الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
امام ابن حزمؒ اندلسی (م۴۵۶) لکھتے ہیں :
(واکل لحوم الابل نیئۃ و مطبوخۃ أو مشویۃ وھو یدری أنہ لحم جمل أو ناقۃ فانہ ینقض الوضوء)
اونٹ کا گوشت کھانا ، خواہ کچا ہو یا پکا یا بھونا ہوا ہو ، وضو توڑ دیتا ہے، بشرطیکہ کھانے والا جانتا ہو کہ یہ اونٹ یا اونٹنی کا گوشت ہے ۔ ( المحلی لابن حزم ۲۴۱/۱ )
٭ امام...
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
( وأما من نقل عن الخلفاء الراشدين أو جمهور الصحابة خلاف هذه المسائل، وأنهم لم يكونوا يتوضئون من لحوم الإبل: فقد غلط عليهم، وإنما توهم ذلك لما نقل عنهم
“تو جس آدمی نے خلفائے راشدین یا جمہور صحابہ کرام سے اونٹ کے گوشت سے وضو نہ کرنا نقل کیا ہے ، اس...
آپ کو چند عقل سلیم رکھنے والوں کا مذھب بتاتے ہیں ،
امام مسلم جابر بن سمرہؓ کے حوالے سے روایت کرتے ہیں، ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی:
’’أن رجلا سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم أأتوضأ من لحوم الغنم؟ قال: «إن شئت فتوضأ، وإن شئت فلا توضأ» قال أتوضأ من لحوم الإبل؟ قال: «نعم فتوضأ من لحوم...
فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمینؒ اس فتوے میں تنہا نہیں ، یعنی صرف انہوں نے ہی اونٹ کا گوشت کھانے سے وضوء ٹوٹنے کا فتوی نہیں دیا
بلکہ مشہور مفتی اعظم جناب علامہ عبد العزيز بن باز رحمہ الله کا بھی یہی فتوی ہے ؛
فتاوی اسلامیہ ہی میں ان کا فتوی موجود ہے فرماتے ہیں ...
آپ نے اپنے تعارف میں لکھا کہ :
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سمجھ نہیں آتا کہ آپ سعودی عرب میں استاد کیسے بن گئے ؟
آپ کو تو عام عربی عبارت تک سمجھ نہیں آتی !
شیخ ابن عثیمینؒ تو (الشرح الممتع علی زادالمستقنع ) میں صاف لکھتے ہیں :
"وإِذا دلَّت السُّنَّة على الوُضُوء من ألبان الإِبل، فإِن...
یہاں آپ اپنی رائے کو شریعت کا حکم قرار دے رہے ہیں ، جسے ماننا کسی کیلئے ضروری تو درکنار جائز بھی نہیں ،
آپ اپنا قیاس اور رائے اپنے پاس رکھیں ، قرآن و سنت کو سمجھنے کیلئے ہم تو اہل علم ہی سے استفادہ کریں گے ،
جی میری کیا جرات کہ میں اپنی طرف سے کچھ لکھوں ، یا قیاس کروں ، یا معاذاللہ حدیث کے الفاظ میں تحریف کروں !
آپ نے میری پوسٹ کو توجہ سے پڑھے بغیر ہی فتوی جڑ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انا للہ وانا الیہ راجعون
میں نے تو صرف اہل علم کے فتاوی ہی نقل کئے تاکہ آنجناب مجھے اپنا مقابل نہ سمجھیں ،...
یہ فتویٰ بھی دیکھئے :
ــــــــــــــــــــــــــــــ
حكم صيام المرضع والحامل
هل يجوز لزوجتي التي ترضع ابني البالغ من العمر عشرة أشهر الإفطار في شهر رمضان ؟ .
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
الجواب :
الحمد لله...
ــــــــــــــــــــــــ
مرکزی جمعیت اہل حدیث کی سائیٹ پر اس مسئلہ پر مفتی صاحب کا فتوی حسب ذیل ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حمل والی عورت کا روزہ
سوال:
ماہ رمضان کی آمد آمد ہے، میری بیوی حاملہ ہے، اس کے متعلق رمضان کے روزوں کا کیا حکم ہے؟ تفصیل سے اس مسئلہ کی وضاحت کریں؟
جواب:
حاملہ اور دودھ پلانے...
کتاب کا اصل عربی نام : جمع الفوائد من جامع الأصول ومجمع الزَّوائِد
جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ اصل کتب حدیث (امھات الکتب ) جیسے ((صحیح البخاري، ومسلم، وأبي داود، والترمذي، والنسائي، وابن ماجة، وموطأ مالك، والمسانيد لأحمد بن حنبل، وأبي يعلى الموصلي، وأبي بكر البزار، والمعاجم الثلاثة للطبراني...
اس بات کو سمجھنے کیلئے آپ پہلے " صحیح مسلم " کا اصل پورا نام دیکھ لیں ، جس سے کتاب کا مؤضوع اور مختصر تعارف ہوجائے گا
اس کتاب کا مکمل نام (المسند الصّحيح المُختصر من السّنن بنقل العدل عن العدل إلى رسول الله صلّى الله عليه وسلّم )
یعنی یہ کتاب سنداًمتصل، صحیح جس میں ہر عادل راوی دوسرے عادل راوی...
ٹھیکے کی زمین پر زکوٰۃ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
حا فظ والاضلع بہا ولنگر سے حا جی ضیا ء الدین لکھتے ہیں کہ ایک آدمی کا شتکا ری کےلیے زمین ٹھیکہ پر لیتا ہے پھر اس کی کا شت کا ری پر اخرا جا ت اٹھا...
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
على من تكون زكاة الأرض المستأجرة للزراعة ؟
رجل يستأجر أرضاً زراعية ، هل الزكاة تستحق على المالك أم على المستأجر ؟ وإذا كانت على المستأجر فهل الزكاة على المحصول بالكامل أم على المتبقي من المحصول بعد دفع الإيجار ؟ ...
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عن جابر بن سمرة، قال: «كنا نتوضأ من لحوم الإبل، ولا نتوضأ من لحوم الغنم»
ترجمہ :
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ( صحابہ کرام ) اونٹ کے گوشت ( کو کھانے ) سے وضو کرتے تھے ، لیکن بکریوں کے گوشت سے وضو نہیں کرتے تھے ۔
(مصنف ابن ابی شیبہ ۴۶/۱...
محترم بھائی محمد شاہد صاحب
اپنے حالات کے پیش نظر طلب تعاون پر مجبور ہوئے ہیں ،اور وہ بھی دوسری دفعہ
اسلئے گذارش ہے کہ جو بھائی تعاون کرسکتے ہیں وہ ان سے رابطہ کریں۔
اللہ کریم سب کی مشکلیں آسان فرمائے ۔
امام حافظ ابن حزم رحمہ اللہ (م۴۵۶) لکھتے ہیں :
واکل لحوم الابل نیئۃ و مطبوخۃ أو مشویۃ وھو یدری أنہ لحم جمل أو ناقۃ فانہ ینقض الوضوء.
اونٹ کا گوشت کھانا ، خواہ کچا ہو یا پکا یا بھونا ہوا ہو ، وضو توڑ دیتا ہے، بشرطیکہ کھانے والا جانتا ہو کہ یہ اونٹ یا اونٹنی کا گوشت ہے ۔ ( المحلی لابن حزم ۲۴۱/۱...