lovelyalltime
سینئر رکن
- شمولیت
- مارچ 28، 2012
- پیغامات
- 3,735
- ری ایکشن اسکور
- 2,899
- پوائنٹ
- 436
حضرت خولہ راضی اللہ کا ایمان افروز قرانی واقعہ
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچیکا فتویٰ بھی دیکھ لیںhttp://www.banuri.edu.pk/ur/node/1782
واضح رہے کہ حلالہ کی نیت سے نکاح کرنا حرام اور گناہ ہے اور اس طرح حلالہ کرنے اور کرانے والے پر حدیث میں لعنت وارد ہوئی ہے۔
تو اس فتوٰی میں غلط کیا ہے مفتی صاحب خود کہہ رہے ہیں
لیکن اگر کوئی باوجود اس کے حلالہ کی نیت سے نکاح کرلیتا ہے تو نکاح شرعاً منعقد ہوجائے گا
دوغلاپن ہے اور کیا ہے جب اللہ کے رسولﷺ کی حدیث سامنے آجائے تو پھر نظریں چرا کر اگر آپ کسی دوسرے راستے سے منزل کی طرف بڑھنے کی کوشش کریں گے تو وہ راستہ تو شیطان کا ہے یہ آسان سی باتیں تو عام فہم رکھنے والے انسان کی سمجھ میں آنی چاہئے لیکن میں بانی بنوری ٹاؤن کی سوانح حیات پڑھ رہا تھا تو وہاں پر لکھا دیکھااس بات کے بارے میں کیا خیال ہے ضدی بھائی جو اس فتویٰ میں لکھی ہے
اب اس شجرہ نصب میں کتنی سچائی ہے یہ تو پڑھنے والے کو خود سمجھ آجانی چاہئے اور پھر عقیدہ براہ راست اسی گروہ سے جاکر جڑتا ہے جو اہلسنت والجماعت سے نکل کر اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے تو اگر دیکھیں تو مسائل میں بھی آمیزش کافی حد تک متاثر کن نظر آرہی ہے۔ تو ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں یہ سب ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں۔تاریخ ومقام پیدائش
بانی جامعہ علوم اسلامیہ محدث العصر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ بروز جمعرات ۶ ربیع الثانی ۱۳۲۶ئھ مطابق ۱۹۰۸ءء ضلع مردان میں شیخ ملتون ٹاوٴن کے مشرق میں واقع "مہابت آباد" نامی بستی میں بوقت سحرپیدا ہوئے۔
نام ونسب
آپ سلسلہٴ عالیہ نقشبندیہ کے مشہور شیخ حضرت سید آدم بنوری رحمہ اللہ کی اولاد میں سے تھے، سلسلہٴ نسب حسب ذیل ہے :سید محمد یوسف بن محمد زکریا بن میر مزمل شاہ بن میر احمد شاہ بن میر موسی بن غلام حبیب بن رحمت اللہ بن عبد الاحد بن حضرت محمد اولیاء بن سید محمد آدم بنوری ، سلسلہٴ نسب نویں جدِّامجد عارف محقق حضرت سید آدم بنوری کی وساطت سے حضرت سیدنا حسین رضی اللہ تعالی عنہ سے جا ملتا ہے ۔
اس پر میں کچھ کہنا چاہوں گا کہ "لیکن اگر کوئی باوجود اس کے" یعنی نفس کی پیروی کرتے ہوئے اسی نیت سے نکاح کر لیتا ہے تو شرعا نکاح منعقد ہوجائے گا اب ذرا سلسلہ نقشبندیہ کی تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں"لیکن اگر کوئی باوجود اس کے حلالہ کی نیت سے نکاح کرلیتا ہے تو نکاح شرعاً منعقد ہوجائے گا
یعنی جس نسبت کو یہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے جوڑ رہے ہیں وہ کذب بیانی کی جارہی ہے لہٰذا ایک عام قاری کو ان کے فتاوٰی پر عمل کرنے سے پہلے اس مکتب فکر کے بانی کی تاریخ کا صحیح طریقے سے جائزہ لینا ہوگا اور ساتھ ہی سلسلہ نقشبندیہ کا گہرائی سے مطالعہ کرنا ہوگا کیونکہ کبھی خوشبو آ نہیں سکتی کاغذ کے پھولوں سے۔نقشبندیہ سلسلہ
یہ سلسلہ "خواجگان" بھی کہلایا اپنی قدامت کے اعتبار سے سب سے پہلے آتا ہے ترکستان میں اس کی بنیاد پڑی اس سلسلے کے بزرگوں میں محمد اتالیسوی (المتوفی 570ھ) اور عبدالخالق غجدوانی نے اس کو فروغ دینے کی بڑی کوششیں کیں، لیکن اس کو مقبول عام کا شرف بہاء الدین نقشبند (المتوفی785ھ) کو حاصل ہوا ان کے بعد یہ سلسلہ نقشبندیہ کے نام سے مشہور ہوگیا اگر نقش بندی سلسلہ سے زیادہ قدیم ہے مگر ہندوستان میں یہ سلسلہ دیگر سلاسل کے بعد پہنچا حضرت باقی باللہ (المتوفی 1014ھ) اس سلسلے کو ہندوستان لائے اور ان کے عزیز ترین مرید اور خلیفہ حضرت شیخ احمد سرہندی المعروف بہ مجدد الف ثانی (المتوفی1035ھ) نے اس سلسلے کو ہندوستان میں ترقی دی۔ اس کے بعد یہ سلسلہ "سلسلہ مجددیہ" کے نام سے مشہور ہوگیا۔