الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
جزاک اللہ خیرا کثیرا۔۔۔۔
بہت ہٹ کر اور بہت اچھا لکھا ہے آپ نے بھائی۔
اتنی معصوم شرارتیں اور مسکراہٹ اور کہیں نہیں ہوتی جتنا بچوں میں۔۔۔۔اکثر سوچ آتی ہے کہ ہمارے درمیان وہ بچے بھی تو ہیں ،جن کے ماں باپ نہیں۔۔۔۔جنھیں سراہنے والا کوئی نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔۔!!!
اور وہ جن کا بچپن معصومیت میں نہیں...
آپ درست کہتے ہیں شاکر بھائی۔تبلیغی جماعت کی کچھ خواتین سے میری بھی بات ہوئی اس موضوع پر۔۔۔۔میں نے انھیں یہی کہا کہ آپ فضائل اعمال کے بجائے قرآن سے درس دیں،قرآن سے بہتر تو کوئی کتاب نہیں ،اور اس سے "قصص القرآن" سے بھی درس دیا جا سکتا ہے۔۔۔اس بات میں ان کا جواب تھا،کہ فضائل اعمال کے واقعات...
موضوع یہ ہے کہ غلطی قرآن میں ہے یا فضائل اعمال میں!
جبکہ مواد یہ ہے کہ فضائل اعمال میں بے سند اور موضوع روایت کو حضرت آدم علہیہ السلام کی توبہ سے بیان کیا ہے ،جبکہ ایسا سچ نہیں۔بلکہ سورۃ "اعراف " میں وہ کلمات بیان ہوئے ہیں جن سےآدم علیہ السلام نے توبہ کی تھی،اور ان کلمات کے سکھائے جانے کا ذکر...
بہت خوب۔۔۔۔۔۔۔۔ایک قرآن اور حدیث پر چلیں تو کسی بات میں تضاد نہیں ہو گا ،بے دلیل اور تقلید کی پیروی کا یہی انجام ہے۔
اللہ آپ کو جزائے خیر سے نوازے اور آپ کی محنت قبول فرمائے۔آمین