الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
بات بلکل سیدھی ہے آپ گھومے ہوئے ہیں اس لیے آپ کو بات گھومی ہوئی لگ رہیہے۔ میری کسی پوسٹ میں آپ دیکھا سکتے ہیں کہ میں نے رافضی ہو مسلمان کب کہا؟۔۔ اگرآپ اسی طرح داعیشیوں کی وکالت کرتے رہے تو انقریب ہر طرح کے ایمان سے بری ہوجائیں گے۔
کردوں پر الزام کے بارے میں بس اتناعرض کرتے ہیں"جھوٹوں پر اللہ کی...
بھائی جہاں دنیا جہاں کا خوارجی جمع ہو وہاں ایک بلیک واٹر کے ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ اب تین بے گناہوں کے خون کو کم و بیش 60000 پاکستانیوں کے خون کے برابر قرار دے کر انصاف کا خون تو مت کریں۔ میرے نذدیک تو دنیا و آخرت میں انجام کے لیحاظ سے دونوں تقریبا برابر ہی ہیں۔
آپ کا مشاہدہ تو بہت مضبوط ہے۔ دل کا حال بھی معلوم ہے۔ میرا مشاہدہ ہے کہ جس کے دل میں صرف اہل بیت کی ظاہراََ محبت ہو اور باقی صحابہ کے لیے بغض وہ ہمیشہ گزب بیانی ہی کرتا ہے۔
مخالفین سے 'جبری توبہ' داعش کا نیا 'اصلاحی' حربہ
شام میں بر سر پیکار القاعدہ کی ایک ذیلی تنظیم النصرہ فرنٹ اور دولت اسلامی ’’داعش‘‘ کو جڑواں بہنیں کہا جاتا ہے مگر ان میں شدت پسندی کا عالم یہ ہے کہ یہ ایک دوسرے کے قیدیوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھانے سے بھی نہیں چوکتے اور انہیں بھی دیگر مخالفین کی...
الخوارجی صاحب جیو اور جینے دو کی پالیسی موجود ہے اسی لیے آپ جیسے لوگ آئے دن اپنے خوارجیوں کی ویڈیو پوسٹ کرتے رہتے ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو مسلمان خوارجیوں کو زمین و آسمان کے درمیان معلق کر چُکے ہوتے۔
اگر یہ خبر درست نہیں تو رعد الغزادی بھی میڈیا پر آجائیں گے اگر خبر درست نہیں تو خوارجی کیوں خاموش ہیں؟ اگر صحافی کو مسلمان ہونے کی وجہ سے بوجہ اسلام قتل کیا گیا ہے تو یہ کفر ہے۔
داعیشی دہشت گردوں نے ایک اور صحافی کو شہید کردیا
دہشت گرد گروپ دولت اسلامی "داعش" کے جنگجوؤں نے دو ماہ سے حراست میں رکھے گئے ایک عراقی صحافی رعد الغزاوی اور اس کے بھائی کو گولیاں مار کر قتل کر دیا۔
"سما صلاح الدین" نیوز چینل کے ڈائریکٹر مروان جبارہ نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے ٹیلیفون پر بات کرتے...
مسلمانوں نے صرف اپنے آپ کو دوران جنگ پہچان کے لئے یہ نعرہ لگایا تھا۔ بریلوی کیا جانے جنگ کیا ہوتی ہے، جہاد کیا ہوتا ہے تکلیف کیا ہوتی ہے۔ آپ اُن بریلوی حلقوں میں جا کر بولیں چلو تم کشمیر جاو جہاد کرنے پھر تم بھی یہ نعرہ لگادینا صرف گیارہویں کا دودھ، میلاد کی بریانی، اور محرم کی حلیم کھانے کے لیے...