• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نتائجِ‌تلاش

  1. کلیم حیدر

    قانون میں قرائن کی حجیت

    دلیل سوم : وجہ دلالت : مساجد میں آنے جانے کو ایمان کی علامت قرار دیا گیا ہے۔
  2. کلیم حیدر

    قانون میں قرائن کی حجیت

    دلیل دوئم : وجہ دلالت : وجہ دلالت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دونوں کے درمیان نصف نصف کا فیصلہ صادر فرمایا ان کے قبضے کی بنا پر :
  3. کلیم حیدر

    قانون میں قرائن کی حجیت

    قرائن کی حجیت پراحادیث سے دلائل دلیل اوّل : او رمسلم و نسائی کی روایت میں ہے حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ بیوہ بالغہ عورت اپنے نکاح کے معاملے میں اپنے ولی سے زیادہ حقدار ہے او رکنواری لڑکی بھی اسکی حقدار ہے کہ اسکے نکاح کی اس سے اجازت حاصل کی جائے او راس کی اجازت...
  4. کلیم حیدر

    قانون میں قرائن کی حجیت

    دلیل ثانی : وجہ دلالت : یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کپڑے کے پھٹنے کو دلیل اور قرینہ بنایا ہے ان دونوں میں سے ایک کے صدق پر۔ اور کپڑے کے پھٹنے کو علامت و سبب بنایاگیا ہے قضا و حکم کے لئے: ھٰذادليل علي مشروعية القرآئن۔ یہ قرائن کی مشروعیت و حجیت پر دلیل ہے اگر قرائن حجت نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ...
  5. کلیم حیدر

    قانون میں قرائن کی حجیت

    مجوزین کے دلائل : قرائن کے ساتھ قضا اور فیصلے کی مشروعیت اور حجیت پر کتاب اللہ و سنۃ رسول اللہﷺ دونوں سے ثبوت موجود ہیں۔ دلیل اوّل: وجہ دلالت 1۔ وجہ دلالت یہ ہے کہ یوسف ﷤ کے بھائیوں نے قمیض پر خون کو اپنی سچائی کی دلیل بنایا اور کہا کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا۔ کپڑے کا خون میں لت پت ہونا...
  6. کلیم حیدر

    قانون میں قرائن کی حجیت

    قرائن کی حجیت: قضاء و فیصلے کے لئے سب سے اہم ثبوت تو شہادت اور اقرار اور قسم اور تحریر ہے لیکن جب ان دلائل میں سے کوئی نہ ہو تو پھر دوسرے وسائل کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ ان وسائل کا نام قرائن اور قیافہ ہے ان وسائل کو اصل ثبوت یعنی شہادت و اقرار وغیرہ کے قائم مقام سمجھ کر دعووں میں مدد لی جاتی...
  7. کلیم حیدر

    قانون میں قرائن کی حجیت

    ایک واقعہ : قاضی ایاس کا ایک واقعہ کتب ادب میں مذکور ہے کہ دو شخص ایک کمبل کا جھگڑا لے کر قاضی ایاس کے پاس آئے ایک نےکہا کہ میں نےنہر کے کنارےاپنا کمبل اتار کر رکھا اور نہانے لگا یہ شخص آیا اس نے بھی اپنا کمبل اتار کر میرے کمبل کے پاس رکھ دیا اور نہانے لگا اور یہ جلدی جلدی نہاکر نہر سے نکلا...
  8. کلیم حیدر

    قانون میں قرائن کی حجیت

    دوسری قسم قرائن فقہیہ : قرائن فقہیہ وہ ہیں جنہیں فقہاء کرام نےمستنبط کیا ہو اور انہیں دوسرے امور پردلائل بنایا ہو اور قاضی ان قرائن کی بنیاد پر فیصلے کرے۔ تیسری قسم قرائن قضائیہ : قرائن قضائیہ وہ ہیں جنہیں قاضیوں نے وضع کیا ہو کیونکہ بعض قاضی و جج ایسےبھی ہوتے ہیں جنہیں احکام شرعیہ میں ملکہ...
  9. کلیم حیدر

    قانون میں قرائن کی حجیت

    مصادر و مأخذ کے اعتبار سے قرائن کی تقسیم : مصادر اور مأخذ کے اعتبار سے قرائن کی تین قسمیں ہیں: 1۔ قرائن نصیہ 2۔ قرائن فقہیہ 3۔ قرائن قضائیہ۔ قرائن نصیّہ وہ ہیں جن پر کتاب اللہ یا سنت رسول اللہﷺ سے کوئی نص وارد ہوئی ہو اور شارع نے اسے کسی معین چیز پر علامت بنایا ہو۔ جیسے قصّہ یوست ﷤ میں خون...
  10. کلیم حیدر

    قانون میں قرائن کی حجیت

    نسبت کے اعتبار سے قرینہ کی تقسیم : نسبت کے اعتبار سے قرائن کی دو قسمیں ہیں: 1۔ قرینہ عقلیہ۔ 2۔ قرینہ عرفیہ۔ کیونکہ قرینہ اور معلولات کے درمیان نسبت کبھی عقلی ہوتی ہے اور کبھی عُرفی۔ قرینہ عقلیہ کی تعریف: قرینہ عرفیہ کی تعریف : یعنی لوگوں کا رواج اور عادت کی تبدیلی سے اس کی دلالت بھی بدل...
  11. کلیم حیدر

    قانون میں قرائن کی حجیت

    شرائط قرینہ : نمبر1۔ ان يوجد امر ظاھر و معروف و ثابت یعنی جس قرینہ کو ہم استدلال کی بنیاد بنارہے ہیں وہ معروف ہو اور ثابت اور ظاہر ہو۔ كالغيم للمطر: جیسے بادل بارش کے لئے معروف اور ظاہر قرینہ ہے۔ نمبر2۔ ان توجد الصلة بين الامر الظاھر الثابت والقرينة التي اخذت منه في عملية الاستنباط...
  12. کلیم حیدر

    قانون میں قرائن کی حجیت

    قرائن کی اصطلاحی تعریف: " عرف الفقھآء القرينة بمعنی الامارة وھي مايلزم من العلم به الظن بوجود المدلول" فقہاء نے قرینہ کی تعریف کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے کہ قرینہ بمعنی امارۃ و علامۃ ہے جس کے علم سے وجود مدلول کا ظنی علم حاصل ہوتا ہے جیسے بادل کو دیکھ کر بارش کا علم حاصل ہوتا ہے ، دھوئیں کو دیکھ...
  13. کلیم حیدر

    قانون میں قرائن کی حجیت

    قانون میں قرائن کی حجیت مولانا مبشر احمد ،جامعہ مدینہ لاہور قرائن کے لغوی معنوی : قرائن جمع ہے قرينة کی بروزن فعلية: بمعنی امتصل ہونا: يقال قرنت الشئ بالشئ و صلته به: میں نے ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ ملایا وھي الامر الدال علي الشئ من غير استعمال فيه بل بمجرد المقارنة والمصاحبة: قرینہ وہ...
  14. کلیم حیدر

    مشکلات کا مقابلہ کیسے کریں؟

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بہنا کتاب پیش ہے۔ تاریخ اسلام کی چار سو باکمال خواتین
  15. کلیم حیدر

    ۴۶۔ شیطان سے بچو۔ ۔ اسعد الزوجین

    جزاک اللہ خیرا۔
  16. کلیم حیدر

    لمحہ فکریہ!

    جزاک اللہ خیرا۔
Top