھوٹی حالت میں ایک شخص آیا اور کھڑے ہوکر سلام کیا اور کہا کہ خزانہ جمع کرنے والوں کو اس پتھر کی بشارت ہو جو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا اور اس کی چھاتی کی بھٹنی پر رکھ دیا جائے گا جو مونڈھے کی طرف سے پار ہوجائے گا۔ اس طرح وہ پتھر برابر ڈھلکتا رہے گا۔ یہ کہہ کر وہ صاحب چلے گئے اور ایک ستون کے پاس ٹیک لگاکر بیٹھ گئے۔ میں بھی ان کے ساتھ چلا اور ان کے قریب بیٹھ گیا۔ اب تک مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ یہ کون صاحب ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ میرا خیال ہے کہ آپ کی بات قوم نے پسند نہیں کی۔ انہوں نے کہا یہ سب تو بے وقوف ہیں۔

حدیث نمبر : 1408
قال لي خليلي ـ قال قلت من خليلك قال النبي صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ يا أبا ذر أتبصر أحدا‏"‏‏. ‏ قال فنظرت إلى الشمس ما بقي من النهار وأنا أرى أن رسول الله صلى الله عليه وسلم يرسلني في حاجة له، قلت نعم‏.‏ قال ‏"‏ ما أحب أن لي مثل أحد ذهبا أنفقه كله إلا ثلاثة دنانير‏"‏‏. ‏ وإن هؤلاء لا يعقلون، إنما يجمعون الدنيا‏.‏ لا والله لا أسألهم دنيا، ولا أستفتيهم عن دين حتى ألقى الله‏.‏
مجھ سے میرے خلیل نے کہا تھا میں نے پوچھا کہ آپ کے خلیل کون ہیں؟ جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اے ابوذر! کیا احد پہاڑ تو دیکھتا ہے۔ ابوذر رضی اللہ عنہ کا بیان تھا کہ اس وقت میں نے سورج کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا کہ کتنا دن ابھی باقی ہے۔ کیونکہ مجھے ( آپ کی بات سے ) یہ خیال گزرا کہ آپ اپنے کسی کام کے لیے مجھے بھیجیں گے۔ میں نے جواب دیا کہ جی ہاں ( احد پہاڑ میں نے دیکھا ہے ) آپ نے فرمایا کہ اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو میں اس کے سوا دوست نہیں رکھتا کہ صرف تین دینار بچا کر باقی تمام کا تمام ( اللہ کے راستے میں ) دے ڈالوں ( ابوذر رضی اللہ عنہ نے پھر فرمایا کہ ) ان لوگوں کو کچھ معلوم نہیں’ یہ دنیا جمع کرنے کی فکر کرتے ہیں۔ ہرگز نہیں خدا کی قسم نہ میں ان کی دنیا ان سے مانگتا ہوں اور نہ دین کا کوئی مسئلہ ان سے پوچھتا ہوں تا آنکہ میں اللہ تعالیٰ سے جاملوں۔

تشریح : شاید تین اشرفیاں اس وقت آپ پر قرض ہوں گی یا یہ آپ کا روزانہ کا خرچ ہوگا۔ حافظ نے کہا کہ اس حدیث سے یہ نکلتا ہے کہ مال جمع نہ کرے۔ مگر یہ اولویت پر محمول ہے کیونکہ جمع کرنے والا گو زکوٰۃ دے تب بھی اس کو قیامت کے دن حساب دینا ہوگا۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ جو آئے خرچ کر ڈالے مگر اتنا بھی نہیں کہ قرآن پاک کی آیات کے خلاف ہو جس میں فرمایا وَلاَ تَبسُطہَا کُلَّ البَسطِ فَتَقعُدَ مَلُوماً مَحسُوراً ( بنی اسرائیل: 29 ) یعنی اتنے بھی ہاتھ کشادرہ نہ کرو کہ تم خالی ہوکر شرمندہ اور عاجز بن کر بیٹھ جاؤ۔ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا کہ ایک مسلمان کے لیے اس کے ایمان کو بچانے کے لیے اس کے ہاتھ میں مال کا ہونا مفید ہوگا۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ بعض دفعہ محتاجگی کافر بنادیتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ درمیانی راستہ بہتر ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
صحیح بخاری -> کتاب الزکوۃ

باب : اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان

حدیث نمبر : 1409
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا يحيى، عن إسماعيل، قال حدثني قيس، عن ابن مسعود ـ رضى الله عنه ـ قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول ‏"‏ لا حسد إلا في اثنتين رجل آتاه الله مالا فسلطه على هلكته في الحق، ورجل آتاه الله حكمة فهو يقضي بها ويعلمها‏"‏‏.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا‘ کہا کہ ہم سے یحیٰی بن سعید نے اسماعیل بن ابی خالد سے بیان کیا‘ کہا کہ مجھ سے قیس بن ابی حاز م نے بیان کیا اور ان سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حسد ( رشک ) کرنا صرف دوہی آدمیوں کے ساتھ جائز ہوسکتا ہے۔ ایک تو اس شخص کے ساتھ جسے اللہ نے مال دیا اور اسے حق اور مناسب جگہوں میں خرچ کرنے کی توفیق دی۔ دوسرے اس شخص کے ساتھ جسے اللہ تعالیٰ نے حکمت ( عقل علم قرآن وحدیث اور معاملہ فہمی ) دی اور وہ اپنی حکمت کے مطابق حق فیصلے کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہے۔

تشریح : امیر اور عالم ہردو اللہ کے ہاں مقبول بھی ہیں اور مردود بھی۔ مقبول وہ جو اپنی دولت کو اللہ کی راہ میں خرچ کریں‘ زکوٰۃ اور صدقات سے مستحقین کی خبر گیری کریں اور اس بارے میں ریانمود سے بھی بچیں‘ یہ مالدار اس قابل ہیں کہ ہر مسلمان کو ان جیسا مالدار بننے کی تمنا کرنی جائز ہے۔ اسی طرح عالم جو اپنے علم پر عمل کریں اور لوگوں کو علمی فیض پہنچائیں اور ریانمود سے دور رہیں‘ خشیت ومحبت الٰہی بہر حال مقدم رکھیں‘ یہ عالم بھی قابل رشک ہیں۔ امام بخاری کا مقصد یہ کہ اللہ کے لیے خرچ کرنے والوں کا بڑا درجہ ہے ایسا کہ ان پر رشک کرنا جائز ہے جب کہ عام طورپر حسد کرنا جائز نہیں مگر نیک نیتی کے ساتھ ان پر حسد کرنا جائز ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
صحیح بخاری -> کتاب الزکوۃ
باب : صدقہ میں ریاکاری کرنا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ

لقوله ‏{‏يا أيها الذين آمنوا لا تبطلوا صدقاتكم بالمن والأذى‏}‏ إلى قوله ‏{‏الكافرين‏}‏‏.‏ وقال ابن عباس ـ رضى الله عنهما – ‏{‏صلدا‏}‏ ليس عليه شىء‏.‏ وقال عكرمة ‏{‏وابل‏}‏ مطر شديد، والطل الندى‏. اے لوگو! جو ایمان لاچکے ہو اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور ( جس نے تمہارا صدقہ لیا ہے اسے ) ایذادے کر برباد نہ کرو جیسے وہ شخص ( اپنے صدقات برباد کردیتا ہے ) جو لوگوں کو دکھانے کے لیے مال خرچ کرتا ہے اور اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں لاتا ( سے ) اللہ تعالیٰ کے ارشاد “ اور اللہ اپنے منکروں کو ہدایت نہیں کرتا ” ( تک )۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ( قرآن مجید ) میں ) لفظ صلداً سے مراد صاف اور چکنی چیز ہے۔ عکرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا ( قرآن مجید میں ) لفظ وابل سے مراد زور کی بارش ہے اور لفظ طل سے مراد شبنم اوس ہے۔

تشریح : یہاں صدقہ فرض یعنی زکوٰۃ اور صدقہ نفل یعنی خیرات ہردو شامل ہیں۔ ریاکاری کے دخل سے ہردو بجائے ثواب کے باعث عذاب ہوں گے۔ جیسا کہ دوسری حدیث میں آیا ہے کہ قیامت کے دن ریاکار سخی کو دوزخ میں ڈال دیا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ تونے ناموری کے لیے مال خرچ کیا تھا سو تیرا نام دنیا میں جواد سخی مشہور ہوگیا اب یہاں آخرت میں تیرے لیے کیا رکھا ہے۔ ریاکار سے بدتر وہ لوگ ہیں جو غرباءومساکین پر احسان جتلاتے اور ان کو روحانی ایذا پہنچاتے ہیں۔ اس طرح کے زکوٰۃ وصدقات عنداللہ باطل ہیں۔

حضرت امام بخاری نے یہاں باب میں ان آیات ہی پر اکتفا فرمایا اور آیات میں احسان جتلانے اور ایذا دینے کا ریاکار کافروں کے صدقہ کے ساتھ تشبیہ دے کر ان کی انتہائی قباحت پر دلیل لی ہے۔ صلدا وہ صاف پتھر جس پر کچھ بھی نہ ہو ہذا مثل ضربہ اللہ لاعمال الکفار یوم القیمۃ بقول لا یقدرون علی شئی مما کسبوا یومئذ کما ترک ہذا المطر الصفا نقیا لیس علیہ شئی یعنی یہ مثال اللہ نے کافروں کے لیے بیان فرمائی کہ قیامت کے دن ان کے اعمال کا لعدم ہوجائیں گے اور وہ وہاں کچھ بھی نہ پاسکیں گے جیسا کہ بارش نے اس پتھر کو صاف کردیا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
صحیح بخاری -> کتاب الزکوۃ
باب : اللہ پاک چوری کے مال میں سے خیرات نہیں قبول کرتا اور وہ صرف پاک کمائی سے قبول کرتا ہے

لقوله ‏{‏قول معروف ومغفرة خير من صدقة يتبعها أذى والله غني حليم‏}‏‏.‏
کیونکہ اللہ پاک کا ارشاد ہے بھلی بات کرنا اور فقیر کی سخت باتوں کو معاف کردینا اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے نتیجہ میں ( اس شخص کو جسے صدقہ دیا گیا ہے ) اذیت دی جائے کہ اللہ بڑا بے نیاز نہایت بردبار ہے۔

تشریح : اس آیت سے امام بخاری نے باب کا مطلب یوں نکالا کہ جب چور چوری کے مال میں سے خیرات کرے گا تو جن لوگوں پر خیرات کرے گا ان کو جب اس کی خبر ہوگی تو وہ رنجیدہ ہوں گے‘ ان کو ایذا ہوگی۔
 
Top