الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
حدیث کا مفہوم
اللہ تعالیٰ علم کو لوگوں کے سینوں سے کھینچ کر قبض نہیں کریں گے بلکہ علم علماء کے فوت ہوجانے کے ساتھ ہی قبض ہوتا رہے گا۔ حتیٰ کہ ایک ایسا وقت آئے گا جب علماء ختم ہوجائیں گے اور ایسے لوگ باقی رہ جائیں گے جو اَن پڑھ اور جاہل ہوں گے پھر لوگ ان سے سوال کریں گے وہ بغیر جانتے ہوئے فتویٰ...
آپ کی وفات اور ہماری کیفیت
ہم جب علامہ کی حالات زندگی کوبیان کرتے ہیں تو ہماری آنکھیں نم ہوجاتی ہیں، کیونکہ آپ کی وفات امت کے لیے ایسے نقصان کی حامل تھی جس کو قیامت تک پورا نہیں کیا جاسکے گا۔اس کے علاوہ دلوں پر غمزدگی کا عالم ہے۔ کیونکہ آپﷺنے فرمایا: ’’إِنَّ اللّٰہَ لَا یَقْبِضُ الْعِلْمَ...
وفات
علامہ احمد الزیات بروز اتوار ۶ شعبان المعظم ۱۴۲۴ھ بمطابق ۲۰۰۳ء کو اس دنیا فانی سے کوچ کر گئے ’’ انا ﷲ وإنا إلیہ رجعون‘‘ اس وقت آپ کی عمر ۱۰۰ سال تھی۔
آپ کا جنازہ ازہر شریف میں آپ کے نامور شاگرد شیخ عبدالحکیم عبداللطیف نے پڑھایا۔ آپ کی وفات مسلمین علماء میں سے ایک عالم کبیر کے گم ہونے پر...
اَولاد
آخر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ۵۸ برس کی عمر میں ایک پھول جیسا بیٹا عطا کیا جس کا نام آپ نے محمد رکھا اور اب وہ مصر میں بچوں کا ڈاکٹر ہے۔ اس کے بعد ۶۰ سال کی عمر میں ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام آپ نے فاطمہ رکھا۔
مدینہ منورہ اقامت کے دوران ہی آ پ کو اچانک مسلسل دائمی اور پے در پے بیماریوں نے...
آزمائش و آلام پر صبر کی کیفیت
آپ مصیبت و آزمائش پر بہت زیادہ صبر کرنے والے تھے، کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ ’’ إِنَّ اﷲَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ ‘‘ (البقرۃ: ۱۵۳) ’’اللہ صابر لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔‘‘
آپ پر آزمائش کا یہ عالم تھا کہ آپ بچپن ہی میں بینائی کی نعمت سے محروم ہوگئے۔ لیکن تقویٰ اور...
نیکی کے کاموں میں رغبت کا عالم
شیخ عالم باعمل تھے،اور ’’ إِنَّمَا الْمُؤمِنُوْنَ إِخْوَۃٌ ‘‘ (الحجرات: ۱۰) کے تحت ہر مسلمان کے دُکھ کو اپنا دُکھ سمجھنے والے انسان تھے۔ اگر یہ کہا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں کہ شیخ زمین پر فرشتہ نما انسان تھے۔
اپنی استطاعت کے مطابق اللہ کے راستے میں بہت زیادہ...
قراء ات کے میدان میں موصوف کے نامور ساتھی
شہر مصر میں علم قراء ات کے وہ ماہرین جن کو شیخ نے قراء ات پڑھانے کا سند نامہ جاری کیا وہ درج ذیل ہیں:
(١) فضیلۃ الشیخ محمد علی خلف الحسیني الحداد۔ یہ اپنے وقت کے شیخ اور مصر میں قراء ت کے امام تھے۔
(٢) علامۃ علي محمد الضباع جو شیخ محمد علي خلف الحسیني...
عادات و خصائل
شیخ صاحب زمین پر اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھے۔اللہ نے آپ کو ہر طرح کی خوبیوں سے نوازا ہوا تھا۔ آپ کے شاگرد علامہ عبدالفتاح المرصفی کہتے ہیں کہ ہمارے شیخ قراء ات عشرہ صغریٰ اور کبریٰ میں ماہرین قراء میں سے تھے۔ آپ نے قراء ات میں تخصص کیا ہوا تھا۔آپ بہت بڑے علامہ،...
ثامنا
آٹھویں قسم ان تلامذہ کی ہے جنہوں نے روایت حفص میں قرآن کریم شاطبیہ کے طریق سے پڑھا۔
(٤٧) شیخ سلامۃ کامل جمعۃ۔ پہلی بار علم قراء ات پڑھنے کے لیے مدرسہ ازہر شریف میں گئے اور وہاں سے ہی علم قراء ات کا آغاز کیا۔ سات سال کی عمر میں مکمل قرآن حفظ کرلیا تھا اور جب آپ کی عمر ۹ سال ہوئی تو اس...
سابعاً
ساتویں قسم ان تلامذہ کی ہیں جنہوں نے آپ سے روایت حفص طیبہ کے طریق سے پڑھی۔
(٣٩) شیخ غازی بن بنیدر الحري۔… ایک بار انہوں نے روایت حفص طیبہ کے طریق سے پڑھنے کے بعد پھر دوبارہ روایت حفص عن عاصم کو روضۃ المعدل اور المصاح کے ضمن میں دوبارہ مکمل قرآن پڑھا۔
(٤٠) شیخ عبدالحکیم بن عبدالسلام...
