یا اللہ
اسی سے سوال کرتے ہیں سب جو آصمانوں اور زمین میں ہیں ہر روز اس کی ایک نئی شان ہوتی ہے جب سمندر میں بلچل ہوتی ہے پانی موجیں مارتا ہے تیز ہوائیں چلتی ہیں تو کشتی والے اسے سے فریاد کرتے اور یااللہ! یااللہ! کہتے ہیں جب مسافر صحراء میں بھٹک جاتا ہے تو قافلہ راستہ سے ہٹ جاتا ہے اس کی راہ گم ہوجاتی ہے تو وہ پکار اُٹھتے ہیں یااللہ! جب طلب گاروں پر راستے بند ہوجاتے ہیں مانگنے والوں کو نہیں دیا جاتا تو ان کی پکار ہوتی ہے یااللہ! جب تدبیریں ناکام ہوجائیں اُمیدیں ساتھ چھوڑ جائیں ذرائع مسدود اور راستے بند ہوجائیں تو لوگ اللہ سے فریاد کرتے ہیں۔
جب زمین اپنی وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہوجائے اور رنج والم سے دم گھٹنے لگے تو اللہ کو پکارو۔ بقول شاعر!
تنگ وتاریک زمانہ اور مصیبتوں کے بادلوں میں، نے دعائے نیم شمی میں تیرا نام لیا تو ہر صبح روشن وتابناک ہوگئی۔
اللہ ہی کی طرف جاتے ہیں اچھے کملے، خالص دعاء، سچی پکار، معصومانہ آنسو اور درد انگیز نالے ضرورت مندی میں دُعا نیم میں اس کی طرف ہاتھ اٹھتے ہیں مصیبتوں میں آنکھیں اسی کی طرف دیکھتی ہیں حادثات میں اسی سے فریاد کی جاتی ہے۔
فریاد، پکار اور سوال میں اسی کا نام زبانوں پر ہوتا ہے، قلب وروح اسی سے سکون پاتے ہیں احساسات اور اعصاب ٹھنڈے پڑتے ہیں عقل لوٹ آتی اور یقین پیدا ہوتا ہے اللہ اپنے بندوں سے رحم وکرم کا معاملہ کرتا ہے۔
اللہ! کیا پیارا نام ہے کتنے خوبصورت حروف ہیں کتنے قیمتی کلمے اور صحیح ترین تعبیر ہے، کیا اس کا کوئی اور ہم نام ہے؟ اللہ کہئے فورا ہی ذہن میں غنا، بقا، قوت، ونصرت، عزت وقدرت اور حکمت کا سراپا گھوم جائے گا اس دن کس کی بادشاہی ہوگی؟ اللہ واحد وقہار کی اللہ کا لفظ نکالئے لطب وعنایت، مدد وفریاد رسی اور محبت اور احسان کا جلوہ دکھائی دے گا، تمہیں جو بھی نعمت ملتی ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے اللہ جلال وعظمت والا ہیبت وجبروت سے متصف بقول عربی شاعر!
تیرے جلال وقدوسیت کے بیان کے لئے کتنے ہی الفاظ ڈھالے جائیں الفاظ ومعانی کے سارے ذخیرے تیرے جلالا کی تعبیر سے قاصر ہیں۔
بار الٰٰہ! حسرت کو خوشی، غم کو سرور اور خوف کو امن میں بدل دے اے اللہ دل کی آگ کو یقین کی ٹھنڈک سے بجھادے، نفس کے شعلوں کو ایمان کے پانی سے سرد کردے یارب! جاگتی آنکھوں کو نیند، مضطرب نفوس کو سکینت عطا کرانہیں جلد ہی کامیابی سے نواز، یارب کریم! بے بصیرتوں کو اپنا نوردے کشتگان راہ ضلالت کو اپنا راستہ دکھا دے۔
بار الٰہ! وسوسوں کو نورانی شعاعوں سے زائل کردے باطل پرست نفس کا گلا حق کے لشکر سے گھونٹ دے شیطان کی چالوں اور تدبیروں کو اپنی مدد ونصرت سے تباہ کردے اے اللہ! ہمارے غم، رنج وفکر اور قلق کو دور فرمادے ہم خوف اور پست پمتی سے تیری پناہ چاہتے ہیں تجھی پر بھروسہ کرتے ہیں تجھی سے مانگتے ہیں تو ہی ہمارا سرپرست ہے تو کیا خوب سرپرست اور مددگار ہے۔
اقتباس
غم نہ کریں
غم نہ کریں