ایمان کا کمال اور باہمی خیر خواہی
۔۔۔۔
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ:
«وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِہِ لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّی يُحِبَّ لِأَخِيہِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِہِ مِنْ الْخَيْرِ»
ترجمہ: سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد(ﷺ)کی جان ہے! تم میں سے کوئی شخص (اس وقت تک) مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے (ہرمسلمان) بھائی کے لیے اسی طرح خیروبھلائی پسند نہ کرے جس طرح اپنے لیے کرتا ہے۔"
[سنن نسائی، کتاب الایمان، رقم الحدیث: 5020، صحیح]
فوائد
ایمان کی تکمیل کا معیار
حقیقی ایمان صرف کلمہ پڑھنے یا ظاہری عبادات تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک قلبی کیفیت ہے جو انسان کو دوسروں کا خیر خواہ بنا دیتی ہے۔ جب تک دل سے حسد ختم نہ ہو اور دوسروں کے لیے وہی چاہت پیدا نہ ہو جو اپنے لیے ہے، ایمان کامل نہیں ہوتا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
((إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ))
ترجمہ: "مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔"
[سورة الحجرات: 10]
حسد کا جڑ سے خاتمہ
یہ حدیث حسد جیسی روحانی بیماری کا بہترین علاج پیش کرتی ہے۔ جب انسان دوسروں کی خوشی میں خوش ہونا سیکھ لیتا ہے، تو اس کے دل سے وہ جلن ختم ہو جاتی ہے جو نیکیوں کو کھا جاتی ہے۔
ارشادِ نبوی ہے:
«لَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَقَاطَعُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللهِ إِخْوَانًا»
ترجمہ: "ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے قطع تعلق نہ کرو اور اللہ کے بندے ( ایک دوسرے کے) بھائی بن کر رہو۔"
[صحیح مسلم: 2559]
ایثار اور دوسروں کو ترجیح دینا
ایک سچے مومن کی صفت یہ ہے کہ وہ اپنی ضرورت کے باوجود دوسروں کے فائدے کو ترجیح دیتا ہے۔ یہ صفت معاشرے میں محبت اور توازن پیدا کرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
((وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ))
ترجمہ: "اور وہ (دوسروں کو) اپنی جانوں پر ترجیح دیتے ہیں جائے خواہ انھیں سخت حاجت ہو۔"
[سورة الحشر: 9]
اتحادِ امت کی بنیاد
مسلمانوں کا آپس میں تعلق ایک جسم کی مانند ہے۔ جب ایک حصے کو تکلیف پہنچتی ہے تو پورا جسم اسے محسوس کرتا ہے۔ دوسروں کے لیے خیر چاہنا اسی اتحاد کو مضبوط کرتا ہے۔
ارشادِ نبوی ہے:
«مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ»
ترجمہ: "مومنوں کی مثال ان کی باہمی محبت، رحم دلی اور ہمدردی میں ایک جسم کی طرح ہے۔"
[صحیح بخاری: 6011]
اللہ کی مدد کے حصول کا ذریعہ
جو شخص اپنے بھائی کی خیر خواہی اور مدد میں لگا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ غیب سے اس کی مدد فرماتا ہے۔ دوسروں کے لیے بھلائی چاہنا دراصل اپنے لیے اللہ کی رحمتوں کے دروازے کھولنا ہے۔
ارشادِ نبوی ہے:
«وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ»
ترجمہ: "اور اللہ اس وقت تک بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے۔"
[صحیح مسلم: 2699]
معاشرتی امن و سلامتی
اگر ہر شخص دوسروں کے لیے وہی پسند کرنے لگے جو اپنے لیے کرتا ہے، تو معاشرے سے دھوکہ، ظلم اور ناانصافی کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا اور ہر طرف سکون ہوگا۔
ارشادِ نبوی ہے:
«أَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ تَكُنْ مُسْلِمًا»
ترجمہ: "لوگوں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے کرتے ہو، تم (حقیقی) مسلمان بن جاؤ گے۔"
[سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 930]
عملی اقدامات
دل سے حسد کی بیخ کنی
جب کسی دوسرے کی کامیابی کی خبر ملے تو فوراً ماشاء اللہ کہیں اور اپنے دل میں پیدا ہونے والی جلن کو شعوری طور پر ختم کرنے کی کوشش کریں۔
غائبانہ دعا کا اہتمام
اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے لیے ان کی غیر موجودگی میں وہی دعائیں مانگیں جو آپ اپنے لیے مانگتے ہیں۔ فرشتے آپ کی دعا پر آمین کہتے ہیں۔
دوسروں کی خوشی میں شرکت
اگر کسی کو کوئی نعمت ملے تو اسے اپنی کامیابی سمجھ کر مبارکباد دیں اور ان کی خوشی میں خلوصِ دل سے شریک ہوں۔
مخلصانہ مشورہ دینا
جب کوئی آپ سے مشورہ مانگے تو اسے وہی مشورہ دیں جو آپ اس صورتحال میں اپنے لیے بہترین سمجھتے، اس میں کبھی خیانت نہ کریں۔
عزت و آبرو کی حفاظت
اپنے بھائی کی غیر موجودگی میں اس کی عزت کا اسی طرح دفاع کریں جیسے آپ اپنی عزت پر اٹھنے والے سوال کا جواب دینا پسند کرتے ہیں۔
ضرورت کے وقت تعاون
اگر آپ کے پاس کوئی ایسی چیز ہے جو دوسرے کی ضرورت پوری کر سکتی ہے، تو اسے بانٹنے میں خوشی محسوس کریں، جیسے آپ چاہتے ہیں کہ مشکل میں کوئی آپ کا ہاتھ بٹائے۔
رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ۔