1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کسی بھی صحابی سے یہ ثابت نہیں ہے کہ انہوں نے نماز کی تکبیرات کے ساتھ رفع الیدین نہیں کیا !

'صحیح نماز نبویﷺ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏نومبر 14، 2015۔

  1. ‏نومبر 14، 2015 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    کسی بھی صحابی سے یہ ثابت نہیں ہے کہ انہوں نے نماز کی تکبیرات کے ساتھ رفع الیدین نہیں کیا !

    سوال:

    کیا خلفائے راشدین سے یہ بات ثابت ہے کہ انہوں نے نماز کی تکبیرات کیساتھ رفع الیدین نہ کیا ہو؟


    الحمد للہ:

    اول:

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت ہے کہ آپ نماز کی تکبیرات کیساتھ چار مقامات پر رفع الیدین کیا کرتے تھے، اور وہ مقام یہ ہیں:

    تکبیرِ تحریمہ کیساتھ، رکوع جاتے ہوئے، رکوع سے سر اٹھانے کے بعد، اور تیسری رکعت کیلئے کھڑے ہونے کے بعد، اس بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ نے حدیث نمبر: (739) میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ:

    "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت نماز میں داخل ہوتے تو تکبیر کہہ کر رفع الیدین کرتے، جس وقت رکوع کرتے تو رفع الیدین کرتے، جب "سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ "کہتے تو اس وقت بھی رفع الیدین کرتے، اور جب دو رکعتوں [کے بعدتشہد ]سے اٹھتے تو تب بھی رفع الیدین کرتے تھے"

    امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "علی بن مدینی رحمہ اللہ - جو اپنے وقت کے سب سے بڑے عالم دین تھے- کہتے ہیں: اس حدیث کی وجہ سے مسلمانوں پر حق بنتا ہے کہ وہ رفع الیدین کیا کریں" انتہی

    بلکہ رفع الیدین کرنے کی احادیث کو صحابہ کرام کی ایک بہت بڑی جماعت نے نقل کیا ہے، جن کی تعداد 30 صحابہ کرام تک چا پہنچتی ہے، ان صحابہ کرام میں :

    ابو حمید رضی اللہ عنہ ہیں، انہوں نے ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سمیت دس صحابہ کرام کی موجودگی میں رفع الیدین کیساتھ نماز پڑھی تو سب نے کہا: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح نماز پڑھی ہے" اسی طرح رفع الیدین کی احادیث کو عمر بن خطاب، علی بن ابی طالب، عبد اللہ بن عمر، وائل بن حجر، مالک بن حویرث، انس، ابوہریرہ ، ابو اسید، سہل بن سعد، محمد بن مسلمہ، ابو موسی، اور جابر بن عمیر لیثی ۔۔۔۔سمیت متعدد صحابہ کرام ہیں۔

    چنانچہ صحابہ کرام کی اتنی بڑی جماعت کے روایت کرنے کی وجہ سے رفع الیدین کی احادیث متواتر کی حد تک پہنچ جاتی ہے، پھر صحابہ کرام نے اس پر عمل بھی کیا، اور رفع الیدین نہ کرنے والوں کی تردید بھی کی۔

    عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب کسی شخص کو رفع الیدین نہ کرتے ہوئے دیکھتے تو اسے حصباء کنکریاں مارتے -حصباء ان چھوٹی چھوٹی کنکریوں کو کہا جاتا ہے جو مسجد کے صحن میں بچھائی جاتی تھیں- اور اسے یہ بھی حکم دیتے کہ نماز میں رفع الیدین کرو، ان کے اس واقعہ کو امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "جزء رفع الیدین " میں بیان کیا ہے، اور اس کی سند کے بارے میں امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: "

    اس کی سند صحیح ہے" المجموع (3/375)

    اور احناف کہتے ہیں کہ رفع الیدین صرف تکبیرِ تحریمہ میں کہنا ہی درست ہے، اور مذکورہ صحیح احادیث کے مقابلے میں دو احادیث لے کر آتے ہیں، ان میں سے ایک براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے ہے، اور دوسری عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے، لیکن یہ دونوں احادیث ہی ضعیف ہیں، ان سے دلیل اخذ کرنا ہی درست نہیں ہے۔

    چنانچہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی حدیث کو سفیان بن عیینہ، امام شافعی، امام احمد، یحیی بن معین، اور بخاری سمیت دیگر محدثین نے ضعیف نے کہا ہے۔

    جبکہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کو عبد اللہ بن مبارک، امام احمد، بخاری، دارقطنی، اور بیہقی سمیت بہت سے محدثین نے ضعیف کہا ہے۔

    دوم:

    اس بارے میں خلفائے راشدین سے منقول موقف کے متعلق پہلے گزر چکا ہے کہ عمر بن خطاب، اور علی رضی اللہ عنہما دونوں ان صحابہ کرام میں شامل ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رفع الیدین کی احادیث بیان کرتے ہیں، اس لئے یقیناً دونوں ہی رفع الیدین بھی کرتے تھے، ان کے بارے میں کوئی اور گمان رکھنا ویسے ہی مناسب نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ علمائے کرام نے انہیں ایسے صحابہ کرام میں شمار کیا ہے جو نماز میں رفع الیدین کیا کرتے تھے۔

    ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے رفع الیدین کے بارے میں ایک روایت ملتی ہے، جس میں رفع الیدین کرنے کے متعلق واضح ترین اشارہ موجود ہے :

    چنانچہ ابن المنذر نے " الأوسط " (3/304) میں امام عبد الرزاق صنعانی سے نقل کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں:

    "اہل مکہ نے نماز کی ابتدا میں ، رکوع جاتے ہوئے، رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے رفع الیدین کرنے کا طریقہ ابن جریج سے لیا ہے، ابن جریج نے عطاء سے لیا ہے، اور عطاء نے ابن زبیر سے لیا،اور ابن زبیر نے ابو بکر صدیق سے لیا، اور ابو بکر صدیق نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لیا"

    بیہقی نے (2535) میں کچھ صحابہ کرام سے رفع الیدین کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا:

    "اور اسی طرح ہمیں رفع الیدین کے بارے میں ابو بکر صدیق، عمر بن خطاب، علی بن ابی طالب، جابر بن عبد اللہ، عقبہ بن عامر، اور عبد اللہ بن جابر بیاضی رضی اللہ عنہم سے روایات ملتی ہیں، جبکہ کچھ لوگوں نے ابو بکر ، عمر، اور علی رضی اللہ عنہم سے یہ نقل کیا ہے کہ وہ نماز میں رفع الیدین نہیں کرتے تھے، تو یہ بات اِن صحابہ کرام سے ثابت نہیں ہے۔

    امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "علی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے یہ ثابت نہیں ہے" یعنی : ابن مسعود اور علی رضی اللہ عنہما سے جو نقل کیا جاتا ہے کہ آپ دونوں نماز میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ کسی جگہ رفع الیدین نہیں کرتے تھے، یہ ثابت نہیں ہے۔

    بلکہ امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی بھی صحابی سے یہ ثابت نہیں ہے کہ انہوں نے نماز میں رفع الیدین نہیں کیا"


    حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کو تکبیر تحریمہ کے وقت، رکوع جاتے ہوئے، رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے، رفع الیدین کرتے ہوئے دیکھا ہے"


    حسن بصری رحمہ اللہ کے اس قول کے بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "حسن بصری رحمہ اللہ نے کسی ایک صحابی کو بھی رفع الیدین کرنے کے عمل سے مستثنی نہیں کیا"


    بلکہ کچھ ائمہ کرام نے خلفائے راشدین سے رفع الیدین کے ثبوت کو بڑے وثوق سے ذکر کیا ہے، حتی کہ بیہقی نے اس مسئلے کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے سب سے آخر میں جو روایت کی ہے وہ امام ابو بکر بن اسحاق فقیہ کی ہے وہ کہتے ہیں:

    "رفع الیدین کا ثبوت [ان جگہوں میں] نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، پھر خلفائے راشدین سے بھی ثابت ہے، اور پھر دیگر صحابہ کرام سمیت تابعین سے بھی ثابت ہے" انتہی

    مزید کیلئے دیکھیں: " الأوسط " از: ابن المنذر (3/299-308) ، " المجموع " از: نووی (3/367-376) اور " المغنی "از: ابن قدامہ (2/171-174)

    واللہ اعلم.

    اسلام سوال و جواب

    http://islamqa.info/ur/224635
     
  2. ‏دسمبر 17، 2015 #2
    کھری بات

    کھری بات مبتدی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 17، 2015
    پیغامات:
    17
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    21

    • حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث ہے:
    • قَالَ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللہ ﷺ اِذا اِفْتَتَحَ الصَّلاۃَ رَفَعَ یَدیْہِ حَتّٰی یُحَاذِیَ بِھِمَا مَنْکِبَیْہِ۔۔۔۔۔۔۔ وَ اِذَا اَرَادَ اَنْ یَّرْکَعَ وَ بَعْدَ مَا یَرْفَعُ رَأسَہٗ مِنَ الرَّکُوعِ لَا یَرْفَعُھُمَا ( صحیح أبی عوانہ: ج:۲، ص: ۹۰ ۔ مسند الحمیدی ، ج: ۲، ص: ۲۷۷)
    • حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ جب نماز شروع فرماتے تو اپنے دونوں کندھوں کے برابر رفع یدین کرتے ۔۔۔۔۔۔ اور جب رکوع کا ارادہ فرماتے اور رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع یدین نہ کرتے۔
    • امام حمیدی رحمہ اللہ حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ و استاذ ہیں۔ (بستان المحدثین: ۲۲۳)
    • محدث ابو عوانہ رحمہ اللہ امام مسلم رحمہ اللہ شاگرد ہیں، اپنی تصنیف صحیح ابو عوانہ میں صحیح مسلم پر تحقیقی کام کیاہے، صحیح مسلم کی احادیث کی مزید سندیں جمع کی ہیں۔ (بستان المحدثین، ۹۵۔۹۸)
    • الغرض دونوں بزرگ عظیم محدث اور ثقہ ہیں۔ ان کی روایت کردہ مذکورہ بالا حدیث صحیح ہے اور ترکِ رفع یدین پر صریح اور واضح دلیل ہے۔
     
    • متفق متفق x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  3. ‏دسمبر 18، 2015 #3
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    مستخرج ابی عوانہ کی روایت سے استدلال کی حقیقت
    مسند حمیدی کی روایت کی حقیقت
    خلاصہ یہ ہے کہ ابو عوانہ و مسند حمیدی کی یہ روایت رفع الیدین کی دلیل ہے نہ کہ ترک رفع الیدین کی ۔
    چاہیے تو یہ تھا کہ آپ حضرات پر ان دونوں اماموں کی بیان کردہ روایات کے ساتھ جو کمی بیشی کرنے کا الزام ہے ، اس کا کوئی جواب دیا جاتا ، لیکن آپ بات ان کی ثقاہت اور عظمت کی طرف لے گئے ہیں تو ذرا ملاحظہ فرمائیں کہ عظیم محدث اور ثقہ امام اس پر عنوان کیا قائم کرتے ہیں :
    بَيَانُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ قَبْلَ التَّكْبِيرِ بِحِذَاءِ مَنْكِبَيْهِ، وَلِلرُّكُوعِ وَلِرَفْعِ رَأْسِهِ مِنَ الرُّكُوعِ، وَأَنَّهُ لَا يَرْفَعُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ
    گویا امام صاحب نے باب قائم کرکے یہ بات ثابت کردی ہے کہ یہ روایت رفع الیدین کی دلیل ہے نہ کہ ترک رفع الیدین کی ۔
     
  4. ‏دسمبر 20، 2015 #4
    محمد ابراہیم خان نعمانی

    محمد ابراہیم خان نعمانی رکن
    جگہ:
    کوپر، مالاکنڈ- پاکستان
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 28، 2015
    پیغامات:
    81
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    58

    یہ فرد جرم تو آپ پر ہے کیونکہ اہل حَدَث و بدعت آپ ہیں، نئی نئی باتو ں کے "انکشاف" کا بیڑا آپ نے اٹھایا ہوا ہے۔ قدیم مخطوطات دیکھیں اور اس سے ثابت کریں۔مجھے معلوم ہے کہ اب آپ لوگوں نے روافض کی اس سنت پر عمل پیرا ہوکر اپنے مطابع سے محرف نسخے نکالنے بھی شروع کئے ہیں اورالٹا جمہور امت کے خلاف تحریف کے ڈھنڈورے پیٹنے شروع کئے ہیں۔ ایک آسان بات: زیادہ دور نہ جائیے! آپ مکتبہ شاملہ اٹھائیے زیادہ تر آپ ہی کی کتابوں سے بھرا پڑا ہے، اس میں دونوں مسند دیکھ لیجئے اور پھر بتائیے۔
    یہاں توآپ ترجمۃ الباب کے بھروسے پر کتنا سنگین قیاس و استدلال کر رہے ہیں کہ صحیح حدیث سے آنکھیں بند کرکے الٹا اس میں تحریف کی جسارت کر رہے ہیں، عجیب خبط ہے۔ دوسری جگہوں پر آپ کسی ترجمۃ الباب وغیرہ کی کچھ پرواہ نہیں کرتے۔ یہاں چونکہ انتصارمذہب کا سوال ہے اور رفع الیدین کو عقیدے سے بڑھ کر آپ کو عقیدت ہے اس لئے رجما بالغیب تحریف کی چیخیں مارنا اور بے سر وپا اتہمات تھوپنا آپ کیلئے انتہائی سہل و آسان اور بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ بجائے اس کے اگر صریح و صحیح حدیث کیلئے صحیح اور معقول راستہ تاویل، ترجیح، تطبیق و توفیق کرتے یا انتہائی مجبوری کی صورت میں مثلا مصنف کی بھول چوک یا غلطی وغیرہ کا عذر کرتے تو کیا ہی بہتر ہوتا، بجائے اس کے جیسے روافض کے خلاف کوئی حجت پیش کرو تو قرآن میں تحریف کا عذر تراش لیتے ہیں، آپ بھی آب شیریں کی طرح اہل کتاب اور روافض کے لائق اس منحوس لفظ کو مستعار لے کرمانوس کروا رہے ہوں ۔ ائمہ سلف کا طریقہ یہ نہیں تھا، وہ اجتہاد اور علم کے راستے سے نصوص کو لے کر چلے اور بقول حافظ ابن حجر: جاوزوا القنطرة، پل کے پار چلے گئے۔ میں اور آپ ابھی خطرے میں ہیں، کہیں ہمچوما دیگرے نیست کے زعم میں جہنم برد ہی نہ ہو جائیں۔ معاذ اللہ۔
    ع
    وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
    ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام

    بار خدایا! امسكني في الفتن و وفقني لأن ابادر بالاعمال فتنا كقول حبيبي صلى الله عليه و على آله و صحبه و سلم: [بادروا بالاعمال فتنا كقطع الليل المظلم يصبح الرجل مومنا و يمسي كافرا ا و يمسي مؤمنا و يصبح كافرا يبيع دينه بعرض من الدنيا]۔[ مسلم ]۔ آمین۔
     
    • ناپسند ناپسند x 3
    • غیرمتفق غیرمتفق x 2
    • لسٹ
  5. ‏دسمبر 20، 2015 #5
    محمد ابراہیم خان نعمانی

    محمد ابراہیم خان نعمانی رکن
    جگہ:
    کوپر، مالاکنڈ- پاکستان
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 28، 2015
    پیغامات:
    81
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    58

    تصحیح:
    "اور رفع الیدین کو عقیدے سے بڑھ کر آپ کو عقیدت ہے"
    کو
    "اور رفع الیدین کیساتھ عقیدے سے بڑھ کر آپ کو عقیدت ہے"
    پڑھیں۔
     
  6. ‏دسمبر 20، 2015 #6
    محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2011
    پیغامات:
    1,955
    موصول شکریہ جات:
    5,774
    تمغے کے پوائنٹ:
    354

    محترم خان صاحب۔آپ بار بار غلطیاں کرکے ا پنی تصیح کررہے ہیں۔لگتا ہے آ پ ہوش میں نہیں بلکہ جوش میں لکھ رہے ہیں؟؟؟صبر سے دوسروں کا موقف بھی پڑھیں اور اپنا موقف بھی سکون سے پیش کریں۔شکریہ
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  7. ‏دسمبر 20، 2015 #7
    محمد ابراہیم خان نعمانی

    محمد ابراہیم خان نعمانی رکن
    جگہ:
    کوپر، مالاکنڈ- پاکستان
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 28، 2015
    پیغامات:
    81
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    58

    سبحان اللہ! نہیں بلکہ جوش صاحب ہیں اوریہ بھی ان کی طرف سے غصہ نکالنے کا ایک طریقہ ہے۔ ؛-))
    ع
    جھپٹ کر پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا
    لہو گرم رکھنے کا ہے ایک بہانہ
    میں تو غلطی کرکےفوری اقرار یعنی تصحیح کرلیتا ہوں اور آپ ہیں کہ غلطی پہ غلطی کئے جا رہے ہیں لیکن نہ تصحیح نہ رجوع ۔
    حضرت عبدالرحمن بابا کا ایک پشتو شعر ہے:
    ع
    لگہ نہ دہ کہ ہر سو گناہ وی لگہ
    چہ دا لگہ لگہ جمع شی بسیار شی
    ترجمہ:
    تھوڑا نہیں ہر چند گناہ ہو تھوڑا
    ہو بسیارجو ہو جمع گناہ تھوڑا تھوڑا
     
  8. ‏دسمبر 20، 2015 #8
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    پورے مراسلے میں موضوع سے متعلق دو تین سطریں ہیں ، اس کے علاوہ باقی سب اتہامات و افتراءات ہیں ۔
    خیر گزارش ہے کہ دو مخطوطوں کی تصویر موجود ہے وہاں ، دیکھ لیں ۔ اور اگر وہ دیکھ چکے ہیں لیکن طبیعت کے موافق نہیں آیا تو اس کے مقابل جو آپ کے پاس مخطوط ہے وہ پیش فرمادیں ۔
    آپ کی اس تحقیق دانی پر سوائے اس کے کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ ألا فليبك على التحقيق من كان باكيا ۔
    ’’عجیب خبط ‘‘ سے باہر نکلیں اور دماغ استعمال کریں ، اور اگر عقل پر پردہ پڑا ہوا ہے تو ساتھ بیٹھے کسی عام آدمی سے پوچھ لیں کہ :
    امام صاحب نے باب باندھا ہے رفع الیدین کے اثبات کا ، اس کے تحت وہ رفع الیدین کے اثبات کی دلیل لائیں گے یا ترک کی ؟
    تحریف کرنے والوں کو حیا نہیں آئی کہ کم از کم امام صاحب کے قائم کردہ عنوان کا ہی خیال کیا ہوتا ۔
    اور یہاں انتصار مذہب کی بات نہیں ، سیدھا سیدھا صاحب کتاب کی عقل و بصیرت پر قدغن ہے ، کہ اوپر ’’ اثبات ‘‘ کا عنوان قائم کرکے نیچے ’’ نفی ‘‘ کی دلیل ذکر کی جارہی ہے ۔
    رہا انتصار مذہب تو رفع الیدین کے ایک سو ایک دلائل ، اور یہی حدیث کئی اور کتابوں میں موجود ہے ، جہاں تک کتب حدیث سے کھلواڑ کرنے والوں کے ہاتھ ابھی تک نہیں پہنچے ۔
     
    • پسند پسند x 4
    • ناپسند ناپسند x 1
    • لسٹ
  9. ‏دسمبر 20، 2015 #9
    محمد ابراہیم خان نعمانی

    محمد ابراہیم خان نعمانی رکن
    جگہ:
    کوپر، مالاکنڈ- پاکستان
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 28، 2015
    پیغامات:
    81
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    58

    کیا غیظ و غضب ہے ،،، دیدنی ہے ویسے! ہم پر تو غصہ کی پابندی لگ گئی ہے، آپ پر بھی لگنی چاہئے۔ ؛-)
    کہاں پر موجود ہے؟ آپ متعین طور پر بتادیں۔ ہم دیکھ کر ہی کچھ عرض کر سکتے ہیں۔ مخطوط کا کچھ تعارف وغیرہ ہے؟ کہاں سے نقل لی گئی ہے، کتنا پرانا ہے، کتب خانہ وغیرہ؟۔۔۔۔
    بھائی! میں پہلے مخطوطات کی بات کرچکا تھا، شاملہ کی بات بعد میں اس لئے کی کہ اس کی تصدیق ہر شخص کیلئے آسان ہے۔ باقی شاملہ کا نسخہ بھی تو کسی قلمی یا مطبوعہ نسخے پر مبنی ہوتاہے جس کا تعارف وہاں پر دیا ہوتا ہے۔ مثلا مستخرج ابی عوانہ کا تعارف کچھ اس طرح سے ہے:

    القسم : متون الحديث
    الكتاب: مستخرج أبي عوانة
    المؤلف: أبو عوانة يعقوب بن إسحاق بن إبراهيم النيسابوري الإسفراييني (المتوفى: 316هـ)
    تحقيق: أيمن بن عارف الدمشقي
    الناشر: دار المعرفة - بيروت
    الطبعة: الأولى، 1419هـ- 1998م.
    عدد الأجزاء: 5
    [ترقيم الكتاب موافق للمطبوع، وهو ضمن خدمة التخريج]

