• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کچھ روایات کی صحت درکار

akramali1436ram

مبتدی
شمولیت
نومبر 20، 2015
پیغامات
42
ری ایکشن اسکور
12
پوائنٹ
17
1_ام سلمہ کا قول. کہ استوی کا معنی معلوم ہے لیکن اس کی کیفیت معلوم نہیں ہے
کیا یہ قول ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ثابت ہے؟
2_عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بارے کیا یہ بات ثابت ہے کہ انھوں نے دس ہزار غلاموں کو آزاد کروایا
36 سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دور میں ایک غلام نے ایک لونڈی سے جو جنگ میں حاصل ہوئی تھی جماع کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر زنا کی حد لگوائی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے خود 63 غلاموں کو آزاد فرمایا
3_ابو سعید مقبری سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا کہ مجھے بنو لیث کی ایک عورت نے بازار ذوالمجاز میں سات سو درہم میں خریدا، پھر اس نے مجھ سے چالیس ہزار درہم پر مکاتبت کی، میں اس کے پاس اکثر مال لے گیا، اور باقی مال بھی لے جا کر کہا "یہ تمہارا مال ہے اب اس کو لے لو،، انھوں نے کہا نہیں اللہ کی قسم جب تک ماہ بہ ماہ اور سال بہ سال تم سے نہ لوں_
چنانچہ وہ ابو سعید کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئیں اور ان سے ذکر کیا_
فرمایا یہ رقم بیت المال میں داخل کرو،... بعد میں عورت کو وہاں سے یہ رقم لینے کا اختیار دیا_(دارقطنی)
4_کیا غزوہ بدر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سامنے خود کو بدلے کے لیے پیش فرمایا تھا؟؟
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,767
ری ایکشن اسکور
8,515
پوائنٹ
964
1_ام سلمہ کا قول. کہ استوی کا معنی معلوم ہے لیکن اس کی کیفیت معلوم نہیں ہے
کیا یہ قول ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ثابت ہے؟
یہ قول حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ثابت نہیں ہے ۔ گو بعض اہل علم نے اس کی تصحیح کی ہے ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضرت امام مالک اور دیگر اہل علم سے یہ بات ثابت ہے ، لیکن حضرت ام سلمہ سے مروی اس قول کی سند ضعیف ہے ۔ ذیل میں کچھ تفصیل درج ذیل ہے :
محمد بن أشرس الكوفي. وقع في الإبانة أبو كنانة محمد بن الأشرس. وفي التوحيد لابن منده محمد بن أشرس الكوفي. وفي شرح أصول اعتقاد أهل السنة أبو كنانة محمد بن الأشرس الأنصاري. وعند ابن قدامة في إثبات صفة العلو أبو كنانة محمد بن أشرس الأنصاري. وهو ضعيف، ضعفه الذهبي كما جاء في تعليقه على هذا الأثر، ولم أقف له على ترجمة. أما من أحال على الميزان (3/485) ، أو لسان الميزان (5/49) فذاك رجل آخر، نيسابوري سلمي، كناه ابن الجوزي في الضعفاء والمتروكين (3/43) بأبي عبد الله. ولم يذكر أحد ممن ترجم له أنه يروي عن أبي المغيرة النضر بن إسماعيل الحنفي. والله أعلم. العرش للذهبي (2/ 177) حاشیہ )
شیخ عبد الرزاق البدر لکھتے ہیں :
إنَّ لقول الإمام مالك - رحمه الله - هذا نظائرَ كثيرةً جداًّ عند أئمّة السلف وأهل العلم، وسوف أتناول في هذا المبحث - إن شاء الله - ذكر بعض نظائره، لكن يحسن قبل ذلك الإشارةُ إلى أنَّ هذا اللفظ المنقول عن مالك والمشهور عنه - رحمه الله - قد سبقه إليه شيخُه ربيعةُ الرأي، ويُروى قبل ذلك عن أمِّ سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم لكن من وجه لا يثبت عنها - رضي الله عنها -.
روى اللالكائي في شرح الاعتقاد، والصابوني في عقيدة السلف، وابن قدامة في إثبات صفة العلوّ، والذهبي في العلوّ من طريق أبي كنانة محمد بن الأشرس الورّاق، حدّثنا أبو عمير الحنفي، عن قُرَّة بن خالد عن الحسن، عن أمِّه، عن أمِّ سلمة في قوله تعالى: {الرَّحْمَنُ عَلَى العَرْشِ اسْتَوَى} قالت: "الاستواء غير مجهول، والكيف غير معقول، والإقرار به إيمان، والجحود به كفر".
قال شيخ الإسلام: "وقد رُوي هذا الجواب عن أمِّ سلمة -رضي الله عنها- موقوفاً ومرفوعاً، ولكن ليس إسناده مما يُعتمد عليه".
وقال الذهبي: "هذا القول محفوظ عن جماعة كربيعة الرأي، ومالك الإمام، وأبي جعفر الترمذي، فأما عن أم سلمة فلا يصح؛ لأنَّ أبا كنانة ليس بثقة، وأبو عمير لا أعرفه"

(الأثر المشهور عن الإمام مالك رحمه الله في صفة الاستواء (ص: 76)
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,767
ری ایکشن اسکور
8,515
پوائنٹ
964
2_عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بارے کیا یہ بات ثابت ہے کہ انھوں نے دس ہزار غلاموں کو آزاد کروایا
اس سلسلے میں کوئی واضح ثبوت نہیں ملا ، حافظ ابن حجر وغیرہ نے ان کی جود و سخا کا ذکر کرتے ہوئے غلام آزاد کرنے سے متعلق دو باتیں لکھیں :
1۔ انہوں نے ایک ہی دن میں 30 غلام آزاد کیے تھے ۔
2۔ جعفر بن برقان کہتے ہیں : ہم نے یہ بھی سنا کہ انہوں نے 30 ہزار غلاموں کو آزاد کیاتھا ۔
دیکھیے : (الإصابۃ ج 4 ص 291 و 293 )
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,767
ری ایکشن اسکور
8,515
پوائنٹ
964
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دور میں ایک غلام نے ایک لونڈی سے جو جنگ میں حاصل ہوئی تھی جماع کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر زنا کی حد لگوائی
یہ اثر مجھے نہیں ملا ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے خود 63 غلاموں کو آزاد فرمایا
علامہ کمال الدین الدمیری ( 808 ) نے اپنی کتاب ’ النجم الوہاج ‘ میں یہ تعداد ذکر کی ہے ، بلکہ ان 63 کے نام بھی گنوائے ہیں ، لکھتے ہیں :
عاش النبي صلى الله عليه وسلم ثلاثًا وستين سنة, ونحر بيده في حجة الوداع ثلاثًا وستين بدنة, وأعتق ثلاثًا وستين نسمة.
فالذكور: أسلم, وأفلح, وأنجشة, وأيمن, وأنسة, وباذام, وبدر, وثوبان, وحاتم, وحنين, ودوس, ورافع, ورويفع, ورباح, وزيد جد هلال بن يسار بن زيد, وسابق, وسالم, وسعد, وسعيد, وسفينة , وسلمان, وسندرة, وشقران, وسمعون, وضميرة, وطهمان, وعمرون, وغيلان, وقفير, وكريب, وكركرة, ومابورا القبطي, ومكحول, ومدعم, ونبيه, ونفيع بن الحارث أبو بكرة, وهرمز, وهلال, وواقد, ووردان, ويسار, وأبو أثيلة, وأبو البشير, وأبو الحمراء, وأبو رافع, وأبو سلمى, وأبو صفية, وأبو ضميرة, وأبو عبيد, وأبو قيلة, وأبو كبشة, وأبو لقيط, وأبو مويهبة, وأبو هند.
والإناث: سلمى أم رافع, وبركة أم أيمن, وميمونة بنت سعد, وخضرة, ورضوى, وأميمة, وريحانة, ورزينة, وركانة.

(النجم الوهاج في شرح المنهاج (10/ 462)
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,767
ری ایکشن اسکور
8,515
پوائنٹ
964
3_ابو سعید مقبری سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا کہ مجھے بنو لیث کی ایک عورت نے بازار ذوالمجاز میں سات سو درہم میں خریدا، پھر اس نے مجھ سے چالیس ہزار درہم پر مکاتبت کی، میں اس کے پاس اکثر مال لے گیا، اور باقی مال بھی لے جا کر کہا "یہ تمہارا مال ہے اب اس کو لے لو،، انھوں نے کہا نہیں اللہ کی قسم جب تک ماہ بہ ماہ اور سال بہ سال تم سے نہ لوں_
چنانچہ وہ ابو سعید کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئیں اور ان سے ذکر کیا_
فرمایا یہ رقم بیت المال میں داخل کرو،... بعد میں عورت کو وہاں سے یہ رقم لینے کا اختیار دیا_(دارقطنی)
امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
سنن الدارقطني (5/ 214)
4215 - حدثنا أبو بكر النيسابوري , نا أبو الزنباع روح بن الفرج , نا يحيى بن بكير , نا عبد الله بن عبد العزيز الليثي , عن سعيد بن أبي سعيد المقبري , أنه حدثه عن أبيه , قال: اشترتني امرأة من بني ليث بسوق ذي المجاز بسبعمائة درهم , ثم قدمت فكاتبتني على أربعين ألف درهم فأديت [ص:215] إليها عامة المال ثم حملت ما بقي إليها , فقلت: هذا مالك فاقبضيه , قالت: لا والله حتى أجده منك شهرا بشهر وسنة بسنة , فخرجت به إلى عمر بن الخطاب رضي الله عنه فذكرت ذلك له , فقال عمر بن الخطاب: «ارفعه إلى بيت المال» ثم بعث إليها , فقال: «هذا مالك في بيت المال وقد عتق أبو سعيد , فإن شئت فخذي شهرا بشهر أو سنة بسنة» , قال: فأرسلت فأخذته
اسی طرح امام بیہقی نے بھی اس کو سنن کبری و صغری وغیرہ میں نقل کیا ہے ، لیکن اس کی سند میں ایک راوی عبد اللہ بن عبد العزیز اللیثی ضعیف ہے ، لہذا یہ روایت درست نہیں ۔ واللہ اعلم ۔
4_کیا غزوہ بدر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سامنے خود کو بدلے کے لیے پیش فرمایا تھا؟؟
معروف یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں صحابہ کرام سے پوچھا تھا کہ اگر میں نے کسی پر ظلم کیا تو وہ بدلہ لے سکتا ہے ۔۔۔ ایک شخص عکاشہ اٹھا ، اس نے کہا کہ فلاں غزوہ کے موقعہ پر آپ نے مجھے چھڑی ماری تھی ، میں اس کا بدلہ لینا چاہتا ہوں ۔۔ لیکن آخر میں اس نے چھڑی مارنے کی بجائے آپ کا جسم مبارک چومنا شروع کردیا ۔۔۔
یہ واقعہ گو بہت مشہور ہے ، لیکن موضوع اور من گھڑت ہے ۔ ابن الجوزی ، سیوطی ، ابن عراق ، لکھنوی وغیرہ علماء کے ایک جم غفیر نے اس پر یہ حکم لگایا ہے ۔
تفصیل یہاں دیکھ لیں ۔
 
Top