- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
ورنہ اپنی مقررہ تنہائی کی طرف پلٹ جاتے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے شراب کو کبھی منہ نہ لگایا، آستانوں کا ذبیحہ نہ کھایا اور بتوں کے لیے منائے جانے والے تہوار اور میلوں ٹھیلوں میں کبھی شرکت نہ کی۔ آپ کو شروع ہی سے ان باطل معبودوں سے اتنی نفرت تھی کہ ان سے بڑھ کر آپ کی نظر میں کوئی چیز مبغوض نہ تھی حتیٰ کی لات وعزیٰ کی قسم سننا بھی آپ کو گوارا نہ تھا۔ (دیکھئے: ابن ہشام ۱/۱۲۸، تاریخ طبری ۲/۱۶۱، تہذیب تاریخ دمشق ۱/۳۷۳، ۳۷۶)
اس میں شبہ نہیں کہ تقدیر نے آپ پر حفاظت کا سایہ ڈال رکھا تھا۔ چنانچہ جب بعض دنیاوی تمتعات کے حصول کے لیے نفس کے جذبات متحرک ہوئے یا بعض ناپسندیدہ رسم و رواج کی پیروی پر طبیعت آمادہ ہوئی تو عنایتِ ربانی دخیل ہو کر رکاوٹ بن گئی۔ ابن اثیر کی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اہل جاہلیت جو کام کرتے تھے مجھے دو دفعہ کے علاوہ کبھی ان کا خیال نہیں گزرا لیکن ان دونوں میں سے بھی ہر دفعہ اللہ تعالیٰ نے میرے اور اس کام کے درمیان رکاوٹ ڈال دی۔ اس کے بعد پھر کبھی مجھے اس کا خیال نہ گزرا یہاں تک کہ اللہ نے مجھے اپنی پیغمبری سے مشرّف فرما دیا۔ ہوا یہ کہ جو لڑکا بالائی مکہ میں میرے ساتھ بکریاں چرایا کر تا تھا، اس سے ایک رات میں نے کہا کیوں نہ تم میری بکریاں دیکھو اور میں مکہ جا کر دوسرے جوانوں کی طرح وہاں کی شبانہ قصہ گوئی کی محفل میں شرکت کر لوں۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے۔ اس کے بعد میں نکلا اور ابھی مکہ کے پہلے ہی گھر کے پاس پہنچا تھا کہ باجے کی آواز سنائی پڑی۔ میں نے دریافت کیا کہ کیا ہے، لوگوں نے بتایا فلاں کی فلاں سے شادی ہے، میں سننے بیٹھ گیا اور اللہ نے میرا کان بند کر دیا اور میں سو گیا، پھر سورج کی تمازت ہی سے میری آنکھ کھلی اور میں اپنے ساتھی کے پاس واپس چلا گیا۔ اس کے پوچھنے پر میں نے تفصیلات بتائیں۔ اس کے بعد ایک رات پھر میں نے یہی بات کہی اور مکہ پہنچا تو پھر اسی رات کی طرح کا واقعہ پیش آیا اور اس کے بعد پھر کبھی غلط ارادہ نہ ہوا۔ (اس حدیث کو طبری ۲/۲۷۹ وغیرہ نے روایت کیا ہے اور حاکم و ذہبی نے صحیح کہا ہے لیکن ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ ۲/۲۸۷ میں اس کی تضعیف کی ہے)
صحیح بخاری میں حضرت جابر بن عبد اللہ سے مروی ہے کہ جب کعبہ تعمیر کیا گیا تو نبی ﷺ اور حضرت عباسؓ پتھر ڈھو رہے تھے۔ حضرت عباس ؓ نے نبی ﷺ سے کہا: اپنا تہبند اپنے کندھے پر رکھ لو، پتھر سے حفاظت رہے گی لیکن آپ زمین پر جا گرے، نگاہیں آسمان کی طرف اُٹھ گئیں۔ افاقہ ہوتے ہی آواز لگائی میرا تہبند، میرا تہبند۔ اور آپ کا تہبند آپ کو باندھ دیا گیا۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ اس کے بعد آپ کی شرمگاہ کبھی نہیں دیکھی گئی۔ (صحیح بخاری باب بنیان الکعبہ ۱/۵۴۰، فتح الباری ۳/۵۱۳، ۵۱۷، ۷/۱۸۰ ، مسند احمد ۳/۲۹۵، ۳۱۰، ۳۳۳، ۳۸۰۔)
