الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
نہیں اسکا جواب تو آپکو دینا چاہیۓ کہ ایک رکعات والی روایات کا کیا ھوگا؟؟؟؟
ھم ایک رکعات اور تین رکعات کو مسنون مانتے ھیں. آپ ھم سےتین کے بارے میں پوچھ رھے ھیں.
اسکی دلیل یہ ھے کہ آپ نے اپنی بات بلا دلیل کی ھے. حدیث کے کسی ٹکڑے سے نہیں ثابت ھوتا کہ ایک رکعت وتر نہیں پڑھ سکتے یا یہ کہ تین رکعات آپ صلی الله عليه وسلم کا آخری عمل تھا. ھم نے آپ سے اسی لۓ سنہ کی بات پوچھی تھی لیکن آپ نے اسکو نظر انداز کر دیا.
ھم ان الفاظ کے لۓ معافی چاہتے ھیں. آج ھم نے فورم کا مطالعہ کیا تو ھم پر یہ حقیقت منکشف ھوئ کہ آپ ماشاء اللہ عالم دین ھیں. جو کہ متحرک بھی رھتے ھیں. اسلۓ ھم اپنے یہ الفاظ واپس لیتے ھیں. اور اسکی جگہ ھم محترم شیخ کہنا پسند کریں گے.
ھم یہ ھرگز نہیں کہیں گے کہ آپ نے تاویل کی ھے. کیونکہ اس طرح کی ملتی جلتی باتیں ھم اکثر سن چکے ھیں. ایک وقت تھا ھم فیسبوک پر گھنٹوں انہیں ابحاث میں لگے رھتے تھے. ھم کو اب ایسی باتوں کی ہلکی پھلکی پرکھ ھو گئ ھے.
یہاں غور کریں. محمد نعیم بھائ جان نے ملک کی بات کی تھی. اور انھوں نے ذکر کیا تھا کہ انکے ملک میں روٹنگ غیر قانونی ھے. اسی کے بالمقابل ھم نے کہا تھا کہ ھم تو کرتے رھتے ھیں. یعنی ھمارے ملک میں یہ ھوتا رھتا ھے. اور خود دوست لوگ بھی روٹنگ دھڑلے سے کرتے ھیں.
اب شاید آپکو سمجھ میں آیا ھو.