• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جس نے علی کو گالی دی (صحت حدیث درکار ہے )

ابن خلیل

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 03، 2011
پیغامات
1,387
ری ایکشن اسکور
6,756
پوائنٹ
332
السلام علیکم
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:-میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جس نے علی کو گالی دی اس نے مجھے گالی دی اور جس نے مجھے گالی دی اس نے اﷲ کو گالی دی.مسند أحمد بن حنبل ( ج18 / 314 ) الحديث رقم :ح26627الحاکم فيالمستدرک، 3 / 121، الحديث رقم : 4616،الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 130 : رجاله رجال الصحيح،ابن عساکر في تاريخه، 42 / 533. 42 / 266، 266، 267. 268، 533

صحت حدیث درکار ہے
اور کیا اسی طرح کی کوئی دوسری حدیث بھی ہے جس میں حضرت علی کے بجاے صحابہ کہا گیا ہو؟
 

Abu Hashir

مبتدی
شمولیت
فروری 06، 2025
پیغامات
56
ری ایکشن اسکور
6
پوائنٹ
21
مسند احمد میں بہت سی ضعیف اور منگھڑت روایات کو بھی لیا گیا ہے خصوصا فضائل علی میں

وہ تاویل کرتے تھے

انکے دلائل اسطرح کے ہوتے تھے کہ
گالی دینا تو عام مسلمان کو بھی منع ہے اور فسق ہے تو عام مسلمان میں کیونکہ حضرت علی بھی شامل ہیں تو اسکا مطلب انہیں گالی دینا بھی فسق ہے
 

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
930
ری ایکشن اسکور
232
پوائنٹ
111
السلام علیکم
وعليكم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

صحت حدیث درکار ہے
ناصر الدین البانی نے اپنی کتاب ضعيف الجامع الصغير میں اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔

13598.jpg

13596.jpg

ڈاکٹر محمد كامل قرة بلي نے المستدرك على الصحيحين کی تحقیق و تخریج میں اس روایت کی سند پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے:

«إسناده ضعيف، بكير بن عثمان روى عنه واحد أو اثنان، وقال عنه محمد بن بشر العبدي في "سؤالات محمد بن عثمان بن أبي شيبة" (٥٦): لم يكن بالمحمود في قومه. قلنا: ولم يؤثر توثيقه عن أحدٍ»

اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے راوی بکیر بن عثمان سے صرف ایک یا دو راویوں نے روایت کی ہے۔ محمد بن بشر العبدي نے اپنی کتاب سؤالات محمد بن عثمان بن أبي شيبة (رقم: 56) میں بکیر بن عثمان کے متعلق کہا ہے کہ وہ اپنی قوم میں قابل تعریف مقام نہیں رکھتے تھے۔ ہم کہتے ہیں کہ کسی بھی محدث سے ان کی توثیق منقول نہیں ہے۔

«وقد رواه علي بن مُسهر عند علي بن محمد الحِمْيري في "جزئه" (٢٦)، ومن طريقه ابن عساكر ٤٢/ ٥٣٣ عن أبي إسحاق السبيعي، غير أنه لم يذكر في روايته أبا عبد الله الجَدَلي، وجعل القصة لأبي إسحاق نفسه أنه هو الذي حجَّ وهو غلام، وسمع أم سلمة تقول ما تقول لشَبَث بن ربعي، إلّا أنَّ علي بن مسهر لم يسمع من أبي إسحاق، فروايته عنه منقطعة فلا تصح، ولا يصح لأبي إسحاق لقاء بأم سلمة»

اس روایت کو علی بن مسہر نے علی بن محمد الحمیری کی کتاب جزئه (رقم: 26) میں بھی نقل کیا ہے۔ اسی سند کے ذریعے ابن عساکر نے بھی اسے اپنی کتاب میں (42/533) روایت کیا ہے، مگر اس روایت میں ابو اسحاق السبیعی نے حضرت ابو عبد اللہ الجدلی کا ذکر نہیں کیا۔

بلکہ اس روایت میں پورا واقعہ خود ابو اسحاق السبیعی سے متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ بچپن میں حج کے لیے گئے تھے اور انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو شبث بن ربعی سے یہی گفتگو کرتے ہوئے سنا تھا۔

لیکن علی بن مسہر نے ابو اسحاق السبیعی سے براہ راست سماع نہیں کیا، لہٰذا ان کی یہ روایت منقطع ہے اور صحیح نہیں۔ نیز ابو اسحاق السبیعی کا حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کرنا بھی ثابت نہیں ہے۔

13594.jpg

13611.jpg

کیا اسی طرح کی کوئی دوسری حدیث بھی ہے جس میں حضرت علی کے بجاے صحابہ کہا گیا ہو؟
جی ہاں، حافظ ابن عدی الجرجانی رحمہ اللہ نے الكامل في ضعفاء الرجال میں ایسی روایات نقل کی ہے جس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ذکر آیا ہے۔

«قَال رَسُول اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيهِ وَسلَّمَ مَنْ سَبَّ أَصْحَابِي وَأَصْهَارِي فَقَدْ سَبَّنِي، ومَنْ سَبَّنِي فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ والناس أجمعين.»

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے میرے صحابہ اور میرے سسرالی رشتہ داروں کو گالی دی، اس نے مجھے گالی دی، اور جس نے مجھے گالی دی، اس پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔

[الكامل في ضعفاء الرجال، ج : 5، ص : 352]

13607.jpg

13603.jpg

13605.jpg

لیکن یہ روایت ضعیف ہے۔ اس کی سند میں عبد اللہ بن خراش موجود ہیں، جسے امام بخاری اور امام ابو حاتم رحمہما اللہ جیسے محدثین نے منکر الحدیث قرار دیا ہے۔

بہرحال صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے احترام اور ان کی توہین سے ممانعت کے سلسلے میں صحیح حدیث بھی موجود ہے :

«حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ". تَابَعَهُ جَرِيرٌ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ , وَأَبُو مُعَاوِيَةَ , وَمُحَاضِرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ.»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے اصحاب کو برا بھلا نہ کہو کیونکہ تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرے تو وہ ان کے «مُدّ» یا نصف «مُدّ» کے برابر نہیں پہنچ سکتا۔“ جریر، عبداللہ بن داؤد، ابو معاویہ اور محاضر نے اعمش سے روایت کرنے میں شعبہ کی متابعت کی ہے۔

[صحيح البخاري، كتاب فضائل الصحابة، حدیث: 3673]

13609.jpg

​
واللہ اعلم بالصواب۔
 
Top