1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز میں ترک رفع الیدین

'منہج' میں موضوعات آغاز کردہ از جی مرشد جی, ‏اکتوبر 08، 2017۔

  1. ‏نومبر 03، 2017 #71
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    459
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    پیارے بھائی اس کی کیوں ضرورت پیش آرہی ہے؟ میں نے کئی احادیث لکھی ہیں کیا وہ تمام ضعیف ہیں؟
    پھر جس حدیث پر آپ لوگ جرح کرنے چلے ہیں اس حدیث کو البانی رحمہ اللہ نے ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔ وہ زندہ ہوتے تو ان سے پوچھ لیتے کہ انہوں نے کس بنیاد پر اس کو صحیح کہا۔
    صحيح وضعيف سنن ابن ماجة:
    (سنن ابن ماجة)
    861 حدثنا هشام بن عمار حدثنا رفدة بن قضاعة الغساني حدثنا الأوزاعي عن عبد الله بن عبيد بن عمير عن أبيه عن جده عمير بن حبيب قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يرفع يديه مع كل تكبيرة في الصلاة المكتوبة.

    تحقيق الألباني:
    صحيح، صحيح أبي داود (724)

    کچھ مزید احادیث
    مسند أحمد ط الرسالة (31 / 145):
    18853 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْيَحْصُبِيِّ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، " أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ يُكَبِّرُ إِذَا خَفَضَ، وَإِذَا رَفَعَ، وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ عِنْدَ التَّكْبِيرِ، وَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ "، (1)

    (1) حديث صحيح، وهو مكرر (18848) إلا أن شيخ أحمد هنا: هو محمد بن جعفر.
    سنن الدارمي (2 / 796):
    1287 - أَخْبَرَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، حَدَّثَنِي أَبُو الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْيَحْصُبِيِّ، عَنْ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ «يُكَبِّرُ إِذَا خَفَضَ، وَإِذَا رَفَعَ، وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ عِنْدَ التَّكْبِيرِ، وَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ يَسَارِهِ» قَالَ: قُلْتُ: حَتَّى يَبْدُوَ وَضَحُ وَجْهِهِ؟ قَالَ: نَعَمْ
    [تعليق المحقق] إسناده جيد
    مسند الحميدي (1 / 515):

    627 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَاقِدٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ: «كَانَ إِذَا أَبْصَرَ رَجُلًا يُصَلِّي لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ حَصَبَهُ حَتَّى يَرْفَعَ يَدَيْهِ»
     
  2. ‏نومبر 04، 2017 #72
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,406
    موصول شکریہ جات:
    378
    تمغے کے پوائنٹ:
    161

    اس روایت کو حافظ ابن حجر العسقلانی رحمتہ اللہ نے شاذ قرار دیا ہے اور شاید آپ نے اپنے مطلب کی بات نکال لی اور حقیقت بیان نہیں کی اس روایت کی۔۔
    عنوان الكتاب: شرح مشكل الآثار (ت: الأرناؤوط)
    المؤلف: أبو جعفر الطحاوي
    المحقق: شعيب الأرناؤوط ح
    الة الفهرسة: غير مفهرس
    الناشر: مؤسسة الرسالة

    ان ہائی لائٹ راویوں کے ترجمہ لگادیں
    روایات عن سے ہیں اور سفیان ثوری مدلس ہیں
    خالد بن عمرو کے بارے میں تفصیل بتائیں اس راوی کا ترجمہ لکھیں
     
  3. ‏نومبر 04، 2017 #73
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    252
    موصول شکریہ جات:
    23
    تمغے کے پوائنٹ:
    52

    اس روایت کا یہ راوی مجہول ہے اس کی ماسوائے ابن حبان کے کسی نے توثیق نہیں کی ہے
    اور رہی بات شیخ البانی کی تو انہوں نے بہت سی باتوں کی طرف رجوع بھی کیا تھا ان سے بھی غلطی ہو سکتی ہے بات یہ ہے کہ علم کے میدان میں دلیل معنی رکھتی ہے اور دلائل ہی ہیں کہ یہ راوی"رفدۃ بن قضاعۃ" ضعیف ہے
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  4. ‏نومبر 04، 2017 #74
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    252
    موصول شکریہ جات:
    23
    تمغے کے پوائنٹ:
    52

    اس باب میں سب سے اعلی روایت عاصم بن کلیب کے طریق سے وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہوئی ہے اور مسند احمد کی ہی روایت جس کو ھمام نے محمد بن حجادۃ سے روایت کیا ہے اس کی تائید کرتی ہے ان دونوں روایات میں سجدے میں رفع الیدین کا کوئی ذکر نہیں ہے اس لئے جن روایات میں سجدے میں رفع الیدین نقل ہوا ہے وہ یا تو ضعیف ہے یا راوی کا سہو ہے واللہ اعلم
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  5. ‏نومبر 04، 2017 #75
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    252
    موصول شکریہ جات:
    23
    تمغے کے پوائنٹ:
    52

    احادیث پیش ہیں


    حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ كَيْفَ يُصَلِّي، قَالَ: " فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَكَبَّرَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى كَانَتَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ "، قَالَ: " ثُمَّ أَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ "، قَالَ: " فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى كَانَتَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، فَلَمَّا رَكَعَ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى كَانَتَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، فَلَمَّا سَجَدَ وَضَعَ يَدَيْهِ مِنْ وَجْهِهِ، بِذَلِكَ الْمَوْضِع
    فَلَمَّا قَعَدَ افْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَوَضَعَ حَدَّ مِرْفَقِهِ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَعَقَدَ ثَلَاثِينَ وَحَلَّقَ وَاحِدَةً، وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ (
    مسند احمد رقم ۱۸۸۵۰)


    18866 - حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، وَمَوْلًى لَهُمْ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ، عَنْ أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، أَنَّهُ " رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ كَبَّرَ، (2) وَصَفَ هَمَّامٌ حِيَالَ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبِهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنَ الثَّوْبِ ثُمَّ (3) رَفَعَهُمَا، فَكَبَّرَ فَرَكَعَ، فَلَمَّا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَفَعَ يَدَيْهِ، فَلَمَّا سَجَدَ سَجَدَ بَيْنَ كَفَّيْه
    مسند احمد 18866)
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  6. ‏نومبر 06، 2017 #76
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    459
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    مجھے ان اسطلاحات کی زیادہ شد بد نہیں البتہ یہ ہے کہ شاذ اگر کسی دوسری صحئح حدیث سے متصادم نہ ہو تو میرا خیال ہے مقبول ہوتی ہے۔
    جہاں تک مطلب کی بات نکالنے کی کہی تو بھائی میں نے ہرطرح کی احادیث پیش کی ہیں صرف اپنے مسلک والی ہی نہیں لکھیں۔ ہاں البتہ اگر دیکھا جائے تو یہ بات آپ پر صحیح منطبق ہے کہ ساری احادیث میں سے ان کو چن لیا جن پر اعتراض ممکن تھا۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ ہر عنوان کی احا دیث کو ضعیف ثاطت کرتے اور اپنے عمل کی احادیث کی توثیق۔

    اس کی ضرورت نہیں۔

    سفیان الثوری کی عن کی روایات اہل حدیث علماء کے ہاں مقبول ہیں۔ البانی، کفایت اللہ اور زبیر علی زئی رحمہم اللہ جیسے علماء نے ان کی عن کی روایات کی توثیق کی ہے۔

    اس کی ضرورت نہیں۔
    اصولاً آپ کے ذمہ تھا کہ میں نے ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کی خبر دیبے والی تمام احادیث کو ضعیف ثابت کرتے تب آپ کی بات قدرے اہمیت کی حامل ہوتی۔
     
  7. ‏نومبر 06، 2017 #77
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    459
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    آج نماز عصر میں عجیب اتفاق ہؤا کہ میرے ساتھ ایک نوجوان کھڑا تھا جو ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کر رہا تھا۔ یعنی تکبیر تحریمہ کے وقت، رکوع جاتے، رکوع سے اٹھتے، ہر رکعت کو اٹھتے ہوئے۔ صرف سجدہ کو جھکتے وقت اور سجدوں کے وقت رفع الیدین نہیں کر رہا تھا۔
    ایک اسی چیز جس پر خود اہل حدیث ہی متفق نہیں اسے دوسروں کے لئے سنت قرار دینا!
    اگر یہ کوئی ایسا عمل ہے کہ اس کو چھوڑا نہیں جاسکتا تو ایک کو چھوڑنا یا زیادہ کو چھوڑنا کیا معنیٰ رکھتا ہے۔
    کیوں نہ اسے اپنا لیا جائے جس پر سب کا اتفاق ہے اور اختلافی کوچھوڑ دیا جائے۔ کم از کم اتحاد کے لئے ہی ایسا کر لیا جائے۔
     
  8. ‏نومبر 06، 2017 #78
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    459
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    آپ کے ہاں ابن حبان کی کوئی حیثیت ہے کہ نہیں۔
    میرا خیال ہے کہ اس روایت کا حسن درجہ تو ہے ہی یعنی اسے ضعیف کہہ کر ٹھکرایا نہیں جاسکتا۔
     
  9. ‏نومبر 06، 2017 #79
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    459
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    اہل حدیث اس کے علاوہ کی بھی تو ساری پر متفق نہیں۔ یعنی سجدہ کے لئے جھکتے وقت اور دوسرے سجدہ سے اٹھتے وقت۔
     
  10. ‏نومبر 06، 2017 #80
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    459
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    بھائی ان احادیث سے کسی کو انکار نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ مختلف انواع کی صحیح مرفوع احادیث میں کیسے تطبیق کی جائے؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں