• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

خراسان اور کالے جھنڈے

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
5,006
ری ایکشن اسکور
9,809
پوائنٹ
773
اس سلسلے کی کوئی ایک بھی حدیث ثابت نہیں ہے سب کی سب من گھڑت یا ضعیف ہیں۔
بعض لوگ مستدرک حاکم وغیرہ سے ثوبان رضی اللہ عنہ کی موقوف روایت نقل کرکے اسے صحیح قراردیتے ہیں لیکن درحقیقت یہ موقوف روایت بھی ضعیف ہے ۔چناں چہ:

امام حاكم رحمه الله (المتوفى405)نے کہا:
أخبرنا الحسين بن يعقوب بن يوسف العدل، ثنا يحيى بن أبي طالب، ثنا عبد الوهاب بن عطاء، أنبأ خالد الحذاء، عن أبي قلابة، عن أبي أسماء، عن ثوبان رضي الله عنه، قال: «إذا رأيتم الرايات السود خرجت من قبل خراسان فأتوها ولو حبوا، فإن فيها خليفة الله المهدي» هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه[المستدرك على الصحيحين للحاكم: 4/ 547 رقم 8531]

امام حاکم نے موقوفا روایت کیا ہے لیکن یہی روایت اسی طریق سے مرفوعا بھی منقول ہے چنانچہ:

المطهر بن طاهر المقدسي (المتوفى نحو355)نے کہا :
حدثنا يعقوب بن يوسف السجزي حدثنا أبو موسى البغوي حدثنا الحسن بن ابراهيم البياضي بمكة حدثنا حماد الثقفي حدثنا عبد الوهاب بن عطاء الخفاف حدثنا خالد الحذاء عن أبي قلابة عن أبي أسماء الرحبي عن ثوبان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال إذا رأيتم الرايات السود من قبل خراسان فاستقبلوها مشياً على أقدامكم لأن فيها خليفة الله المهدي وفي هذا أخبار كثيرة هذا أحسنها وأولاها إن صحت الرواية [البدء والتاريخ 2/ 174]

یہ مرفوعا ہو یا موقوفا بہرصورت ضعیف ہے ۔تفصیل ملاحظہ ہو:

اس حدیث کو ابوقلابہ سے خالد الحذاء نے روایت کیا ہے یہ گرچہ ثقہ ہیں لیکن بعض روایات میں ان کی غلطی پکڑی گئی ہے۔
اور یہ حدیث بھی انہیں احادیث میں ایک ہے ۔چنانچہ خالد نے اس حدیث کو اپنے استاذ ابوقلابہ سے روایت کیا ہے لیکن ابوقلابہ کے شاگردوں میں سے کسی نے بھی یہ روایت اس طرح بیان نہیں کی ہے بلکہ خالد الحذا ہی کے شاگرد اسماعیل بن علیہ رحمہ اللہ نے اس روایت کو ابوقلابہ سے اس طرح روایت کرنے میں اپنے شیخ خالد کو خطاکار ٹہرایا ہے چنانچہ:

امام عبد الله بن أحمد بن حنبل رحمه الله (المتوفى:290)نے کہا:
حدثني أبي قال قيل لابن علية في هذا الحديث فقال كان خالد يرويه فلم يلتفت إليه ضعف بن علية أمره يعني حديث خالد عن أبي قلابة عن أبي أسماء عن ثوبان عن النبي صلى الله عليه وسلم في الرايات[العلل ومعرفة الرجال لأحمد، ت وصي: 2/ 325]

امام ابن علیہ رحمہ اللہ کی جرح مفسر (یعنی خاص اس روایت پرجرح)سے معلوم ہوا کہ ابوقلابہ سے اس طرح روایت کرنے میں خالد غلطی کے شکار ہوئے ۔لہٰذا جب خالد کا اسی روایت میں غلطی کرنا ثابت ہوگیا تو ان کے طریق سے آنے والی کوئی روایت بھی مقبول نہیں ہوگی خواہ مرفوع ہو یا موقوف ۔

اس جرح مفسر کے ازالہ میں کوئی بات موجود نہیں ہے بلکہ امام احمد رحمہ اللہ کا اسے برضاء رغبت نقل کرنا دلیل ہے کہ امام احمد رحمہ اللہ بھی امام ابن علیہ کی جرح سے متفق ہیں ۔
لہٰذا یہ موقوف روایت بھی ضعیف ہے۔

خلاصہ یہ کہ ہماری نظر میں کالے جھنڈے سے متعلق کوئی ایک روایت بھی ثابت نہیں ہے نہ مرفوعا اور نہ موقوفا ۔واللہ اعلم
 
Top