سادساً
چھٹی قسم ان شاگردوں کی ہے جنہوں نے آپ سے قراء ت عاصم، شعبہ کی روایت سے شاطبیہ کے طریق سے پڑھیں۔
(٣٨) راجي عفو الکریم الغني اور یاسر إبراہیم المرزوعي
خامسا
پانچویں قسم ان شاگردوں کی ہے جنہوں نے آپ سے مکمل قرآن قراء ات ثلاثہ میں درہ کے طریقہ سے پڑھا۔
(٣٦) شیخ عبدالرحیم حافظ۔ انہوں نے مکمل قرآن قراء ات ثلاثہ میں درہ کے طریق سے پڑھا اور اسی طرح روایت حفص عن عاصم شاطبیۃ کے طریق سے پڑھی۔
(٣٧) شیخ ڈاکٹر حازم بن سعید حیدر الکرمي۔ انہوں نے روایت...
رابعاً
چوتھی قسم ان شاگردوں کی ہے جنہوں نے آپ سے مکمل قرآن قراء ات سبعہ میں شاطبیہ کے طریق سے پڑھا۔
(٣٤) شیخ علي بن عبدالرحمن الحذیفي ﷾۔ مسجد نبوی شریف کے امام اور خطیب ہیں۔
(٣٥) شیخ خالد محمد الحافظ۔ مدینہ منورۃ میں التربیۃ الإسلامیۃ کے لیڈر ہیں۔
ثالثاً
تیسری قسم ان شاگردوں کی ہے جنہوں نے آپ سے اس وقت پڑھا جب آپ مملکت سعودی عرب میں چلے گئے تھے یعنی ۱۴۰۳ھ کے اختتام سے ۱۴۲۰ھ تک۔
(٢٣) فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبدالعزیز أحمد محمد إسماعیل۔ جامعۃ الإمام محمد بن سعود میں استاد تھے۔
(٢٤) شیخ محمود سیبویہ بدوي (٢٥) شیخ محمد بن عبدالحمید أبو...
ثانیاً
دوسری قسم ان شاگردوں کی ہے جنہوں نے آپ کے سعودی عرب جانے سے پہلے پڑھا یعنی ۱۴۰۳ھ سے قبل۔
(١٠) شیخ عبدالفتاح السید عجمي المرصفي
(١١) شیخ علی المرازقي ازہر کے جلیل القدر علماء میں ان کا شمار ہے۔
(١٢) شیخ أحمد إسماعیل عطیۃ
(١٣) شیخ أمین الخطیب قراء ات کے ان قراء میں ان کا شمار...
ذیل میں آپ کے نامور تلامذہ کے نام پیش کئے جاتے ہیں:
اَولاً
پہلی قسم ان شاگردوں کی ہے جنہوں نے آپ سے اس وقت قراء ات کا علم حاصل کیا جب آپ قراء ات کے عہدے پر مقرر ہوئے۔
(١) شیخ قاسم الدجوي ازہر شریف کے ماہرین علماء میں سے تھے اور قراء ات کے اساتذہ میں سے تھے۔
(٢) شیخ عبدالمحسن شطا علماء...
شیخ کے تلامذہ
اللہ تعالیٰ نے آپ کے اوقات میں بے بہا برکت رکھی تھی اس لیے آپ سے علم تجوید و قراء ت میںعرب وعجم کے بہت سے ممالک سے بے شمار لوگوں نے استفادہ کیا۔ آپ کی عزت و تکریم اور لوگوں میں ادب و احترام کا یہ عالم تھا کہ جہاں بھی آپ کی تشریف آوری ہوتی آپ کو بڑی شان و شوکت اور رفعت ومنزلت سے...
(٢) شرح تنقیح فتح الکریم
یہ کتاب مخطوطے کی شکل میں تھی اور جوبھی طالب علم قراء ات عشرہ کا علم طیبۃ النشر کے طریق سے پڑھتا وہ ہی اس کو نقل کردیتا تھا اور اب کلیۃ القرآن کے چوتھی جماعت کے طلباء کو اس کتاب کادرس دیا جاتا ہے۔
(٣) تحقیق عمدۃ العرفان للإمام الأزمیري
یہ کتاب آپ کی اور آپ کے محقق...
موصوف کی تالیفات و تصنیفات
آپ نے جوبھی کتب لکھیں وہ اِنتہائی مفید اور نایاب کتب میں شمار ہوتی ہیں۔ ان کتب سے بے شمار علماء و طلباء اِستفادہ کر رہے ہیں اور تاقیامت مستفید ہوتے رہیں گے۔آپ کی تصنیف کردہ کتب درج ذیل ہیں۔
(١) تنقیح فتح الکریم في تحریر أوجہ القرآن العظیم
یہ کتاب طیبۃ النشر کے...
کیونکہ طالب علم سونے کی وجہ سے ’’وَئَاتَیْنٰہُ فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَإِنَّہٗ فِی الْأَخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ‘‘ (النحل:۱۲۲) کے بعد والی آیت ’’ثُمَّ أَوْحَیْنَا إِلَیْکَ …‘‘ کے ساتھ متعدد آیات چھوڑ کر ’’ وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُکَ اِلَّا بِاﷲِ ‘‘ (النحل:۱۲۷) والی آیت پڑھ لی۔
جب شیخ نے...