- شمولیت
- اپریل 14، 2011
- پیغامات
- 8,767
- ری ایکشن اسکور
- 8,498
- پوائنٹ
- 964
الإبداع في بيان كمال الشرع و خطر الابتداع تأليف : فضيلة الشيخ محمد بن صالح العثيمين رحمه الله
اردو ترجمہ بعنوان :
شريعت كا كمال اور بدعت كے خطرات
پر
ایک انوکھی تحریر
مترجم : حافظ خضر حيات ( متعلم جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ )
( نوٹ : ترجمہ کے ساتھ ساتھ قرآنی آیات اور احادیث و آثار کے حوالہ جات وغیرہ بھی میری طرف سے اضافہ شدہ ہیں ۔ )
کتاب کا متن آئندہ سطور میں ملاحظہ فرمائیں :
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونتوب إليه، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، ومن سيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادي له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله .
اللہ تعالی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت اور دین حق دے کر مبعوث فرمایا ہے چنانچہ آپ نے رسالت کی تبلیغ کی صورت میں جو امانت تھی اسے احسن اندازمیں ادا کرتے ہوئے امت کی مکمل خیر خواہی کردی اور اس سلسلے میں تادم زندگی سرتوڑ کوشش کرتے رہے ۔
چنانچہ آپ نے امت کو بالکل واضح راستہ دکھادیا جو رات کے وقت بھی روز روشن کی طرح نمایاں رہتا ہے ۔ اور زندگی کے اندر پیش آنے والے تمام معاملات میں جس قدر رہنمائی کی ضرورت تھی اس کی بہترین وضاحت فرمادی ۔ حتی کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے :
«ما ترك النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طائرا يقلب جناحيه في السماء إلا ذكر لنا منه علما» .
[مسند الطيالسي برقم 1647و مسند أحمد برقم 21439و 40 و مسند البزار برقم 3897 وصححه الألباني في الصحيحة تحت رقم 1803]
'' نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سب کچھ اس قدر وضاحت سے بیان کردیا حتی کہ ) آسمان میں اڑنے والے پرندے کے بارے میں بھی ہمیں معلومات دیں ۔ ''
مشرکین میں سے ایک آدمی حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو کہنے لگا :
علمكم نبيكم حتى الخراءة -آداب قضاء الحاجة- قال: "نعم، لقد نهانا أن نستقبل القبلة بغائط أو بول، أو أن نستنجي بأقل من ثلاثة أحجار، أو أن نستنجي باليمين، أو أن نستنجي برجيع أو عظم» .
[صحيح مسلم برقم 262]
'' کہ تمہارے نبی نے تمہیں سب کچھ ، حتی کہ قضائے حاجت کا طریقہ بھی سکھایا ہے ؟
حضرت سلمان کہنے لگے :
ہاں ۔ آپ نے ہمیں بول و براز کرتے ہوئے قبلہ رخ ہونے سے منع فرمایاہے اور یہ کہا کہ استنجاء دائیں ہاتھ ، یا گوبر یا ہڈی سے نہیں کرنا ۔ ''
یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن مجید کے اندر دین کے اصول و فروع سب کو بیان کردیا ہے ، توحید اور اس کی اقسام کی وضاحت سے لے کر مجلس سے بیٹھنے اور اٹھنے تک کے آداب موجود ہیں اللہ کا ارشاد ہے :
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قِيلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوا فِي الْمَجَالِسِ فَافْسَحُوا يَفْسَحِ اللَّهُ لَكُمْ}( المجادلۃ 11 )
''اے مسلمانو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں ذرا کشادگی پیدا کرو تو تم جگہ کشادہ کر دو اللہ تمہیں کشادگی دے گا ''
اسی طرح فرمایا :
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهَا ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فِيهَا أَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوهَا حَتَّى يُؤْذَنَ لَكُمْ وَإِنْ قِيلَ لَكُمُ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا هُوَ أَزْكَى لَكُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ} .( النور 27 ، 28 )
''اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جاؤ جب تک کہ اجازت نہ لے لو اور وہاں کے رہنے والوں کو سلام نہ کر لو یہی تمہارے لئے سراسر بہتر ہے تاک تم نصیحت حاصل کرو
اگر وہاں تمہیں کوئی بھی نہ مل سکے تو پھر اجازت ملے بغیر اندر نہ جاؤ۔ اور اگر تم سے لوٹ جانے کو کہا جائے تو تم لوٹ ہی جاؤ، یہی بات تمہارے لئے پاکیزہ ہے، جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔''
حتی کہ لباس کے احکامات موجود ہیں اللہ کا ارشاد ہے :
وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا يَرْجُونَ نِكَاحًا فَلَيْسَ عَلَيْهِنَّ جُنَاحٌ أَنْ يَضَعْنَ ثِيَابَهُنَّ غَيْرَ مُتَبَرِّجَاتٍ بِزِينَةٍ} . ( النور 60 )
'' بڑی بوڑھی عورتیں جنہیں نکاح کی امید (اور خواہش ہی) نہ رہی ہو وہ اگر اپنے کپڑے اتار رکھیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ وہ اپنا بناؤ سنگار ظاہر کرنے والیاں نہ ہوں''
اسی طرح فرمايا :
{يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا} ( الأحزاب : 59 )
'' اے نبی! اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر چادریں لٹکایا کریں۔ اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر نہ ستائی جائیں گی اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔ ''
اور فرمايا:
{وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ} ( النور : 31 )
''اور عورتیں اس طرح زور زور سے پاؤں مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیدہ زینت معلوم ہو جائے''
اسی طرح ارشاد ہے :
{وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَى وَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا}( البقرة : 189 )
'' اور گھروں کے پیچھے سے تمہارا آنا کچھ نیکی نہیں ، بلکہ نیکی والا وہ ہے جو متقی ہو اور گھروں میں تو دروازوں میں سے آیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ ''
اور اس کے علاوہ بہت ساری آیات دیکھنے سےواضح ہوتا ہے کہ اسلام ایک کامل و شامل دین ہے جس میں نہ نقص ہوسکتا ہے اور نہ کسی زیادتی کی ضرورت ہے ۔ اسی لیے اللہ نے قرآن مجید میں یہ فرمادیا ہے :
{وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ}( النحل : 89 )
''اور ہم نے تجھ پر یہ کتاب نازل فرمائی ہے جس میں ہر چیز کا شافی بیان ہے ''
کہ ہم نے آپ پر '' کتاب '' نازل کی ہے جس میں ہر چیز کی وضاحت موجود ہے ۔ لہذا کوئی بھی ایسی چیز جس کی لوگوں کو دنیا یا آخرت میں ضرورت ہوسکتی ہے ہے اللہ نے اس کو قرآن کے اندر نص ، اشارۃ ، منطوق ، مفہوم میں سے کسی صورت میں بیان فرمادیا ہے ۔