    جبکہ مسندی حمیدی کا تعارف یہ دیا ہے:

    القسم : متون الحديث
    اسم الكتاب: مسند الحميدي
    المؤلف: أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي (المتوفى: 219هـ)
    حقق نصوصه وخرج أحاديثه: حسن سليم أسد الدَّارَانيّ
    الناشر: دار السقا، دمشق - سوريا
    الطبعة: الأولى، 1996 م
    عدد الأجزاء: 2
    [ترقيم الكتاب موافق للمطبوع، وهو ضمن خدمة التخريج]

    تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے!! ہاں اگر مکتبہ شاملہ کے بارے میں بھی وہم ہے کہ ان کی "محرفین" سے ملی بھگت ہے تو پھر اس کا علاج نہیں۔
     
  10. ‏دسمبر 20، 2015 #10
    محمد ابراہیم خان نعمانی

    محمد ابراہیم خان نعمانی رکن
    جگہ:
    کوپر، مالاکنڈ- پاکستان
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 28، 2015
    پیغامات:
    81
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    58

    یہاں ایک سوال یہ بھی ہے کہ حدیث رسول صلی اللہ وسلم میں تحریف مشکل ہے یا ترجمۃ الباب میں؟؟ اس بات کا مطلب دو طرح سے ہے:
    1. اگر تحریف حدیث رسول میں کی گئی ہے جو کوئی مسلمان کافر بن کر ہی کرسکتا ہے تو پھر اس کیلئے ترجمۃ الباب میں کرنا کچھ مشکل نہیں۔ اگر آپ کہے کہ وہ عقل و بصیرت سے عاری تھا تو سبحان اللہ، اتنی دقیق تحریف کہ سمجھائے بغیر سمجھ نہ آسکے اور توجہ دلائے بغیر کوئی اس کی طرف صدیوں تک متوجہ نہ ہوسکے اور ایک ایسی تحریف جو آپ کےبقول کسی موٹی عقل کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ " اگر عقل پر پردہ پڑا ہوا ہے تو ساتھ بیٹھے کسی عام آدمی سے پوچھ لیں کہ : امام صاحب نے باب باندھا ہے رفع الیدین کے اثبات کا ، اس کے تحت وہ رفع الیدین کے اثبات کی دلیل لائیں گے یا ترک کی ؟"، اس سے وہ محرف صاحب کیسے صاف چوک گیا!! اس کا جواب آپ کے ذمہ ہوگیا۔
    2. اگر تحریف ترجمۃ الباب میں کی گئی ہے تو یہ زیادہ قرین قیاس ہے بہ نسبت حدیث نبوی کے۔ کیونکہ مستخرج احادیث کی زائد سندوں کا استخراج کرتا ہے اور صحیح سند کےمتن میں اضطراب ہوسکتا ہے۔ اور حضرت ابن عمر کی احادیث میں اضطراب، دوسروی کتابوں سے بھی ثابت ہے۔ خیر ترجمۃ الباب میں تحریف آپ پسند کرتے ہیں یا حدیث میں؟
    یہ اشکالات میرے ذہن میں تیر رہے ہیں، آپ مہربانی فرماکر اس کو دور فرمائیں۔
    ایک سوال اور ہے:کیا مسند حمیدی بھی آپ کے خیال میں محرف ہے۔ اس میں یہ روایت ابو عوانہ سے قدرے مختلف ہے اور اس میں وہ والی منطق بھی نہیں چل سکتی کیونکہ یہاں پر نہ باب ہے اورنہ صرف حرف واو کا مسئلہ ہے، بلکہ واو لگانے کے بعد: ولا يرفع ولا بين السجدتين۔ کا مسئلہ بھی کھڑا ہوتا ہے۔ خیر یہ روایت ملاحظہ فرما رکر اپنی رائے سے نوازیں:
    حدثنا الحميدي قال ثنا الزهري قال أخبرني سالم بن عبد الله عن أبيه قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا افتتح الصلاة رفع يديه حذو منكبيه وإذا أراد أن يركع وبعد ما يرفع رأسه من الركوع فلا يرفع ولا بين السجدتين۔
    شکریہ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں