جو خود دینی اقدار چھوڑ کر مصلحتوں کے جوہڑ میں اتر پڑے، اسے یہ حق نہیں پہنچتا کہ دینداروں کو ’ انتہا پسندی‘ کے طعنے دے، بلکہ اسے اپنے بارے میں محسوس کرنا چاہیے کہ وہ خود دلدل میں اتر رہا ہے۔
حرام ، حرام ہی رہتا ہے ، چاہے ساری دنیا اسے اختیار کرلے۔
لوگوں کی پرواہ نہ کریں، ہر ایک نے اپنا حساب خود...