1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز میں رفع الیدین کے بارے میں احناف کا موقف :

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏اکتوبر 22، 2015۔

  1. ‏اکتوبر 10، 2019 #91
    بھائی جان

    بھائی جان مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    249
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    @عدیل سلفی کہیں تمہاری دم پر میرا پاؤں تو نہیں آیا؟
     
  2. ‏اکتوبر 10، 2019 #92
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,552
    موصول شکریہ جات:
    410
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    پٹہ خود کے گلے میں اور الزام؟
     
  3. ‏اکتوبر 10، 2019 #93
    بھائی جان

    بھائی جان مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    249
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    ثبوت؟
     
  4. ‏اکتوبر 10، 2019 #94
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,649
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    @عدیل سلفی بھائی! آپ نے ایک بات یاد دلا دی!
    ایک حنفی فقیہ ابو زید الدبوسی، ماشاء اللہ سے یہ معتزلی فقہ حنفیہ کے اصول مرتب کرنے والوں میں سے ہیں، مقلدین کے متعلق فرماتے ہیں:

    فالمقلد في حاصل أمره ملحق نفسه بالبهائم في إتباع الأولاد الأمهات على مناهجها بلا تمييز فإن ألحق نفسه بها لفقده آلة التمييز فمعذور فيداوى ولا يناظر، وإن ألحقه بها ومعه آلة التمييز فالسيف أولى به حتى يقبل على الآلة فيستعملها ويجيب خطاب الله تعالى المفترض طاعته.
    تقلید کا ما حاصل یہ ہے کہ مقلد اپنے آپ کو جانوروں کی ساتھ (میں) شامل کر لیتا ہے کہ جس طرح جانوروں کے بچے اپنی ماؤوں کے پیچھے آنکھیں بند کر کے بلا تمیز (یعنی بغیر سوچے سمجھے)چلتے ہیں ، اور مقلد نے اپنے آپ کو جانوراس لئے بنا لیا ہے کہ وہ آلہ تمیز (یعنی عقل و شعور) نہیں رکھتا ہے تو اس کا علاج کرایا جائے۔ اور وہ مناظرہ نہ کرے (کیونکہ مقلد تو عقل و شعور نہیں رکھتا)، اور جب اس نے خود کو جانوروں میں شامل کر لیا ہے ، تو اس کے لئے تلوار (یعنی اسے مجبور کیا جائے) حتی کہ وہ اپنے آلہ تمیز (یعنی عقل و شعور) کو استعمال کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کے خطاب (یعنی احکام) کو قبول کرے!
    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 390 جلد 01 تقويم الأدلة في أصول الفقه - أبو زيد الدّبوسيّ الحنفي - دار الكتب العلمية
     
    Last edited: ‏اکتوبر 10، 2019
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں