ماشاء اللہ
کہاں تو آپ صحیح سند روایات کو باطل ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں اور کہاں صحابہ پرستی میں اس طرح کی باطل روایات سے استدلال فرماتے ہیں
http://forum.mohaddis.com/threads/میرے-صحابہ-ستاروں-کی-مانند؟.9629/
پیارے صحیح مسلم دیکھ لو !
نبی مصطفی ﷺ کے صحابہ ،،امت کےلئے آسمان کے ستاروں کی طرح ہیں ؛جب تک ستارے چمک رہے ہیں ،آسمان موجود ہے ،اور جب ستارے جھڑ گئے ،آسمان ختم ؛ بالکل اسی طرح صحابہ کا وجود مبارک امت کیلئے تھا
عن أبي بردة، عن أبيه، قال: صلينا المغرب مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم قلنا: لو جلسنا حتى نصلي معه العشاء قال فجلسنا، فخرج علينا، فقال: «ما زلتم هاهنا؟» قلنا: يا رسول الله صلينا معك المغرب، ثم قلنا: نجلس حتى نصلي معك العشاء، قال «أحسنتم أو أصبتم» قال فرفع رأسه إلى السماء، وكان كثيرا مما يرفع رأسه إلى السماء، فقال: «النجوم أمنة للسماء، فإذا ذهبت النجوم أتى السماء ما توعد، وأنا أمنة لأصحابي، فإذا ذهبت أتى أصحابي ما يوعدون، وأصحابي أمنة لأمتي، فإذا ذهب أصحابي أتى أمتي ما يوعدون»
سیدنا ابوبردہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا ہم نے مغرب کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی، پھر ہم نے کہا کہ اگر ہم بیٹھے رہیں یہاں تک کہ عشاء آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھیں تو بہتر ہو گا۔ پھر ہم بیٹھے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم یہیں بیٹھے رہے ہو؟ ہم نے عرض کیا کہ جی ہاں یا رسول اللہ! ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب پڑھی، پھر ہم نے کہا کہ اگر ہم بیٹھے رہیں یہاں تک کہ عشاء کی نماز بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھیں تو بہتر ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اچھا کیا یا ٹھیک کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا کرتے تھے، پھر فرمایا کہ ستارے آسمان کے بچاؤ ہیں، جب ستارے مٹ جائیں گے تو آسمان پر بھی جس بات کا وعدہ ہے وہ آ جائے گی (یعنی قیامت آ جائے گی اور آسمان بھی پھٹ کر خراب ہو جائے گا)۔ اور میں اپنے اصحاب کا بچاؤ ہوں۔ جب میں چلا جاؤں گا تو میرے اصحاب پر بھی وہ وقت آ جائے گا جس کا وعدہ ہے (یعنی فتنہ اور فساد اور لڑائیاں)۔ اور میرے اصحاب میری امت کے بچاؤ ہیں۔ جب اصحاب چلے جائیں گے تو میری امت پر وہ وقت آ جائے گا جس کا وعدہ ہے (یعنی اختلاف و انتشار وغیرہ)۔