الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
اچھا تو جو سجدہ آدم علیہ السلام کو ہوا تھا وہ کیا تھا؟اگر سجدہ عبادت تھا تو وہ تو ہے یہ شرک۔اگر وہ سجدہ تعظیمی تھا تو پھر آپ کے مطابق وہ بھی شرک؟؟برائے مہربانی اس کے بارے میں کچھ عرض کریں۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میری تحریر کا بغور مطالعہ کریں!
میں نے فعل پر حکم لگایا ہے، فاعل پر نہیں! فاعل کی جہالت اس پر حکم لگانے میں مانع ہو سکتی ہے!
جناب چلیں یہ کھل کر بتا دیں کہ کیا وہ فعل شرک ہے؟
جناب فقہ حنفی میں کہاں مزارات کو شرک کہا ہے؟؟اور جس نذر کو آپ شرک کہتے ہیں ہم بھی اسی نذر و نیاز کو شرک کہتے ہیں۔
2۔اور ایک بات یاد رکھیں کہ جب تک الوہیت کا اعتقاد نہ ہو تو کوئی بھی تعظیم شرک نہیں۔
جناب دیکھیں یہود و نصاری نے انبیا کی قبور کو سجدہ گاہ بنایا تھا تو کیا اب ان قبور کی مذمت کی جائے؟؟اگر کوئی غیر شرعی فعل کرتا ہے تو اس میں اس کا قصور ہے صاحب مزار کا یا مزار کانہیں
حضرت کسی جاہل کا فعل حجت نہیں ہوتا اگر کوئی بیچارہ لا علمی کی وجہ سے سجدہ کرتا ہے تو اس میں اس کا اپنا قصور ہے اس کی ذمہ داری مسلک اہلسنت پر نہیں ڈالی جا سکتی۔اور یہ سجدہ تعظیمی ہوتا ہے جو حرام ہے مگر شرک نہیں۔
حضرت باقی مزرات کا مجھے علم نہیں ہاں ہمارے شہر میں جو مسعود فرید المعروف بابافرید گنج شکر کا مزار ہے اس کے آغاز میں ہی یہی بات لکھی ہوئی ہے کہ سجدہ تعظیمی حرام ہے۔اور اگلی بات اعلی حضرت نے فتوی رضویہ کی ج 9 میں واضاحت سے لکھا کہ مزار پر نہ ہی سجدہ کیا جائے اور نہ ہی اس کو چھوا جائے اور طواف بھی...
مجھے یہ بتائیں کہ ان کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کا حج سے کیا تعلق؟باقی جناب اگر یہ فرقہ پرستی ہے تو زبیر علی زئی نے کتاب غالی بدعتی کے پیچھے نماز کا حکم لکھ کر یہ کام کیا ۔
1۔جناب اس چیز کا تعلق عقیدے سے ہے اور میرے خیال سے سائنس نے آج تک کوئی ایسا آلہ نہیں بنایا جس یہ معلوم کیا جا سکے کہ وہ کس عقیدے سے مانگ رہا ہے۔باقی یہ بات ذہن میں رکھیں کہ بالفرض اگر کوئی ڈائریکٹ بھی مانگے تو اس پر شرک کا فتوی نہیں لگتا کیوں وہاں الوہیت کا اعتقاد نہیں۔اور نہ ہی ان کی طاقت کو...
1۔ہندو بت سے ،عیسائی عیسی سے ان میں الوہیت کا اعتقاد رکھ کے مانگتے ہیں۔
2۔جب کہ مسلمان کا کبھی بھی الوہیت کا اعتقاد نہیں رکھتا بلکہ انہیں اللہ کی قدرت کا مظہر سمجھتا ہے ۔باقی اولیا کے پاس کوئی بچوں کو گھٹا نہیں ہوتا بلکہ ان سے مدد مانگنے کا مطلب شاہ صاحب نے اسی مکالمے میں یوں بیان کیا ہے کہ...