محمد ارسلان
خاص رکن
- شمولیت
- مارچ 09، 2011
- پیغامات
- 17,859
- ری ایکشن اسکور
- 41,102
- پوائنٹ
- 1,155
بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہمیرے ایک دوست جو کہ پرائیوٹ کالج میں زیر تعلیم ہیں انہوں نے ایک بار مجھے بتایا کہ کلاس میں ایک ٹیچر سے اس نے سوال کیا مضمون کے بارے میں جو کہ ان کو سمجھ نہیں آیا یا اس میں چند نکات کی سمجھ نہیں آئی تو اس نے اپنے استاد سے رہنمائی لینا چاہی تو میرے دوست نے بتایا کہ اس کے استاد نے اتنی غلیظ بات کی کہ میں یہاں لکھ نہیں سکتا۔
میں حیران ہو گیا اس کی بات سن کر کہ یہ کیا کہہ رہا ہے۔اور میں خود بھی ایسے اساتذہ کو کالج میں دیکھ چکا ہوں جو لیکچر کے دوران ایسی فضول اور بے ہنگم بات کر جاتے ہیں جس سے وقت کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔
صرف علم حاصل کر لینا ہی سب کچھ نہیں بلکہ عمل بھی کرنا چاہیے صرف اس بات کا انسان ڈھونگ رچاتا رہے کہ فلاں کو اتنا علم ہے فلاں اتنا پڑھا لکھا ہے فلاں اتنا بڑا عالم یا عالمہ ہے اس کو اتنا علم ہے اور اس بات کو مدنظر رکھ کر اس کی بری باتوں کو اور گھٹیا انداز تنقید کو نظر انداز کر دیا جائے تو یہ کسی طور پر درست نہیں۔
استاد یا استانی خود مہذب ہو تو اپنے شاگردوں کو تعلیم اچھی ملے گی اور استاد خود ہی بدتمیز ہو اور شاگردوں کو تعلیم دینے کے بعد لوگوں کو تنقید کا نشانہ بنائے اور اپنی علمیت جتائے تو کیا خاک شاگردوں کی تربیت صحیح ہو گی؟
بس اللہ سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے تعلیم دینے والے مرد و خواتین کو ہدایت عطا فرمائے اور سٹوڈنٹ سے بے جا باتیں کرنے اور ان کی غلط تربیت کرنے سے محفوظ فرمائے آمین۔