• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

آج کی حدیث مبارکہ

ندیم محمدی

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 29، 2011
پیغامات
354
ری ایکشن اسکور
1,279
پوائنٹ
140
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے، میں روزانہ ایک حدیثِ مبارکہ اس کے فوائد اور عملی اسباق کے ساتھ اپنے واٹس ایپ گروپس اور فیس بک پر شیئر کرتا آ رہا ہوں۔ الحمدللہ، اس معمول سے خود مجھے بھی بہت سیکھنے کا موقع ملا اور دیگر احباب نے بھی اس سے فائدہ اٹھایا۔

اب ارادہ ہے کہ ان تمام احادیث کو افادۂ عام کے لیے ایک منظم سلسلے (تھریڈ) کی صورت میں یہاں بھی جمع کیا جائے، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے مستفید ہو سکیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس کوشش کو قبول فرمائے، اسے میرے لیے اور سب پڑھنے والوں کے لیے نافع بنائے، اور ہمیں سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
 

ندیم محمدی

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 29، 2011
پیغامات
354
ری ایکشن اسکور
1,279
پوائنٹ
140
ایمان کا کمال اور باہمی خیر خواہی

۔۔۔۔
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ:
«وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِہِ لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّی يُحِبَّ لِأَخِيہِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِہِ مِنْ الْخَيْرِ»

ترجمہ: سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد(ﷺ)کی جان ہے! تم میں سے کوئی شخص (اس وقت تک) مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے (ہرمسلمان) بھائی کے لیے اسی طرح خیروبھلائی پسند نہ کرے جس طرح اپنے لیے کرتا ہے۔"
[سنن نسائی، کتاب الایمان، رقم الحدیث: 5020، صحیح]

فوائد
ایمان کی تکمیل کا معیار
حقیقی ایمان صرف کلمہ پڑھنے یا ظاہری عبادات تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک قلبی کیفیت ہے جو انسان کو دوسروں کا خیر خواہ بنا دیتی ہے۔ جب تک دل سے حسد ختم نہ ہو اور دوسروں کے لیے وہی چاہت پیدا نہ ہو جو اپنے لیے ہے، ایمان کامل نہیں ہوتا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
((إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ))
ترجمہ: "مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔"
[سورة الحجرات: 10]

حسد کا جڑ سے خاتمہ
یہ حدیث حسد جیسی روحانی بیماری کا بہترین علاج پیش کرتی ہے۔ جب انسان دوسروں کی خوشی میں خوش ہونا سیکھ لیتا ہے، تو اس کے دل سے وہ جلن ختم ہو جاتی ہے جو نیکیوں کو کھا جاتی ہے۔
ارشادِ نبوی ہے:
«لَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَقَاطَعُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللهِ إِخْوَانًا»
ترجمہ: "ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے قطع تعلق نہ کرو اور اللہ کے بندے ( ایک دوسرے کے) بھائی بن کر رہو۔"
[صحیح مسلم: 2559]

ایثار اور دوسروں کو ترجیح دینا
ایک سچے مومن کی صفت یہ ہے کہ وہ اپنی ضرورت کے باوجود دوسروں کے فائدے کو ترجیح دیتا ہے۔ یہ صفت معاشرے میں محبت اور توازن پیدا کرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
((وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ))
ترجمہ: "اور وہ (دوسروں کو) اپنی جانوں پر ترجیح دیتے ہیں جائے خواہ انھیں سخت حاجت ہو۔"
[سورة الحشر: 9]

اتحادِ امت کی بنیاد
مسلمانوں کا آپس میں تعلق ایک جسم کی مانند ہے۔ جب ایک حصے کو تکلیف پہنچتی ہے تو پورا جسم اسے محسوس کرتا ہے۔ دوسروں کے لیے خیر چاہنا اسی اتحاد کو مضبوط کرتا ہے۔
ارشادِ نبوی ہے:
«مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ»
ترجمہ: "مومنوں کی مثال ان کی باہمی محبت، رحم دلی اور ہمدردی میں ایک جسم کی طرح ہے۔"
[صحیح بخاری: 6011]

اللہ کی مدد کے حصول کا ذریعہ
جو شخص اپنے بھائی کی خیر خواہی اور مدد میں لگا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ غیب سے اس کی مدد فرماتا ہے۔ دوسروں کے لیے بھلائی چاہنا دراصل اپنے لیے اللہ کی رحمتوں کے دروازے کھولنا ہے۔
ارشادِ نبوی ہے:
«وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ»
ترجمہ: "اور اللہ اس وقت تک بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے۔"
[صحیح مسلم: 2699]

معاشرتی امن و سلامتی
اگر ہر شخص دوسروں کے لیے وہی پسند کرنے لگے جو اپنے لیے کرتا ہے، تو معاشرے سے دھوکہ، ظلم اور ناانصافی کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا اور ہر طرف سکون ہوگا۔
ارشادِ نبوی ہے:
«أَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ تَكُنْ مُسْلِمًا»
ترجمہ: "لوگوں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے کرتے ہو، تم (حقیقی) مسلمان بن جاؤ گے۔"
[سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 930]

عملی اقدامات
دل سے حسد کی بیخ کنی
جب کسی دوسرے کی کامیابی کی خبر ملے تو فوراً ماشاء اللہ کہیں اور اپنے دل میں پیدا ہونے والی جلن کو شعوری طور پر ختم کرنے کی کوشش کریں۔

غائبانہ دعا کا اہتمام
اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے لیے ان کی غیر موجودگی میں وہی دعائیں مانگیں جو آپ اپنے لیے مانگتے ہیں۔ فرشتے آپ کی دعا پر آمین کہتے ہیں۔

دوسروں کی خوشی میں شرکت
اگر کسی کو کوئی نعمت ملے تو اسے اپنی کامیابی سمجھ کر مبارکباد دیں اور ان کی خوشی میں خلوصِ دل سے شریک ہوں۔

مخلصانہ مشورہ دینا
جب کوئی آپ سے مشورہ مانگے تو اسے وہی مشورہ دیں جو آپ اس صورتحال میں اپنے لیے بہترین سمجھتے، اس میں کبھی خیانت نہ کریں۔

عزت و آبرو کی حفاظت
اپنے بھائی کی غیر موجودگی میں اس کی عزت کا اسی طرح دفاع کریں جیسے آپ اپنی عزت پر اٹھنے والے سوال کا جواب دینا پسند کرتے ہیں۔

ضرورت کے وقت تعاون
اگر آپ کے پاس کوئی ایسی چیز ہے جو دوسرے کی ضرورت پوری کر سکتی ہے، تو اسے بانٹنے میں خوشی محسوس کریں، جیسے آپ چاہتے ہیں کہ مشکل میں کوئی آپ کا ہاتھ بٹائے۔

رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ۔
 

اٹیچمنٹس

ندیم محمدی

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 29، 2011
پیغامات
354
ری ایکشن اسکور
1,279
پوائنٹ
140
محنت کی عظمت اور نیت کی اہمیت


عن كعب بن عجرة رضي الله عنه قال: مَرَّ على النبيِّ ﷺ رجلٌ، فرأى أصحابُ رسولِ الله ﷺ مِنْ جَلَدهِ ونَشاطِه، فقالوا: يا رسولَ الله! لو كانَ هذا في سبيلِ الله! فقال رسولُ الله :
«إنْ كانَ خرجَ يَسْعى على ولَدِه صِغاراً فهو في سبيلِ الله، وإنْ كانَ خرجَ يَسْعَى على أَبَوْينِ شَيْخَيْنِ كبيرْينِ فهو في سبيلِ الله، وإنْ كانَ خرجَ يَسْعى على نفْسِه يُعِفُّها فهو في سبيل الله، وإنْ كانَ خَرج يَسْعى رِياءً ومُفاخَرةً فهو في سبيلِ الشيْطانِ»

سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس سے ایک شخص گزرا، رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے اس کی جسمانی توانائی اور چستی کو دیکھا تو (رشک سے) کہا: اے اللہ کے رسول! کاش یہ (توانائی اور محنت) اللہ کی راہ میں ہوتی!
تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اگر وہ اپنے چھوٹے بچوں کے لیے دوڑ دھوپ کرنے نکلا ہے تو وہ اللہ کی راہ میں ہے، اور اگر وہ اپنے بوڑھے والدین کی خدمت (اور رزق) کے لیے نکلا ہے تو وہ اللہ کی راہ میں ہے، اور اگر وہ اپنی ذات کو (حرام اور سوال سے) بچانے کی خاطر نکلا ہے تو وہ اللہ کی راہ میں ہے، لیکن اگر وہ دکھاوے اور فخر کے لیے نکلا ہے تو وہ شیطان کی راہ میں ہے۔"
[صحیح الترغیب والترہیب: رقم الحدیث 1959]

فوائد
عبادت کا وسیع مفہوم
اسلام میں عبادت صرف تسبیح یا مسجد تک محدود نہیں، بلکہ حلال رزق کے لیے کی جانے والی تگ و دو بھی نیت کی درستی سے جہاد کا درجہ اختیار کر لیتی ہے۔ یہ تصور انسان کو متحرک اور ذمہ دار بناتا ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((وَآخَرُونَ يَضْرِبُونَ فِي الْأَرْضِ يَبْتَغُونَ مِن فَضْلِ اللَّهِ))
"اور کچھ دوسرے لوگ زمین میں سفر کریں گے، اللہ کا فضل تلاش کریں گے۔"
[سورة المزمل: 20]

والدین کی خدمت کی فضیلت
بوڑھے والدین کی معاشی کفالت اور ان کے لیے بھاگ دوڑ کرنا اللہ کے نزدیک اتنا ہی معتبر ہے جتنا کہ میدانِ جنگ میں نکلنا۔ یہ عمل اولاد کے لیے جنت کے حصول کا ذریعہ ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا)
"اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔"
[سورة البقرة: 83]

بچوں کی پرورش ایک دینی فریضہ
چھوٹے بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے محنت کرنا والدین پر فرض ہے اور اس محنت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں شمار کیا ہے، جس پر اجر عظیم ملتا ہے۔
ارشادِ نبوی ہے:
«كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَقُوتُ»
"آدمی کے گناہگار ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ان کو ضائع کر دے (کفالت نہ کرے) جن کا کھانا پینا اس کے ذمے ہے۔"
[سنن ابی داؤد: 1692، صحیح]

عفت اور خودداری کی اہمیت
انسان کا اس نیت سے کام کرنا کہ وہ کسی کا محتاج نہ رہے اور اس کی عزتِ نفس محفوظ رہے، ایک قابلِ قدر عمل ہے۔ یہ عمل اسے حرام راستوں اور سوال کی ذلت سے بچاتا ہے۔
ارشادِ نبوی ہے:
«لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ فَيَأْتِيَ بِحُزْمَةِ الْحَطَبِ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهَا فَيَكُفَّ اللَّهُ بِهَا وَجْهَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ أَعْطَوْهُ أَوْ مَنَعُوهُ»
"تم میں سے کوئی بھی اگر (ضرورت مند ہوتو) اپنی رسی لے کر آئے اور لکڑیوں کا گٹھا باندھ کر اپنی پیٹھ پر رکھ کر لائے۔اور اسے بیچے۔اس طرح اللہ تعالیٰ اس کی عزت کو محفوظ رکھ لے تو یہ اس سے اچھاہے کہ وہ لوگوں سے سوال کرتا پھرے، اسے وہ دیں یا نہ دیں۔"
[صحیح بخاری: 1471]

نیت کی برکت اور وبال
عمل کی قیمت اس کے پیچھے چھپی نیت سے طے ہوتی ہے۔ اگر محنت کا مقصد دوسروں پر رعب ڈالنا یا فخر کرنا ہو تو وہ محنت شیطانی عمل بن جاتی ہے اور ثواب سے محروم کر دیتی ہے۔
ارشادِ نبوی ہے:
«إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ»
اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔
[صحیح بخاری: 1]

جسمانی قوت کا صحیح استعمال
اللہ نے انسان کو جو جسمانی توانائی عطا کی ہے، اسے سستی کے بجائے تعمیری کاموں میں لگانا چاہیے۔ ایک طاقتور اور محنتی مومن اللہ کے ہاں سست انسان سے زیادہ محبوب ہے۔
ارشادِ نبوی ہے:
«الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ»
"طاقتور مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر اور زیادہ محبوب ہے۔ جبکہ خیر دونوں میں (موجود) ہے"
[صحیح مسلم: 2664]

عملی اقدامات
نیت کی تطہیر
کام شروع کرنے سے پہلے یہ ارادہ کریں کہ یہ محنت اللہ کے حکم کی تعمیل اور خاندان کی خدمت کے لیے ہے تاکہ وہ عبادت میں شمار ہو۔

والدین کی کفالت
اپنی آمدنی میں سے ایک حصہ والدین کے لیے خاص کریں اور اسے احسان کے بجائے اپنی سعادت اور دینی فریضہ سمجھیں۔

محنت اور خودداری
کسی بھی حلال پیشے کو حقیر نہ سمجھیں اور دستِ سوال دراز کرنے کے بجائے اپنے ہاتھ کی کمائی پر فخر کریں۔

دکھاوے سے پرہیز
اپنے کاموں یا مالی کامیابیوں کی نمائش سے بچیں تاکہ آپ کی محنت "سبیل الشیطان" میں شامل نہ ہو جائے۔

بچوں کی بہترین تربیت
بچوں کے لیے صرف رزق ہی نہیں بلکہ ان کے لیے حلال مال کا انتخاب کریں کیونکہ حرام رزق شخصیت پر منفی اثر ڈالتا ہے۔

وقت کی پابندی
اپنے فرائض کی ادائیگی میں تندہی دکھائیں اور سستی کو ترک کر کے چستی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔

شکر گزاری کا جذبہ
رزق ملنے پر اللہ کا شکر ادا کریں اور اسے اپنی قابلیت کے بجائے اللہ کا فضل قرار دیں تاکہ تکبر پیدا نہ ہو۔

اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ۔
 
Top