• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نتائجِ‌تلاش

  1. ساجد

    الشیخ المقري اَحمد عبد العزیز الزیات ﷫

    طریقۂ تدریس اور طلباء پر شفقت و مہربانی کا عالم آپ پر اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان تھا کہ اس نے آپ کو تدریس کی تمام حکمتوں سے مالا مال کیا تھا آپ کا پڑھانے کا اسلوب بہت سادہ اور دل میں اترنے والا تھا۔ آپ طلباء کیلئے اس بات کا خصوصی اہتمام کرتے کہ ان کے مخارج کی ادائیگی درست ہو اور تلاوت قرآن...
  2. ساجد

    الشیخ المقري اَحمد عبد العزیز الزیات ﷫

    کچھ عرصہ بعد آپ کو مجمع الملک فہد کمیٹی کا ممبر منتخب کر لیا گیا۔ یہ ادارہ قرآن کریم کی نشرو اشاعت کا کام کر رہا تھا۔اس میں آپ کو سماعت کا کام دیا گیا جسے آپ نے مسلسل محنت اور مشہور قراء کرام کی شروط کے مطابق سرانجام دیا۔ اسی دارے میں آپ نے ۱۵ سال بھرپور محنت سے گزارے۔ اور ساتھ ساتھ مشہور...
  3. ساجد

    الشیخ المقري اَحمد عبد العزیز الزیات ﷫

    آپ ہمیشہ اس بات کو پیش نظر رکھتے کہ اللہ تعالیٰ ان دروس کے ذریعے لوگوں کے دل کھول دے گا اور میری اس تھوڑی سی کاوش سے لوگوں کے دلوں میں اطاعت ِالٰہی کا جذبہ پیدا ہوجائے گا ۔ آپ کے درس میں اتنی شیرینی، مٹھاس اور لذت ہوتی کہ لوگ زیادہ سے زیادہ وعظ ونصیحت سننے کے لیے بے تاب رہتے۔ ۱۹۴۵ء میں جامعہ...
  4. ساجد

    الشیخ المقري اَحمد عبد العزیز الزیات ﷫

    شیخ القراء کا علمی دور آپ چونکہ قرآن اور علوم قرآن بالخصوص قراء اتِ قرآنیہ کے علامہ اور شیخ تھے اس لیے علومِ قرآن باالخصوص قراء اتِ قرآنیہ کی نشرو اِشاعت میں آپ کا بہت بڑا حصہ ہے۔ جب آپ﷫ نے بڑے مشائخ و علماء سے علوم شرعیہ اور عظیم قراء کرام سے علوم قراء ات کو حاصل کرلیا تو ’’ بَلِّغُوْا عَنِّیْ...
  5. ساجد

    الشیخ المقري اَحمد عبد العزیز الزیات ﷫

    (٣) الشیخ المقري العلامۃ عبدالفتاح الھنیدي﷫ سے آپ نے قراء اتِ عشرہ صغریٰ اور کبریٰ پڑھیں اور اس کے ساتھ آپ نے حاصل کردہ علم کو آگے منتقل کرنے کی آپ سے اجازت چاہی۔ جس پر آپ کے استاد نے آپ کے خلوص و محنت کو دیکھ کر اجازت نامہ جاری کردیا۔ (٤) شیخ محمد إسمالوطي﷫ علوم شرعیہ میں حدیث شریف کا علم...
  6. ساجد

    الشیخ المقري اَحمد عبد العزیز الزیات ﷫

    مشائخ عظام آپ نے علم قراء ات اور دوسرے علوم شرعیہ کے حصول کے لیے بے شمار جلیل القدر اور ثقہ قراء کرام سے استفادہ حاصل کیا لیکن چند ایک شیوخ سے بالخصوص پڑھا جن کا ذیل میں مختصر تذکرہ کیا جاتا ہے۔ (١) شیخ المقري صفي بن إبراہیم السقاء﷫ آپ کے مشفق اَساتذہ میں سے ایک ہیں جن سے آپ نے علم قراء ات کے...
  7. ساجد

    الشیخ المقري اَحمد عبد العزیز الزیات ﷫

    تکمیل قرآن آپ دس سال کی عمر کو پہنچے تو آپ نے قرآنِ مجید حفظ کرنے کی سعادت حاصل کر لی اور تکمیل حفظ قرآن کے بعد یہیں دوسرے علومِ شرعیہ کو سیکھنے کی طرف متوجہ ہوگئے۔ اس کے ساتھ ساتھ قراء اتِ قرآنیہ میں آپ نے قراء اتِ عشرہ صغریٰ شاطبیہ اور دُرّہ کے طریق سے اور قراء اتِ عشرہ کبریٰ طبیۃ النشر...
  8. ساجد

    الشیخ المقري اَحمد عبد العزیز الزیات ﷫

    تعلیم کا آغاز (مرحلہ علمیہ) جب آپ طلب علم کیلئے موزوں عمر کو پہنچے تو آپ کی اِبتدائی تعلیم کا آغازہوگیا۔ سب سے پہلے آپ نے قرآن حفظ کرنا شروع کیا، کیونکہ تعلیم کی اصل بنیاد ہی تعلیم قرآن ہے اور قدیم و جدید مصر میں بھی یہ رواج عام ہے کہ بچے کی اِبتدائی تعلیم کا آغاز حفظ ِقرآنِ مجید سے کرایا...
  9. ساجد

    الشیخ المقري اَحمد عبد العزیز الزیات ﷫

    پیدائش ( ولادت باسعادت) آپ قاہرہ میں ۷؍۲۵؍۱۳۲۵ھ بمطابق ۷؍۵؍۱۹۰۷ء کو پیدا ہوئے ۔ علمی کیفیت ( عادات و خصائص) شیخ قراء ت کے بہت بڑے اِمام تھے۔ اس فن میں آپ کا کوئی ثانی نہ تھا۔ علم، تعلیم، فضیلت و عزت میں آپ خدا تعالیٰ کی ایک نشانی تھے۔ دل کے پاکیزہ اور بیدار مغز تھے۔ شیخ موصوف کا شمار...
  10. ساجد

    الشیخ المقري اَحمد عبد العزیز الزیات ﷫

    نام و نسب آپ کا اِسم مبارک فضیلۃ الشیخ المقري أحمد عبد العزیز بن أحمد بن محمد الزّیات المصري المدني القاہري ہے۔ اس کے علاوہ عبد العزیز، أحمد الزیات، أحمد عبد العزیز الزیات اور شیخ الزیات کے نام سے بھی مشہور ہیں۔ شیخ﷫ بہت بڑے محقق ہونے کے ساتھ ساتھ بہت سی مفید تحریرات اور ایسی تصانیف کے...
  11. ساجد

    الشیخ المقري اَحمد عبد العزیز الزیات ﷫

    الشیخ المقري اَحمد عبد العزیز الزیات ﷫ ڈاکٹر یاسر ابراہیم مزروعی مترجم: کلیم اللہ حیدر
  12. ساجد

    امام جلال الدین سیوطی﷫ اور علم قراء ات میں اِن کی خدمات

    وفات اور مدفن اِمام سیوطی﷫ نے ۱۹ ؍جمادی الاولیٰ ۹۱۱ھ جمعہ کی رات سات روز تک بائیں بازو کے شدید وَرم میں مبتلا رہنے کے بعداپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کی۔بیان کیا جاتا ہے کہ آپ نے وفات کے وقت سورۃ یٰسین کی خود تلاوت فرمائی۔ آپ کی نماز جنازہ الروضہ کی جامع الشیخ احمد اباریقی میں شعرانی نے...
  13. ساجد

    امام جلال الدین سیوطی﷫ اور علم قراء ات میں اِن کی خدمات

    چونتیسویں قسم قراء ت کی تین قسمیں ہیں: (١) تحقیق: یعنی ہر حرف کو اس کا مکمل حق دینا۔ مد، تحقیق اور تشدید کو اچھی طرح اَدا کرنا اور حروف کی اَدائیگی میں ہر ہر حرف کو اس قدر نکھار کے اَدا کرنا کہ ہر حرف کی علیحدہ علیحدہ سمجھ آئے، اور وقوف کا خیال رکھ کے پڑھا جائے ۔ یہ اِمام حمزہ اور ورش کا طرز...
  14. ساجد

    امام جلال الدین سیوطی﷫ اور علم قراء ات میں اِن کی خدمات

    (٤) الاسقاط: جب دو ہمزے دو کلموں میں ہوں اور متفق الحرکت ہوں تو اگر دونوں مکسور ہوں گے تو امام ورش اور قنبل دوسرے ہمزہ میں تسہیل بالیاء کرتے ہیں۔قالون اور بزی پہلے ہمزہ کو یائے مکسورہ سے بدل دیتے ہیں۔ اَبو عمرو بصری﷫ گرا دیتے ہیں جبکہ باقی تمام قراء تحقیق کرتے ہیں۔ اور اگر دونوں مفتوح ہوں تو...
  15. ساجد

    امام جلال الدین سیوطی﷫ اور علم قراء ات میں اِن کی خدمات

    (٣) تسہیل بین بین: یہ اس صورت میں ہوتی ہے جب ایک ہی کلمہ میں دو ہمزہ آجائیں۔ جب دونوں ہمزہ مفتوح ہوں توامام نافع﷫، امام ابن کثیر مکی﷫، امام ابو عمرو﷫ اور ہشام﷫ دوسرے ہمزے کی تسہیل کرتے ہیں اور امام ورشa دوسرے ہمزہ کا الف سے اِبدال کرتے ہیں۔ ابن کثیر﷫ دو ہمزوں کے درمیان اِدخال نہیں کرتے جبکہ...
  16. ساجد

    امام جلال الدین سیوطی﷫ اور علم قراء ات میں اِن کی خدمات

    تینتیسویں قسم کی مختصر وضاحت اِمام موصوف اس بحث میں فرماتے ہیں: ہمزہ کے اَحکام اس قدر زیادہ ہیں کہ اُن کے اِحاطے کے لیے مستقل جلد کی ضرورت ہے۔ البتہ مختصراً اہل فن نے فن قراء ت میں اِن کی چار اقسام بیان کی ہیں: (١) نقل حرکت : یعنی حرکت ہمزہ کو ماقبل ساکن حرف کی طرف نقل کر دینا اور ہمزہ کو...
  17. ساجد

    امام جلال الدین سیوطی﷫ اور علم قراء ات میں اِن کی خدمات

    ۲۲ تا ۲۷ویں قسم کی مختصر وضاحت علامہ سیوطی﷫ اس بحث میں رقمطراز ہیں کہ قاضی جلال الدین البلقیني﷫ نے فرمایا: قراء ت، متواتر، آحاد اور شاذ میں منقسم ہے۔ متواتر سے مشہور سات قراء ات مراد ہیں، جبکہ آحاد میں بقیہ تین قراء اور صحابہ کرام کی قراء ت ملحق ہے۔اور شاذ سے مراد تابعین یعنی اعمش﷫، یحییٰ...
  18. ساجد

    امام جلال الدین سیوطی﷫ اور علم قراء ات میں اِن کی خدمات

    (٥) الإتقان فی علوم القرآن اس کتاب کو علوم قرآن پر مشتمل ایک دستاویز کا نام دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ اس میں امام صاحب نے علوم قرآن کی اسی(۸۰)اَقسام کا تفصیلی تذکرہ قلمبند کیاہے جن میں سے ۲۰؍ اَقسام علم قراء ات کا اِحاطہ کیے ہوئے ہیں۔ بطور مثال ان میں سے چند پیش خدمت ہیں: (١) ۲۲ تا ۲۷ویں...
  19. ساجد

    امام جلال الدین سیوطی﷫ اور علم قراء ات میں اِن کی خدمات

    (٤) شرح حرز الأمانی ووجہ التہاني (شرح شاطبیہ) ’حرز الأماني ووجہ التہاني‘ امام شاطبی﷫ کی مشہور کتاب ہے جو در اصل ابوعمرو عثمان بن سعید الدانی﷫ کی کتاب ’التیسیر‘ کی منظوم شکل ہے۔ ’حرز الأماني ووجہ التہاني ‘اور ’تیسیر‘ پر بہت سے علماء کبار کی جانب سے بسیط شروحات لکھی گئی ہیں۔ اِمام سیوطی﷫ نے بھی...
  20. ساجد

    امام جلال الدین سیوطی﷫ اور علم قراء ات میں اِن کی خدمات

    (٣) الدر النثیر في قراء ۃ ابن کثیر علم قراء ات پر امام صاحب کی یہ ایک مستقل کتاب ہے۔ جس میں آپ قراء سبعہ میں سے دوسرے امام، ابن کثیر﷫ کی قراء ت کو زِیر بحث لائے ہیں۔ امام ابن کثیر﷫ کی دیگر قراء سے مختلف ایک مستقل قراء ت موجود ہے۔ مثلاً قراء میں سے آپ اکیلے اِدغام کبیر کے قائل ہیں اور ورش کی...
Top