1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ہم کس کی مانیں محدث فورم کے احادیث کے مجموعہ کی یا کفایت الله صاحب کی

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از وجاہت, ‏فروری 02، 2017۔

  1. ‏فروری 08، 2017 #41
    وجاہت

    وجاہت رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مئی 03، 2016
    پیغامات:
    421
    موصول شکریہ جات:
    41
    تمغے کے پوائنٹ:
    45

    ایک طرف غلام مصطفیٰ ظہیر صاحب اور ایک طرف آپ - ؟؟؟؟؟
     
  2. ‏فروری 08، 2017 #42
    وجاہت

    وجاہت رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مئی 03، 2016
    پیغامات:
    421
    موصول شکریہ جات:
    41
    تمغے کے پوائنٹ:
    45

    file-page1.jpg file-page528.jpg file-page529.jpg file-page530.jpg file-page531.jpg


    @ابن داوود بھائی اب اس میں کون سی مرفوع حدیث صحیح ہے اور کون سی ضعیف
     
  3. ‏فروری 08، 2017 #43
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,042
    موصول شکریہ جات:
    2,571
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    آپ کو انقطاع کی دلیل دی جا چکی ہے، اب ایک طرف دلیل ہے، اور ایک طرف غلام مصطفی ظہیر!
    یا آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ایک طرف امام نسائی اور ایک طرف غلام مصطفی ظہیر!
    یہ بات بھی بتلائی گئی کہ اگر آپ نے دلیل کو نظر انداز کرکرے کسی کی بات ہی ماننی ہے، تو امام نسائی کی مان لیں!
    ویسے یہ بھی بتلا دوں کہ غلام مصطفی ظہیر کے مؤقف کو بھی مرزا جہلی جیسے رافضیت زدہ لوگ نہیں مانتے۔ یہ دیڈیوز ملاحظہ فرمائیں:
    سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رافضیوں اور نیم رافضیوں کے اشکالات کے جوابات ازشیخ غلام مصطفی ظہیر
    اس ویڈیو میں 10 منٹ سے سنیں!
    اس ویڈیو میں شیخ غلام مصفطیٰ ظہیر خود اسے منقطع اور ضعیف سند قرار دے رہے ہیں، اور اس کتاب کے اس حکم سے رجوع کا اعلان بھی کیا ہے!
    الحمدللہ!
    اس سائٹ پر اور بھی بہت دیڈیو ہیں، دیکھئےگا!
    دیکھیں وجاہت صاحب! آپ کے جاہل ہونے میں مجھے کوئی شک پہلے بھی نہیں تھا، اور یہ آپ نے ایک اور ثبوت دے دیا!
    اس میں مرفوع حدیث ہر روایت میں صحیح ہے!
     
    Last edited: ‏فروری 08، 2017
  4. ‏فروری 08، 2017 #44
    وجاہت

    وجاہت رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مئی 03، 2016
    پیغامات:
    421
    موصول شکریہ جات:
    41
    تمغے کے پوائنٹ:
    45

    ارے بھائی آپ کے الفاظ کا شکریہ -

    اوپر زبیر علی زئی رحمہ الله کا موقف آپ نے دیکھا ہے - کیا وہ صحیح ہے -
     
  5. ‏فروری 08، 2017 #45
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,042
    موصول شکریہ جات:
    2,571
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    شیخ زبیر علی زئی نے ہم سے جداگانہ بات نہیں کی!
     
  6. ‏فروری 08، 2017 #46
    وجاہت

    وجاہت رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مئی 03، 2016
    پیغامات:
    421
    موصول شکریہ جات:
    41
    تمغے کے پوائنٹ:
    45

    کیسے جناب
     
  7. ‏فروری 08، 2017 #47
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,042
    موصول شکریہ جات:
    2,571
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    ان احادیث کے متعلق اسی تھریڈ میں ہمارے کلام کا مطالعہ کیجئے!
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏فروری 09، 2017 #48
    غازی

    غازی رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 24، 2013
    پیغامات:
    113
    موصول شکریہ جات:
    170
    تمغے کے پوائنٹ:
    76

    اولا:
    آپ شعیب ارنووط کے قول کو لیکر کیوں بیٹھ گئے کیا وہ دلیل ہے ؟

    ثانیا:
    آپ نےاحمد شاکر رحمہ اللہ کا فیصلہ پیش کیا تھا وہ کس حدیث کے تحت تھا؟ یہ آپ بھول گئے یہ متن میں نے نقل کیا تھا۔
    اسی طرح آپ بھی شعیب ارنووط کے فیصلہ والا متن نقل کرسکتے ہیں خود نقل کرکے اپنی بات رکھیں ۔

    ویسے ہمیں اندازہ ہے کہ آپ کیا گل کھلاسکتے ہیں ۔
    اور اس کا جواب بھی ہم رکھتے ہیں آپ بسم اللہ توکریں ۔۔
     
  9. ‏فروری 12، 2017 #49
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    214
    موصول شکریہ جات:
    22
    تمغے کے پوائنٹ:
    36


    ھلال بن یساف
    یہ تابعین میں سے ہیں اور انہوں نے علی رضی اللہ عنہ کا دور پایا ہے مگر ان سے سماع ثابت نہیں ہے چنانچہ امام بخاری نے تار یخ الکبیر میں بالجزم نقل کی ہے کہ ان کا سماع ابی مسعود البدری سے ثابت ہے

    هلال بْن يساف أَبُو الحسن أدرك عليا قال مروان (ابن معاوية عن اسمعيل ) عَنْ هلال سَمِعَ أبا مَسْعُود الْأَنْصَارِيّ، وقَالَ مروان عَنْ أَبِي مالك عَنْ هلال بْن يساف مولى أشجع، روى عَنْهُ منصور بْن المعتمر وحصين وسَمِعَ سلمة بْن قيس.

    اور جامع التحصیل میں موجود ہے
    هلال بن يساف كان يحيى بن سعيد ينكر أنه سمع من أبي مسعود البدري وفي التهذيب أنه روى عن أبي الدرداء رضي الله عنه وقال الحافظ الذهبي وكأنه مرسل قلت له رؤية عن علي رضي الله عنه ولم يسمع منه(ترجمہ 853)
    امام ابن سعد نے بھی ان کو کوفہ کےطبقہ الثانیہ میں رکھا ہے
    اور انہوںان کے اساتذہ میں "سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل القرشى" کا نام موجود ہے
    چنانچہ البانی صاحب نے اسی وجہ سے ان کی ایک حدیث کو سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے صحیح قرار دیا ہے
    حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ فِتْنَةً، فَعَظَّمَ أَمْرَهَا، فَقُلْنَا: - أَوْ قَالُوا: - يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَئِنْ أَدْرَكَتْنَا هَذِهِ لَتُهْلِكَنَّا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَلَّا، إِنَّ بِحَسْبِكُمُ الْقَتْلَ» ، قَالَ سَعِيدٌ: «فَرَأَيْتُ إِخْوَانِي قُتِلُوا(سنن ابو داود رقم 4277)
    امام بخاری نے عبداللہ بن ظالم المازنی کے ترجمہ میں ان دو احادیث کا ذکر کیا ہے جو عبداللہ بن ظالم سے نقل ہوئی ہیں جس کو غازی صاحب رواۃ کا اختلاف نقل فرما رہے تھے
    چنانچہ امام بخاری نے عشرہ مبشرہ والی حدیث نقل کی ہے جو ایک سفیان ثوری کی سند سے آئی ہے اور دوسری حصین بن عبدالرحمن کی سند سے نقل ہوئی ہے

