الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
تکبیر تحریمہ کے بعد ہاتھ باندھنا
= آپﷺ اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر سینے پر رکھتے تھے۔
= لوگوں کو (رسول اللہﷺ کی طرف سے) یہ حکم دیا جاتاتھا کہ نماز میں دایاں ہاتھ بائیں ذراع پر رکھیں۔
= پھر آپﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ اپنی بائیں ہتھیلی کلائی اور ساعد پر رکھا۔
دلیل: عن وائل بن حجر:ثم وضع...
’’اذهب الباس رب الناس واشف انت شافي لاشفاء الا شفاءك شفاءالله يغادرسقما‘‘
’’لا بأس طهور إن شاء الله‘‘
’’لا بأس طهور إن شاء الله و شفاك الله عاجلا غير آجل ‘‘
خلاصہ:
ہماری اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ امام شافعیؒ کے ہاں جس راوی نے بھی زندگی میں ایک بار تدلیس کی یا کسی حدیث میں تدلیس ثابت ہوگئی تو اس کی عنعنہ کا اعتبار نہیں کیا جائے گا بلکہ سماع کی صراحت تلاش کی جائے گی، یہی موقف خطیب بغدادیؒ کا ہے۔
مگر یہ موقف ناقدین فن کے موقف کے برعکس ہے۔اس لیے مرجوح...
چھٹی دلیل: مخصوص اَساتذہ سے تدلیس
کچھ مدلسین مخصوص اَساتذہ سے تدلیس کرتے ہیں۔ اس لیے ان مدلسین کی مخصوص اَساتذہ سے روایت میں سماع کی صراحت تلاش کی جائے گی، باقی شیوخ سے روایات سماع پر محمول کی جائیں گی۔ اس کی معرفت کے ذرائع دو ہیں:
تنبیہ1: صحیحین میں مدلسین کی معنعن روایات صحیح ہیں۔
تنبیہ...
پانچویں دلیل:طویل رفاقت کی تاثیر
جو مدلس راوی کسی استاد کے ساتھ اتنا طویل زمانہ گزارے جس میں وہ اس کی تقریباً سبھی مرویات سماعت کرلے، اگر کچھ مرویات رہ بھی جائیں اور وہ انتہائی تھوڑی مقدار میں ہوں۔ ایسے مدلس کی ایسے شیخ سے تدلیس انتہائی نادر بلکہ کالمعدوم ہوتی ہے۔ کیونکہ عام طور پر ایسی صورت...
چوتھی دلیل:ثقات سے تدلیس کی تاثیر
محدثین کے ہاں جس طرح تدلیس کی کمی اور زیادتی کی بنا پر معنعن روایت کا حکم بدل جاتا ہے، اسی طرح ثقہ یا ضعیف راویوں سے بھی تدلیس کرنے کی وجہ سے حکم مختلف ہوجاتا ہے۔ جو مدلسین صرف ثقہ راویان سے تدلیس کریں تو ان کی عنعنہ مقبول ہوگی۔
گویا جو حضرات ہر مدلس کا عنعنہ...
تیسری دلیل:تدلیس کی کمی و زیادتی کی تاثیر
امام شافعیؒ کے موقف کے خلاف تیسری دلیل یہ ہے کہ محدثین حکم لگاتے ہوئے تدلیس کی قلت اور کثرت کا بھی اعتبار کرتے ہیں جیسا کہ مدلسین کی معنعن روایات کا عمومی حکم اوپر بیان ہوچکا ہے کہ ایسی مرویات ضعیف ہوں گی، اِلا یہ کہ وہ مدلس راوی اپنے شیخ سے سماع کی...
دوسری دلیل:طبقاتِ مدلسین
امام شافعیؒ کے موقف کے برخلاف دوسری دلیل مدلسین کی طبقاتی تقسیم ہے۔ جواس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سبھی مدلسین کی تدلیس کا حکم یکساں نہیں۔بنابریں ان کی مرویات سے بھی جداگانہ سلوک کیا جائے گا۔ موصوف اور صفت کے تفاوت کی وجہ سے دونوں کا حکم بھی متغیر ہوگا۔اسی تفاوت کے پیش...
پہلی دلیل:تدلیس کا حکم
تدلیس کا حکم لگانے سے قبل یہ متعین کرنا ضروری ہے کہ اس کی تدلیس کی نوعیت کیا ہے؟ اس بنا پرتدلیس اور اس کے حکم کو چار حصوں میںمنقسم کیا جائے گا:
پہلی قسم:یہ ہے کہ راوی اپنے استاد سے وہ اَحادیث بیان کرتا ہے جو اس نے مروی عنہ (جس سے روایت کررہا ہے) سے سنی نہیں ہوتی، جب کہ...
امام شافعیؒ کے موقف کی وضاحت
امام شافعیؒ کے موقف کے بارے میں شیخ عبداللہ بن عبدالرحمن سعد فرماتے ہیں:
امام شافعیؒ کے قول کے جواب میں شیخ ابوعبیدہ مشہور بن حسن نے بھی اسی قسم کا جواب دیا ہے۔ دیکھئے (التعلیق علی الکافی فی علوم الحدیث للأردبیلی:ص۳۸۹)
٭ علامہ زرکشیؒ کا نقد آپ اوپر پڑھ آئے ہیں کہ...
امام شافعیؒ کا مدلسین کی روایات سے استدلال
اوپر آپ امام شافعیؒ کے حوالے سے پڑھ آئے ہیں کہ جو راوی ایک بار تدلیس کرے، اس کی سبھی معنعن روایات ناقابل قبول ہوں گی۔مگر اس اُصول کی انہوں نے خود مخالفت کی ہے:
حالانکہ ابن جریج سخت مدلس ہیں اور مجروحین سے بھی تدلیس کرتے ہیں۔ان کی ضعفا اور کذابین سے...
دیگر محدثین کا امام شافعی وبغدادی سے اختلاف
1۔امام شافعیؒ اور حافظ بغدادیؒ کا مذکورۃ الصدر موقف محل نظر ہے بلکہ جمہور محدثین اور ماہرینِ فن کے خلاف ہے۔ جیسا کہ حافظ بدر الدین زرکشیؒ ۷۹۴ھ امام شافعیؒ کے اس قول کا تعاقب کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
2۔حافظ ابن عبدالبرؒ نے بھی امام شافعیؒ کے اس موقف کو...
مدلس کی روایت کا حکم او رامام شافعیؒ کے موقف کی توضیح
اب امام شافعیؒ اور دیگر محدثین کا مدلس کی روایت کے بارے میں موقف ملاحظہ فرمائیں:
امام شافعیؒ فرماتے ہیں:
امام شافعیؒ کے مذکورہ بالا کلام کے دو حصے ہیں۔ پہلے حصے میں فرمایا کہ جو راوی صرف ایک ہی بار تدلیس کرے، اس کی ہر معنعن روایت قابل ردّ...
2۔تدلیس الشیوخ
مدلس راوی نے جس اُستاذ سے حدیث سنی ہوتی ہے، اس کا ایسا وصف بیان کرتا ہے جس سے اس کی شخصیت مجہول ہوجاتی ہے یا پھر سامعین کی توجہ اسی نام کے کسی دوسرے شیخ کی طرف مائل ہوجاتی ہے مثلاً وہ اس کا غیر معروف نام، کنیت، قبیلے یا پیشے کی طرف نسبت کردیتا ہے۔ تدلیس کی اس نوع میں صیغ اَدا میں...
تدلیس الاسناد کی اس مختصر وضاحت کے بعد اب ہم اس کی ذیلی اَقسام کی طرف چلتے ہیں جس میں تدلیس التسویۃ، تدلیس السکوت، تدلیس القطع، تدلیس العطف اور تدلیس الصیغ شامل ہیں۔
1۔ تدلیس التسویۃ
اس کی تعریف ہے کہ مدلس راوی اپنے کسی ایسے ثقہ اُستاد سے حدیث سنتا ہے جس نے وہ حدیث ضعیف راوی سے سنی ہوتی ہے...
تدلیس کی اقسام
تدلیس کی مرکزی قسمیں دوہیں:
1۔ تدلیس الاسناد
اس کی دو تعریفیں ہیں:
پہلی صورت کی تفصیل یہ ہے کہ راوی نے اپنے کسی شیخ سے چند اَحادیث بالمشافہ سماعت کی ہوتی ہیں مگر اس کے ہاں کچھ ایسی بھی اَحادیث ہوتی ہیں جنہیں اس شیخ سے بالمشافہ سماعت نہیں کیا ہوتا بلکہ اُس راوی سے سنا ہوتا ہے...
تدلیس کے لغوی معنی
’تدلیس‘ کے لغوی معنی پوشیدگی اور پردہ پوشی کے ہیں۔ اسی سے الدَلس (دال اور لام کی زبر کے ساتھ) ہے جس کا مطلب ہے: اختلاط النور بالظلمَة یعنی ’’اندھیرے اور اُجالے کا سنگم‘‘ دلس البائع کے معنی:بائع کا خریدار سے سودے کے عیب کو چھپانا ہے۔ (مزید تفصیل:الصحاح للجوھري:۲؍۹۲۷،لسان...
التحقیق والتنقیح في مسئلۃ التدلیس
امام الشافعیؒ کے قول کے تناظر میں
محمد خُبیب احمد
علم اُصولِ حدیث کے ذریعے محدثینِ عظام نے 14 صدیوں پہلے نبی کریمﷺ کی طرف ہرمنسوب بات کی غلطی وصحت جانچنے کے لئے ایسے بہترین اُصول وضع کئے جن میں آج تک کوئی اضافہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
مگر بعض حضرات...