اس میں شبہ نہیں کہ تقدیر نے آپ پر حفاظت کا سایہ ڈال رکھا تھا۔ چنانچہ جب بعض دنیاوی تمتعات کے حصول کے لیے نفس کے جذبات متحرک ہوئے یا بعض ناپسندیدہ رسم و رواج کی پیروی پر طبیعت آمادہ ہوئی تو عنایتِ ربانی دخیل ہو کر رکاوٹ بن گئی۔ ابن اثیر کی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اہل جاہلیت جو کام کرتے تھے مجھے دو دفعہ کے علاوہ کبھی ان کا خیال نہیں گزرا لیکن ان دونوں میں سے بھی ہر دفعہ اللہ تعالیٰ نے میرے اور اس کام کے درمیان رکاوٹ ڈال دی۔ اس کے بعد پھر کبھی مجھے اس کا خیال نہ گزرا یہاں تک کہ اللہ نے مجھے اپنی پیغمبری سے مشرّف فرما دیا۔ ہوا یہ کہ جو لڑکا بالائی مکہ میں میرے ساتھ بکریاں چرایا کر تا تھا، اس سے ایک رات میں نے کہا کیوں نہ تم میری بکریاں دیکھو اور میں مکہ جا کر دوسرے جوانوں کی طرح وہاں کی شبانہ قصہ گوئی کی محفل میں شرکت کر لوں۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے۔ اس کے بعد میں نکلا اور ابھی مکہ کے پہلے ہی گھر کے پاس پہنچا تھا کہ باجے کی آواز سنائی پڑی۔ میں نے دریافت کیا کہ کیا ہے، لوگوں نے بتایا فلاں کی فلاں سے شادی ہے، میں سننے بیٹھ گیا اور اللہ نے میرا کان بند کر دیا اور میں سو گیا، پھر سورج کی تمازت ہی سے میری آنکھ کھلی اور میں اپنے ساتھی کے پاس واپس چلا گیا۔ اس کے پوچھنے پر میں نے تفصیلات بتائیں۔ اس کے بعد ایک رات پھر میں نے یہی بات کہی اور مکہ پہنچا تو پھر اسی رات کی طرح کا واقعہ پیش آیا اور اس کے بعد پھر کبھی غلط ارادہ نہ ہوا۔ (اس حدیث کو طبری ۲/۲۷۹ وغیرہ نے روایت کیا ہے اور حاکم و ذہبی نے صحیح کہا ہے لیکن ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ ۲/۲۸۷ میں اس کی تضعیف کی ہے)
صحیح بخاری میں حضرت جابر بن عبد اللہ سے مروی ہے کہ جب کعبہ تعمیر کیا گیا تو نبی ﷺ اور حضرت عباسؓ پتھر ڈھو رہے تھے۔ حضرت عباس ؓ نے نبی ﷺ سے کہا: اپنا تہبند اپنے کندھے پر رکھ لو، پتھر سے حفاظت رہے گی لیکن آپ زمین پر جا گرے، نگاہیں آسمان کی طرف اُٹھ گئیں۔ افاقہ ہوتے ہی آواز لگائی میرا تہبند، میرا تہبند۔ اور آپ کا تہبند آپ کو باندھ دیا گیا۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ اس کے بعد آپ کی شرمگاہ کبھی نہیں دیکھی گئی۔ (صحیح بخاری باب بنیان الکعبہ ۱/۵۴۰، فتح الباری ۳/۵۱۳، ۵۱۷، ۷/۱۸۰ ، مسند احمد ۳/۲۹۵، ۳۱۰، ۳۳۳، ۳۸۰۔)