اس میں شک کی گنجائش ہی نہیں۔
اس میں شک کی گنجائش ہی نہیں۔
جو قرآن و سنت کو چھوڑ کر وقت کے حکمرانوں اور باطل خداوں کے کے آلہ کار بن جاتے ہیں اور تھوڑی سی دنیا پر یا اپنی بزدلی پر جہاد فی سبیل اللہ کو چھوڑ دیتے ہیں ان کے مقدر میں ذلت اور رسوائی کے کچھ باقی نہیں بچتا۔
جہاد کرنے والے چاہے بہت تھوڑے ہوں لیکن ان کا رعب آج عالم کفر اور بزدل حکمرانوں کی بھیک پر پلنے والے بھکاری خارجیوں کے ایوانوں میں ماتم بچھا چکا ہے۔
اس میں شک کی گنجائش ہی نہیں۔
جو قرآن و سنت کو چھوڑ کر وقت کے حکمرانوں اور باطل خداوں کے کے آلہ کار بن جاتے ہیں اور تھوڑی سی دنیا پر یا اپنی بزدلی پر جہاد فی سبیل اللہ کو چھوڑ دیتے ہیں ان کے مقدر میں ذلت اور رسوائی کے کچھ باقی نہیں بچتا۔
جہاد کرنے والے چاہے بہت تھوڑے ہوں لیکن ان کا رعب آج عالم کفر اور بزدل حکمرانوں کی بھیک پر پلنے والے بھکاری خارجیوں کے ایوانوں میں ماتم بچھا چکا ہے۔
کیوں جناب!
دلیل چاھیے بھیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیوں جناب!
بزدل حکمرانوں کے چندے کی بھیک سے کشمیر میں نام نہاد جہاد اب بند ہوگیا ہے اور چندہ بھی بند ہوگیا ہے تو اب دعوت پر آگئے؟؟؟
اس وقت تمہاری دعوت کہاں تھی جب انڈین را کے زرخرید ایجنٹ بن کر تاج ہوٹل پر حملہ کیا تھا اور بے گناہ غیر مسلم مارے تھے؟؟؟
تم جتنا چھپاؤ اپنا چہرہ لوگ اچھی طرح واقف ہے کہ یہی لشکری خارجی ہے جسے اہل حق کے خلاف فساد کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔
اب کشمیر کے نام کا چندہ بن ہوگیا ہے تو بھاگے بھاگے دعوت و اصلاح زلزلہ زدگان کی بحالی کے نام پر چندہ بٹوڑا جارہا ہے۔
نادان اور انجان کے برقع میں اپنا خارجی چہرہ چھپانے کی کوشش نہ کرو۔دلیل چاھیے بھیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لنکپاکستان نے ممبئی سے تعلق کو پہلی بار تسلیم کیا ہے
ہندوستان کا کہنا ہے کہ ان اسلامی عسکریت پسندوں کو پاکستان میں تربیت دی گئی تھی جو انڈیا کے مالیاتی دارالحکومت پر ہونے والے تین روزہ حملوں میں ملوث تھے اور قصاب نے تفتیش کرنے والوں کو بتایا ہے کہ اسے تربیت لشکر طیبہ نے فراہم کی تھی جو کہ انتہا پسندانہ اسلامی گروپ ہے اور جس کا قیام ہمالیہ کے متنازعہ علاقے کشمیر میں ہندوستانی حکومت کے خلاف جنگ کرنے کے لیے عمل میں لایا گیا تھا۔
لنکاعلامیے کے مطابق بھارت کے شہر ممبئی پر نومبر سال دو ہزار آٹھ میں ہونے والے دہشت گرد حملہ کرنے والے بعض شدت پسندوں نے بھی اعظم چیمہ سے تربیت حاصل کی تھی۔ ' سال دو ہزار آٹھ میں اعظم چیمہ، لشکر طیبہ کے سینئر رہنما ذکی الرحمن لکھوی کے آپریشنز ایڈوائزر مقرر ہوئے تھے۔'
لنکامریکی حکومت نے پاکستان کی کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے سربراہ پروفیسر حافظ محمد سعید کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے کے لیے ایک کروڑ ڈالرز کا انعام مقرر کیا ہے۔
خیال رہے کہ حافظ سعید پر نومبر 2008ء میں بھارت کے شہر بمبئی میں ہوئے حملوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ان حملوں میں کم سے کم 160 افراد ہلاک اور دسیوں زخمی ہوگئے تھے۔ لشکر طیبہ ان حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کرتی چلی آئی ہے۔
نادان اور انجان کے برقع میں اپنا خارجی چہرہ چھپانے کی کوشش نہ کرو۔
ذرا سرچنگ کرو لشکر طیبہ کے علاوہ بھی کوئی نام نظر آتا ہے؟؟؟
لنک
لنک
لنک
محترم یہ وہی میڈیا ہے ، رات دن جن کے قصیدے آپ پڑھتے رہتے ہیں۔
ایک بات اور حیران کن ہے،
ہمارے بزدل اور لالچی حکمران چند ڈالر کے عیوض قوم کی معصوم بیٹی کو امریکہ کے حوالے کردیتے ہیں۔
اور حافظ سعید صاحب کے سر کی قیمت ایک کروڑ ڈالر یعنی تقریبا ایک عرب روپیہ کی خطیر رقم مقرر ہو اور بزدل اور لالچی حکمران خاموش تماشائی بنے بیٹے رہے، اور امریکہ پاکستان کے سامنے گھٹنے ٹیک کر درخواست کرتا رہے اپنے مطلوب کے لئے ،
اس ڈرامہ میں مرچ و مصالحہ کچھ زیادہ ہی پڑ گیا ہے۔