1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

’’خارجیت، سبائیت اورشیعیت‘‘ بجواب ’’رافضیت ، ناصبیت اوریزیدیت‘‘ (نقد وتبصرے)۔

'تاریخی روایات' میں موضوعات آغاز کردہ از کفایت اللہ, ‏اگست 18، 2012۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. ‏اگست 21، 2016 #81
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,368
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    اصل فتنہ سیدنا الامام عثمان کے خلاف بغاوت اور انکی شہادت سے شروع ہوا تھا ،
    سبائیت جو روافض کی جڑ ہے ، اسی نے صحابہ دشمنی ، خلافت اسلامیہ سے بغاوت کا گند پھیلایا ،
    اور جن کی حکومت کیلئے ابن سباء اینڈ کمپنی نے ظلم کے یہ سب انداز اپنائے ، ان کی حکومت و خلافت بھی اختلاف کی نظر ہوگئی ،
    آپ نے لکھا :
    تعجب ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کو سیدنا الامام معاویہ رضی اللہ عنہ پر گرفت کا شوق ہے ، اورآپ ایک کتاب سے خود ایک سند نہیں دیکھ سکتے۔
    ہمارے ملک میں دشمنان صحابہ بالعموم جاہل لوگ ہیں ،
    میں نے ’’ بسندہ ‘‘ لکھا وہ بھی آپ کو سمجھ نہیں آیا ۔ اور آپ نے اسے ’’ بسند ‘‘ بنا دیا ۔
    آپ کو سمجھ تو نہیں آنی ۔۔ بہرحال۔۔۔ اس روایت کی اسناد پیش ہے ،
    أخبرنا إسماعيل بن إبراهيم، عن ابن عون، عن الحسن قال: أنبأني وثاب، وكان فيمن أدركه عتق أمير المؤمنين عمر , وكان بين يدي عثمان ورأيت بحلقه أثر طعنتين كأنهما كيتان طعنهما يومئذ يوم الدار دار عثمان قال:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور آپ نے بڑی جرات سے غلط بیانی کرتے ہوئے لکھا کہ :
    کوئی اہل حدیث کسی بھی صحابی کی ادنی سی توہین نہیں کرسکتا ، چہ جائیکہ سیدنا الامام معاویہ اور دیگر نامور صحابہ کے خلاف مہم چلائے ۔
    لہذا یہ دھوکہ دہی کہ آپ ’’ اہل حدیث ‘‘ ہیں نہیں چل سکتی ۔
    آپ جو فکر پھیلانے کے چکر میں ہیں وہ جہلم کے ایک ’’ مرزا ‘‘ گمراہ کی چلائی ہوئی گمراہی ہے ،
    اس سے پہلے ’’ مولوی جھال والا ‘‘ صحابہ کے خلاف جھاگ بہا بہا کر جہان فانی سے رخصت ہوچکا ۔
    اس لئے گذارش ہے کہ :
    یہ دھوکہ دہی کامیاب نہیں ہوسکتی ۔۔۔ اس لئے اپنے ’ گروپ ‘‘ کا نام حسب حال تجویز فرماکر شکریہ کا موقع دیں،
    مثلاً جیسے (محبان ابن سباء ) یا (لشکر ابن السوداء ) یا (آل اشتر نخعی ) وغیرہ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  2. ‏اگست 21، 2016 #82
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,368
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    یہاں بھی آپ نے دھوکہ دہہی سے کام لیتے ہوئے ’’ جمہور ‘‘ کا لفظ استعمال کرلیا ۔
    اور حافظ ابن حجرؒ کی عبارت ترجمہ ہی نہیں کیا ، تاکہ عربی نہ سمجھنے والے اسے جرح سمجھیں ، حالانکہ :
    حافظ صاحب کی عبارت واضح ہے :
    كنانة مولى صفية يقال اسم أبيه نبيه مقبول ضعفه الأزدي بلا حجة من الثالثة (تقریب التھذیب )

    یعنی سیدہ صفیہ کے غلام جناب کنانہ جن کے والد کا نام ۔۔ نبیہ ۔۔ ہے ،وہ مقبول درجہ کے راوی ہیں ،
    اور ازدی نے بغیر کسی دلیل کے ان کو ضعیف کہا ہے ‘‘

    لیجئے امام ابن حجر تو انکے ضعیف ہونے کی نفی کر رہے ہیں ، اور آپ ہیں کہ حافظ صاحب کے کلام سے انہیں ضعیف بنانے پر تلے ہیں ،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور تحریر التقریب کے حوالے سے جو لکھا کہ :
    عرض ہے کہ ان
    ’’ دیگر محدثین ‘‘ کا کلام اصل مصدر سے سامنے لائیں ، تو ان پر بات کی جاسکتی ہے ، ہوائی تیر چھوڑنے سے معاملہ حل نہیں ہوسکتا
    دوسری بات یہ کہ ’’ شاید آپ نہیں جانتے :

    تحریر التقریب کے مصنف تو ہمارے دور کے دو عالم ہیں ، امام ابن حجر کےمقابلہ میں انکی بات کی کوئی حیثیت نہیں ،
    لہذا کسی معروف محدث کے کلام سے کنانہ کا ضعف ثابت کیجئے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  3. ‏اگست 22، 2016 #83
    abdullah786

    abdullah786 رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 24، 2015
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    24
    تمغے کے پوائنٹ:
    46

    محترم،
    بات دلائل سے ہو تو اچھی لگتی ہے وگرنہ جذباتی تقاریر کا علمی حلقہ میں کوئی وزن نہیں ہوتا ہے۔جہاں تک اپ کی بات ہے کہ صرف مجھے خلافت کا درد ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نہیں تھا یہ اپ کی بھول ہے حسین رضی اللہ عنہ کا اٹھنا اسی قبیل سے تھا ابن زبیر رضی اللہ عنہ اسی مقصد سے اٹھے تھے اہل مدینہ نے یزید کی بیعت توڑی وہ بھی اس وجہ سے تھی اور مروان کے خلاف جماجم کے مقام پر 4 ہزار قاری اٹھ کھڑا ہوا اور عباسیوں کے خلاف حسن بن علی کی تحریک یہ سب حسین رضی اللہ عنہ کے اس اقدام کی برکات تھی جو انہوں نے کربلا میں کیا تھا یہ سب واقعات موجود ہے یا نہیں اور پھر یاد دلا دوں یہ میں تاریخ سے نہیں کتب احادیث کی شروحات تفاسیر آئمہ کے حوالے سے بیان کر رہا ہوں یہ سب واقعات ہوئے کس لئے خلافت کو دوبارہ قائم کرنے کے لئے ہوئے اور مجھ سے ذیادہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور تابعین رحمہ اللہ کو اس کا دکھ تھا اسی لئے انہوں نے اس کے لئے جہاد بھی کیا ہے۔
    دوسری بات اپ جو فرما رہے ہیں کہ میں ملک عضوض ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہوں محترم میں اس تھریڈ(30 سال خلافت)پر بھی آئمہ کے اقوال پیش کر رہا تھا اور یہاں ایک بار پھر یاد دلا دیتا ہوں صرف ابن کثیر رحمہ اللہ کا ایک قول نقل کر دیتا ہوں باقی تو اپ اس تھریڈ پر پڑھ ہی چکے ہیں۔


    قُلْتُ: وَالسُّنَّةُ أَنْ يُقَالَ لِمُعَاوِيَةَ مَلِكٌ، وَلَا يُقَالُ لَهُ خليفة لحديث «سفينة الْخِلَافَةُ بَعْدِي ثَلَاثُونَ سَنَةً ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا عَضُوضًا»
    ابن کثیر فرماتے ہیں "سنت یہ ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کو بادشاہ کہا جائے اور ان کو خلیفہ نہ کہا جائے کیونکہ حدیث سفینہ ہے کہ خلافت میرے بعد تیس سال ہے اس کے بعد ملک عضوضا ہے۔
    یہ میرا قول ہے اس میں معاویہ رضی اللہ عنہ کو بادشاہ کہنا سنت قرار دیا ہے یہ میں نے لکھا اور ان کو خلیفہ نہ کہا جائے یہ میں نے لکھا ہے یہ ابن کثیر کا قول ہے اور انہوں نے کوئی اپنی توجہی نہیں پیش کی ہے حدیث سے دلیل دی ہےاور حدیث پیش کی اور اس ملک عضوض لکھا ہے حالانکہ سفینہ والی حدیث میں ملک عضوض کا لفظ نہیں ہے انہوں نے دوسری روایت کو بھی اس میں جمع کیا ہے آئمہ کے ان اقوال سے کیوں آنکھیں بند کرتے ہو مجھے ہدف طعن اور مورد الزام ٹھراتے ہوں ابن کثیر کو کیا کہو گے اور ایسے بے شمار اقوال ہیں جو آئمہ اکابرین نے نقل کیے ہیں تو یہ قول میری طرف منسوب کرنا انصاف کا تقاضہ نہیں ہے یہ ابن کثیر کا قول ہے کہ اپ جو دھڑلے سے معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت کو خلافت فرما رہے ہیں تو اپ ابن کثیر کے بقول سنت توڑ رہے ہیں
    اپ کی دوسری بات کہ سب نے رضا مندی سے بیعت کی تھی محترم کسی ایک آئمہ کا بھی قول پیش کر دو یہ معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت رضامندی سے کی گئی تھی عام الجماعت والے سال معاویہ رضی اللہ عنہ نے بسر بن ارطاۃ کو مدینہ بھیجا اور وہاں اہل مدینہ کی بیعت بھی جبری لی گئی تھی مصنف ابن ابی شیبہ میں یہ روایات موجود ہے۔ اور انہی روایات کو دیکھ کر آئمہ نے یہی نقل کیا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت رضا مندی کی نہیں تھی۔ اور یہ لکھنے والے کو معمولی لوگ نہیں ہے اکابرین امت ہیں۔
    امام شاطبی
    حافظ ابن حجر
    امام ذہبی
    ابو بکر جصاص
    شاہ ولی اللہ
    اگر ان کے اقوال چاہیں تو پیش کر دوں گا مگر میں جانتا ہوں یہ سب پڑھنے کے بعد بھی اپ مجھ پر ہی رافضیت کا الزام لگائے گے جبکہ اس میں میری اپنی کوئی بات نہیں میں صرف ناقل ہوں اور جن کے یہ اقوال ہے وہ اہل سنت ہی رہے گے ہاں میں اس سے خارج ہو جاؤں گا۔
    اپ کی تیسری بات کہ حسین رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت میں جہاد کرتے رہے نماز پڑھتے رہے امام ابن تیمیہ کی منھاج السنہ کا اب ترجمہ بھی ہو گیا ہے وہی پڑھ لو انہوں نے یہی لکھا ہے کہ آئمہ جور جو نیک کام کریں ان میں ان کا ساتھ دیا جائے گا برائی میں ان سے دور رہا جائے نماز بھی ان کے پیچھے پڑھی جائیں گی اور حج اور جہاد بھی کیا جائے گا نیکی کا کوئی بھی کام نہیں روکے گا اس سے یہ مطلب نہیں لیا جا سکتا کہ وہ ان سے راضی تھے اگر راضی ہوتے تو اہل مدینہ ابن زبیر اور حسین رضی اللہ عنہ حکومت کے خلاف جہاد کیوں کرتے وہ نماز پڑھنا مجبوری کا ہے جیسا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے حکمران نماز مار دے گے تو تم وقت پر پڑھ لینا اور پھر ان کے پیچھے بھی پڑھ لینا محدثین نے ابواب قائم کئے ہیں آئمہ جور(ظالم حکمرانوں) کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے(سنن نسائی کتاب الصلاۃ) کیونکہ یہ مسئلہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد پیش آ گیا تھا وگرنہ پہلے امت کے چنےخلیفہ ہی نماز پڑھاتے تھے وہ نمازیں مجبوری کی تھی کہ جائے نماز یعنی امامت پر غاصب تھے اس لئے جب تک ان کو ہٹا نہیں دیا جاتا نماز پڑھنا پڑھتی تھی۔
    آخری بات آپ نے لکھا کے معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں کیوں نہیں کھڑے ہوئے اس کی وجہ حسن رضی اللہ عنہ کی وہ صلح تھی جو کی تھی اس کی وجہ سے حسین رضی اللہ عنہ خاموش تھے اور معاہدہ توڑنا نہیں چاہیئےاور اس معاہدہ کی یہ شرائط تھی۔
    (1) قرآن سنت کو قائم کریں گے۔
    (2) اپنے بعد کسی کو نامزد نہیں کریں گے۔
    (3)اگر میں (حسن رضی اللہ عنہ) زندہ رہا تو میں دوبارہ خلیفہ بنو گا( انساب الاشرف للبلاذری باب صلح حسن و معاویہ رضی اللہ عنہم)
    اور جب معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس صلح نامے کی مخالفت کرکے یزید کو خلیفہ نامزد کیا تو حسین رضی اللہ عنہ کا کھڑا ہونا لازمی تھا اس لئے وہ کھڑے ہوئے کہ یہ تو مسلمانوں کو ان کے طریقہ سے ہی ہٹایا جا رہا ہے کہ شوری ختم کردی ہے اور باپ کے بعد بیٹا حکومت سنبھالنے لگے گا۔
    اب بھی میں جانتا ہوں اپ نے مجھ پر ھی رافضیت کا الزام لگانا ہے نہ اپ نے ابن کثیر کو کچھ کہنا ہے اور نا دیگرآئمہ کو مگر مجھ غریب پر سارا غباراترے گا جو صرف ناقل اقوال ہے۔اللہ ہدایت دے
     
  4. ‏اگست 22، 2016 #84
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,986
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    میرے خیال میں پہلے آپ محترم @اسحاق سلفی صاحب کے مراسلوں کا تسلی بخش جواب دیں- بعد میں آپ سے اس مضوع پر بات ہوگی کہ جناب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت خلافت تھی یا ملک عضوض -
     
  5. ‏اگست 24، 2016 #85
    abdullah786

    abdullah786 رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 24، 2015
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    24
    تمغے کے پوائنٹ:
    46

    محترم،
    سب سے پہلے تو میں تحریر تقریب التھذیب کے حوالے سے نقل کر دوں کہ انہوں نے کوئی اپنی نفس سے یہ نہیں کہہ دیا کہ ہم نے کہا تو یہ ضعیف ہم نے کہا تو یہ ثقہ انہوں نے محدثین مقدمین کے اقوال سے ہی ثابت کیا ہے اس لئے اس کی اسکین لگا رہا ہوں پڑھ لیں انہون نے امام ترمذی اور ابن عدی رحمہ اللہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ کنانہ ضعیف ہے۔ kanana.png

    اور ابن حجر کے حوالے سے جو نقل کیا کہ میں نے جھوٹ بولا ہے کہ ابن حجر کے قول سے اس کو ضعیف ثابت کرنے کی کوشش کی ہے تو محترم اپ کے قول سے بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ابن حجر نے اس کو ثقہ کہا ہے ابن حجر مقبول صرف اس راوی کو کہتے ہیں جس کو وہ متابعت میں صحیح مانتے ہیں یہ جس روای کی روایت کی متابعت موجود ہو اس میں اس راوی کی روایت قبول ہوتی ہے اور اس کا اصول میں لکھ چکا تھا۔

    من ليس له من الحديث إلا القليل، ولم يثبت فيه ما يترك حديثه من أجله، وإليه الاشارة بلفظ " مقبول " حيث يتابع، وإلا فلين الحديث.(تقریب التھذیب مقدمہ)
    اور اس کو البانی صاحب نے ایک راوی کی بحث میں اسی طرح بیان کیا ہے کہ"

    قلت : وعلته عندي حكيمة هذه فإنها ليست بالمشهورة ، ولم يوثقها غير ابن حبان ( 4 / 195 ) وقد نبهنا مرارا على ما في توثيقه من التساهل ، ولهذا لم يعتمده الحافظ فلم يوثقها وإنما قال في " التقريب " : مقبولة ، يعني عند المتابعة(الضعیفہ تحت رقم 211)
    تو اگر اس کنانہ کی روایت کی متابعت ہوگی تو ابن حجر کے اصول پر یہ روایت صحیح ہوگئی مگر میں پہلے ہی عرض کر چکا کہ اس راوی کو جمہور نے ضعیف کہا ہے چند مثال دیتا ہوں۔
    ابو داود کی شرح عون المعبود میں ایک روایت کی بحث میں ابن عبدالبر کے حوالے سے یہ نقل کیا ہے کہ''
    هذا حديث بن مَسْعُود الْجَنَازَة مَتْبُوعَة لَيْسَ مَعَهَا مَنْ يَقْدُمهَا وأنه ضعيف وذكر بن عَبْد الْبَرّ مِنْ حَدِيث أَبِي هُرَيْرَة يَرْفَعهُ اِمْشُوا خَلْف الْجَنَازَة وَفِيهِ كِنَانَة مَوْلَى صَفِيَّة لَا يُحْتَجّ بِهِ"(
    عون المعبود شرح سنن أبي داود كِتَاب الصيد باب الْمَشْيِ أَمَامَ الْجِنَازَة جلد 8 ص 233)
    تو ابن عبدالبر کے نذدیک اس سے حجت نہیں لی گئی ہے
    امام ذہبی کے حوالےسے بھی میں نے نقل کیا تھا کہ انہوں نے اس کی توثیق کو معتبر نہیں مانا ہے چنانچہ الکاشف میں اس کو وثق کہا ہے
    [ 4678 ] كنانة بن نعيم العدوي عن أبي برزة وغيره وعنه ثابت وعبد العزيز بن صهيب وثق(الکاشف)
    اس حوالے سے یہ اصول ہے کہ ان کے مطابق اس راوی کی توثیق غیر معتبر ہے۔

    الذهبي في " الكاشف " إلى أن التوثيق المذكور غير موثوق به، فقال : " وثق "(الضعیفہ تحت رقم 1232)
    تو امام ذہبی کے نذدیک بھی یہ راوی معتبر نہیں ہے۔
    اور امام ترمذی نے بھی اس کے حوالےسے نقل کیا ہے جس کو تحریر تقریب کے مولفین نے نقل کیا ہے اصل آپ اس تھذیب التھذیب میں دیکھ سکتے ہیں۔
    تو اس کو جمہور نے غیر معتبر قرار دیا ہے اور ابن حجر کےاصول پر بھی یہ روایت اس وقت تک صحیح نہیں ہو سکتی جب تک اس کی متابعت نہ ہو۔



    دوسری بات اپ نے جو سند پیش کی ہے


    أخبرنا إسماعيل بن إبراهيم، عن ابن عون، عن الحسن قال: أنبأني وثاب
    اس میں وثاب مجھول راوی ہے اس کی کسی نے بھی توثیق نہیں کی ہے امام بخاری نے اپنی تاریخ اور امام ابی حاتم رحمہ اللہ نے اس کا ترجمہ تو نقل کیا ہے مگر توثیق نہیں کی ہے چنانچہ امام بخاری کی تاریخ سے نقل کر رہا ہوں


    2661- وثاب، مَولَى عُثمان بْن عَفّان، القُرَشِيُّ، الأُمَوِيُّ.
    سَمِعَ عُثمان بْن عَفّان.
    رَوَى عَنه: الحَسَن بْن أَبي الحَسَن.
    يُعَدُّ فِي أهل المَدِينة. kanana.png majhool.png
    اس میں اس کی کوئی توثیق نہیں ہے اور جرح التعدیل امام حاتم نے بھی صرف اس کا ترجمہ نقل کیا ہے۔
    چنانچہ اس قسم کے رواۃ کے لئے یہ اصول ہے کہ یہ مجھولیں میں شمار ہوتے ہیں


    majhool.png



    چنانچہ اس بات کو البانی صاحب نے الضعیفہ میں ایک راوی کے بارے میں بیان کرتے ہوئے یہی نقل کیا ہے کہ

    وقد أورده ابن أبي حاتم في " الجرح والتعديل " ( 3/1/114 ) ولم يحك فيه توثيقا، فهو في حكم المستورين
    الضعیفہ تحت رقم1120)

    تو وثاب میری معلومات کی حد تک مجھول ہے ما سوائے کہ اپ اس کی توثیق ثابت کر دیں اس لیے اپ کی یہ روایت وثاب کی وجہ سے ضعیف ہے۔

    اپ نے دوسری روایت نقل کی تھی

    اس میں ایک راوی عبداللہ بن یونس ہے اس کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے یہ بھی مجھول ہے چنانچہ اس کی بھی توثیق نقل نہیں ہوئی ہے۔


    961- عبد الله بن يونس بن محمد بن عبيد الله بن عباد بن رماد المرادي
    أندلسي يروى عن بقى بن مخلد، وكان من المكثرين عنه، مات بالأندلس سنة ثلاثين وثلاثمائة، روى عنه عبد بن نصر وخالد بن سعد وغير واحد اخبر أبو محمد علي بن أحمد قال: أخبرنا الكناني، أخبرنا أحمد بن خليل أخبرنا خالد بن سعد أخبرنا عبد الله بن يونس المرادي من كتابه، أخبرنا بقى بن مخلد قال: أخبرنا سحنون والحارث بن مسكين عن ابن القاسم عن مالك: أنه كان يكثر أن يقول: {إن نظن إلا ظناً وما نحن بمستيقنين} [الجاثية: 32] .
    (بغية الملتمس في تاريخ رجال أهل الأندلس ترجمہ 961)
    ان دونوں رواۃ کی توثیق پیش کرنا اپ کے ذمہ ہے۔
    آخر میں علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کا اصل واقعہ جو صحیح سند سے محقق طبری نے نقل کیا ہے
    [FONT=Traditional Arabic, serif][/FONT]

    حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُحَمَّدِيُّ، قال: حدثنا عمرو بن حماد وعلى ابن حُسَيْنٍ، قَالا: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ الْفَزَارِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بن الْحَنَفِيَّةِ، قَالَ:
    كُنْتُ مَعَ أَبِي حِينَ قُتِلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَامَ فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ، فأتاه اصحاب رسول الله ص، فقالوا: إن هذا الرجل قد قتل، ولا بُدَّ لِلنَّاسِ مِنْ إِمَامٍ، وَلا نَجِدُ الْيَوْمَ أَحَدًا أَحَقَّ بِهَذَا الأَمْرِ مِنْكَ، لا أَقْدَمَ سابقه، ولا اقرب من رسول الله ص [فَقَالَ: لا تَفْعَلُوا، فَإِنِّي أَكُونُ وَزِيرًا خَيْرٌ من ان أَكُونُ أَمِيرًا، فَقَالُوا: لا، وَاللَّهِ مَا نَحْنُ بِفَاعِلِينَ حَتَّى نُبَايِعَكَ، قَالَ: فَفِي الْمَسْجِدِ، فَإِنَّ بَيْعَتِي لا تَكُونُ خَفِيًّا، وَلا تَكُونُ إِلا عَنْ رِضَا الْمُسْلِمِينَ] قَالَ سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ: فَلَقَدْ كَرِهْتُ أَنْ يَأْتِيَ الْمَسْجِدَ مَخَافَةَ أَنْ يَشْغَبَ عَلَيْهِ، وَأَبَى هُوَ إِلا الْمَسْجِدَ، فَلَمَّا دَخَلَ دَخَلَ الْمُهَاجِرُونَ وَالأَنْصَارِ فَبَايَعُوهُ، ثُمَّ بَايَعَهُ النَّاسُ.(تاریخ طبری)

    اور اپ نے جو یہ کہا کہ بنو امیہ کے بارے میں یہ مودودی اور دیگر نے یہ مشہور کیا ہے کہ انہوں نے خلافت کو ملوکیت میں بدل دیا تو یہ بنی امیہ کا ملوکیت میں تبدیل کرنا فرمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے

    الْخِلَافَةُ بَعْدِي ثَلَاثُونَ سَنَةً ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا
    سنن ابو داؤد
    تو خلافت کو 30 سال بعد ملوکیت میں بدل دیا گیا یہ مودودی کا کارنامہ نہیں ہے یہ حدیث ہے اور میں اپ سے اتنی امید رکھتا ہوں کہ کم از کم آپ تو صحیح حدیث کو نہیں جھٹلائیں گے۔ باقی آئندہ اللہ سب کو ہدایت دے۔ kanana.png majhool.png kanana.png majhool.png

    kanana.png majhool.png
     
  6. ‏اگست 25، 2016 #86
    abdullah786

    abdullah786 رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 24، 2015
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    24
    تمغے کے پوائنٹ:
    46

    محترم،
    کنانہ کے حوالےسے یہ عرض کرنا تھا کہ امام ذہبی کے حوالے سے "الکاشف" کی عبارت غلطی سے دوسرے کنانہ کی پیش ہوئی گئی ہے اصل عبارت یہ ہے۔
    كنانة عن مولاته صفية وعثمان وعنه زهير بن معاوية ومحمد بن طلحة وجماعة وثق ت(الکاشف ترجمہ
    [ 4679 ]
    انتہائی معزرت کہ یہ عبارت غلطی سے پیش کر دی۔
     
  7. ‏اگست 30، 2016 #87
    abdullah786

    abdullah786 رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 24، 2015
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    24
    تمغے کے پوائنٹ:
    46

    محترم،
    اب اپ کے کچھ اعتراضات جو آپ نے علی رضی اللہ عنہ کی خلافت پر کیے مثلا اپ نے لکھا کہ
    "
    فی الحال جناب علی رضی اللہ عنہ کی خلافت اور ان کے مقربین خاص کا تذکرہ و تعارف کروانا لازم ہے ، تاکہ پتا چلے کہ
    خلافت و حکومت کیلئے کس نے کیا کیا راستہ اپنایا
    اپ کے کہنا کا مقصد جو میں سمجھ پایا ہوں وہ یہ ہے کہ خلافت حاصل کرنے کے لیے علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے خلافت حاصل کرنے کے لئے یہ کیا جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ کسی حد تک یہ علی رضی اللہ عنہ کی بھی خواہش تھی(نعوذباللہ)
    اگر اپ کی بات مان لی جائے تو خلافت حاصل کر کے انہوں نے کیا پایا اس کے لئے تاریخ نہیں کتب احادیث کا مطالعہ کرتے ہیںِ

    حدثنا إبراهيم بن المنذر
    الحزامي قال : أنبأنا عبد الله بن وهب عن ابن لهيعة عن عبد الله بن هبيرة عن
    عبد الله بن زرير الغافقي قال
    دخلنا على # علي بن أبي طالب # يوم أضحى فقدم إلينا خزيرة , فقلنا يا أمير
    المؤمنين لو قدمت إلينا من هذا البط و الوز , و الخير كثير , قال : يا ابن زرير
    إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم , " لا يحل للخليفة إلا قصعتان قصعة يأكلها هو و أهله , و قصعة يطعمها (سلسلہ احادیث الصحیحۃ رقم 362)
    یہ خلیفہ ہیں جو اس خلافت میں اس طرح زندگی بسر کر رہے ہیں۔
    اب ذرا اپ کی ملوکیت بنو امیہ کا بھی جائزہ لیتے ہیں جن کے لئے اپ علی رضی اللہ عنہ جیسے صحابی رسول اور خلیفہ برحق پر زبان دراز کر رہے ہیں
    یہ زکوۃ کا حال بتا رہا ہوں کہ ان کے دور میں زکوۃ کا کیا حال ہو گیا تھا۔

