ابن قدامہ
مشہور رکن
- شمولیت
- جنوری 25، 2014
- پیغامات
- 1,772
- ری ایکشن اسکور
- 429
- پوائنٹ
- 198
کیا جسم کے کسی حصے سے خون نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ؟
.
شرم گاہ کے علاوہ جسم کے کسی حصے سے خون نکلنے سے وضو نہیں ٹوٹتا اور اس کی دلیل یہ حدیث ہے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گھاٹی مین اتر کر صحابہ سے کہا ،، آج رات کون ہمارا پہرہ دے گا ؟
تو مہاجرین و انصار میں سے ایک ایک آدمی کھڑا ہو گیا پھر انہوں نے گھاٹی کے دھانے پر رات گزاری ، انہوں نے رات کا وقت پہرے کے لئے تقسیم کر لیا لہٰذا مہاجر سو گیا اور انصاری کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا - اچانک دشمن کے ایک آدمی نے آ کر انصاری کو دیکھا اور اسے تیر مار دیا - انصاری نے تیر نکال دیا اور اپنی نماز جاری رکھی ، پھر اس نے دوسرا تیر مارا تو انصاری نے پھر اسی طرح کیا ، پھر اس نے تیسرا تیر مارا تو اس نے تیر نکال کر رکوع اور سجدہ کیا اور اپنی نماز مکمل کی _ پھر اس نے اپنے ساتھی کو جگایا جب اس نے اسے ایسی (خون آلود) کی حالت میں دیکھا تو کہا جب پہلی مرتبہ اس نے تمہیں تیر مارا تو تم نے مجھے کیوں نہیں جگایا ؟
تو اس نے کہا میں ایک صورت کی تلاوت کر رہا تھا جسے کاٹنا (یعنی تلاوت چھوڑنا) میں نے پسند نہیں کیا -
.
***** صحیح ابو داؤد # ١٩٣ ابو داؤد #١٩٨ ، ابن خزیمہ#٣٦ ،حاکم #١٥٧/١ ، بیہقی #١٤٠/١ *****
.
شرم گاہ کے علاوہ جسم کے کسی حصے سے خون نکلنے سے وضو نہیں ٹوٹتا اور اس کی دلیل یہ حدیث ہے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گھاٹی مین اتر کر صحابہ سے کہا ،، آج رات کون ہمارا پہرہ دے گا ؟
تو مہاجرین و انصار میں سے ایک ایک آدمی کھڑا ہو گیا پھر انہوں نے گھاٹی کے دھانے پر رات گزاری ، انہوں نے رات کا وقت پہرے کے لئے تقسیم کر لیا لہٰذا مہاجر سو گیا اور انصاری کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا - اچانک دشمن کے ایک آدمی نے آ کر انصاری کو دیکھا اور اسے تیر مار دیا - انصاری نے تیر نکال دیا اور اپنی نماز جاری رکھی ، پھر اس نے دوسرا تیر مارا تو انصاری نے پھر اسی طرح کیا ، پھر اس نے تیسرا تیر مارا تو اس نے تیر نکال کر رکوع اور سجدہ کیا اور اپنی نماز مکمل کی _ پھر اس نے اپنے ساتھی کو جگایا جب اس نے اسے ایسی (خون آلود) کی حالت میں دیکھا تو کہا جب پہلی مرتبہ اس نے تمہیں تیر مارا تو تم نے مجھے کیوں نہیں جگایا ؟
تو اس نے کہا میں ایک صورت کی تلاوت کر رہا تھا جسے کاٹنا (یعنی تلاوت چھوڑنا) میں نے پسند نہیں کیا -
.
***** صحیح ابو داؤد # ١٩٣ ابو داؤد #١٩٨ ، ابن خزیمہ#٣٦ ،حاکم #١٥٧/١ ، بیہقی #١٤٠/١ *****