السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
والد اور بیٹے نے ایک گھر خریدا تھا جس میں والد کی آدھی رقم اور بیٹے کی آدھی رقم تھی.
بیٹے نے گھر بنانے كے لیے اور پیسے لگائے تھے
اب جب گھر کو بیچا گیا تو اس رقم میں اضافہ ہوا
تو براۓ مہربانی یہ بتائیں كے والد کو اس میں سے کتنی رقم ملے گی اور بیٹے کو کتنی؟
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اگر والد اور بیٹا دونوں زندہ ہیں ، تو گھر بکنے سے ملنے والی رقم اسی پرسنٹیج سے آپس میں بانٹ لیں ،جتنی جس نے خرچ کی تھی ،
مثلاً موجودہ حالت میں بکنے والے مکان پر ستر فیصد بیٹے نے اورتیس فیصد والد نے خرچ کئے تھے ،تو اب مکان کی فروخت سے حاصل شدہ
رقم میں ستر فیصد بیٹے کو اورتیس فیصد والد کو ملے گا ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن اصل نفع والی صورت یہ ہے کہ اگر بیٹے کو کوئی اضطراری حالت درپیش نہ ہو ،تو
مکان کی فروخت سے حاصل شدہ نصف رقم والد کو دے دے ، کیونکہ ابتدائی خرید میں والد نے مکان کیآدھی قیمت ادا کی تھی ،
اور بیتے نے بعد میں جو پیسے مزید خرچ کئے ،ان پر بھی والد کا حق بنتا تھا ،کیونکہ :
عن جابر بن عبد الله، أن رجلا قال: يا رسول الله إن لي مالا وولدا، وإن أبي يريد أن يجتاح مالي، فقال: «أنت ومالك لأبيك» (سنن ابن ماجہ )
__________
[تعليق محمد فؤاد عبد الباقي]
في الزوائد إسناده صحيح ورجاله ثقات على شرط البخاري ۔۔۔و قال الشيخ الألباني: صحيح
ترجمہ :
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس مال اور اولاد دونوں ہیں، اور میرے والد میرا مال ختم کرنا چاہتے ہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اور تمہارا مال دونوں تمہارے والد کے ہیں“۔
اور دوسری حدیث میں ارشاد ہے :
عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: إن أبي اجتاح مالي، فقال: «أنت ومالك لأبيك» وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن أولادكم من أطيب كسبكم، فكلوا من أموالهم»
ترجمہ :
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میرے والد نے میری دولت ختم کر دی (اس کے بارے میں فرمائیں؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اور تمہاری دولت دونوں تمہارے والد کے ہیں“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری اولاد تمہاری بہترین کمائی ہے لہٰذا تم ان کے مال میں سے کھاؤ“ ۱؎۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے معنی یہ ہیں کہ جب انسان کے پاس مال ہو تو اس کے باپ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس مال میں سے جس قدر چاہے لے سکتا ہے لیکن اس کے لیے ایک بلکہ کئی شرطیں ہیں، جو کہ حسب ذیل ہیں:
… مال لینے سے بیٹے کو نقصان نہ ہو، مثلاً باپ اگر اس لحاف کو لینا چاہے، جسے بیٹا سردی سے بچنے کے لیے استعمال کر رہا ہو یا اس کھانے کو لے لے جسے وہ بھوک مٹانے کے لیے کھا رہا ہو تو باپ کے لیے یہ جائز نہ ہوگا۔
2… بیٹے کی اس مال سے حاجت متعلق نہ ہو، مثلاً اگر بیٹے کے پاس لونڈی ہو تو باپ کے لیے اسے لیناجائز نہیں کیونکہ بیٹے کو اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر بیٹے کے پاس صرف ایک ہی گاڑی ہو جسے وہ آمد و رفت کے لیے استعمال کرتا ہو اور اسے دوسری گاڑی خریدنے کی استطاعت نہ ہو تو اس گاڑی کو لینا باپ کے لیے کسی حال میں بھی جائز نہیں ہوگا۔
3… اپنے کسی بیٹے کا مال اس لیے نہ لے کہ وہ کسی دوسرے بیٹے کو دے دے کیونکہ اس طرح تو اس کے بیٹوں میں عداوت پیدا ہوگی اور بعض کو بعض پر فضیلت دینا بھی لازم آئے گا بشرطیکہ دوسرا بیٹا محتاج نہ ہو اور اگر وہ محتاج ہو تو پھر اس میں تفصیل نہیں ہے اور اس صورت میں اسے دینا باپ کے لیے واجب ہے۔
بہرحال یہ حدیث حجت ہے، علماء نے اسے قبول کیا ہے اور اس سے استدلال کیا ہے لیکن کچھ شرائط ہیں جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے کہ باپ کے لیے بیٹے کے مال کو اس طرح لینا جائز نہیں ہے جس سے بیٹے کو نقصان پہنچے، نیز اس مال کو نہ لے جس کی خود بیٹے کو بھی ضرورت ہو نیز وہ ایک بیٹے کا مال لے کر دوسرے بیٹے کو نہ دے۔ واللہ اعلم
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب