• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شہادت کی آرزو کرنا

محمد زاہد بن فیض

سینئر رکن
شمولیت
جون 01، 2011
پیغامات
1,961
ری ایکشن اسکور
5,788
پوائنٹ
354
حدیث نمبر: 2797
حدثنا أبو اليمان،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أخبرنا شعيب،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن الزهري،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال أخبرني سعيد بن المسيب،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أن أبا هريرة ـ رضى الله عنه ـ قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول ‏"‏ والذي نفسي بيده لولا أن رجالا من المؤمنين لا تطيب أنفسهم أن يتخلفوا عني،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ولا أجد ما أحملهم عليه،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ما تخلفت عن سرية تغزو في سبيل الله،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ والذي نفسي بيده لوددت أني أقتل في سبيل الله ثم أحيا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ثم أقتل ثم أحيا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ثم أقتل ثم أحيا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ثم أقتل ‏"‏‏.‏

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر د ی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں سعید بن مسیب نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر مسلمانوں کے دلوں میں اس سے رنج نہ ہوتا کہ میں ان کو چھوڑ کر جہاد کے لئے نکل جاؤں اور مجھے خود اتنی سواریاں میسر نہیں ہیں کہ ان سب کو سوار کر کے اپنے ساتھ لے چلو ں تو میں کسی چھوٹے سے چھوٹے ایسے لشکر کے ساتھ جانے سے بھی نہ رکتا جو اللہ کے راستے میں غزوہ کے لئے جا رہا ہوتا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میری تو آرزو ہے کہ میں اللہ کے راستے میں قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر قتل کر دیا جاؤں۔


حدیث نمبر: 2798
حدثنا يوسف بن يعقوب الصفار،‏‏‏‏ حدثنا إسماعيل ابن علية،‏‏‏‏ عن أيوب،‏‏‏‏ عن حميد بن هلال،‏‏‏‏ عن أنس بن مالك ـ رضى الله عنه ـ قال خطب النبي صلى الله عليه وسلم فقال ‏"‏ أخذ الراية زيد فأصيب،‏‏‏‏ ثم أخذها جعفر فأصيب،‏‏‏‏ ثم أخذها عبد الله بن رواحة فأصيب،‏‏‏‏ ثم أخذها خالد بن الوليد عن غير إمرة ففتح له ـ وقال ـ ما يسرنا أنهم عندنا ‏"‏‏.‏ قال أيوب أو قال ‏"‏ ما يسرهم أنهم عندنا ‏"‏‏.‏ وعيناه تذرفان‏.‏

ہم سے یوسف بن یعقوب صفار نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے، ان سے ایوب نے، ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا آپ نے فرمایا فوج کا جھنڈا اب زید نے اپنے ہاتھ میں لیا اور وہ شہید کر دیئے گئے پھر جعفر نے لے لیا اور وہ بھی شہید کر دیئے گئے پھر عبداللہ بن رواحہ نے لے لیا اور وہ بھی شہید کر دیئے گئے اور اب کسی ہدایت کا انتظار کئے بغیر خالد بن ولید نے جھنڈا اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اور ان کے ہاتھ پر اسلامی لشکر کو فتح ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور ہمیں کوئی اس کی خوشی بھی نہیں تھی کہ یہ لوگ جو شہید ہو گئے ہیں ہمارے پاس زندہ رہتے کیونکہ وہ بہت عیش و آرام میں چلے گئے ہیں۔ ایوب نے بیان کیا یا آپ نے یہ فرمایا کہ انہیں کوئی اس کی خوشی بھی نہیں تھی کہ ہمارے ساتھ زندہ رہتے، اس وقت آنحضرت کی صلی اللہ علیہ وسلم آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔



کتاب الجہاد صحیح بخاری
 
Top