    (1) عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ظَالِمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَشَرَةٌ في الْجَنَّةِ، قَاله عُبَيْدُ بْنُ سعيد عن سفيان: عن منصورعَنْ هِلالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ التَّمِيمِيِّ، سَمِعَ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
    یہ پہلی سند ہے جس کو غازی صاحب نے امام نسائی کے مطابق انقطاع مانا ہے جبکہ امام بخاری کے نذدیک یہ سند متصل ہے کیونکہ ھلال بن یساف کو 40 ہجری میں موجود مانتے ہیں اور اور سعید بن زید سے ان کی ملاقات ثابت ہے اور دوسری حصین سے نقل کی ہے
    وَقَالَ مُسَدَّدٌ عَنْ خَالِدٍ عَنْ حُصَيْنٍ مِثْله وَلَمْ يَقُلِ التَّمِيمِيُّ،
    اس پر موصوف نے ڈبل انقطاع کا حکم صادر کیا ہے جبکہ اس میں صاف موجود ہے کہ "عن حصین مثلہ ولم یقل التمیمی" حصین کی سند سے بھی اسی طرح بیان ہوا ہے مگر اس میں (عبداللہ بن ظالم) کو التمیمی نہیں کہا ہے
    اس سے معلوم ہوا ہے امام بخاری اسی حدیث(عشرہ مبشر) کی دوسری سند بتا رہے جس میں عبداللہ بن ظالم کو المازنی کہا گیا ہے اس کے بعد امام بخاری نے اس عبداللہ بن ظالم سے دوسری حدیث کی سند نقل کی ہے جس میں یہ بتایا ہے کہ یہ ھلال بن یسارف نے بلاواسطہ(یعنی عبداللہ بن ظالم ) کے واسطے کے بغیر سعید بن زید سے روایت کیا ہے
    وَقَالَ أَبُو الأَحْوَصِ: عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلالٍ عَنْ سَعِيد عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَادَ بَعْضُهُمُ ابْنَ حَيَّانَ فيهِ وَلَمْ يَصِحَّ، وَلَيْسَ لَهُ حَدِيثٌ إِلا هَذَا وَبِحَسْبِ أَصْحَابِي الْقَتْلُ، رَوَى عَنْهُ عَبْدُ الملك ابن مَيْسَرَةَ.

    یہ وہ سند ہے "ابو الاحوص عن منصور عن ھلال عن سعید" اس کے بعد امام بخاری نے یہ بتایا کہ اس دونوں احادیث کی اسناد میں بعض ابن حیان کے واسطے کا اضافہ کرتے ہیں جو صحیح نہیں ہےچنانچہ یہی نقل کیا ہے"
    وَزَادَ بَعْضُهُمُ ابْنَ حَيَّانَ فيهِ وَلَمْ يَصِحَّ، "
    امام بخاری نے اس کا رد کیا ہے کہ جو ھلال بن یساف اور عبداللہ ظالم کے درمیان ابن حیان کے واسطے کے قائل ہیں کیونکہ ھلال بن یساف نے 40 ہجری میں موجود تھے اور ان کو یہ عبداللہ بن ظالم سے روایت کرنے کے لئے کسی واسطے کی حاجت نہیں کیونکہ وہ خود موجود تھے یہاں تک کے سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے بھی ان کا روایت کرنا ثابت ہے
    اور پھر امام بخاری نے یہ لکھا کہ" وَلَيْسَ لَهُ حَدِيثٌ إِلا هَذَا وَبِحَسْبِ أَصْحَابِي الْقَتْلُ، رَوَى عَنْهُ عَبْدُ الملك ابن مَيْسَرَةَ.
    "اس (عبداللہ بن ظالم) سے صرف یہ ایک حدیث ثابت ہے اوروہ یہ ہے" وَبِحَسْبِ أَصْحَابِي الْقَتْلُ،"اس کو عبدالملک بن میسرۃ نے عبداللہ بن ظالم سے روایت کیا ہے
    اب ہم وہ اسناد بھی پیش کردیتے ہیں تاکہ بات اور واضح ہو جائے

    حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنِ ابْنِ إِدْرِيسَ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ، وَسُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ الْمَازِنِيِّ، ذَكَرَ سُفْيَانُ رَجُلًا فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ الْمَازِنِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ(سنن ابوداود رقم 4648)
    اور امام نسائی
    نے اپنی الکبری میں اس کی دونوں اسناد الگ نقل کی ہیں اور ابن حیان کا اضافہ بھی کیا ہے جس کو امام بخاری نے رد کیا ہے کہ یہ اضافہ صحیح نہیں ہےأَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنِ ابْنِ حَيَّانَ، عَنْ
    عَبْدِ اللهِ بْنِ ظَالِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ
    (
    (سنن نسائی الکبری رقم 8136

    أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ حَصِينٍ، عَنْ هِلَالٍ، عَنْ
    عَبْدِ اللهِ بْنِ ظَالِمٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ
    (سنن نسائی الکبری رقم 8134)

    دوسری حدیث "بحسب اصحابی القتل" والی کی سند یہ ہے

    حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ فِتْنَةً، فَعَظَّمَ أَمْرَهَا، فَقُلْنَا: - أَوْ قَالُوا: - يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَئِنْ أَدْرَكَتْنَا هَذِهِ لَتُهْلِكَنَّا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَلَّا، إِنَّ بِحَسْبِكُمُ الْقَتْلَ» ، قَالَ سَعِيدٌ: «فَرَأَيْتُ إِخْوَانِي قُتِلُوا»(سنن ابو داود رقم4277)
    اسی سند کو شیخ البانی نے ابوداود کی تخریج میں صحیح قرار دیا ہے اور احمد شاکر نے بھی مسند احمد رقم 1630 کے تحت یہ نقل کیا ہے "ھلال بن یساف:تابعی ثقۃ،سبق الکلام علیہ فی610،وقد جزم البخاری فی الکبیربانہ ادرک علیا وسمع ابا مسعود البدری الانصاری، وابو مسعودمات 40 فان یکون سمع سعید بن زید اولی(مسند احمد رقم 1630)

    اس سے ثابت ہے کہ ھلال بن یساف کا سعید بن زید رضی اللہ سے سماع ثابت ہے اور ان کی استاذ شاگردی کو بھی امام مزی نے تھذیب الکمال میں نقل کیا ہے
    اور اس کی ایک سند اور ہے جس میں ھلال بن یساف نے عبداللہ ظالم سے اسی حدیث کو روایت کیا ہے

    حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَ: نَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: نَا مِسْعَرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِحَسْبِ أَصْحَابِي الْقَتْل(مسند البزار رقم1262)
    امام بخاری کا ان دونوں میں سے ایک حدیث (بحسب اصحابی القتل)کو ماننا اور دوسرے کے انکار کی وجہ یہ ہے کہ عشرہ مبشرہ والی روایت ان کو صرف ھلال بن یساف عن عبداللہ بن ظالم کی سند سے ملی ہے اور امام بخاری عبداللہ بن ظالم کے ضعف کے قائل تھے چنانچہ ابن حجر رحمہ اللہ تقریب میں نقل کرتے ہیں کہ "صدوق لينه البخارى(تقریب التھذیب) اور دوسری روایت چونکہ ھلال بن یساف عن سعید بن زید رضی اللہ بھی ثابت ہے جیسا ہم نے دونوں اسناد نقل کی ہے اس بنا پر امام بخاری نے دوسری حدیث"بحسب اصحابی القتل" کو صحیح کہا ہے ان تمام دلائل سے ثابت ہے کہ ھلال بن یساف کا سماع عبداللہ بن ظالم سے بھی ثابت ہے اور سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے بھی ثابت ہے چنانچہ اگر اب بھی غازی صاحب یہ مانتے ہیں کہ ھلاف بن یساف کا عبداللہ بن ظالم سے سماع ثابت نہیں اور وہ امام نسائی کے قول پر اعتماد رکھتے ہیں تو پھر موصوف کو یہ ماننا ہو گا کہ سنابلی صاحب نے جو اپنی کتاب "یزید پر الزامات کا جائزہ" میں نقل کیا ہے کہ حسین رضی اللہ عنہ نے یزید کو امیر المومنین کہا ہے اور اس کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی درخواست کی تھی وہ روایت بھی ضیعف ہو جائے گی پڑھ لیں
    yazeed ko ameer.JPG

    اس میں ھلال بن یساف واقعہ کربلا بتا رہے ہیں اگر ان کا سماع عبداللہ بن ظالم سے ثابت نہیں ہے اور درمیان میں ایک واسطہ موجود ہے جو ابن حیان ہے اس ابن حیان کو صغار تابعین کے دور کا بتایا گیا ہے اور صغائر تابعین نے واقع حرہ کا دور نہیں پایا چنانچہ سنابلی صاحب نے اپنی کتاب میں لکھا ہے

    ظالم سے ثابت نہیں ہے اور درمیان میں ایک واسطہ موجود ہے جو ابن حیان ہے اس ابن حیان کو صغار تابعین کے دور کا بتایا گیا ہے اور صغائر تابعین نے واقع حرہ کا دور نہیں پایا چنانچہ سنابلی صاحب نے اپنی کتاب میں لکھا ہے
    ظالم سے ثابت نہیں ہے اور درمیان میں ایک واسطہ موجود ہے جو ابن حیان ہے اس ابن حیان کو صغار تابعین کے دور کا بتایا گیا ہے اور صغائر تابعین نے واقع حرہ کا دور نہیں پایا چنانچہ سنابلی صاحب نے اپنی کتاب میں لکھا ہے

    hasam bn hasan.JPG


    جس طرح ہشام بن حسان نے واقعہ حرہ نہیں پایا اسی طرح پھر ھلال بن یساف نے کس طرح واقعہ کربلا پالیا کیونکہ ان کے شیخ تو صغائر تابعین کے دور کے ہیں
    اللہ ہم کو ہدایت دےکہ ہم اس قیمتی علم(علم حدیث) کو بدنام نہ کریں

     
  10. ‏فروری 12، 2017 #50
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    214
    موصول شکریہ جات:
    22
    تمغے کے پوائنٹ:
    36

    آخر میں جو سند میں نے نقل کی تھی وہ یہ ہے جس کو غازی صاحب نے کچھ اور بتادیا تھا
    حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَحَجَّاجٌ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ صَيَّاحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَخْنَسِ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ خَطَبَ، فَنَالَ مِنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: فَقَامَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " رَسُولُ اللهِ فِي الْجَنَّةِ، وَأَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ، وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي الْجَنَّةِ، وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ، وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ، وَسَعْدٌ فِي الْجَنَّةِ "، ثُمَّ قَالَ: إِنْ شِئْتُمِ أخْبَرْتُكُمْ بِالْعَاشِرِ، ثُمَّ ذَكَرَ نَفْسَه(مسند احمد1637)
    اور غازی صاحب نے یہ سند دیکھائی تھی
    حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ هِلالِ بْنِ يِسَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ظَالِمٍ، قَالَ: خَطَبَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَنَالَ مِنْ عَلِيٍّ، فَخَرَجَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، فَقَالَ: أَلا تَعْجَبُ مِنْ هَذَا يَسُبُّ عَلِيًّا؟ . أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّا كُنَّا عَلَى حِرَاءٍ - أَوْ أُحُدٍ -، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اثْبُتْ حِرَاءُ - أَوْ أُحُدُ - فَإِنَّمَا عَلَيْكَ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ "، فَسَمَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَةَ فَسَمَّى: " أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، وَعَلِيًّا، وَطَلْحَةَ، وَالزُّبَيْرَ، وَسَعْدًا، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، وَسَمَّى نَفْسَهُ سَعِيدًا(رقم 1638)
    اللہ سب کو مسلمان سے بدگمانی کرنے سے بچائے آمین
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں