• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا خلافت و بادشاہت رحمت ہیں؟

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم شیخ صاحب
ایک بھائی نے اس روایت کی صحت کے بارے پوچھا ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خلافت اور بادشاہت کو رحمت قرار دیا اور بعد والے نظام کو گدھوں کی لڑائی۔
طبرانی کبیر حدیث :11138

PLZ check kr k btana k ye hadis sahih hay ya galat?

NABI Alaihis Salaam ne Khilafat aur Baadshahat ko Rehmat Qarar diya, Aur Baad wale Nizam ko Gadhon ki Larrayi
[Tabrani Kabeer
Hadees:11138]
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,633
پوائنٹ
791
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

ایک بھائی نے اس روایت کی صحت کے بارے پوچھا ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خلافت اور بادشاہت کو رحمت قرار دیا اور بعد والے نظام کو گدھوں کی لڑائی۔
طبرانی کبیر حدیث :11138
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

حدثنا أحمد بن النضر العسكري، ثنا سعيد بن حفص النفيلي، ثنا موسى بن أعين، عن ابن شهاب، عن فطر بن خليفة، عن مجاهد، عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أول هذا الأمر نبوة ورحمة، ثم يكون خلافة ورحمة، ثم يكون ملكا ورحمة، ثم يكون إمارة ورحمة، ثم يتكادمون عليه تكادم الحمر فعليكم بالجهاد، وإن أفضل جهادكم الرباط، وإن أفضل رباطكم عسقلان»
رواہ الطبراني رحمه الله - في "المعجم الكبير" (11138)

ترجمہ :
پیارے نبی صلی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "سب سے پہلے نبوت و رحمت ہوگی، پھر خلافت و رحمت ہو گی، پھر بادشاہت ورحمت ہو گی، اور پھر امارت و رحمت ہوگی اور اس کے بعد لوگ اس حکومت کو حاصل کرنے کیلئے ایک دوسرے کو گدھے کی طرح کاٹیں گے. اس دور میں تم جہاد کو لازم پکڑنا، اور تمہارا افضل جہاد الرباط (یعنی سرحدوں کی حفاظت) ہے اور افضل رباط عسقلان شہر کا رباط ہے."

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حدیث سنداً صحیح ہے ، تمام راوی ثقہ ہیں ، علامہ ھیثمی مجمع الزوائد میں لکھتے ہیں : رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ
کہ اسے امام طبرانی نے روایت کیا اور اسکے روای ثقہ ہیں ،
اور علامہ ناصر الدین الالبانی ؒ سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ (جلد 7 صفحہ ۸۰۳ ) میں فرماتے ہیں : کہ اس کی اسناد عمدہ ہے ، اور ایک کے سوا تمام راوی ثقہ ہیں ، اور اس ایک پر بھی ہلکا سا کلام ہے ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقوله " عن ابن شهاب " تصحيف ، والصواب " عن أبي شهاب " كما أورده السيوطي رحمه الله في "اللآلئ المصنوعة" (1/422) وهو أبو شهاب موسى بن نافع الحناط ، وهو صدوق ، وثقه ابن معين وغيره ، وقال أبو حاتم : يكتب حديثه
"التهذيب" (10/375) .
والذي يدل عليه أن موسى بن أعين لم يذكروا في شيوخه ابن شهاب ، فكأنه لم يلقه ، فإن بين وفاتيهما 53 سنة .
والحديث ، قال الهيثمي رحمه الله في "المجمع" (5/190) :
" رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ " .
وقال الألباني رحمه الله :
" وهذا إسناد جيد، رجاله كلهم ثقات ؛ غير سعيد بن حفص النفيلي ، ففيه كلام يسير ، وقد وثقه ابن حبان (8/268) ، وأخرج له في "صحيحه "ثلاثة أحاديث، والذهبي ، والعسقلاني فقال : "صدوق تغير في آخر عمره " .
انتهى من " سلسلة الأحاديث الصحيحة " (7/ 803) .
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,633
پوائنٹ
791
موجودہ نقشہ کے مطابق عسقلان کا محل وقوع ملاحظہ فرمائیں ، یہ بیت المقدس کے (65 کلومیٹر )مغرب میں واقع ہے ؛
تقریباً سوا لاکھ آبادی پر مشتمل ہے


عسقلان 2.jpg
 
Top