    . وروى ابن أبي شيبة ( 4 / 28 ) عن الأعرج قال : " ابن عمر ؟ فقال : ادفعهم إليهم وإن أكلوا بها لحوم الكلاب فلما عادوا إليه قال : ادفعها إليهم " . وإسناده صحيح . ثم أخرج هو وأبو عبيد ( 1798 ) عن قزعة قال : " قلت لابن عمر : إن لي مالا فإلى من أدفع زكاته ؟ فقال : ادفعها إلى هؤلاء القوم . يعني الأمراء . قلت : إذا يتخذون بها ثيابا وطيبا فقال : وإن اتخذوا بها ثيابا وطيبا ولكن في مالك حق سوى الزكاة " . وسنده صحيح(ارواء الغلیل تحت رقم 873)
    یہ عبارت علامہ البانی کی ارواء الغلیل سے نقل کی ہے اس میں ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا جا رہا ہے کہ ان حکمرانوں کو زکوۃ دیں یہ اپنی خوشبو اور کپڑوں پر لٹا رہے ہیں ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ کتے نوچ کر بھی کھائیں ان کو دے دو۔
    یہ بنو امیہ کے دور میں زکوۃ کا حال تھا اپ اس حکومت اور خلافت سے کس نے فائدہ اٹھایا اور کس نے اس کو علی منھاج النبوۃ چلایا یہ فیصلہ اپ کرو۔

    اور اپ سے میں نے یہ کہا تھا کہ میں صحیح روایات سے اور اکابرین کے اقوال سے ثابت کروں گا کہ عثمان رضی اللہ عنہ کی شھادت میں سب سے بڑا ہاتھ اس مروان(لعین) کا تھا اپ بھی پڑھ لو۔ اپ تاریخ کے دیوانے ہیں اس لئے تاریخ طبری کی ہی ایک صحیح روایت سے پیش کرتا ہوں اور پھر اس پر اکابرین کے تبصرے بھی پیش کروں گا۔وتوفیق باللہ۔

    shahdat.png
    shadat1.png
    shadat2.png

    اس روایت کی سند بالک صحیح ہے چیک کر لیجیئے گا اس میں اس آدمی کا ذکر ہے جس نے وہ مہر لگا کر اس خادم کو بھیجا وہ مروان تھا کیونکہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا مشیر وہی تھا اور یہی سبب بنا کہ انہوں نے اس کو بچانے کے لیے خود شہید ہونا پسند کیا۔


     
  8. ‏اگست 30، 2016 #88
    abdullah786

    abdullah786 رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 24، 2015
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    24
    تمغے کے پوائنٹ:
    46

    اب اس پر اکابرین کے تبصرہ پیش ہے۔
    usman(razi Allah anhu) ki shahadat.png
    یہ ابن حجر رحمہ اللہ کی الاصابۃ فی التمیز الصحابہ کی عبارت کا ترجمہ ہے تاکہ جن کو عربی سمجھ نہیں آتی وہ بھی پڑھ سکیں کہ ہمارے اکابرین نے اس کو کوئی سبائی سازش قرار نہیں دیا بلکہ یہ وجہ بیان کی ہے اور اس کو ابن کثیر نے البدایہ والنھایہ میں بیان کیا ہے اور ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی مروان ہی کو سب سے بڑی وجہ قرار دیا ہے اور رہی بات سبائی سازش کی تو یہ صرف آج کل کے چند لوگوں کا پروپگنڈا ہے ابن سبا کا اس سازش میں ہاتھ تھا کہ اس اکیلے آدمی نے جمیع امت مسلمہ پر ایسا جادو کر دیا کہ سب آپس میں لڑ پڑے اس حوالے سے کوئی مستند بات نہیں ملتی کہ ابن سبا اس فتنہ کے وقت وہاں موجود تھا اور یہی بات تاریخ طبری کی محقق نے بھی بیان کی ہے سنابلی صاحب بھی اپنی کتاب"یزید بن معاویہ پر الزامات کے جواب" میں باتیں تو اس حوالے سے بہت کی کہ سب سبائی سازش تھی مگر کسی ایک صحیح روایت سے کوئی دلیل وہ بھی نہ پیش کر سکے اگر کوئی پیش کرتا ہے تو بھی اکابرین نے اس کو قبول نہیں کیا ہے انہوں نے جو سبب بیان کیا ہے وہ اوپر سب کے سامنے موجود ہے اللہ سب کو ہدایت دے۔
     
  9. ‏اگست 30، 2016 #89
    abdullah786

    abdullah786 رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 24، 2015
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    24
    تمغے کے پوائنٹ:
    46

    آخری پیج کا اسکین پیش ہے وہ شاید اوپر لوڈ نہیں ہوا۔ shadat2.png

    shadat2.png
     
  10. ‏ستمبر 02، 2016 #90
    abdullah786

    abdullah786 رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 24، 2015
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    24
    تمغے کے پوائنٹ:
    46

    محترم ،
    اپ کی جانب سے جواب نہیں آرہا ہے مگر میں اپ کی اعتراضات کا رد پیش کر رہا ہوں۔
    یہی مروان تھا جس نے جنگ جمل برپا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنھما کو ورغلا کر کوفہ کی جانب لے گیا تاکہ شام میں معاویہ رضی اللہ عنہ کی بغاوت کی سرکوبی کے لئے جو علی رضی اللہ عنہ نے کاروائی کرنی تھی اس میں رکاوٹ ڈال سکے اور عراقیوں کو آپس میں لڑاکر ان کی قوت کی کم کیا جا سکے ظاہر سی بات ہے کہ جب شام کی بغاوت کچلی جاتی اور قاتلان عثمان رضی اللہ عنہ کا مقدمہ چلاتا تو اس مروان اور اس کے شامل گورنروں کی شامت آتی جو سرکاری خزانہ میں خرد برد کیا کرتے تھے اور اس مروان کی وجہ سے ہی عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی تھی جیسا اوپر ثابت کیا گیا ہے تو اس کی گرفت لازمی تھی مگر جب جنگ جمل میں اصلاح کی کوشش میں پیش رفت ہوئی اور زبیر رضی اللہ عنہ عین میدان سے واپس پلٹ گئے اور طلحہ رضی اللہ عنہ بھی واپسی کا ارادہ کر چکے تھے ان کو اس مروان نے تیر مار کر شہید کر دیا ۔چنانچہ مستدرک حاکم میں موجود ہے۔
    5591 - حدثنا علي بن حمشاد العدل ثنا محمد بن غالب ثنا يحيى بن سليمان الجعفي ثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم قال رأيت مروان بن الحكم حين رمى طلحة بن عبيد الله يومئذ فوقع في ركبته فما زال يسبح إلى أن مات K صحيح (مستدرک الحاکم رقم 5591)
    اور مصنف ابن ابی شیبہ میں موجود ہے (کتاب جنگ جمل رقم 38958)اور اس کے دیگر طرق بھی ہیں جن سے یہ روایت حسن ہوتی ہے۔
    shadat talha rzi allha anhu.png

    جنگ جمل میں اس مروان نے اپنا ناپاک کردار ادا کیا جس کی وجہ سے مسلمانوں میں جنگ برپا ہوئی تھی
    اور جہاں تک جنگ صفین کا تعلق ہے اس حوالے سے بھی بتا دوں کے اس جنگ میں علی رضی اللہ عنہ حق پر تھے اور معاویہ رضی اللہ عنہ باغی گروہ تھا اور ان کےبے جا اصرار نے اس جنگ کو شروع کروایا اگر وہ خلیفہ وقت کی بیعت کرلیتے اور بغاوت نہ کرتے جیسا کہ احادیث میں ہے کہ خلیفہ وقت کے خلاف خروج جائز نہیں ہے چاہے ظالم ہی کیوں نہ ہو جب تک واضح کفر نہ کر دےتو علی رضی اللہ عنہ تو خلیفہ بر حق تھے ان کے خلاف بغاوت کا جواز ہی نہیں تھا اور صریح حدیث "عمار رضی اللہ عنہ تجھے باغی گروہ قتل کرے گا" کی خلاف ورزی تھی۔اور علی رضی اللہ عنہ کا حق پر ہونا احادیث متواتر اور اجماع امت سے ثابت ہے۔اللہ سب کو ہدایت دے۔

    آخر میں اپ سے ایک سوال ہے اپ نے لکھا
    "کوئی اہل حدیث کسی بھی صحابی کی ادنی سی توہین نہیں کرسکتا"

    اپ کی بات بالکل صحیح ہے کہ ان کی توہین نہیں کر سکتا ہے مگر جو حقیقت اور واقعات ہیں وہ اکابرین نے ضرور بیان کیے ہیں اور جن کو آپ توہین سمجھتے ہیں محترم اب اپ سے یہ سوال ہے کہ وہ کون سے علماء سلف یا خلف میں ہے جن کو اپ اہل حدیث شمار کرتے ہیں چند نام عنایت کر دیں تاکہ ان کے حوالے سے اپ سے بات کی جا سکے۔



     
لوڈ کرتے ہوئے...
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں